دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

نئے پڑھنے والے پہلے یہ پڑھیں

راگ شنکارا اور پرواز۔۔۔محمد اقبال دیوان

نازو(اصلی نام نازنین زہرہ) فرحین کے میاں اور ان کی پہلی بیوی شہلا نقوی کی صاحبزادی ہیں۔وہ اور اس کا بھائی فرحین کے گھر پر رہتے ہیں دونوں پندرہ اور تیرہ سال کے بچے ہیں ۔ فرحین ہی ان کا لالن پالن کرتی ہے۔یہ تو علم نہیں کہ وہ انہیں ماں کا پیار دے پائی کہ نہیں۔بچے سر سری ملاقات میں ہمیں آسودہ حال اور قدرے مطمئن سے لگے۔ نازو کی سہیلیاں آگئیں تو بچیوں کا اچانک نو پلیکس۔ ڈیفنس۔ فیز۔ ایٹ، کراچی میں فلم کا پروگرام بن گیا
فرحین کا فون آگیا کہ قریب ہوں، آتے ہو؟۔

شاکی تھیں کہ ڈرائیور بہانہ بنا کر نہیں آیا۔ایمپریس مارکیٹ کی توڑ پھوڑ کی آڑ میں اس نے چھٹی کرلی۔فواد چوہدری ہوں کہ ڈرائیور،نوکر کب کسی  کے ہوئے۔
ہم ایسے ہیں کہ محمد بن قاسم کی تاریخ میمن انجمن خیراتی اسکول میں سیکنڈ شفٹ میں کیا پڑھی کہ بے یار و مدد گار عورت بلائے تو ہم سے رہا نہیں جاتا۔ دمشق میں بھی ہوں تو بہتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی کشتیوں پر بھی دیبل (آج کی پورٹ قاسم) پہنچ جائیں گے۔
شادی کا بھی یہی سین ہوا،بیگم نے اماں کو کہا”وہ کیا ہے، آنٹی! یہ موئے رورل وڈیرے کزن رشتے بھیجنے سے باز نہیں آتے۔I am very urbaneآپ کے بیٹے سے پوچھ لیں۔ بیاہ کرے گا۔ماں نے کہا پوچھنا کیا ہے حکم دیا، وے منڈیا۔سوئے وچھیرے والیا اوکہنی اے،کر چھتری دی چھاں اور چھاویں بینی اے۔(چل مُنّے سرخ چھپر چھاؤ ں والے وہ کہتی ہے۔ذرا بانہیں تو پھیلاؤ میں تمہاری حفاظتی تحویل میں آنے کو تیار ہوں)
ہم اماں کے سامنے منمنائے بھی کہ ابھی تو سول سروس کی  دوسری تنخواہ ملی ہے۔اماں نے کہا۔
فکر نہ کر میرے پاس تیرے باپ کا نہ سہی اپنے باپ کا دیا ہوا بہت سا زیور ہے۔ دو تین سیٹ بیچ دیں گے۔ ان سے خرچہ نکل آئے گا۔آج تک بیگم طعنہ دیتی ہیں کہ وہ خاندانی سیٹ نہ بکتے تو انہیں ملتے۔یوں اپنی شادی کا خرچہ بھی انہوں نے خود اٹھایا ہے۔سندھی ہیں۔ان کے ہاں بدلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔اماں سے بہت لگاؤ اور احترام کے باوجود کہتی تھیں اماں آپ نے شادی میں بھی میمنوں کے  دھند ے والا حساب رکھا۔
نکاح کی تقریب میں اسٹیج پر چڑھ کر ہمارے پاس ایجاب و قبول کے لیے ساتھ ہی بیٹھی تھیں، مولوی صاحب کے قبول ہے پر ہم نے کچھ دیر سوچا تو کہنے لگیں .
Baby if you are have second thoughts. They are all
dressed up in first row with the cheque books.
Say no and one of them will say “I do ” and clear the bills. Even of those dholis
(اگر کچھ اور دھیان میں ہو تو پہلی قطار میں میرے کزن چیک بک کے ساتھ بیٹھے ہیں.نہ کہا تو  ان میں سے کوئی بھی ہاں کہہ دے گا ڈھولی تک کا بل ادا ہوجائے گا۔)

بات فرحین کی تھی ۔ فون سے پتہ چلا ہمارے گھر کے قریب، گالف کلب میں بلاتی ہیں۔۔۔۔
کلب پہنچے تو میز پر سوئزرلینڈ کے ولی جر سگار ر کا پنی میں لپٹا ایک چھوٹا سا ڈبہ سامنے رکھے بیٹھی تھیں۔ ہم نے پوچھا ’کیا  واردات ہے؟ فرمایا کل میاں کے مداح ایک سیٹھ کو پرواز والوں نے بلایا تھا
کہیں گجرات کے کوئی پیر صاحب تھے جن کی سواری آئی تھی۔وہ میمن سیٹھ یہ قیمتی سگریٹ کا ڈبہ چھوڑ گئے تو ہمارے میاں نے آپ کو بھجوادیا۔

تحفہء درویش

جی تو چاہا کہ جتا دیں کہ سترہ ڈالر کے پندرہ سگریٹ ملتے ہیں،بھول جائیں کہ میمن سیٹھ کسی کو مہنگا تحفہ دیں گے۔راہ لی اللہ مسجد ائیر کنڈیشنڈ بنادیں گے۔مہنگا، نجی تحفہ۔۔ وہ ہم میمنوں کی سرشت میں نہیں۔یہ جو دو تصاویر آپ سستے سگار کی دیکھ رہے ہیں ان میں ایک پیکٹ تو 99 cents کا ہے اور دوسرا اسٹربیری 89 cents کا ہے اس میں ہمارا پسندیدہ اسٹرابیری والا ہے۔دفتر میں پیتے ہیں تو میمن نائب قاصد کہتا ہے اس سگار کی وجہ سے ائیر فریشنر کا خرچہ بچتا ہے۔آپ چلے بھی جاتے ہیں تو کمرہ مہکتا ہے۔ہم نے جب دوست سے ضد کی کہ یہ ہرا والا پیکٹ ہمیں پسند نہیں ہمیں وہ اسٹرابیری والا پیکٹ دو تو ڈالر کا حساب 133 روپے پر جوڑ کر کہنے لگا چلو میرے تیرہ روپے بچ گئے۔اس لیے کہ ہمارا پسندیدہ پیکٹ دس سینٹ سستا ہے۔

سستے سگار
دس سینٹ مہنگے سگار

ہم نے فرحین کو کہا اس نے یہ تکلف بلاوجہ کیا۔ کہنے لگیں ’ابا کسٹم میں سلمان فاروقی کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ تھے۔پورے ائیر پورٹ پر ان دنوں ایک سپرنٹنڈنٹ اور وہ ایک اسٹنٹ کلکٹر ائیر پورٹ تھے۔ابا کہتے تھے کہ سرکاری افسر،طوائف اور پیرکے پاس خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے۔اس سے دھن، تن اور من کی سیوا (خدمت)نہیں ہوتی ،میاں کو کل یہ کوئی میمن سیٹھ دے گئے تھے۔وہ کیپسٹن پیتے ہیں میں آپ کے لیے اٹھالائی۔ ہم نے کہا ہم تو تینوں نہیں۔ پیر کو گھر چھوڑ کر آئی ہیں۔دوسری سے آپ کو کیا سروکار اور ریٹائرڈ ملازم کی طرف تو بیوی بھی پیار سے نہیں دیکھتی۔تم نے کیوں خاک میں روندے ہوئے کنکر کو چنا، تم نے کیوں مجھ کو چنا۔

ہنس دیں کہنے لگیں حاضر سروس ہوتے تو Cohiba Behike – کا ڈبہ لاتی ہم نے حساب لگایا۔ ایک ڈبہ اگر مل جائے تو18,000 ڈالر کا ہوتا ہے۔ ایسے تین ڈبے مل جاتے تو ہم۔ای بے پر بیچ کر اسٹریٹ چلڈرن کے لیے ایک ایچی سن کالج جیسا چھوٹا سا اسکول بنادیتے۔اپنا میوزک،اپنی فٹ بال اور والی بال ٹیم۔عربی انگریزی اردو کا نصاب، قرآن الحکیم،ریاضی اور ایڈوانس کمپیوٹر۔باقی کچھ اور نہیں۔۔۔

۱۸۰۰۰ ڈالر کے سگار کا ڈبہ

فرحین نے مزید فرمایا کہ میاں جی کہہ رہے تھے سنیما آپ کے کلب اور آپ کے دوست کے گھر کے قریب ہے۔انہیں وہاں چھوڑکر آپ اپنے دوست کے ساتھ گالف کلب میں محفل سجائیں گزشتہ ملاقات کے حوالے سے،ان کے ذہن میں بھی کئی سوال ہیں۔کچھ کے جواب صرف آپ دے سکتی ہیں۔۔
ہاں وہاں کاٹن کی ساڑھی پہن کر جائیں۔ساڑھیاں انہیں بہت پسند ہیں۔
میں نے   میاں  کو چھیڑ ا جان آپ تو بالکل فرید مانیکا ہوگئے ہیں،کہنے لگے بیوروکریٹ وہ ہیں،ہم نہیں
انہیں آپ میں یا کسی اور انسان میں جسمانی دل چسپی نہیں۔وہ روح اور ذہن کی دنیا میں رہتے ہیں۔ یوں بھی جس مرد کی مونچھ نہ ہو وہ قابل بھروسہ اور جس عورت کے بچے نہ ہو ں وہ دوسری شادی کے لیے بہترین ہوتی ہے۔ جیسی تم ہو، جیسے وہ ہیں۔

فرحین جیسی ساڑھی اور خاتون

ہم نے کہا ہم ڈاڑھی والے مردوں پر عموماً اور دکانداروں پر خصوصاً بالکل بھروسہ نہیں کرتے مگر یہ مونچھ والا زاویہ نیا ہے۔
وہ آپ کے لیے کہہ رہے تھے کہ ”معاملہ یوں ہے کہ وہ جسم کے مولوی ہیں“۔ میں ان سے بعض مشکل باتوں پر وضاحت نہیں مانگتی۔
ہم نے کہا  ہم بتائے دیتے ہیں کہ اس احساس تحفظ کی بنیاد یہ ہے کہ چند مرد بدن کے مولوی ہوتے ہیں شدت پسند،تنگ دل،دین کے تذکرے سے کھد بد کرتے مگر عمل سے کوسوں دور
۔اکثر مرد بدن کے صوفی ہوتے ہیں۔بگلے بھگت کا سا دکھاوا،آنکھ موند ایک ٹانگ پر ساکت کھڑے رہیں گے پاس سے کوئی مچھلی گزری نہیں کہ انہوں نے چونچ میں دبوچ کر غڑپ لی۔عورتوں کے بدن کو دشمن کی نظر سے دیکھیں گے مگر بیٹے کی طرح، باپ کا مال سمجھ کر ہڑپ کرنے کے لیے بے تاب پھریں گے۔
ہماری اس وضاحت سے ان کے چہرے پر پسندیدگی اور تائید کا ایک تاثر ابھرا مگر تحسین کا دامن چھڑا کر کہنے لگیں۔
میری ساڑھی اچھی ہے نا؟ہمیں لگا کہ ان کی طرف کے ذکر اشغال والوں کے ہاں شاید ذوق لطیف کے حوالے سے اس بات کی کچھ کمی ہے۔بہت کم مرد اس راز سے آگاہ ہیں کہ عورت  دیوار ہی پر نہیں ان کی آنکھ میں بھی تعریف پسند بولتے ہوئے آئینوں کی طلب گارہوتی ہے
۔ہم نے کہا’ہاں بلاؤز کچھ شانے سے ناراض ہوگیا ہے۔
وضاحت کی کہ’ارے میں نے پچھلے سال جب نیویارک میں کوئین (نیویارک کا کثیر الاقوام علاقہ جہاں ایک سو اسی ممالک کی قومیتیں بشمول ہم جنس پرستوں کے شیر و شکر جسے سندھی میں کھنڈ کھیر(کھیر بمعنی دودھ) رہتے ہیں ادھر کے درزی سے سلایا تو شانے بھرے بھرے تھے۔سو ہر گولائی نبھ جاتی تھی۔
چھلکن کا عالم تھا خود ہی گویا ہوئیں کہ ’سید قاسم کرمانی کے ساتھ شادی میں بہت الجھنیں پیش آئیں۔ایک سال میں اتنا کچھ ہوگیا یقین نہیں آتا۔یہ ایک سال ایک صدی  لگتا ہے صدیوں کی مسافت تھا۔بہت آہستگی سے ہمیں علم ہوا کہ ان کا نام سید قاسم کرمانی ہے،
شہلا(پیر سائیں کی پچھلی بیوی) بتیس برس کی ہے۔کہتی تھی میں پہاڑ جیسی جوانی سید قاسم کرمانی کے بغیر کیسے کاٹوں گی۔ابا کے اسلام آباد کے دو پلاٹ بک گئے Settlement میں۔ قاسم صاحب نے ہی اپنے سیکنڈ کزن سے لالیاں میں شادی کرائی، اسے پرچون کی دکان کرائی،بچوں کے نان نفقے کی ذمہ داری لی۔بچوں کا دل پنجاب میں نہیں لگا تو یہاں اپنے ابا کے پاس کراچی آگئے۔
ہم نے معلوم کیا کہ طلاق ہوگئی کیا؟
”جی کلین اینڈ جرک “فرحین نے وہیٹ لفٹنگ کی اصطلاح استعمال کی۔ شہلا کو میں نے کہا   ایک دفعہ ہی سب کچھ طے کرلو،بار بار مجھ سے اس شادی کا ہرجانہ ادا نہیں ہوگا۔آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں حامد میرے ایکس کزن تھے۔ پھو پھو کی طرف سے۔ سافٹ ویر ڈیزائنر تھے۔جی وہ اب سلی کون ویلی میں ہیں۔بے چارے اچھے تھے۔خاموشی سے سید قاسم کرمانی سے شادی کا میرا فیصلہ سنا۔بچے نہیں تھے۔میں نے ان قاسم صاحب کی تفصیلات شئیر نہیں کیں۔امریکہ والا گھر انہوں نے دے دیا۔ پھوپھو کے شادی کے چڑھاوے کے زیورات بھی مجھ سے واپس نہیں لیے۔

کلیئر اینڈ جرک

امیر مقام ملے کیسے آپ کو؟ یہ ہمارا سوال تھا
کہا ’امی بیمار تھیں میں امریکہ سے آئی تو کسی دوست کے کہنے پر فلانے مزار پر چلی گئی۔ان پر نظر پڑی تو اچھے لگے۔آواز کی تعریف تو تم نے بھی کی ہے۔
ہم نے کہا ہاں آواز اچھی ہے۔بولتے لالوکھیت والوں کی طریوں کرخنداری لہجے میں ہیں۔ ذاکرین کی بے پناہ صحبت کی وجہ سے بیان میں روانی ،سادگی، اثر انگیزی، ڈرامہ،مکالمہ، منظر بیانی اور جذباتیت بہت ہے۔بتانے لگیں کہ ضلع وسطی کراچی کی ایک عبادت گاہ میں تین سال ایسا قیام رہا کہ اپنے گھر نہیں گئے۔امی سے ملے تو انہیں بھی بہت اچھے لگے۔اس وقت بھی آج کی طرح کہیں آتے جاتے نہیں تھے۔
that’s why you are safe ہم نے چھیڑا۔
۔حامد وہاں امریکہ کسی کانفرنس میں تھے۔ انہیں چھوڑ کر عجلت میں یہاں آنا پڑا۔وہ وہیں  کے نیشنل ہیں۔ قاسم صاحب بمشکل ہمارے گھر آئے۔کئی دن رہے۔امی بھلی چنگی ہوگئیں اور مجھے پیار ہوگیا۔میں نے امی کو بتایا کہ یہ معاملہ ہے۔وہ کہنے لگیں۔ فرحین تم پیٹ جائی ہو۔میں جانتی ہوں تم مڑنے والی نہیں۔تم نہ کرتیں تو میں شادی کرلیتی۔

ہمارا تجسس یہ تھا کہ بظاہر ایک آسودہ حال مہاجر گھرانے کی اچھی پڑھی لکھی خوبصورت،صاحب جائیداد، امریکہ میں مقیم شادی شدہ خاتون کا دل ، ان مزارات اور عملیات کے رس رچاؤ   والے لالو کھیت کے کاریگر وں والے حلیے کے ادھیڑ عمر کے اس مرد پر ایسے کیسے آگیا۔ ۔ اس وارفتگی اور لگاوٹ کا یہ عالم ہے کہ ہمارے انتظار میں ان کے کہنے پر پہلی دفعہ، رات گئے گھر سے دور مین روڈ کے ایک مشہور مقام پر بجائے ملازم کے رہنمائی کے لیے خود کھڑی تھیں۔اب ان کی فرمائش پر ہمیں اصرار کرکے بلایا بھی ہے اور ہماری پسند کا لباس بھی پہنا ہے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ان کے سراپے اور شخصیت سے ملتی جلتی ایک تصویر اپ لوڈ کردیں۔ مشکل سے ملی۔عمر میں پانچ سال بڑھادیں تو ان کو تو شاید اعتراض ہو ہمیں نہیں۔

سوال نجی تھا۔بہت نجی۔باعث ناراضگی ہوسکتا تھا۔ دو معاشروں میں پلی بڑھی اور ڈانواں ڈول خواتین بہت تہہ دار یعنیLayered ہوتی ہیں۔جس طرح فوٹو شاپ اور ساڑھی میں لیئرز یعنی چناؤ کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے اس طرح ان خواتین سے تعلقات اور سوال جواب بھی live- wire ہوتے ہیں۔آپ اگر اچھے الیکٹریشن نہیں تواس چھیڑ چھاڑ سے اجتناب کریں۔
ہم نے انگریزی محاورے میں اس Thin-Ice پر قدم رکھنے کے لیے بہت آہستہ سے پوچھا
فرحین آپ کو اس رشتے کے مکمل Mis-match ہونے پر دشواریاں تو بہت ہوئی ہوں گی۔ایسی ویسی پہلے تو چھوٹی بہن ناراض ہوئی۔وہ بھی سان فرانسسکو میں رہتی ہے اس کا میاں دانتوں کا ڈاکٹر ہے۔خود بھی کسی آرٹ شاپ کی پارٹنر ہے،۔ تب سے ملنا جلنا بند۔حامد کی امی، میری پھوپھو، سب کزن ناراض۔ کوئی جھوٹے منہ  پوچھتا تک نہیں۔ بہت سی دوستیں روٹھ کے بیٹھ گئیں،صرف تم ایک Survivor ہو۔
خود ہی کہنے لگیں تم بھی حیران ہوتے ہو گے کہ یہ کیا تعلق ہے یہ فرحین.۔قاسم Enigma؟۔
ہم نے کہا ہم خود سمیت۔ آپ کے لیے ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں۔مشورہ مانگتیں تو باز رہنے کا مشورہ بھی دیتے۔ اب مگر یہ آپ کی پرسنل چوائس ہے۔اس کا احترام ہم پر واجب ہے۔ جتنی نبھ سکے گی، نبھائیں گے۔ جہاں سے ناقابل اعانت و فہم ہوگی۔کنارہ کرلیں گے۔آپ کی زندگی میں تو ویسے بھی ہم ریل کا پچھلا ڈبہ ہیں۔ جہاں جی چاہے جدا کرلو۔مسافت جاری رکھو۔
ہمارے جواب پر ان کی نگاہوں میں کچھ کرب اور نمی سی آگئی۔
ہم نے اس لمحے کے احترام میں انہیں اتل بہاری کا ایک پسندیدہ شعر سنایا کہ ع
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے
ہمارے لیے مکسڈ چاٹ اور ناریل کا جوس اور خود کے لیے بھیل پوری منگوائی۔کہہ رہی تھیں
جب تم نے نیویارک میں Macy’s کے پاس مجھے چھوٹے نواب میں کھانا کھلایا وہ بگھارے جھینگے نوابی اور بھنڈی سسرالی ۔ اس دوپہر واپسی پر میں بہت دیر تک سوچتی رہی ہمیشہ سے ایسے ہو کہ کوئی حادثہ ہوا کہ یوں بے دل و بے نیاز ہوگئے ہو ۔ مجھے حامد سے پہلے کیوں نہیں ملے۔
ہم نے ترنت جواب دیا تو پھر حامد دوسرا اور قاسم کرمانی تیسرا کنارہ ہوتے۔اتنے زور سے ہنسیں کہ  کچھ بھیل پوری ہماری پتلون پر آن گری۔
ہم نے سوال کی اجازت مانگی تو خوش دلی سے دے دی۔سوال تھا کہ اس لگاؤ کا خاص سبب کیا بنا؟پوچھنے لگیں تم نے جین رابرٹس کا نام سنا ہے۔اس کی کوئی کتاب پڑھی۔
پہلی دفعہ کسی کے سامنے اپنی کم علمی اور جہالت کا ادراک ہوا۔
وہ بتانے لگیں کہ ان کی وہ تمام کتب میں نے پڑھ ڈالیں۔۔۔

چھوٹے نواب ریستوراں
جین رابرٹس
جین کی کتاب

ڈورتھی جین رابرٹس جن کا انتقال پچپن برس کی عمر میں میں سن 1984 ہوا ایک شاعرہ،مصنفہ ،خود ساختہ psychic, (وہ افراد جن کی extrasensory perception ESP کے ذریعے خفیہ معلومات تک اپنی پانچ حسوں سے ہٹ کر ہوتی ہے۔دنیا کی ایک بڑی اکثریت کا اس طرح کی کرامات بھری صلاحیتوں میں بہت بھرپور یقین ہے مگر سائنس اس پورے حوالے کو عدم ثبوت کی بنیاد پر رد کرتی ہے۔) سمجھی جاتی تھیں۔جین رابرٹس اپنے آپ کو ایک معمول یعنی spirit medium بھی کہتی تھیں ۔ان کا رابطہ ایک ایسے وجود سے تھا جو ان کے ذریعے اپنی باتیں لوگوں تک پہنچاتا تھا۔اس وجود کا نام سیتھ تھا۔ اس کی ایک منطق یہ تھی کہ وہ جنس کی جفتی شناخت یعنی  Identity ۔ Binary سے بالاتر ہے۔ جین رابرٹس جو رابرٹ بڈ کی اہلیہ تھیں وہ بھی اس کے نزدیک اس شناخت سے بالاتر ہیں۔جین کا بچپن بہت کسمپرسی کی حالت میں گزرا۔ماں باپ کی طلاق بہت اوائل میں ہوچکی تھی۔سرکار کی جانب سے مالی اعانت سے گھر چلتا تھا اور دونوں ماں بیٹیوں کے تعلقات میں بہت باہمی رنجش تھی۔
جین کو اپنی ماں سے نفرت تھی۔ وہ خود عام شکل و صورت، بے حد کمزور بینائی کی مالک تھی۔ اپنی اور والدہ کی بیماریاں اور دوسرے گھروں میں پلنے اور چرچ کے خیراتی نظام پر گزارے سے اور پادریوں سے وابستگی کی بنیاد پر کشید کردہ شدید مذہبی رجحانات کے حوالے سے اس کی اپنی شخصیت اپنے ہی وجود سے منکر ہوگئی تھی۔یہ بہت اہم نکتہ ہے ۔جوان ہونے پر انہوں نے اپنے  علم اور عشق کو ایک انجام پر یوں پہنچایا کہ اپنے محبوب  Walt Zeh سے شادی کرلی ۔تین برس کی اس شادی کے دوران ان کی ملاقات ایک پارٹی میں آرٹسٹ رابرٹ بٹس سے ہوئی۔اگلی ملاقات میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ والٹ زیہہ کو چھوڑ رہی ہیں اور رابرٹ بٹس کا جب موڈ ہو وہ بتادے تو وہ شادی کرلیں گی۔ شادی کے چھ سال بعد جب وہ نیویارک منتقل ہوگئے تو جین نے اعلان کیا کہ انہیں ایک ہستی سیتھ کی جانب سے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔

جین رابرٹس اور اس کا میاں
seth speaks
جین کےاقوال کا نمونہ

اس کا احوال ان کی ان تمام کتب تقاریر اور انٹرویوز میں ملتا ہے جو امریکہ کی مشہور یونی ورسٹی یل میں محفٖوظ ہے۔اس خذینے کو Seth Material کا نام دیا گیا ہے۔ سیتھ میٹرئیل کا مغرب میں ان ادیبوں اور دانشوروں پر بہت گہرا اثر ہے جنہیں New Age thinkers کہا جاتا ہے۔ ان میں ہماری طرف موم بتی مافیا اور مسلکی دہریوں میں سب معروف نام دیپک چوپڑا کا ہے۔
ہم نے پوچھا اس سیتھ میٹریئل کا آپ پر بھی کچھ اثر ہوا۔ کہنے لگیں سید قاسم کرمانی کے  ساتھ کچھ وقت گزرا۔بالخصوص وہ دن جو انہوں نے میری اور مرحوم امی کی رفاقت میں گزارے وہ بہت Focused and Intense (مرکوز اور شدت پسند ) تھے ۔مجھے بھی لگتا تھا کہ وہ  ایک بہت شفاف معمول یعنی spirit medium ہیں۔ان کے پاس بھی ارواح پاکیزہ کی آمد ہوتی ہے۔آپ یہ تو مانتے ہیں نا کہ روحیں اور جن آتے ہیں۔
ہم نے کہا فرحین بی بی ہم جنوں کے وجود کو قرآن ال عظیم کی روشنی میں سو فیصد درست مانتے ہیں مگر جب سے ہم نے سورہ جن کی پہلی آیت اور سیرت نبوی اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا ہم اس بات کے قائل ہوگئے ہیں کہ جن انسانوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین یا صحابہء کرام کا جن وغیرہ سے ملاقات کا کوئی احوال نہیں ملتا، اس لیے کہ سورہ جن کی پہلی آیت میں اس کا بہت واضح اشارہ ہے کہ ”(اے نبیﷺ) انہیں جتادیجیے کہ مجھے وحی کہ ذریعے اطلاع دی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہنے لگے کہ بلا شبہ یہ ایک بہت منفرد کلام ہے“
ارواح کے اس دنیا میں آنے کا معاملہ ایسا ہے کہ ہر روح کو اپنے اظہار کے لیے ایک جسم درکار ہے۔جب روز قیامت حساب ہوگا تو ان ارواح کو حاضر کیا جائے گا۔یہ حکم الہی ہے۔محاسبہ ان ارواح سے ہوگا۔کسی اور کی روح اگر میرے بدن میں آئے اور اس دوران کوئی خلاف دین عمل ہوجائے تو ذرا یہ تو بتائیں کہ اس کا محاسبہ میری روح سے ہوگا کہ  مہمان روح سے۔اس لیے نہ ایک روح کو دو بدن عطا کیے جاسکتے ہیں۔نہ دو بدنوں کو ایک روح۔

سورہ الجن کی پہلی آیت

ہمارے جواب سے فرحین کے شیشہء دل پر ایک ضرب سی لگی مگر دین کے معاملے میں ہم بہت شائستگی سے اپنا نقطۂ نظر سچائی سے بیان کردیتے ہیں سورہ یسن کی اس آیت کے ساتھ کے ہمارا کام تو کھلا اور واضح پیغام دینا ہے۔ہمارے سامنے امام شافعی ؒ کا یہ قول رہتا ہے کہ ”میں ہمیشہ خود کو درست مانتا ہوں مگر غلطی کے احتمال کے ساتھ۔دوسروں کو میں ہمیشہ غلط سمجھتا ہوں مگر درستگی کے امکان کے ساتھ“
گھر لوٹے تو بیگم کو ہم نے دونوں ملاقاتوں کی روداد سنائی۔وہ کسی کے علاج کی خاطر آج کل امریکہ میں ایک طویل عرصے سے قیام پذیر ہیں۔ہنس کر کہنے لگیں تم کو لوگ اتنا بے وقوف کیوں سمجھتے ہیں؟ ہم نے کہا سمجھتے تو بہت سے ہیں مگر فائدہ صرف آپ نے اٹھایا۔پھر بھی ضد کی کہ بلا کی ذہین اور دین دار عورت ہیں یہ تو بتائیں یہ فرحین نے پہلے میاں کو چھوڑ کر خیابان قاسم پر کیوں اتنا بڑا یو ٹرن لیا؟
پوچھا شاکرے خلیلی کا نام سنا ہے آپ نے؟۔انکار کیا۔

شاکرے خلیلی

ان کی دنیا اور ہے۔ کالج کے دنوں سے ہر صبح وہ ڈان اخبار ایسے پڑھتی ہیں،جیسے احمد علی اور الطاف گوہر (ڈان کے ایڈیٹر)ہوں۔کیا ہارون فیملی (مالکان) کے افراد اخبار اس قدر انہماک اور شوق سے پڑھتے ہوں گے۔شرمندہ ہوکر کے انکار کردیا کہ یہ شاکرے خلیلی کو ن ہے ہم نہیں جانتے۔
ہمیں لگا آج یہ دنیا بھر کی عورتیں ہمیں جاہل ثابت کرنے پر کمر بستہ ہوگئی ہیں بشمول ہماری شریک حیات کے۔
وہ کہنے لگیں ہم عورتیں مخلوق دلیل نہیں دل کی باندی ہیں۔شل (سندھی میں اللہ نہ کرے)نہ عورت کا دل کسی پر آئے۔گھوڑا رے گھوڑا ۔نبھاگی مائی چری (بدنصیب عورت پاگل) ہوجاتی ہے.ان کی بیان کردہ داستان کا لب لباب کچھ یوں ہے۔
شاکرے (فارسی میں زبان کے لوچ کے لیے”ہ“ کو”ے“ سے بدل دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شاکرہ کو شاکرے کہتے ہیں) انڈین فارن سروس کے افسر اکبر خلیلی کی بیگم تھی۔وہ ان کے سگے خالہ زاد کزن تھے ۔ ایران اور آسٹریلیا میں بھارت کے سفیر رہے۔شاکرے خلیلی، دیوان آف میسور سر نواب مرزا اسماعیل کی نواسی تھیں۔ نواب اسماعیل ایک طویل عرصے تک میسور، جے پور اور حدرآباد دکن کے دیوان رہے۔ وہ پاکستان کے گورنر جنرل اسکندر مرزا کے قریبی عزیز تھے۔یہ سب کے سب میر جعفر کا خانوادہ ہے۔سراج الدولہ سے آنگریزون کئ مدد اور غداری کے انعام میں اس ایرانی نمازی خاندان کو میسور میں بہت جاگیر دی گئی تھی ۔

اکبر خلیلی
نواب اسماعیل

شاکرے اپنے میاں عباس خلیلی کے ساتھ –

شاکرے،ان کی صاحبزادی گوہر تاج کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔دراز قد،شاہانہ نقوش، پیکر نسوانیت و دل فریبی۔کیا نہیں تھا۔ اس پر پیدائش سنگاپور کی اور تعلیم بھی بہت عمدہ1964 – میں ان
کی شادی ہوئی۔ سگے خالہ زاد ہونے کے ناطے شادی پر مختلف اعتراضات تھے مگر دونوں کزن کا آپس میں عشق تھا لہذا گھر والوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
دونوں کے ہاں پے در پے چار صاحبزادیوں کا جنم ہوا۔زبیندے،صبابخشی (جو ماڈل رہی ہیں)،ریحانے یاور اور عصمت۔
یہ جوڑا دہلی میں  کسی تقریب میں شریک تھا، ان کی ملاقات وہاں ایک بدنما چھوٹے موٹے اسٹیٹ ایجنٹ سے کسی نے کرائی۔ جیسی شکل، ویسی ہی، کھردری، بھاری، سماعت پر بوجھ بننے والی آواز۔اس کا نام تھا مرلی منوہر مشرا۔یہ بھوپال کے پاس ایک قصبے ساگر کے کسی اسکول ٹیچر کا بیٹا تھا مگر بے حد نالائق و نکما، باپ نے گھر سے نکال دیا۔بہت دنوں تک اس کا پتہ نہ چلا بعد میں جب منظر عام پر آیا تو کہیں میسور میں۔اپنا نام بھی سوامی شردھانند رکھ لیا تھا۔خود کو روحانی اور تانتارک جنسی طاقت کا مالک بتاتا تھا۔جائداد کے کئی معاملات چل رہے تھے اکبر صاحب اکثر ملک سے باہر رہتے تھے۔باتوں کے ذریعے لوگوں کو شیشے میں اتارنا خوب آتا تھا۔

صبا بخشی۔۔۔صاحب زادی
مشرا سوامی شردھانند

اس ملاقات میں خلیلی جوڑے نے سوامی کو اپنے گھر میسور آنے کی دعوت دی۔یہ شاکرہ کی ہلاکت کا بلاوا تھا۔
شاکرے کو والدہ کی جانب سے بہت سی جائیداد ملی ہوئی تھی جس میں رچمنڈ روڈ،میسور کا شہر کے عین وسط میں سات ایکڑ کا پلاٹ جس پر ایک چھوٹا سا گھر بھی تھا۔اس جائیداد کے ساتھ جڑے کئی مسائل تھے۔سفیر صاحب کی تعیناتی ایران میں ہوگئی تو شاکرے نے ایران میں رہنا مناسب نہ سمجھا کہ اس سے بچیوں کی تعلیم اور پردے کے مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔
شاکرے خلیلی کے دو ارمان تھے ۔ایک تو عمر ڈھل رہی تھی اس لیے وہ جلد از جلد  بیٹے کی ماں بننا چاہتی تھیں دوسرے کنسٹرکشن میں  دولت کمانا۔
سوامی شردھانند نے انہیں اس عرصہء تنہائی اور لمحات وصل میں یقین دلایا کہ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں کہ وہ ان کے بیٹے کا باپ بھی بن سکتا ہے اور کنسٹرکشن کے کام میں ا نہیں مالامال کرسکتا ہے۔وہ مان گئیں۔چند ماہ افیئر چلا اور اور اکبر صاحب سے طلاق لے کر شاکرے نے اس بد صورت لوزر سے شادی کرلی۔

سوامی اور شاکرے کے ایام لگاوٹ –

جلد ہی انہیں پتہ چل گیا کہ وہ کس قدر بڑی غلطی کربیٹھی ہیں۔دن بدن ناچاقیاں بڑھنے لگیں۔اس اثنا میں سوامی جی کے اصرار پر پہلے گھر پر ایک بڑا سا صندوق منگوایا گیا شیشے کے ٹاپ والا۔ملازمین کو بتایا گیا کہ خاندانی نوادرات کی نمائش اور حفاظت کے لیے یہ لازم ہے۔ مہمان چھوٹے موٹے نوادرات چرالیتے ہیں۔اس نے باغ میں کئی دن پہلے مچھلیوں کے  لیے ایک تالاب بھی کھدوایا۔اپریل 1991 کی ایک رات شاکرے کو کھانے میں بہت سارے سلیپنگ کیپسولز کا پاؤڈر دے کر بے ہوش کردیا گیا۔اس صندوق کے اردگرد جس پتلے گدے پر وہ بے ہوش پڑی تھیں اسے لپیٹ کر ایک اور گدا اوپر ڈال کر ایک نوکر کی مدد سے رات کے اندھیرے میں شاکرے کو زندہ دفنا دیا گیا۔سال بھر تک وہ بڑی بیٹی صبا کو کہتا رہا کہ وہ ایک ہندو سادھو کے پاس قدرتی طریقے سے بیٹا پیدا کرنے ہمالہ کے کسی مقام پر گئی ہیں۔بیٹی کو شک ہوا تو اس نے ایک رپورٹ گمشدگی کی درج کرائی تین برس تک کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
بیرونی دباؤ پر پھر کرائم برانچ کے ایک ذہین پولیس افسر نے نے چال چلی۔اس کے ایک سپاہی کا ایک دوست سوامی جی کے اس گھر پر ملازم تھا۔ و ہ ناراض چل رہا تھا۔ ہولی دیوالی پر دارو کا پروگرام بنا کر سپاہی مہادیوا اس ملازم کو ساتھ لے گیا اور نشے کی حالت میں اس سے اگلوالیا کہ کس طرح اس نے اور سوامی جی نے شاکرے بی بی کو دفن کیا۔
صبا دلیر لڑکی ہے اس نے نہ صرف اپنی امی کی لاش کو برآمد کیا بلکہ اس کی ویڈیو گرافی بھی ہوئی۔۔
۔یوں یہ بھارت کی کرمنل تاریخ کا پہلا کیس ہے جس کی قبر کشائی کی ویڈیو بھی بنی اور ڈی این اے سیمپلنگ بھی ہوئی۔برآمد شدہ لاش کی شناخت شاکرے کی بوڑھی والدہ گوہر تاج بیگم نے ایک خاندانی برسیلیٹ کی بنیاد پر کی

شاکرہ کا تابوت
شاکرہ کا مدفن

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شاکرہ کسی وقت ہوش میں آئی تھی اور اس نے باہر نکلنے کی کوشش بھی کی ہے اس لیے کہ ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن کے صندوق اور گدے کے نشان سے یہ سب ظاہر ہوتا ہے۔
شاکرے خلیلی کی ماں بیٹیاں اور شوہر اکبر خلیلی سب آج تک اس بات کے جواب سے محروم ہیں کہ شاکرے نے ایک بھرے پرے گھر اور اعلی خاندان کو چھوڑ کر یہ بھیانک اقدام کیوں اٹھایا۔پولیس افسر کا خیال ہے کہ اس میں جنس کا بہت بڑا رول ہے اس لیے کہ شاکرے کے ہاں بیٹا تو ہوا تھا مگر مردہ۔
ملازمہ جوزفین کا کہنا ہے کہ اکبر خلیلی صاحب سے بیگم کی ناچاقی چلتی رہتی تھی مگر سوامی جی کے ساتھ وہ شروع کے ایام میں بہت خوش تھیں۔وہ ان کے قدموں میں بیٹھتا تھا۔میٹھی دل خوش کن باتیں کرتا تھا اور صبح دس بجے وہ جب بیدار ہوتیں تو بستر میں چائے اور اخبار خود لاکر دیا کرتا تھا۔
سوامی کو سیشن اور ہائی کورٹ سے موت کی سزا ہوئی تھی مگر سپریم کورٹ نے عینی شہادت کی کمی کے باعث اس سزا کو تا حیات عمر قید میں بدل دیا ہے۔

بیگم تردد اور تاکید کے لہجے میں کہنے لگیں ”اب فرحین یا اس کا میاں بلائے تو مت جانا۔ تمہیں ان سے کچھ بھی فیض نہیں ملے گا۔جو عورتیں تمہیں پسند تھیں۔وہ سب شاہ رخ خان کے ہاتھوں بوڑھی ہوگئیں۔تمہاری من چاہی تبّو اورششمیتا سین نے لوزر مردوں کے پیچھے اپنی زندگی برباد کرلی۔
خود شاہ رخ خان کون سا جوان ہے۔یہاں امریکہ میں وگ ڈھونڈتا پھرتا ہے۔تمہیں وگ سے الجھن ہوتی ہے۔ خضاب لگانے اور وگ پہنے والے مرد ویسے بھی منافق سمجھے جاتے ہیں جو کم از کم تم تو نہیں۔اللہ اللہ کیا کرو۔یہاں تو ہم نے تھوڑے دن رہنا ہے۔اصل زندگی تو وہاں کی ہے جس کی فکر ہو۔جب وہ شہ رگ سے زیادہ قریب ہے تو دوسروں کے پاس اس کے حصول کے لیے کیوں جانا۔ فرحین اور کرمانی اللہ والے ہیں تو ا ن کے پاس دنیا مانگنے کیوں جاؤ گے اور اگر اللہ درکار ہے تو گھر میں قرآن کا تقریباً ہر اچھا ترجمہ موجود ہے۔پڑھو ہدایت لو اور فیض اٹھاؤ۔
تمہارے وہاں جانے سے انہیں علم،اعتماد اور نام ملتا ہے۔میں تو امریکن نیشنل ہوں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگرBae Its not good for you. I am only advising you because
تمہاری اماں نے مرتے وقت کہا تھا میرے بیٹے کا خیال رکھنا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

  1. کیا سلاست ہے کیا بہاؤ ہے کیا روانی ہے تحریر کی۔ سچ تو یہ ہے کہ سمجھیں سانس روک کر پڑھی جاتی ہے مصنف کی ہر تحریر۔ اللّه کرے زور قلم اور زیادہ ۔ ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *