عمر کٹ جائے آنے جانے میں۔۔۔محمد اظہار الحق

SHOPPING

یہ الوداعی نظر تھی۔ مسجد نبویؐ کے بیرونی گیٹ نمبر5سے باہر نکل رہا تھا۔ پلٹ کر دیکھا، اس سفرِ زیارت کے دوران گنبدِ خضریٰ کا یہ آخری دیدار تھا۔ زمین نے پائوں جکڑ لیے۔ کئی بار ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر اپنے پیاروں کو الوداع کیا۔ مگر یہ کیفیت ہی اور تھی۔ چلنا شروع کیا۔ دو قدم چلا، پھر پلٹ کر دیکھا۔ وہیں کھڑا ہو گیا۔ ایک ایک کرن نور کی، جو گنبد سے نکل رہی تھی، آنکھوں میں بھر لینا چاہتا تھا۔ ایک ہُوک دل میں اٹھی… کاش میں یہیں رہ جائوں! اس دربار کا جاروب کش ہو جائوں! یہاں ماشکی لگ جائوں! زائرین کے جوتے سیدھے کرتا رہوں۔ معاوضے میں گنبدِ خضریٰ کا دیدار ملتا رہے، یہیں مرض الموت آ گھیرے۔ یہیں جان دے دوں۔ زبان پر کلمۂ شہادت ہو، آنکھوں کے سامنے سبز گنبد ہو۔ مسجد نبویؐ کا فرش ہو۔ مگر نظیری نیشا پوری نے کہا تھا ؎ نازاں مرو کہ بارِ علائق گزاشتی ہستی تعلق است نظیریؔ جریدہ تر دنیا، خانوادہ، علائق، آلائشیں، آلودگیاں! ہاں حسرت کے اظہار سے تو کوئی نہیں روک سکتا! ؎

اسی دہلیز پر بیٹھا رہے میرا بڑھاپا

انہی گلیوں میں گزرے میرے بچوں کی جوانی

آتے ہوئے عرضی ڈال آیا کہ پھر طلب فرمائیے۔ والد گرامی حافظ ظہور الحق ظہورؔ کا شعر یاد آ رہا ہے ؎

طیبہ جائوں اور آئوں پھر جائوں

عمر کٹ جائے آنے جانے میں

اُس سے تین دن پہلے مکہ مکرمہ سے روانگی تھی۔ ایک دن خوش بختی سے مطاف میں دوسری صف میں جگہ مل گئی۔ بھاگ جاگ اٹھے۔ دیکھتا رہا، دیکھتا رہا، علماء کرام سے سنا ہے کہ اس گھر کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ ویٹی کن سے لے کر ایاصوفیہ تک۔ بڑی بڑی پرہیبت عمارتیں دیکھیں جن کی بلندی کے سامنے انسان خقیر ذرہ لگتا ہے۔ مگر یہ گھر! اللہ کا گھر! جس کی اونچائی چند فٹ سے زیادہ نہیں، جلال و جمال میں کوئی ثانی اس کا کیا ہو گا۔ ایک بقعۂ نور ہے جو ابد تک روشنی بکھیر رہا ہے، تزک و احتشام، شان و شکوہ! دست بستہ ہیں۔ دنیا کی کوئی زبان کوئی لغت، کوئی لفظ، کوئی ذریعۂ ابلاغ اُس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا جو اس گھر کو دیکھنے سے دل و دماغ پر طاری ہوتی ہے۔ ایک شاعر کے پاس ہے ہی کیا! برگِ سبز است تحفۂ درویش جو نذرانہ پیش کیا، اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ (1)

میں تھا قلاش یا زر دار جو بھی تھا وہیں تھا

کہ میرا اندک و بسیار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں تھا ایک پتھر جس پہ تفصیلِ سفر تھی

یہ رستہ سہل یا دشوار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں میزان تھی اوزان لکھے جا رہے تھے

اثاثہ کاہ یا کہسار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں کم مائیگاں کے ناز اٹھائے جا رہے تھے

میں شکوہ سنج و کج گفتار جو بھی تھا وہیں تھا

لہو میں ان گنت شمعیں تھیں آنکھوں میں دھواں تھا

یہ عالم ہجر یا دیدار جو بھی تھا وہیں تھا

وہیں مٹی مری اظہارؔ گوندھی جا رہی تھی

ازل کا اولیں دربار جو بھی تھا وہیں تھا

(2) متاعِ بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

پلٹ کر جب ترا گھر میں نے دیکھا بو دیا تھا

عصادر دست ہوں اُس دن سے بینائی نہیں ہے

ستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا

زمانے، حُسن، ثروتؔ، ہیچ سب اس کے مقابل

تہی کیسہ کو اُس پہلی نظر نے جو دیا تھا

پروں کی ارغوانی چھائوں پھیلائی تھی سر پر

بہشتی نہر کا پانی مسافر کو دیا تھا

بس اک قندیل تھی جلتی ہوئی اپنے لہو میں

یہی نذرانہ دینا تھا حرم کو، سو، دیا تھا

(3) برون در نکلتے ہی بہت گھبرا گیا ہوں

میں جس دنیا میں تھا کیوں اس سے واپس آ گیا ہوں

کوئی سیارہ میرے اور اس کے درمیاں ہے

میں کیا تھا اور دیکھو کس طرح گہنا گیا ہوں

مجھے راس آ نہ پائیں گے یہ پانی اور مٹی

کہ میں ایک اور مٹی سے ہوں اور مرجھا گیا ہوں

میں پتھر چوم کر تحلیل ہو جاتا ہوا میں

مگر زندہ ہوں اور ہیہات! واپس آ گیا ہوں

کہاں میں اور کہاں دربار کا جہل و تکبر

مگر اک رسم کی تسبیح جس سے چھا گیا ہوں

(4) دریچے کاخِ دل کے وا ہوئے ناگاہ میرے

میں تنہا تھا مگر تھے رفتگاں ہمراہ میرے

فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا

کفِ افسوس ملتے رہ گئے بدخواہ میرے

یہاں میں محترم ہوں اور وہ نادم کھڑے ہیں

نظر مجھ سے چراتے ہیں وزیر و شاہ میرے

کہاں یہ چشمۂ کافور، یہ رحمت کی لپٹیں

کہاں وہ زندگی، وہ روز و شب جانکاہ میرے

زمیں گردش میں ہے اس پر مکاں رہتا نہیں ہے

مگر اس سے نہیں آگاہ واقف آہ! میرے

(5) مدینے کی ہوا ہے اور رخساروں پہ پانی

کوئی ایسی لغت جس میں سنائوں یہ کہانی

تھما بھی ہے کبھی کیا سیل انسانوں کا اس میں

پریشاں ہے مدینے میں ابد کی بیکرانی

برہنہ پا کھڑی ہے رات پتھر کی سلوں پر

سروں پر صبحِ صادق نے عجب چادر ہے تانی

یہاں مٹی میں کنکر لعل اور یاقوت کے سب

درختوں پر یہاں سارے پرندے آسمانی

مرے آقا کے چاکر اور کیکائوس کا تخت

مرے مولا کے خدمت گار اور تاجِ کیانی

مطہر جسم پر دیکھو چٹائی کے نشاں ہیں

چٹائی کے نشاں اور دو جہاں کی حکمرانی

کہاں تھا وقت میں جب جالیوں کے سامنے تھا

مجھے اس نے سمجھ رکھا ہے کس برتے پہ فانی

کہاں میں اور کہاں یہ فرش اور پلکوں پہ جاروب

زہے قسمت کہ میں نے لوٹ لی یہ میہمانی

کہاں یہ گنبدِ خضریٰ کہاں بینائی میری

کہاں قلاش مجھ سا اور کہاں یہ شہ جہانی

اسی دہلیز پر بیٹھا رہے میرا بڑھاپا

انہی کوچوں میں گزرے میرے بچوں کی جوانی رہے میرا وطن اس شہر کے صدقے سلامت۔ قیامت کے تلاطم میں وہ کشتی بادبانی

مرے دشمن مرا کشکول چھپ کر دیکھتے ہیں

غلامانِ محمدؐ کی سخاوت مہربانی

مرے آبِ وضو سے بھیگتی ہے رات اظہارؔ

مری آنکھوں سے کرتے ہیں ستارے دُرفشانی

(6) ہر اک محاذ پر لشکر تباہ امت کے

حضور! ختم ہوں یہ دن سیاہ! امت کے

حضور! آپ پہ قربان ہوں مرے ماں باپ

بدل بھی دیجیے شام و پگاہ امت کے

کسی کا تخت ہو یا جبر، کچھ نہیں ہے یہاں

بس ایک آپ ہی ہیں بادشاہ امت کے

غلام جمع ہیں، میدانِ حشر ہے اظہارؔ

SHOPPING

چھپے ہوئے ہیں کہاں کج کلاہ امت کے!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *