• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام ایک امتی کا خط۔۔۔۔۔۔سھل زید حسن

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام ایک امتی کا خط۔۔۔۔۔۔سھل زید حسن

پیارے رسول ﷺ!

مجھ حقیر پر تقصیر عجم زاد کو وہ القاب کہاں آتے ہیں جو آپ ایسی بے مثل و بے مثال عالی مرتبت ہستی کے شایان شان ہوں۔میں خط لکھ رہا ہوں تو یہ بھی آپ کی سنت کریمہ ہے ۔آپ سے تخاطب کی جسارت کر رہا ہوں اور وہ بھی ایسے دور میں جب آپ کے اسم پاک کی مالا جپنے والے علما و مشا‏ئخ نے مسلک اور  مسلکی عقیدہ کا اپنے گرد ایسا حصار بنا دیا ہے کہ ان سے مکالمہ ہو ہی نہیں سکتا ۔آپ سے ذرا کھل کر بات ہو سکتی ہے۔آپ نے صحابہ کرام کو سوال اٹھانے سے کبھی روکا ٹوکا نہیں اور ان کو مقلد محض جان کر لکیر کا فقیر نہیں بنایا بلکہ ان کو بارہا اپنے مشاورتی عمل میں شریک کیا ۔آج تو ہمارے علما سوال اٹھانے پر تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں اور پارہ ہائی  ہو جاۓ تو کفر کے فتوے صادر کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے۔اب تو امت شہ لو لاک سے خوف یوں آتا ہے کہ سماعتوں میں رواداری مفقود ہے اور مکالمہ میں تحمل عنقا۔آپ پر میری جان مال اولاد قربان ،خدا لگتی عرض کرتا ہوں کہ آپ کے  نام لیواؤں نے آپ کی اسوہ اور دعوت کا الگ الگ خانوں میں بٹوارہ کر لیا ہے۔کوئی  توحید ،کوئی  تصوف ،کوئی  عشق رسول ،کوئی  جہاد ،کوئی  قرآن ،کوئی  حدیث،کوئی  امامت اور کوئی  خلافت کے نام پر الگ مکتب فکر ،الگ مسجد،الگ جماعت بنا کر منبر سے  ولا تفرقوا کی تفسیر کرتا ہے۔

پیارے رسولﷺ!

آپ ہی وہ مبارک ہستی ہیں جن سے محبت میں ہر مسلمان ایسے سرشار ہوتا ہے جیسے کوئی  عاشق اپنے محبوب کے بارے کسی کی نازیبا گفتگو کو نہ برداشت کر سکتا ہے نہ نظر انداز کر سکتا ہے۔آپ ایسے عالی مرتبت رسول اکرم ﷺ سے اپنی محبت میں سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار رہتا ہے ۔ میرا تعلق جس زمینی منطقہ سے ہے وہاں گذشتہ تین دہائیوں سے ایک قانون موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ آپ کے ناموس کا قانون ہے۔جب اس کے حق میں اصرار کیا جاتا ہے تو مجھے میرے رسولﷺ  کی صفت رحمت اللعالمین  کا خیال آتا ہے اور جب اس قانون پر سخت الفاظ میں اعتراض کیا جاتا ہے تو شان رسالت میں کوتاہی برداشت نہیں ہو پاتی اور اندر اندر گھٹتا مرتا ہوں۔دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہمارے منطقے میں منطق کوئی  نہیں مانتا اور اس قدر حساس معاملہ کو تدبر و تفکر کے بغیر جذباتیت سے طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ملک میں اخلاقی اعتبار سے تیسرے درجے کے باشندے بستے ہیں،جہاں عدالتوں میں جھوٹی شہادت دینا معمول کی کاروائی  سمجھا جاتا ہے ،جہاں معمولی معاوضہ پر ساری تفتیش کا رخ موڑ دیا جاتا ہے ،جہاں عدالتوں کے فیصلے اتنے کمزور ہوں  کہ متنازعہ بنتے رہتے ہوں وہاں اس قانون کو نافذ کرنا، ناموس رسالت جیسے حساس دینی معاملہ کو سر بازار موضوع بنانے  کے مترادف ہے۔آپ کی تعلیم تو یہ تھی کہ کسی کے جھوٹے خداؤں کو برا مت کہو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو برا بھلا نہ کہیں۔ہمارے ہاں تو ذاتی غم غصہ اور کسی رنجش پر دینی، مسلکی یا قومی رنگ دے کر مخالف کو  کافر،گستاخ یا غدار قرار دینے کی روش شروع سے پاکستانی قوم کی نظریاتی رگوں میں  دوڑتی  رہی ہے۔جس ملک میں عدالتوں میں انصاف کا معاملہ ہمیشہ تنازعات سے آلودہ رہا ہو اور قانون و انصاف اندھا ہو نے کی بجاۓ یک چشم رہا ہو ،وہاں آپ سب سے بہتر جانتے ہیں کہ  ایسے قانون لانا آپ کی محبت سے زیادہ مذہبی انانیت کی تسکین ہے۔

پیارے رسول!

آپ کا اعجاز تو یہ ہے کہ آپ نے استحصالی فرعونی ہامانی و قارونی قوتوں سے پاک معاشرے کا تصور دیا۔سود خور سرمایہ دار کی معاشی جبریت پر کاری ضرب لگائی ۔عرب ایسے خطہ ارضی پر جہاں لا مرکزیت یا دوسرے لفظوں میں لا حکومتی کی حالت رہتی تھی ،ایک مرکز کا تصور دیا۔صرف روحانی مرکز نہیں بلکہ معاشرتی و سیاسی مرکز بھی قائم کیا۔آپ کی ذات گرامی میں اوصاف حمیدہ اور کمالات حسنہ کا ایسا امتزاج ہے جو آپ کو بیک وقت کامیاب سر براہ و سپہ سالار،مصلح و راہنما ،ماہر معاشیات و اخلاقیات کے طور پر سامنے لاتا ہے جو فلسفیوں اور حکماۓ اخلاق کی طرح محض زبانی کلامی نصابی تعلیم نہیں دیتا بلکہ  اپنے روزمرہ عمل ،قول و فعل سے کردار سازی کرتا ہے۔آج کل مساجد میں خطبات و مذہبی اجتماعات کا زیادہ وقت کردار سازی کی بجاۓ ایک طرف شرک و بدعت ،حاضر و ناظر ،علم غیب ،مدینہ کی مکہ یا مکہ کی مدینہ پر افضلیت ،نور و بشر کی مباحث میں لوگوں کے عقائد درست کرانے میں لگتا ہے تو دوسری طرف کہیں وظائف ،ذکر اذکار ،چلہ کشی کو حاصل اسلام سمجھ لیا گیا۔یہ فقیر کس کے آگے گریہ کرے کہ پیغمبر اسلام سے کیا سیکھنا تھا اور کیا سکھایا جارہا ہے ۔شاید یہی اجتماعی فکری  کجی ہے کہ مسلمان  کئی  صدیوں سے ہمہ قسم زوال سے دوچار ہیں۔

پیارے آقا!

مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کس منہ سے عرض کروں کہ ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اسلام (امن و سلامتی) کو دہشت گردی کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔مغرب میں اسلام کا نام کسی ضابطہ حیات کی بجاۓ دہشت گرد ایجنڈا کے  مترادف بنا دیا گیا ہے ۔زبانی تبلیغ بہت کی مگر   غیر مسلم ملکوں میں  مقیم مسلمانوں نے اپنے عمل اور کردار سے وہ تبلیغ نہیں کی جس میں لفظوں کی ضرورت کم  کم پڑتی ہے ۔مغربی ممالک میں مقیم کچھ  مسلمانوں نے ایسے کار ہاۓ نمایاں انجام دیے کہ مسلمان ہونے کا ایک مطلب فراڈ ہونا ہے ،گویا صادق و امین رسول کی امت کی شناخت بد دیانت ہونا رہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔گویا اب پیغمبر اور امت ایک پیج پر نہیں رہے۔

پیارے رسول !

آپ مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوۓ۔شدید عصبیت اور قبائلی تفاخر میں مبتلا عرب معاشرے کو درس دیا کہ افضلیت اسے ہے جو زہد و پرہیز گاری میں آگے ہے، ایمان میں کامل وہ ہے جس کے اخلاق سے زیادہ حسین ہیں۔بہتر مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں اور افضل وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچاۓ۔ ۔۔۔بے شک آپ اخلاق کے بلند درجے پہ فائز تھے۔یہ اخلاقیات دراصل مذہب کی جمالیات ہیں۔رحمان و رحیم کی صفات اپنے  اندر پیدا کرنا  اور خدا کے رنگ میں رنگ جانا عین اسلام ہے۔

پیارے آقا!ہم بھٹک کر  زوال در زوال گڑھوں میں گر چکے اور اب آپ کی ذات والہ سے دامن امید وابستہ ہے ۔ہم سے جو جو کوتاہیاں ہو چکیں،درگذر کیجیے ،نگاہ کرم کی درخواست ہے ۔اک بار اللہ پاک سے سفارش کر دیجیے  کہ اس ذلت آمادہ قوم پر رفعت کے دروازے کھول دے۔ ہم پر ہماری  حقیقت  کھل جاۓ اور  ماضی کے خمار سے نکل کر علم کی روشنی کو کھلے ذہن سے اپنانے کی توفیق ملے۔سائل کو مانگنے کے آداب آتے نہیں مگر آپ ایسے سخی سے نسبت جوڑ لی ہے جو سائل کی خطاؤں کو اپنے دامن عفو و کرم سے ڈھانپ لیتا ہے اور بے بہا نوازشات سے بگڑی بنا دیتا ہے۔

طالب کرم

ایک پاکستانی مسلمان!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *