بیشک انسان خسارے میں ہے۔۔۔محمد منیب خان

یو ں تو گزرتے وقت کا ہر لمحہ اہم ہے ہر ساعت محترم ہے۔ لیکن بعض ساعتوں کی نسبت ایسے واقعات سے ہوتی ہے جو تاریخی اعتبار سے اہم ہونے کے علاوہ مقدس بھی ہوتے ہیں۔ ایسے مقدس واقعات چاہے کئی صدیاں پہلے ہو چکے ہوں لیکن ان کی نسبت سے وہ ایام کئی سو  برس  بعد بھی معتبر رہتے ہیں۔ ایسے ہی ربیع الاول بھی اپنے اندر ایک مقدس ساعت لیے ہوئے ہے۔ اس مہینے کی ہی مقدس گھڑی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی   تاریخ ولادت باسعادت بارے کسی کو حتمی  معلوم نہیں۔ لہذا سوشل میڈیا پہ پھیلی بے ہنگم بحث ایک بالکل لا حاصل مشغلہ ہے کہ تاریخ ولادت فلاں تھی یا فلاں۔ جو تاریخ چودہ سو سال سے حتمی نہ بتائی جا سکی ہو اس بارے اب صرف جمہور علما کی رائے پہ ہی بھروسہ کرنا ہوگا۔ غالباً  سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے باقاعدہ مصنف اور تاریخ دان ابن اسحاق نے سیرت کی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش بارہ ربیع الاول لکھی ہے۔ اس کے علاوہ غالباً کوئی سات آٹھ مختلف تاریخوں کی روایات ملتی ہیں۔ تاریخ کوئی بھی ہو لیکن حاصل بحث یہی ہے کہ انہی ایام میں ہی کوئی مقدس ساعت تھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا پہ تشریف لائے۔

یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے بالا ہے کہ دین کا تنہا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ میں بطور مسلمان کسی بھی فرقے کی پیروی کرتا ہوں تو میرا مطمع نظر اس دین پہ عمل کرنا ہی ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا۔ ان روایات میں بدلاؤ کب اور کہاں سے آنا شروع ہوا یہ ایک دوسرا موضوع ہے لیکن بطور مسلمان سب اسی دین پہ عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش اور عمل میں وقت کا پہیہ گھومتا  رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پرد ہ فرما جانے کے بعد سے چودہ سو سال کا عرصہ بیت گیا۔ میں کسی کے متعلق بھی بد گمانی کا شکار ہوئے بنا یہ سمجھتا ہوں کہ دین میں ساری بحثیں، فقہ کی ساری تعبیریں، سارے فلسفے وقت کے ساتھ اسی لیے تراشے جاتے رہے کہ من و عن اسی دین پہ عمل ہوتا رہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات چھوڑ کر گئی تھی۔ 

لیکن وقت کے ساتھ سوالات جنم لیتے رہے، سوالات کے جوابات تلاش کیے گئے اور ان جوابات نے مزید سوالات کھڑے کر دئیے۔ گویا تحقیق کا در وا ہوتا گیا۔ تحقیق اور کھوج کب ضد اور ہٹ دھرمی بنی، کب اس نے فتویٰٰٰ  کی شکل اختیار کی اور کب ان فتوؤں کی بنیاد پہ کفر کے سرٹیفیکٹ جاری ہونے لگے۔ یہ تاریخ کا سوال ہے۔ اور تھوڑی سی محنت سے ان سوالات کے جوابات تلاشے جا سکتے ہیں۔

وہ سوالات اپنی نوعیت میں انفرادی ہیں۔ لیکن چونکہ یہ بات پہلے لکھی جا چکی ہے کہ دین کا تنہا ماخذ رسول اللہ کی ذات ہے تو اس بات کو تسلیم کرنے کے بعد وہ سوالات کچھ عجیب بھی محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا بشر تھے؟ رسول اللہ کی معراج بدنی تھی یا روحانی؟ میلاد منانا چاہیے یا نہیں وغیرہ وغیرہ علم کے لیے تحقیق کے لیے ایسے سوالات کیے جانے چاہییں ۔ان پہ قرآن و سنت اور تاریخ کی روشنی میں اس پہ تحقیق بھی ہونی چاہیے لیکن اکیسویں صدی کا ایک ایسا آدمی جو سارا دن کرسی پہ ٹانگیں پسارے سوشل میڈیا پہ بیٹھا ہوتا ہے وہ ان معاملات پہ ایسے رائے زانی کرے گویا چودہ سو سال کے علما تو بس بچے تھے جو ان سوالات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکے اور ہم ایک دو دن کی محنت سے کسی کو زیر کر لیں گے اور اپنے فرقے کا عَلم بلند کر لیں گے۔ مسلمان کو زیر کرنے کی سوچ ہی بنیادی طور پہ زہر مہلک بنی ہوئی ہے۔ 

جس ذات سے ملا دین ہمارے ایمان کے مطابق ہماری دنیا اور آخرت کو سنوارے گا، جس ذات کے کیے ہوئے اعمال کو ہم کسی نہ کسی طرح اپنا کر حصول ثواب کے لیے کوشاں ہیں اسی ذات کے متعلق ایسی ایسی بحث ہو رہی ہے کہ دل دھڑکنا بھول جاتا ہے کہ اس مقام پہ کوئی جملہ غلط کہہ دیا تو کہیں سارے ہی اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔ وہ ایک جملہ غلو کا بھی ہو سکتا ہے وہ ایک جملہ بے ادبی کا بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا چیزیں دونوں ہی خطرناک ہیں لیکن دین کے خود ساختہ سپاہی اس بارے سوچ ہی نہیں رہے۔ میں صدق ِِِ دل سے محسوس کرتا ہوں کہ ہم انتہاؤں پہ مقیم ہیں۔ فتویٰٰٰ  سازی ہماری سرشت میں یوں بیٹھ گئی ہے کہ پہلے صرف کسی مسجد کے منبر سے کسی کے خلاف کوئی فتوی آتا تھا اب آپ کے مخالف گفتگو کرتا کوئی شخص بھی آپ پہ فتوی لگا سکتا ہے اور یقین کریں کوئی سخت فتوی لگ گیا تو عین ممکن ہے  آپ اس کے نتیجے میں کسی تحقیق کے بنا اپنی جان بھی کھو دیں۔ 

یہ المیہ ہے۔ جس امت نے دین کو پھیلانا تھا وہ دین کو سکیڑنے میں لگ گئی ہے۔ جس مومن کی گمشدہ میراث حکمت تھی وہ دانائی سے کوسوں دور ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب مزید کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ مزید کوئی دلیل قابل سماعت نہیں۔ ایک طبقہ آنکھیں نکال نکال کے پوچھ رہا ہے کہ میلاد منانے کا حکم دکھاؤ ۔۔ایک دوسرا طبقہ سارے جہاں کی خرافات کرتے ہوئے فتویٰٰٰ  دے رہا ہے کہ ساری دنیا خوش ہے سوائے شیطان کے۔ حالانکہ ان خرافات پہ شیطان ضرور خوش ہوتا ہوگا۔ گھروں پہ چراغاں کرنا محفل ذکر محبوب منعقد کرنا اور ایسی محافل کا اہتمام کرنا جہاں اسوہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم پہ عمل پیرا ہونے کی بات ہو جہاں اللہ کے قرآن کے آفاقی پیغام کو پھیلانے کی بات ہو تو اس سارے عمل میں یہ سوال اٹھایا ہی نہیں جانا چاہیے کہ صحابہ رض  نے ایسا کیا، تابعین نے ایسا کیا، تابع تابعین نے ایسا کیا۔۔۔۔۔ کیونکہ ان لوگوں کی زندگیاں یکسر مختلف تھی خاص کر ان اصحاب کے روز شب ہمارے جیسے کیسے ہو سکتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ   علیہ وسلم کا یا ان کے بعد کا زمانہ پایا۔ اس وقت تحقیق کا فوکس اور تھا اس وقت کے حالات اور تھے اس دور کی ڈائنامکس مختلف تھی۔ 

میلاد منایا جانا چاہیے۔ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو شمع حسان بن ثابت رض  سے جل رہی ہے اس کو تا قیامت جلنا ہے۔ اسوہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا پرچار ہوتا رہنا چاہیے اور ہوتا رہے گا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے والوں کی زندگیاں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور ہیں۔ میلاد منانے والے ذکر سے نکل کر عمل میں داخل نہیں ہو پا رہے۔ عمل کرنے والے علم سے ناطہ توڑ رہے ہیں۔ اور علم والے چپ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسوہ رسول محض مخصوص طور طریقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ کی ذات اقدس دنیا کی وہ واحد ذات ہے جن کے روز شب کی ساعتیں تک محفوظ ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات تک ریکارڈ پہ ہیں لیکن افسوس کہ ہم لوگوں کے چہروں پہ ہاتھ رکھ کے ان کی داڑھیاں تو ناپ کے بتاتے ہیں کہ یہ خلاف سنت ہے یا نہیں جبکہ بطور باپ، بطور خاوند، بطور جنگجو، بطور لیڈر، بطور دوست، بطور بزنس مین، بطور داعی اور بطور ایک منصف کیا اسوہ رسول ہے یہ نہیں بتاتے۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے۔ کہ سب کچھ پاس ہوتے ہوئے بھی بس نظر منہ کی داڑھی اور شلوار کی لمبائی تک ہی جاتی ہے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *