راگ شنکارا اور پرواز۔۔۔محمد اقبال دیوان

یہ مضمون ایک سال کے وقفے سے لکھے گئے دو حصوں پر مشتمل ہے۔اسے حقیقت اور افسانے کی بائی فوکل عینک لگا کر پڑھا جائے تو زیادہ سواد آئے گا۔گو کردار سو فیصد اصل اور گفتگو بھی بہت حد تک حقائق پر مبنی ہے۔راگ شنکارا ہندی کلاسیکی موسیقی میں رات کے پچھلے پہر کا شدھ پانچ سروں کا راگ ہے!

کل ہمارا پنُّر (ہندی میں مقدس راگ شن کارا اور پرواز)جنم دن تھا۔سال گرہ اس لیے نہیں کہتے کہ گرہیں تو سال ہی میں نہیں ہماری زندگی کے ہر دن میں ہر نئی واردات سے لگتی ہی چلی جاتی ہیں۔
فرحین بی بی کا مبارک باد کا فون باعث حیرت تھا۔ہمارا خیال تھا وہ اپنے نئے میاں کی تحویل میں کار زار ہستی میں گم ہوکر امریکہ جاپہنچی ہیں۔ہم سے ملاقات کا سبب کتاب تھی۔اس میں ہمارا ای میل ایڈریس تھا۔ای میل آئی تو فون نمبر مانگا گیا۔۔۔۔
وہ دیا تو واٹس ایپ پر سلسلے چل نکلے۔ملاقات کا سبب یہ ہی سب کچھ بنا۔ ایک دن فون آیا کہ ہم یہاں کریک کلب میں موجود ہیں آؤ تو مل لیتے ہیں۔
ہم آپ کو کیسے پہچانیں گے۔یہ ہمارا سوال تھا ۔۔۔
یہ اڑچن دور کردی گئی ۔ کھلکھلا کر کہنے لگیں
Let me do the honor – Devil knows how to find the sinners.
(یہ زحمت مجھ پر چھوڑ دیں.۔اس شیطان کو گنہ گاروں کو ڈھونڈنا آتا ہے)

یہ نسوانی خود اعتمادی اور بے تکلفی ہمیں اچھی لگی۔ہوا بھی ایسا ہی۔ایک ویٹر نے پاس آن کر کلب کے لان میں ہمارا نام پکارا۔ان کے پاس لے گیا۔نام کی آپ کو بہت دویدا ہے تو ہم نے کونسا درست نام آپ کو بتانا ہے۔ویسے انہوں نے اپنا نام فرحین بتایا۔ تعلیم ڈاکٹری کی تھی مگر پریکٹس نہیں کرتی تھیں۔والدین کے دو بچے تھے،والد اچھے زمانے کے کسٹم سپرنٹنڈنٹ تھے پورے کراچی ایئرپورٹ پر سلمان فاروقی جیسا ایک اسٹنٹ کلکٹر راج کرتا تھا۔خوب کمایا اور جائیداد بھی بنائی۔ دوسری بہن امریکہ میں تھی۔
ملاقات ہوئی،چائے پی ۔چلی گئیں۔

نجی سوالات سے دونوں جانب سے اجتناب کیا گیا یوں بقول خواجہ حیدر علی آتش ع
یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت ِ رُخ یار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے

فون اور پیغامات کم ہوگئے۔ہم نے دل سی گداز چیز کو اس حوالے سے یونی ورسٹی کے زمانے سے ہی پتھر بنالیا ہے اس لیے زیادہ سوچا نہیں۔ہماری ایک حسین سی  استانی جی نے ہمیں پوزیشن لینے پر گلے لگا کر کہا تھا۔
تتلیاں اڑتی ہیں اور ان کو پکڑنے والے
سعی ء   ناکام میں اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں (مصطفے زیدی)
Focus on basic. Think of career first
بہت دنوں کے بعد پیغام ملا کہ
I have found my soul mate
ہم نے بھی مختصر سا جواب دیا Lucky You.
سالگرہ والے دن فون بجا توپتہ چلا آئی ہوئی ہیں۔کہتی تھیں۔ کزن کی گاڑی صبح سے آگئی ہے ڈرائیور بھی آن کر فالتو بیٹھا ہے۔پتہ ٹیکسٹ کرو بھیج دیتی ہوں۔ تھوڑی دیر میں خیابان غیر مسلم کے ایک تاریک سے کوچے میں ان کی بھیجی ہوئی کالی پراڈو جھم جھماتی تھی۔فون کا سنا تو بیگم کو حیرت ہوئی۔پوچھنے لگیں کس کا تھا۔
بہانہ بنا کر اپنے ایک پرانے دوست کا نام لے دیا۔اس دوست کی ہماری طرف شہرت اچھی ہے۔وہ پاکستان بھر کے مولاناؤں کی ڈارلنگ ہیں۔ رمضان میں مولاناطارق جمیل ٹی وی پر جو رقت آمیز دعائیں مانگتے ہیں تو یہ ایسے بلک بلک کر روتے ہیں جیسے کاروبار میں بڑا نقصان ہوگیا ہو۔ان کا بیٹاچاند رات سے شراب پینا بند کرتا ہے تو دوستوں کے عشرت کدوں پر عید والی چاند رات پر ساری
بوتل گھٹکا جاتا ہے۔ گویا بری شراب نہیں بلکہ رمضان میں شراب پینا ہے۔بیرون شہر والے مولوی ہوں تو شہر کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں سال بھر کے قیام کے لیے ہمارے دوست یہ کی میزبانی کے مزے لوٹتے ہیں۔ Courtesy Stay۔ایک مولانا نے ان کو شہر بھر میں ہر پارٹی کی حکومت میں عمارتی این او سی لے کر دیے۔ کیا قاعدے۔ کیسے  قانون ان کی عمارت بن رہی ہوتی تو   ہر ادارے کے سرکش مال بناؤ ملازم کے لیے بورڈ لگا ہوتا کہ Games off۔کوئی جسارت کرتا تو اس کی سرکاری طور پر ایسی درگت بن جاتی کہ یہ وہ واحد گھر ہوتا جس کو ڈائن کا کیلکولیٹر بھی شمار کرنے کی جسارت نہ کرتا۔

مولانا اور ان کے ہر قسم کے متعلقین کی میزبانی یہاں اور عمرے پر ان کا ذمہ ہوتی تھی۔امیر مقام دوست زنا کو حرام،ساء السبیل،یعنی برائی کا راستہ سمجھتے ہیں۔سود جسے اللہ اپنے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔اسے برا نہیں سمجھتے۔ دھڑلے سے کھاتے ہیں۔وعدے کی پاسداری کا ان کے ہمیشہ سے فقدان ہے۔جب تک بینک مارا ماری پر نہ اتر آئے قرضہ نہیں لوٹائیں گے۔کئی دفعہ تو اپنے اسی مولوی کرم فرما جو ہر وقت حکومت کے دامن سے لپٹے رہتے ہیں ان کی تیس فیصد شراکت داری سے قرضے معاف بھی کرائے ہیں۔

آپ انہیں ناشتے پر مدعو کریں گے تو بمشکل ڈنر کے آخری مہمان بن کر پہنچیں گے۔اپنی اس عادت تاخیر کا الزام وہ اپنی والدہ محترمہ کو دیتے ہیں جو انہیں وقت پر پیدا نہ کرپائیں۔ بتاتے نہیں کہ حضرت پیٹ میں بھی ٹارزن بن کر چھلانگیں مارتے تھے Umbilical Cord اس وجہ سے۔گلے میں لپٹ گئی۔ڈاکٹر ماہر تھی مگر پھر بھی بہت مشکل ہوئی۔ کم بخت خود ذراڈھیٹ تھے،بچ گئے۔۔اس تاخیر کا بدلہ وہ اب دنیا سے لیتے ہیں، بے مروت ایسے کہ وعدے پر نہ پہنچ پانے کے باوجود آپ کو فون یا میسج سے تا خیر کی اطلاع تک نہ دیں گے۔
فیز ٹو کے اس بے لطف علاقے میں پہنچے تو وہ موجود تھیں،ہمارے لیے خاص طور پر ڈبل کا مٹھا اور کھڑے مصالحے کا گوشت بنایا۔دیدہ زیب ہمیشہ سے ہیں۔لباس میں کوئی خاص اہتمام نہ تھا مگر پھر بھی کالا ململ کا بغیر شمیز بغیر آستین کا کرتا اور ٹیلوپ شلوار میں اچھی لگی تھیں۔آن کر بیٹھے ہی تھے کہ زمینوں سے کمدار کا فون آگیا ہے۔ہماری رنگ ٹو ن پر ستار پر ولائت علی خان کا راگ شنکارا کا الاپ سیٹ ہے۔بجتا ہے تو وہ بہت تسکین بخش لگتا ہے۔ہم نے فون کاٹا تو کہنے لگیں اٹھاؤ مت۔بجنے دو،بلکہ میرے فون سے اپنے فون پر بار بار فون کرو۔ایسا کیا تو کھڑی ہوئیں اور جنم دن کی خوشی میں فلم دہلی۔چھ کے سونم کپور کے مسک علی والے دھیمے دھیمے Steps کیے۔

بہت مدت کے بعد اپنے پیدا ہونے پر پیار آیا۔

مسک علی

حصہ دوم
۔۔۔۔۔
تازہ ہوا کل شام کی، جی کا ملال لے گئی

کل شام پھر فرحین کابلاوا آیا۔ایک برس سے امریکہ میں تھیں وہاں علم ہوا کہ پرانے Soul -mateکو چھوڑ دیا ہے۔
اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اب ہمارے کئی دوست ہیں مثلاً ! ٹھوکر نیاز بیگ کے فقیہہ ولایت، مرجع خلائق آیت اللہ راحیل بخاری وہ بھی خواتین کے Soul -mate رہے ہیں۔جس خاتون کو بھی طلاق کا شوق ہوتا ہے وہ ہم سے مشورہ کرنے کے باوجود ان سے شادی کرلیتی ہے۔آج کل بلی کی طرح وہ بھی اپنے بلونگٹروں سمیت ایک نیا محفوظ آستانہء لطف و کرم ڈھونڈتے ہیں سو خبر کرو تمام خوشہ ء چینوں کو۔
اب کی دفعہ امریکہ سے واپسی پر فون اور پیغامات میں تواترآن چلا ہے۔مختلف Doses میں اپنی حیات پراسرار پر دبے دبے الفاظ اور دھیمے لہجے میں انکشافات کی روشنی بکھیرتی رہیں۔القصہ مختصر کہ فرحین فرحت انگیز کو ایک ایسے روحانی بزرگ مل گئے ہیں جو بقول ان کے ایک طلسم پوشیدہ ہیں۔ بتارہی تھیں۔ہزار مردوں سے بہتر۔خوش گفتار۔اپنے قول اور حال میں مجبور۔ تم جو کہتے تھے وہ پہلی دفعہ سمجھ آیا کہ درویش کی زندگی مسلسل امتحان ہے،جلدی آؤ۔

بلاوے میں وہی عجلت،ویسا ہی والہانہ اصرار۔ ملازم نے کھانا لاکر رکھا ہی تھا۔ ہم سے ضد کی کہ کھانا چھوڑو میرے میاں نے بلایا ہے۔ہمارا وہم ہے اگر کھانا چھوڑ دیں گے تو اگلا کھانا نہیں ملے گا۔
ہم نے کہا ممکن ہے پہلے والے سول میٹ کی طرح اب بھی کچن میں کوئی کارستانی دکھائی ہو۔کھانا بہت عمدہ بناتی ہیں۔ سو لذت کی ہوس تجربے پر غالب آگئی۔ان کی ضد تھی۔کھانا چھوڑ دیں۔مہمان بھی پہنچنے والے ہیں اس لیے میاں کی ضد ہے کہ دیر نہ ہو۔ہم نے پوچھ لیا کہ کہیں ہمارے قتل کا تو پروگرام نہیں۔ہنس کر فرمایا آپ کی تدفین تو ہمارے دل کے قبرستان میں کب کی ہوچکی ہے اور آپ کے گھروالوں نے انشورنس کلیم تک پکڑ   لیے ہیں۔
نئے سول میٹ کے ساتھ ان کا قیام اب کہیں فیز فور ڈیفنس کی ادھر ادھر گھومتی گلیوں میں ہے۔
ہم نے پوچھا’اتنا اتاولا پن کاہے کو ہے؟۔ ۔۔۔کہنے لگیں میاں کاحکم ہے کہ عراق والوں کا پیغام ہے۔ فوری دینا ہے،بڑی رات ہے۔باقر خانی بھی خاص طور سے کسی مجلس سے منگوائی ہے
ہم نے کہا آپ کا یہ گھر ہمارا ڈرائیور نہیں ڈھونڈ پائے گا یہ Mentally- Blind ہے۔
کہنے لگیں میں خود ہماری مسجد کے باہر دروازے پر کھڑی ہوں گی۔ایسا ہی ہوا۔

کیسریو بالم آؤ پدھارو مارے دیس ( کیسریو کیوڑے کے پیلے خوشبودار پھول کا رنگ ۔ پدھارو ۔۔ تشریف لاؤ )کی جیتی جاگتی تعبیر بنی زرد شلوار کرتے۔آپ تو جانتے ہی ہیں پیلے رنگ کی Visibilityبہت ہوتی ہے۔اس لیے ائیرپورٹس کی وہیکلز کی چھت پیلی رکھی جاتی ہے کہ رات میں بھی دکھائی دے۔امریکہ میں اسکول بس اور ٹیکسیاں بھی اسی   لیے پیلی رکھی جاتی ہیں۔

ائیر پورٹ ٹیکسی
سکول بس

سر سبز و شاداب گھر، رنگ برنگے طوطے، بکرے ۔ٹیرس پر مخملی مسند۔ کسے ہوئے گاؤ تکیے منقش عود سوز میں جلتا عود اور شیشہ منٹ اور ڈبل ا پیل کے تمباکو والا تیار تھا۔     کہنے لگیں ہمارے میاں کو یہ خوشبویات جلانے کا بہت شوق ہے شاور لے رہی تھی تو دروازہ کھول کر آپ کے نام سے پوچھا کہ آپ کے دوست کو دھوئیں سے الرجی تو نہیں۔میں نے کہا کم بخت پورے پکے جن ہیں پسند کی آگ پر فوراً  آن دھمکتے ہیں۔شیشہ میں نے خود بنایا ہے دونوں گھٹکائیں گے۔ان کا کھانا،پینا، آنا،جانا،سونا،جاگنا ان کے اپنے اختیار میں نہیں۔

عود سوز
شیشہ

بیٹھتے ہی فرمائش ہوئی کہ استاد ولائیت خان والی راگ شنکارا کی ستار وادن (Rendition) والی فون کی رنگ ٹون سنائیں،ہم نے فون پر ڈیڑھ سو رنگ ٹون لوڈ کی ہوئی ہیں بیگم کا فون آتا ہے تو تڑا تڑ کلاشنکوف کا برسٹ چلنے لگتا ہے ۔سمجھ جاتے ہیں کہ بیگم کا فون ہے۔ڈی فالٹ رنگ ٹون ولائیت خاں صاحب کے ستار کی تھی۔رؤف کلاسرا صاحب کے فون کی رنگ ٹون پر ہم نے جیمز بانڈ کا ٹائٹل میوزک سیٹ کیا ہوا  ہے جو تھوڑے سے میوزک کے بعد چیخ کر کہتا ہے پک اپ دا فون For the F- -K Sake
ہم نے کہا وہ سال بھر پرانا روگ تھا۔اب ہم نے نئے دکھ پال لیے ہیں۔چلیں موجودہ رنگ ٹون ڈی فالٹ سنادیں۔ابھی مہمان نہیں آئے۔ہم نے انہیں ڈھولک پر فلم اومکار بیڑی والے گانے کی تھاپ سنائی تو کہنے لگے فطرت پر جنسیت کا غلبہ ہے۔
ان کے لیے کون سی رنگ ٹون سیٹ کی ہے تو  ہم نے سنائی تو سنیدھی چوہان کی برفی کے گانے کے وہ بول سنائے
نہ لفظ خرچ کرنا تم
نہ لفظ خرچ ہم کریں گے
نظر کے کنکروں سے
خاموشیوں کی کھڑکیاں
یوں توڑیں گے
دلوں کی مست بات پھر کریں گے
ہنس کر کہنے لگیں ہاؤ سویٹ۔

میاں نے بھی کہا بہت مختلف مزاج پایا ہے آپ نے نہ افسر لگتے ہیں، نہ میمن،نہ ادیب
عجیب بے رنگی اور برسات کا سا حوالہ ہے آپ کی ذات میں ۔۔۔۔
۔وہ جتنی سجل،کومل اور دنیا دار ہیں اس پر کہنے لگیں وہ جو میں نے آپ کو آئی پیڈ پر خاتون کی تصویر دکھائی تھی سب سے پہلے ان حضرت نے ہی مجھے کہا تھا بپاشا گوری ہوتی تو میرے جیسی لگتی
اس پر میاں صاحب کہنے لگے کہ نہیں وہ اپنی ملاحت میں بھی بہت دلفریب لگتی ہے۔حسد کی ایک جھلک فرحین بی بی کے چہرے پر ہلکورے لینی لگی تو وہ کہنے لگی اب کیا ہے کہ ایک ہم ہی نہیں تنہا الفت میں تیری رسوا۔ جس پر وضاحت ہوئی کہ ریکھا کی امراؤ جان کے بعد ہمارے میاں نے کوئی فلم نہیں دیکھی وہ کہتے ہیں بس اس عورت پر ادائیں۔وہ کونسا لفظ آپ استعمال کرتے ہیں؟ انت ہوگئی ہیں انہوں نے انہیں مزید گفتگو سے روک دیا اور منہ  دوسری طرف کرکے باتیں کرنے لگے ہم صرف نعم،نعم  اور ایوا (عربی میں جی) کا لفظ سن پائے۔

بپاشا باسو

ارشاد ہوا کہ آپ کو بتادیا جائے کہ‘’لوگ اور دکھ آپ کے ساتھ آنکھ مٹکوں کے لیے آتے ہیں۔آپ کی کج ادائی سے منہ  بسور کے چلے جاتے ہیں۔آج پرواز ہوئی تھی۔ حکم ہوا دے دو۔ اس کا فیض کیوں اپنے پاس رکھا ہے۔بیگم نے شرما کے سرجھکادیا تو کہنے لگے‘’ارے جانم تمہیں تھوڑی کہہ رہے ہیں ”لو پرواز آرہی ہے۔”جاؤ تم اپنے نازک ہاتھوں سے وہ جو تم برطانیہ سے ٹی سیٹ لائی ہو اس میں عدنی چائے بناکر لاؤ۔ملازم سے کہو  کوئلے لاتا رہے اور وہ سعودیہ والا عود لاکر ڈال دے۔ہماری میزپر   تسبیح ہے وہ تم لے کر آنا۔اسے مت دینا۔
ان کی چائے کی ٹرالی کی آمد تک ایک پراسرار خاموشی رہی۔ ہماری طرف شیشہ چل رہا تھا اوران کی طرف عربی گفتگو بھی اہل پرواز سے جاری تھی۔
وہ آگئیں تو گویا ہوئے کہ وہاں سے پوچھا جارہا ہے کہ انگشتری نہیں پہنتے حضرت ایسا کیوں؟۔

ہم نے کہا”بٹوہ،انگوٹھی،فون،گھڑی،کریڈٹ کارڈ،معشوقائیں ہم سے نہیں سنبھالے جاتے۔
وہ مسکرادیے کہنے لگے وہ کہتے ہیں دماغ میں بھوسا، جواہرات اور پرندے سبھی  پالے ہوئے ہیں ۔
بیگم نے اشارہ کیا کہ کیفیت کا عالم ہے سو ہم مزید ہرزہ سرائی سے باز رہیں۔ہم نے چائے کی ایک دیہاتیو ں والی سڑکی لی تو احساس ہوا کہ ان بزرگ محترم کی آواز ستار سی مدھم اور مدھر ہے۔روانی ء گفتار بھی بہت ہے۔امیر مقام مز ارات اور اماموں پر بھی جی جان سے فریفتہ۔۔۔ہمارے راستے یہاں سے جدا ہیں۔ہمارے نزدیک دین حجتہ الوداع پر سورہ المائدہ کی اس آیت تکمیلہ یعنی الیوم اکملت دینکم پر مکمل ہوگیا اس کے بعد جو ہے وہ عقیدت ہے اس کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ،اشارہ ہوا کہ ہم آپس میں گفتگو کرسکتے ہیں بیگم نے کرسی گھسیٹی قریب آن کر بیٹھ گئیں اور شیشے کا ایک لمبا کش لیا۔ اس دوران وہ بھی کچھ متوجہ ہوگئے تھے۔شاید بیگم کی تبدیلی نشست کی وجہ سے ۔بیگم نے وضاحت کی امی بیمار تھیں۔ڈاکٹر ناکام ہوگئے تھے۔جی گھبرایا تو ایک ساتھ تین چار مزارات پر چلی گئی۔یہ میرے رشک قمر مجھے بھی کسی مزار پر ملے تھے ایسے پیارے لگے کہ انہوں نے شہلا نقوی کو اپنے میاں انجینئر حامد کو میں نے چھوڑ دیا اور ان کی اوڑھنی اوڑھ لی۔میرے بچے نہیں، ان کے ہیں۔اب آتے جاتے رہتے ہیں۔شہلا سے عشق کی شادی تھی پر مزاج نہ ملا۔والدین ناراض تھے
ہم نے چھیڑا آپ نے ہمارا وقت بلا وجہ دوبئی کے مال آف امارات میں ضائع کیا۔مزاروں پر ہی مل جاتیں ۔
بہت ہنسے۔۔ کہنے لگے یہ مذاق کے چھوٹے طوطے خوب پال رکھے  ہیں۔خوشنما چھوٹی چٹکی والے۔بعضے دفعہ تو ایسے کاٹتے ہیں کہ بوٹی نوچ لیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں دماغ میں بھوسا، جواہرات ہیرے اور پرندے سب پہلو در پہلو پال رکھے ہیں۔
ہم نے ایک صاحب کا پوچھا۔بہت قریبی دوست ہیں ان دنوں ہوبارٹ آسٹریلیا میں پی ایچ ڈی کرنے گئے ہیں۔ان کا نیٹ پر نواب شاہ کی کوئی سندھی لڑکی سے یارانہ ہوگیا ہے۔خود مردان کے ہیں۔

بیگم الجھ گئیں۔ہم نے سوچا جانے کیا ہوا ۔کہنے لگیں ‘’ جلال آرہا ہے۔ ہم نے پوچھا کون ۔جلال چانڈیو؟

You and your corny  jokes
جلال چانڈیو سندھ کا ایک مقبول عوامی گلوکار تھا۔ منی بیگم کی طرح کیسٹوں میں اس کے گیت قریہ قریہ بستی بستی بجتے تھے۔شکل سے کم لوگ واقف تھے سیل فون اور انٹر نیٹ عام نہ تھا۔سندھی گلوکار کو ٹی وی تو کھانستا نہ تھا۔یہ بے چاہ   بس اسٹاپ پر سگریٹ لینے اترا تو پان سگریٹ والے کے ہاں کیسٹ پلیئر پر اسی کا کوئی گیت زور سے بج رہا تھا ایک اور گاہک جو اس کے برابر پان لینے آیا تھا اس کے مسالحے اس گانے کے اس شور میں پان بنانے والے کی سمجھ میں نہ آئے تو وہ جھنجلا کر کہنے لگا ”اس
بہن کی گالی۔۔۔۔اس سور کے بچے کو تو بند کر“
کہنے لگیں ”جلال آتا ہے تو  گالی بکتے ہیں تو الامان وہ ایسی گالیاں ہوتی ہیں کہ میرے تو کانوں کے پردے سلگ اٹھتے۔ آپ ہرگز مائنڈ نہ کیجئے گا“۔
ہم نے کہا وہ کیوں گالی میں کچھ اعضا کا ذکر ہوتا ہے وہ آپ دونوں کے اور ہمارے دیکھے بھالے ہیں۔کچھ عملیات کا ذکر ہوتا ہے جن سے ہم میں سے اکثر لوگ مانوس ہیں۔اس پر اتنا سیریس ہونے کا اور ناک بھوں چڑھانے کا کیا حاصل۔بیگم نے ہنس کر کہا تم نے گالیوں کا استعمال ایسے ہی make light کردیا ہے جیسے اسٹیٹ بنک والے طارق باجوہ اور اسد عمر نے دو سو ملین ڈالر کا مذاق بنادیا۔
کہنے لگے آپ کے دوست کی یہ پہلی واردات نہیں۔مشکل صرف اتنی ہے کہ ان کی بیگم کو مردان میں پتہ چل گیا ہے۔اس لڑکی کو وہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے جب تک پی ایچ ڈی ہوجائے۔وہ بھی اپنے خرچے پر آرہی تھی۔بیگم نے بھی ساتھ رہنے پر اودھم مچایا ہے۔تلواریں دو ہیں میان ایک ہے۔۔
ہم نے اجازت چاہی تو کہنے لگے ۔کمال ٹائمنگ ہے آپ کی۔پروازبھی رخصت ہونے کو ہے
آپ کے لیے خاص اربیل عراق سے آئے ہیں

اربیل عراق
اربیل کا مزار

کہہ رہے ہیں اس مزار،اس زیارت پر جائیں۔کوئی نزدیک دور کے چار ممالک کے دس مقام انہوں نے گنوادیے۔

فرحین ہمارے تاثرات دیکھ کر کہنے لگیں۔ ان کی بات سنیں That’s why I. am with him He is a psychic.

ہم نے دوروازے کے باہر بہت آہستگی سے یہ دیکھ کر کہ ڈرائیور فقیر محمد کار اسٹارٹ کرکے دروازہ کھول چکا ہے۔۔
پہلے میاں پھر بیوی کو گلے لگایا۔انہیں بتایا کہ ہم تووہابی،تکفیری، دیوبندی ہیں۔اپنے فرقے کے علاوہ سب کو واجب القتل اور زندہ بچ جانے پر دوزخ کا ایندھن سمجھتے ہیں۔

اربیل والے جو بزرگ نہیں

کہنے لگے کمال ہے ایک لمحے ہمیں یا اہل پرواز کو احساس تک نہیں ہوا کہ آپ بھی سلفی دیوبندی، وہابی، سعودی سگ جہنم ہیں اور ہمارے معاملات سے قطعی اور مکمل طور لاتعلق۔۔
ہم نے گاڑی میں بیٹھ کر کہا۔اسے بیگم سے تعلقات کا کمال سمجھیں۔
آپ نے نہیں بتایا کہ آپ کی اہلیہ آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں۔یہ دم رخصت ان کا آخری سوال تھا
ہم نے کہا ”بیگم کسی کی بھی ہو گھر میں جے آئی ٹی والا واجد ضیا ہی ہوتی ہے۔سلاتی جاتی امرا کے سونے کے شیروں والے تین ہزار فیٹ کے بیڈ روم میں مگر عدالت روز لگاتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”راگ شنکارا اور پرواز۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. کمال تحریر ۔رضوان کا شکریہ جو آپ کی ہر تحریر مجھے بھیج دیتا ہے ویسے فیس بک سے دوری کی وجہ سے میں نہ پڑھ پاتی ۔ آپ کا لکھنے کا انداز اتنا بھایا ہے کہ لاہور میں کچھ دوستوں کو زخمت دی ہے جو آپ کی طبع شدہ کتابوں کو کھوج رہے ہیں۔ سنا ہے کہ د ستیاب نہیں ۔
    تو فی الحال مکالمہ پر چھپنے والی آپ کی تحریروں سے ہی لطف اٹھایا جارہا ہے ۔
    تھینکس الاٹ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *