عید میلاد النبی ﷺ ۔۔۔ مہر ساجد شاد

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔

زکر اللہ اور زکر نبی ﷺ دراصل ایسے کام ہیں جو کہ ہماری آسانیوں کے لئے ہماری سختیوں میں تخفیف کے لئے اور ہمارے ایمان کی تکمیل و ترقی اور پختگی کیلئے خاص عنایت کئے گئے ہیں۔ زکر اللہ اور زکر نبی کی توفیق اعلی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ولادت و وصال کو ایک ماہ میں یکجا کر دینے کی حکمت الہی بھی غور و فکر کا تقاضا رکھتی ہے۔
دین اسلام اعتدال کا مدرس ہے۔ عقیدت و محبت کے تقاضے ہمیشہ ہی لا محدود ہوتے ہیں، انداز و اطوار بھی انوکھے اور جداگانہ ہوا کرتے ہیں صلاحیتیں جدا جدا ہیں تو اظہار کیسے یکساں ہوں، لیکن محبوب کی عظمت و رتبہ کا خیال اور لحاظ عقیدت و محبت کو اظہار کیلئے ہمیشہ مخصوص دائروں میں مقید رکھتا ہے اور محبوب کے شایان شان اظہار ہی بازیابی پاتا ہے ۔
نبی آخرالزماں ﷺ نوع انسانی کے لئے دین اسلام لے کر آئے، اب اپنے اور دین اسلام کے تعارف کیلئے اور اسکی ترویج کیلئے ہمیں مقرر فرمایا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ انبیا والی زمہ داری آپ ﷺ کے خاتم النبین ہونے کے باعث ہمیں ملی اس لئے ہمیں مجسم مسلمان ہونا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین آپ ﷺ نے وقت وصال اپنی زبانی وصیت میں بھی کی اس سے پہلو تہی دراصل نافرمانی ہے جسکا تصور ممکن نہیں۔
کسی بھی دن کو منانے کا مقصد تجدید عہد ہوتا ہے اُس معاملے سے آگاہی حاصل کرنا یا آگاہی دلانا مقصد ہوتا ہے۔ میری ناچیز رائے میں نبی پاک ﷺ کی حیات مبارکہ کے لاتعداد پہلووں میں سے ہر سال ایک پہلو کو بطور خاص منتخب کر کے سال بھر اس موضوع پر تعلیم تدریس ، تحقیق و تالیف و تحریر جاری رہنا چاہیئے تاکہ معاشرہ میں اس پہلو کے اعتبار سے تبدیلی و فکر کی فکر کی ترویج کا انتظام کرنا چاہیئے اس طرح پیغام حق ہماری زندگیوں کا حصہ بنے گا اور محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کو درست سمت بھی مل سکے گی، کیونکہ عشق مصطفے کا حق تو یہ ہے کہ ہم روز قیامت کامیابی پا جائیں۔
اقبال رحمتہ اللہ کی دعا کیساتھ آج کے دن کا آغاز ہے۔

تو غنی ازہردو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

گرتومی بینی حسابم ناگزیر

از نگاہ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر

اے اللہ تو دونوں عالم کا غنی ہے اور میں ایک فقیر ہوں۔ قیامت کے روز میری عرض سن لینا، مجھ سے حساب نہ لینا۔ لیکن اگر میرا حساب ناگزیر ہو تو مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے دور لے جاکر حساب لینا۔ مجھے ان کے سامنے بہت شرمندگی ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *