شادی۔۔۔۔ روبینہ فیصل

مجھے یہ بتائیں کہ ساری عمر ہمیں یہی کہا جاتا رہا کہ کسی لڑکے سے دوستی نہیں کرنی ، ہمارے مذہب میں اجازت نہیں ہے ۔ ایلمنٹری سکول سے ، مڈل اور مڈل سے ہائی اور ہائی سے یونیورسٹی ۔۔ کتنے سال گذر گئے ۔ ہم پاکستانی ہیں یا کیینڈین ؟
میں نے کہا: کینیڈین پاکستانی ، آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہو ؟
میرا نمبر اس بچی کو ، اس کی اس انڈین دوست نے دیا تھا جو ہماری ڈپریشن کی ڈاکومنٹری کے لئے ساوتھ ایشئین ڈپریشن کا شکار خواتین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے لا رہی تھی ۔ ڈھونڈ کے اس لئے کہہ رہی ہوں کہ ڈپریشن کے مریض ، اس بات سے منکر رہتے ہیں کہ انہیں ڈپریشن ہے اور اگر مان بھی جائیں تو لوگوں کے سامنے نہیں مانتے ۔ خیر وہ لڑکی بھی ڈپریشن کا شکار تھی ۔ اسی لئے میرا نمبر اسے دیا گیا تھا ۔ مگر فون پر وہ اس سوال سے شروع ہو گئی ۔
وہ بہت تیز تیز اور بہت زیادہ بول رہی تھی ۔ بریکس بھی کم لگا رہی تھی ۔۔ مجھے اس کی بات سمجھنے اور اپنی کہنے میں ایک باقاعدہ کوشش کر نی پڑ رہی تھی ۔ میں نے کہا سنو ۔۔ تم جو بھی اتنی لمبی بات کر رہی ہو مجھے سمجھ تو آ نہیں رہی ۔ اس لئے ایسا کرتے ہیں تم بس مجھے وہ ایک بات بتاو جو تم مجھے بتانا چاہتی ہو ۔ بس ایک ۔۔ سوچ کے ۔۔ سارے قصے کہانیاں نکال دو ، بچپن کی باتیں بھی نکال دو ۔
روبینہ ، بات یہ ہے کہ میں تیس سال کی ہونے والی ہو گئی ہو ۔ اور میری شادی نہیں ہو رہی ۔
کیوں ؟ مجھے اس کے علاوہ کوئی لفظ نہ سوجھا ۔۔
اس لئے جو میں نے شروع میں آپ سے پو چھا تھا کہ ہمیں کیوں یہ کہا جاتا کہ کسی لڑکے سے دوستی نہیں کر نی ۔ اب میرا دل کرتا ہے میں ان سب کا سر پھاڑ دوں جنہوں نے مجھے یہ کہہ کہہ کر ساری میری سٹوڈنٹ لائف تباہ کئے رکھی ۔۔
یہ تو ہو تا ہی ہے سب پاکستانی بلکہ سب مسلمان یہی کہتے ہیں اپنی بیٹیوں کو ۔۔ بے راہ روی سے روکنے کے لئے ۔۔میں نے دلیل کی کمزوری کو آواز کی سنجیدگی میں چھپاتے ہو ئے کہا ۔
کیسی بے راہ روی میری ان سب دوستوں کی شادیاں ہو گئی ہیں جنہوں نے یو نیورسٹی یا ہائی سکول میں ہی لڑکوں سے دوستیاں کر نی شروع کر دی تھیں ۔وہ تنک کے بولی۔
لیکن میں ایسے لڑکے لڑکوں کو بھی جانتی ہوں جن کی شادیاں ان کے والدین نے کروائی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے میری بات درمیان میں ہی کاٹ دی ، روبینہ ۔۔ آپ شاید ان لڑکے لڑکیوں کی بات کر رہی ہیں جن کے والدین کے پاس بہت پیسہ ہے یا وہ لڑکیاں جو شکل کی بہت پیاری ہیں ۔ ۔۔ نہیں ۔۔۔ میں سوچنے لگی ۔۔۔
زیادہ نہیں سوچیں ۔۔ میں عام سی شکل کی لڑکی ہوں ۔ اور ہم چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ۔ میرے ابو سیکورٹی کی جاب کرتے ہیں۔ ۔ اسلام کی تعلیمات پر بچپن سے ہمیں کاربند کیا ہوا ہے جس کے تحت لڑکے چھوڑ ہم لڑکیوں کے ساتھ بھی زیادہ دیر باہر نہیں رہ سکتے ۔
آپ جاب نہیں کرتی ہو ؟ میں نے پھر سے پورا جی جان کا زور لگا کر اسے روکتے ہو ئے کہا ۔
کرنا چاہتی ہوں ، شروع کرتی ہوں ، کر نہیں پاتی ، درمیان میں ہی چھوڑنی پڑ جا تی ہے ۔ مجھ پر ڈپریشن کے اٹیک  آتے ہیں ۔میرا بستر سے اٹھنے کو اب دل نہیں کرتا ۔ کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا ۔ میرے امی ابو نے کہا تھا کہ تم نے کسی لڑکے سے دوستی نہیں کر نی ، ہم تمھارے لئے خود لڑکا ڈھونڈیں گے ۔ کہ ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ہی ہو تا ہے ، نہیں بلکہ ہمارے خاندان میں ایسا ہی ہو تا ہے ۔۔
روبینہ !! میں ۵ سال کی تھی جب سے ہم کینیڈا آئے ہیں ۲۵ سال سے میں اُس خاندان کے رسم و رواج کوفالو کر نے کی پابند ہوں جسے میں پانچ سال میں ایک دفعہ ، بس پندرہ دن کے لئے ملنے جاتی ہوں ۔ مگر اس خاندان کے اصول یہاں ہزاروں میل دور بیٹھے بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ۔ گھر کے اندر وہ صدیوں پرانا خاندان بیٹھا ہے اور باہر ایک الگ دنیا ہے، اپنی زندگی کو اپنی مر ضی سے جینے کی دنیا ۔۔ مجھے کیا ملا اپنے ماں باپ کی اطاعت کر کے ؟ تنہائی ؟ میں اپنا اعتماد، اپنی شناخت کھو بیٹھی ہو ں ۔ ۔ بتائیں مجھے میں اب کیا کروں ۔۔۔۔ اور وہ فون پر زارو قطار رونا شروع ہو گئی تومجھے سمجھ نہ آئے کہ میں اس کے لئے کیا کر سکتی ہوں ، بے بسی کہ بے بسی ۔۔۔۔
اچھا سنو ۔۔ یہ بتاو تمھارے والدین تمھارے لئے رشتہ تو ڈھونڈتے ہو نگے نا ۔ وہ تو اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کر رہے نا ؟
اس نے فورا ً رونا بند کر دیا جیسے اس سوال کا جواب نہ دیا گیا تو میں اس کے لئے کچھ نہ کر سکوں گی ۔
وہ رشتے ڈھونڈ بھی رہے ہیں ۔۔ رشتے دیکھنے والے آتے بھی ہیں ۔ لیکن ہمارے چھوٹے سے اپارٹمنٹ کو دیکھ کر دوبارہ نہیں آتے ۔ یہ نہیں کہ میری معمولی شکل کی وجہ سے نہیں آتے ، ہماری غربت کی وجہ سے دوبارہ نہیں آتے ، کیونکہ مجھ سے بھی کم شکل لڑکیوں کی شادیاں کئی سال پہلے صرف اس وجہ سے ہو چکی ہیں کہ ان کے باپ امیر تھے ۔ ان کے گھر بڑے تھے اور گاڑیاں مہنگی تھیں ۔۔۔۔
کیا ؟ ۔۔۔ میرے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ سب کینیڈا میں بھی ہو رہا ہے ۔
جی ۔۔ پہلی دفعہ اس کی آواز میں مجھے ایک سرشاری محسوس ہو ئی جو یقینا ً میری لا علمی کی وجہ سے اسے محسوس ہو ئی تھی ۔
تو آپ بتائیں روبینہ کیا یہ اسلام ہے ؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ؟
کس کی ؟ گھبرا کر میرے منہ سے نکلا ۔
اس طرح پیسوں کے زور پر لوگوں کو تولنے کی ؟ آپ بتائیں اس سے اچھا یہ نہیں تھا کہ میں سٹوڈنٹ لائف میں خود ہی کسی لڑکے سے دوستی کر لیتی ۔ کیا برائی تھی اس میں ؟ شادی ہی کر نی تھی نا میں نے ۔۔ اپنی حدود کا مجھے پتہ ہے ۔ لیکن کم از کم اس وقت سے اس موقع سے میں فائدہ اٹھا لیتی ۔ یوں اس طرح اب اکیلی بیٹھی پاگلوں کی طرح نان سٹاپ آپ کا سر نہ کھا رہتی ہوتی؟ کیا اسلام ایسا تنگ مذہب اور ہماری تہذیب اتنی کٹھور ہے کہ یہاں کینیڈا میں بھی ہم گھٹ گھٹ کر مر جائیں ۔۔۔ وہ اردو انگریزی مکس کر کے بول رہی تھی اور اتنا بول رہی تھی کہ میرے سر میں درد ہو نے لگ گیا ۔ اور یہ درد صرف اس کی آواز کی ترشی اور تیزی کی وجہ سے نہیں تھا یہ ان سوالوں کے جواب نہ ہو نے کی وجہ سے بھی تھا جو وہ مجھ سے پو چھ رہی تھی ۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہاں جوان ہو نے والی ان مسلمان پاکستانی لڑکیوں کی زندگیاں اتنی مشکل بھی ہو سکتی ہیں جن کے والدین مذہب اور ملک کو یہاں بھی اس طرح ان پر سوار کر نے کی کوشش کر تے ہیں جس طرح اب شائد پاکستان میں بھی ایسے نہ ہو تا ہو ۔ وہاں بھی سکول کالجز ، جابز پر لڑکیاں اپنی پسند کی شادیاں کر رہی ہیں ۔ متوسط یا غریب گھرانوں کی بچیاں ٹیلنٹ ،تعلیم اور خوبصورتی کے باوجود ٹھکرا دی جاتی ہیں اور یہ سب یہاں بھی ہو رہا ہے اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔
pride and prejudice کہ مجھے جین آسٹن ، انگریزی زبان کی رضیہ بٹ لگتی ہیں ، مگر اس ناول کی ایک بات نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا کہ شادی کے لئے سب سے زیادہ ضروری لڑکے اور لڑکی کی ذہنی ہم آہنگی اورآپسی مطابقت ہے ، باقی شادی کے بعد دولت ، عہدہ اور حسن بے معنی ہو کے رہ جاتا ہے ۔اگر اس بنیاد پر شادیاں کی جائیں تو شائد شادیوں میں اتنی بے سکونی نہ رہے ۔ یہ مان لینا چاہیے کہ عارضی چمک دمک دیکھ کر طے کئے جانے والے رشتے بہت کھوکھلے ہو تے ہیں ۔
یہ ہو نا چاہئے اور وہ چاہیے ۔۔۔ یہ سب باتیں ایسی کسی بھی فون کال کے آگے بکواس لگنے لگ جاتی ہیں ۔ نہ کوئی حل ، نہ کوئی امید نہ کوئی مشورہ ۔۔ صرف یہی کہہ کر فون بند کر دیا جاتا ہے کہ اللہ سے دعا کرو وہ سب کی سنتا ہے ۔۔
اچھا ؟؟؟ اس لڑکی نے طنز سے ایک بار پھر ایک اور سوال پوچھا ۔۔۔
اچھا پھر بات کریں گے ۔۔۔۔میں نے یہ کہہ کر جان چھڑائی تھی۔۔۔۔۔۔۔مگرکیا میں پھر اس سے بات کر وں گی ؟

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”شادی۔۔۔۔ روبینہ فیصل

  1. معاشرے کے اس ناسور کو شاید ختم ہونے میں بہت وقت لگے لیکن ختم ضرور ہوگا انشاءاللہ
    دھن دولت کے ترازو میں انسانی جذبات اور احساسات کو تولنے والوں کا حساب کتاب اللہ تعالی محشر کے وقت تو کرے گا ہی اس دنیا میں بھی ان کی حیات میں ذلالت نصیب ہوگی
    دنیا کے فرعون اینٹ اور سیمنٹ کے بلند و بالا در و دیوار میں بیٹھ کر یہ سوچتے ہیں کہ دنیا میں جینے کا حق صرف انہی کو ہے باقی سب ان کو زمین میں رینگنے والے کیڑے مکوڑے لگتے ہیں مگر وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ لحد میں یہی کیڑے مکوڑے ان کے جسم کو نوچ نوچ کر کھانے والے ہیں
    اللہ تعالی سب بہنوں کے نصیب اچھے کرے آمین
    عبداللہ خان چنگیزی

  2. ایک زندہ مسئلہ جس کے ذمہ دار ہم سب اچھی اچھی باتیں کرتے لوگ ہی ہیں ۔ افسوس لکھنا بھی باعث شرم ہو جیسے

  3. مغربی معاشرے نے یہ کر کے دیکھ لیا۔ لڑکی کو آزادی دی کہ وہ خود سے دوستی لگاءے اور والدین بری الذمہ ہو گہے۔ کیا ہوا۔ کیا لڑکی کا مسہلہ حل ہو گیا۔ کیا وہ موج کر رہی ہے۔ نہیں۔ اس کے ساتھ موج کرنے کو ہر کوءی راضی ہے مگر شادی کرنے کو تیار نہیں۔ بے چاری دس سے دوستی کر کے ۱۱ ویں سے شادی کرتی ہے۔وہ بھی قسمت سے۔ مغرب کا فیملی سسٹم تباہ ہو گیا ہے، آپ کو کیا گارنٹی ہے کہ جس سے سکول میں دوستی ہو گی وہ سدا آپ کا ہو کر رہے گا۔
    سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ اس ڈگر پر چلا اور اس نے اپنی لڑکیوں کو اجازت دی۔وہ کس حال میں ہے۔ اس میں آپ کا جواب ہے۔
    اگر والدین کی شرافت یا سستی کی وجہ سے آپ کی شادی لیٹ ہو جاتی ہے تو اس طرح کا کیس ایک فیصد ہے، ورنہ ماں باپ کب اولاد کا برا چاہتے ہیں۔ ان کا تجربہ زیادہ ۔ان کی پرکھ زیادہ۔ ان کی نظر دور رس۔ اس لیے ان کے فیصلے زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *