عود ۔۔۔۔۔۔ ثنا اللہ خان احسن

SHOPPING

عود (Oud (Agar Wood

رسول اللہ ﷺ کو عطر بہت پسند تھا۔ خاص طور پر مشک اور عود کی خوشبو محبوب تھی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تمہیں چاہئے کہ عود ہندی کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ان میں ایک ذات الجنب۔۔۔۔
عودِ ہندی دوقسم کی ہوتی ہے، ایک تو قسط، جو دواؤں میں مستعمل ہے اور اسے عام طور پر قسط کہتے ہیں اور دوسری قسم کو خوشبو میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو القرہ کہتے ہیں، سب سے عمدہ سیاہ اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے جو سخت، چکنی اور وزن دار ہوتی ہے اور سب سے خراب ہلکی پانی پر تیرنے والی ہوتی ہے۔مزاج گرم خشک ہے ، مقوی قلب وحواس ہے۔
’’ آنحضرتﷺ نے کئی مرتبہ القرہ میں کافورڈال کر بخور کیا ہے۔‘‘( ابوداؤد)
اور عودِ ہندی ، جسے قسط کہتے ہیں، اس کے بارہ میں ارشاد نبویﷺ ہے:’’ تم اس عودِ ہندی کو لازم جانو کہ اس میں سات طرح کی شفاء ہے ،عذرہ بیماری میں اس کا سعوط کیا جاتا ہے اور ذات الجنب میں لدود کرتے ہیں۔( رواہ البخاری)

عود کی خوشبو سونگھتے ہی سب سے پہلے حجر اسود اور غلاف کعبہ کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ وہ خوش نصیب افراد جنہیں حج یا عمرے کی سعادت نصیب ہوئی ہے اور خانہ کعبہ میں حاضری کا موقع ملا ہے، انہوں نے دوران طواف حرم کے ماحول میں ایک مخصوص خوشبو رچی بسی محسوس کی ہوگی۔ یہ مخصوص خوشبو معطر غلاف کعبہ سے پھوٹتی ہے اور اس دھونی میں بھی ہوتی ہے جس کا اہتمام خاص اوقات میں حرم مکی میں کیا جاتا ہے۔ یہ دھونی بخور میں ایک مخصوص لکڑی میں موجود ریزش کے سلگنے سے اُٹھتی ہے۔ یہ عود (Oud) کی خوشبو ہے۔ یہ وہی عود ہے جسے اگر (Agar) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔برصغیر اور مشرق بعید میں بھی ماحول کو خوشبو دار بنانے کے لئے اگر بتی زمانہ قدیم سے استعمال ہورہی ہے۔ اس کو اگر بتی اسی لئےکہا جاتا ہے کہ بانس کی باریک تیلیوں پر عود یعنی اگر کی لکڑی کے برادے کو چپکا کر اسے مقدس مذہبی مقامات پر خوشبو کے لئے سلگایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عود مہنگا ہوتا گیا اور اس کی جگہ اگر بتی کی تیلی پر دوسرے سستے خوشبودار مصالحے استعمال کئے جانے لگے۔

عود کی کئی  اقسام ہوتی ہیں جن میں سیاہ، زرد، زمردی اور سفید شامل ہیں۔ عمدہ قسم کا عود پانی میں ڈوب جاتا ہے اس لئے اس کو عود غرقی بھی کہا جاتا ہے۔ لاطینی زبان میں اس کا نام (Aloexylon, Agalloch) ہے۔
عود اس وقت دنیا کی قیمتی ترین لکڑی ہے جس سے دنیا کا سب سے بیش قیمت پرفیوم تیار کیا جاتا ہے۔ عود کی لکڑی ایک خاص قسم کےسدا بہار درخت ایکولیریا (Aquilaria) سے حاصل کی جاتی ہے جو صرف جنوب مشرقی ایشیا کے چند مخصوص ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اس کی لکڑی میں ایک خاص قسم کا گوند پایا جاتا ہے جس کے سلگنے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
ایکولیریا کے ہر درخت میں عود نہیں ہوتا لیکن خدا کی شان کہ جب یہ درخت ایک خاص قسم کی پھپھوندی (Mould) جسے‏ (Phialophora parasitica).کہا جاتا ہے سے متاثر ہوتا ہے تو اس میں عود پیدا ہوجاتا ہے۔ عام عود کے درخت میں کسی قسم کی خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس پھپھوند سے متاثر ہونے کے بعد اس میں سرخی مائل گوند پیدا ہوجاتا ہے جسے عود یا اگر کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور برادہ اگردانوں یا بخور دانوں میں سلگا کر دھونی دی جاتی ہے۔ عرب حضرات عود کی دھونی کے انتہائ شوقین ہیں اور عود کی دھونی لینا ان کی تہزیب و روایات میں شامل ہے۔عود کا ذکر ہمیں دنیا کی قدیم ترین مذہبی کتاب سنکرت کی رگ ویدا میں بھی ملتا ہے جو کہ 1400 BC میں لکھی گئی  تھی۔ اس کتاب میں عود کے طبی فوائد بیان کئے گئے ہیں جو آ یور ویدک طریقہ علاج کہلاتا ہے۔
اگر کا لفظ سنسکرت کے لفظ اگورو سے نکلا ہے جبکہ عربی میں اس کو عود کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنی چھڑی یا لکڑی کے ہیں۔ قدیم تاریخ کے مطابق عود کے درختوں کی پیداوار ویتنام سے شروع ہوئی  تھی۔ ہندو، بدھ ،اور مذہب اسلام میں اسے ایک متبرک اور مقدس مقام حاصل ہے کہ اس کو مذہبی و مقدس عبادت گاہوں میں بطور بخور سلگایا جاتا ہے۔
خانہ کعبہ کے اندر آج بھی آپ کو مختلف تاریخی ادوار کے بخور دان لٹکے نظر آئیں گے جو یہاں عود اور دیگر خوشبویات کے بخور دینے کے لئے استعمال ہوتے آئے ہیں۔اس کے درخت میں چپٹا سا پپیتے نما پھل بھی گچھوں کی صورت میں لگتا ہے جس کے اندر اگر کے درخت کے بیج ہوتے ہیں۔

عود کی لکڑی سے تیل نکال کر اس سے عطر اور پرفیومز تیار کئے جاتے ہیں جو دنیا کے سب سے مہنگے پرفیوم مانے جاتے ہیں کیونکہ یہ اگر کی جس لکڑی سے تیار کئے جاتے ہیں وہ سونے سے بھی زیادہ مہنگی ہے۔قدیم آیور ویدک اور چینی طریقہ علاج میں اگر کے تیل کو بطور دوا استعمال کیا جاتا تھا جس کے مندرجہ ذیل طبی فوائد بیان کئے جاتے ہیں۔
‎دماغ اور اعصاب کو سکون بخشتا ہے،خواب آور ہے، ہڈی اور جوڑوں کے درد کو مفید ہے، مختلف اقسام کی الرجیز کے نافع ہے۔ ہاضمے کی خرابی دور کرتا ہے۔ کینسر اور جلدی امراض میں فائدہ کرتا ہے۔. جو لوگ مراقبہ یا اس قسم کی ذہنی مشقیں کرتے ہیں یا پاکیزگئی  نفس کے خواہش مند ہیں انھیں بخورات عود و عنبر بہت فائدہ دیتے ہیں.
گھریلو بی بیاں اگر شوہر کے گھر لوٹنے سے پہلے ذرا سا بخور عود سلگا دیا کریں تو یہ ذہنی تھکاوٹ بھگانے اور موڈ بلاوجہ خوشگوار کرنے کا سبب بھی بنتا ہے،
‎اس کے پانچ ملی لیٹر آئل کی قیمت چارسو ڈالر ہوتی ہے۔


دنیا میں عود کا سب سے زیادہ استعمال عرب ممالک اور مشرق وسطی میں کیا جاتا ہے۔ عرب لوگ نہ صرف عود کا عطر استعمال کرتے ہیں بلکہ گاہے بگاہے اس کی دھونی بھی لیتے رہتے ہیں جس کے لئے ایک مخصوص ساخت کے بخورردان استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ مختلف علاقوں کے عود کی خوشبو بھی مختلف ہوتی ہے۔
مغربی ممالک کے پرفیوم ساز ادارے تو کافی عرصہ سے عود کی خوشبو پر مشتمل پرفیومز اور کلوز تیار کررہے ہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے چین کے سرمایہ کاروں نے بھی عود کی مصنوعات تیار کرنا شروع کردی ہیں جس نے عود کی قیمت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ دن بدن خالص عود کی دستیابی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔
سعودی عرب کے کچھ تاجر ایسے بھی یں جن کا آباواجداد سے خاندانی پیہ عود کی خرید و فروخت ہے۔ یہ لوگ عود کی پہچان کے اس قدر ماہر ہیں کہ محض عود ی لکڑی کی آواز سن کر یا اس کو دانتوں تلے دبا کر ذائقہ محسوس کر کے عود کی کوالٹی بتا سکتے ہیں بلکہ اس کا کس ملک یا علاقے سے تعلق بھی بتادیتے ہیں۔


عود کی لکڑی جس درخت سے حاصل کی جاتی ہے اس کا مشہور عام نام ایکیولیریا ہے۔ دن بدن اگر کی بڑھتی ہوئ طلب کی وجہ سے اس درخت کی کٹائ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کہ وجہ سے یہ درخت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ جنوبی ایشیا ے کئ ممالک نے اس درخت کی کٹائ پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ عود برامد کرنے والے ممالک انڈونیشیا، ملائشیا اور میانمار نے اس کی برامد کا ایک کوٹا مقرر کررکھا ہے جبکہ اس کی کھپت اور طلب میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں ایک کلوگرام عود کی لکڑی کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے بھی زائد ہوچکی ہے۔
عود کے بیش و بہا ہونے کی وجہ اس کی کمیابی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایکیولیریا کے ہر درخت میں عود موجود نہیں ہوتا بلکہ بمشکل دو فیصد درختوں سے عود دستیاب ہوتا ہے۔ عود کی لکڑی کے جنگلات میں ہر دس میں سے ایک درخت میں یہ نایاب جوہر ملتا ہے۔
عود کے درخت کی لکڑی میں بیرونی طور پر ایسی کوئ شناخت نہیں ہوتی جس سے پتہ چل سکے کہ اس میں عود موجود ہوگا۔ اگر کچھ معمولی سی علامت مل بھی جائے تو بھی اس درخت کو کاٹے بغیر یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اس میں عود کی کتنی مقدار شامل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایکولیریا کے درخت بنا سوچے سمجھے کاٹے جارہے ہیں۔ کئ ممالک نے اس درخت کی کٹائی  پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے۔ اس درخت کو ” کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈیجرڈ اسپیشز آف وائلڈ فوانا اینڈ فلورا” (CITES) کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے تحت کچھ ممالک میں اس درخت کی کٹائی  پر مکمل پابندی جبکہ کچھ ممالک کو اس کو کاٹنے کے لئے CITES کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے۔
کچھ عشروں قبل تک بھارتی آسام میں عود کے کافی جنگلات تھے لیکن اندھا دھند کٹائی نے آسام میں اس درخت کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کردیا اور اب بھارت میں اس درخت کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد ہے۔ جو ملک کبھی عود کا برامد کنندہ تھا وہ اب اپنی ضروریات کے لئے خود عود درامد کرنے پر مجبور ہے۔ کئی  ممالک میں بڑے پیمانے پر اس درخت کی شجر کاری کی جارہی ہے لیکن بڑھتی ہوئی  طلب پر اس کے کوئ اثرات نظر نہیں آتے۔
ہندوستانی ریاست آسام کے بغل میں ہی ایک اور ریاست ہے جسکا نام آگرتلہ ہے جہاں عود کو آگر بولا جاتا ہے وہاں عود کی اتنی پیداوار ہے کہ پوری ریاست کا نام ہی آگرتالہ پڑ گیا.
معروف عطر کمپنی اجمل و عنفر کے مالکان آسام کے ہی رہنے والے ہیں.ریاست آسام میں کریم گنج سیلہٹ سلچار وغیرہ عود کے لئے بہترین علاقہ ہے جہاں عود کے ساتھ ساتھ پہاڑوں پر چائے کی پتیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں.

اس وقت تمام مشہور و معروف پرفیوم ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات میں عود پر انحصار کرتی ہیں۔ ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی NPD گروپ کے مطابق خوشبویات کی بیش قدر مارکیٹ میں عود سے تیار عطریات کی فروخت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یہ مارکیٹ عالمی سطح پر 3؍ ارب ڈالر مالیت کا کاروبار کرتی ہے۔ 2013ء کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عود سے بنی خوشبویات کی فروخت میں 68؍ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ فرانس کی ایک مشہور پرفیوم کمپنی ’’ہنری جیکس‘‘ گزشتہ 30؍ سال سے عود پر مبنی خوشبویات تیار کررہی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب مغرب میں عود کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ کمپنی کے بانی ہنری جیکس کی صاحبزادی اور ماہر عطریات این لیزکریمونا کا یہ کہنا ہے کہ اچانک ہر ایک کو عود کی خوبیوں کا پتہ چل گیا اور وہ اس کے سحر میں مبتلا ہوگیا ہے۔ٹام فورڈTom Ford نامی ادارے کے عود ووڈ پرفیوم کی قیمت 230 ڈالر یعنی تقریبا” 30 ہزار پاکستانی روپے ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں سب سے پہلے چینی تاجر عود لے کر بذریعہ شاہراہ ریشم مشرق وسطی پہنچے تھے۔ آج بھی چینی تاجر عود کی تجارت پر چھائے ہوے ہیں بلکہ گزشتہ پندرہ سال سے تو چینی عود کی تجارت میں انتہائی  سرگرم ہیں اور ان کی جانب سے عود کی بڑھتی طلب نے ہی عود کی قیمت کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ چینی لوگ اس کو ادویات میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
اس وقت عود کی خریداری کا بڑا مرکز بنکاک کی عرب اسٹریٹ بھی ہے جہاں کمبوڈیا، ویتنام، سری لنکا اور برما سے عود منگوائے جاتے ہیں اوریہاں عام فروخت کے لئے ان کی کئی دکانیں موجود ہیں۔ یہ سارا جنگلی عود بلیک مارکیٹ عود کہلاتا ہے کیونکہ یہ ان ممالک سے برامد کیا جاتا ہے جہاں عود کے درختوں کی کٹائ پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس دھندے میں پولیس اور کسٹم حکام سے لے کر انڈر ورلڈ مافیا تک سب ملوث ہیں۔ اس کالے دھندے کا آغاز عود کے جنگلات سے ہوتا ہے جہاں عود مافیا بھاری رشوت کے عوض چوری چھپے درخت کاٹتی ہے اور پھر پولیس اور کسٹم کی ملی بھگت سے یہ مختلف ذرائع اور چور راستوں سے بنکاک تک پہنچتی ہے۔تھائ لینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں کیونکہ اگر کے درختوں کی کٹائی  پر مکمل پابندی عائد ہے اس لئے ان ممالک میں عود کی شجرکاری زور شور سے جاری ہے۔ ان درختوں کے تنوں اور شاخوں میں سوراخ کرکے ایک خاص کیمیکل داخل کیا جاتا ہے تاکہ یہ درخت اپنا گندہ بیروزہ تیار کرسکے۔ اس گندے بیروزے سے ہی عود حاصل کیا جاتا ہے۔ عام طور پر عود کے درخت کو دس سال تک بڑھنے دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ عود حاصل کرنے کے قابل بنتا ہے۔ لیکن بہترین قسم کا عود حاصل کرنے کے لئے ان درختوں کو سوسال تک بڑھنے دیا جاتا ہے جس کے بعد ہی عمدہ ترین  عود کا حصول ممکن ہے۔

ہیرے سے زیادہ قیمتی لکڑی ” کینام”
اگر‘‘ کی لکڑیوں کے معیار کے لحاظ سے کئی درجے ہیں اور اگر کے ایک تجربہ کات تاجر کے بقول سب سے نایاب قسم کی عود کی لکڑی کو کینام (Kynam) کہتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے کم پائی جانے والی لکڑی سمجھی جاتی ہے اور یہ ٹیٹانیم، یورینیم اور پلاٹینیم جیسی دھاتوں بلکہ ہیرے سے بھی زیادہ نایاب ہے۔ اس کی خوشبو ’’اگر‘‘ کی تمام قسموں میں سب سے زیادہ مسحور کن بتائی جاتی ہے۔ اس تاجر نے اپنے کسی خریدار کے لئے اب تک سب سے زیادہ مقدار میں جو کینام حاصل کیا ہے وہ 16؍کلوگرام ہے۔ اگر کی یہ لکڑی 600؍ سال پرانے درخت سے حاصل کی گئی تھی جس کے لئے دو کروڑ ڈالر وصول کئے گئے تھے۔ تاجر نے بتایا کہ کینام کی قیمت بلاشبہ ناقابل یقین ہے۔ ایک گرام کینام کیلئے 10؍ ہزار ڈالر طلب کئے جاسکتے ہیں۔ شنگھائی میں دو تین سال پہلے اس قیمتی لکڑی کا ایک ٹکڑا فروخت کیا گیا تھا اور دو کلوگرام کینام کیلئے ایک کروڑ 80؍ لاکھ ڈالر وصول کئے گئے تھے یعنی فی کلو اس کی قیمت 90؍ لاکھ ڈالر تھی۔

دنیا کا سب سے قیمتی درخت

بنکاک میں کمبوڈیا کی سرحد کے قریب ’’واٹ بانگ کرادان‘‘ کے نام سے بودھوں کا ایک مندر ہے۔ اس مندر میں اگر کی لکڑی کا ایک 200؍ سال پرانا درخت بھی موجود ہے اور اس درخت کی حفاظت کیلئے اس مندر میں فوجی جوان پہرہ دیتے ہیں۔ عود کے تاجروں کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ اس درخت سے کینام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس مندر کے ایک پروہت کے مطابق جاپانی سرمایہ کاروں نے اس درخت کیلئے 2؍ کروڑ 30؍ لاکھ ڈالر کی پیشکش کر رکھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسے دنیا کا سب سے قیمتی درخت قرار دیا جاسکتا ہے۔

خلیجی ممالک دنیا بھر میں عود کے درآمدکنندگان میں سرِفہرست ہیں، اس کی خوشبودار دھونی مشرقِ وسطیٰ میں بہت مقبول ہے۔
اعدادوشمار کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں لگ بھگ 95 فیصد عود جلایا جارہا ہے۔ سعودی شہری 2.6 ارب سعودی ریال سے زیادہ کی رقم اس تیز خوشبو کی خریداری پر خرچ کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2013ء میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں متحدہ عرب امارات میں عود کی خوشبو کے استعمال کو تقریباً خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے مطابق گھر کے اندر اس خوشبو کی دھونی سے فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے، جو پھیپھڑوں کی سوزش کا باعث بن سکتی ہے۔ صورتحال اس وقت بدترین ہوجاتی ہے، جب عود کے کچھ تاجر اپنے گاہکوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس میں سیسے کی ملاوٹ کردیتے ہیں تاکہ اس کے وزن میں اضافہ ہوجائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح یہ صحت کے لیے انتہائی حد تک خطرناک ہوجاتا ہے۔

SHOPPING

اس وقت برصغیر و عرب ممالک میں اجمل کمپنی کا تیار کردہ مخلط دھن العود معت بڑا مقبول و مشہور ہے۔ خانہ کعبہ کے غلاف اور حجر اسود کو بھی باقاعدگی سے عود سے معطر کیا جاتا ہے۔
جس طرح بازار میں فروخت ہونے والے غیر ملکی پرفیوم کی وسیع ورائٹی دستیاب ہے ویسے ہی کراچی کی بوتل گلی میں بھی عطر کی مختلف اقسام فروخت کی جاتی ہیں۔
کراچی کے علاقے برنس روڈ سے ملحقہ جامع کلاتھ کے سامنے کراچی کی سب سے قدیم عطر فروشوں کی دکانیں موجود ہیں جو قیام پاکستان سے اب تک خوشبوئوں کے شوقین افراد کیلئے خریداری کے مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔’’قنوج عطر‘‘ کے نام سے واقع دکان کے حوالے سے معلوم ہوا کہ یہ کراچی میں عطر فروخت کرنے والی سب سے پہلی دکان ہے جو 1948ء میں قائم ہوئی۔ یہاں پر واقع دیگر معروف عطر فروشوں میں سعید غنی، الہاشمی، انشاء اللہ، ماشاء اللہ، نفیس اور شمیم عطر شامل ہیں۔
مہنگے مہنگے پرفیوم کی طرح مارکیٹ میں ایسے عطر بھی دستیاب ہیں جو قیمت اور خوشبو کے معاملے میں غیر ملکی پرفیوم کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ کراچی کی بوتل گلی میں فروخت ہونے والا عطر عود کا شمار بھی مہنگے ترین عطر میں کیا جاتا ہے جس کی فی تولہ قیمت20ہزار روپے ہے،ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ عود کے خریدار مخصوص ہوتے ہیں جو اس مہنگے عطر کو پسند کرتے ہیں۔عود کے علاوہ عطر مشک 2 ہزاراور عطر مکہ ایک ہزارروپے فی تولہ میں دستیاب ہے۔
پاکستان میں سعید غنی کا عود الافضل معیاری عمدہ اور مناسب قیمت میں دستیاب ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *