ایک سے جب دو ہوئے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

خاک سارانِ جہان را بہ حقارت نہ نگر
تو چہ دانی کہ در ایں گرد سوارے باشد
(یہ جو دنیا میں خاک سار دکھائی دیتے ہیں۔ان کو حقارت سے مت دیکھو
تم کیا جانو کہ اس اڑتی ہوئی دھول کے پیچھے کون شہسوار دوڑا چلا آتا ہے)

ہمارے محسن،مداح،مرشد ڈاکٹر ظفر الطاف کے دوست اور مرید بے دام جن کے ذوق مطالعہ،فلم بینی اور خودکش بمباروں جیسی صداقت پر ہم ویسے ہی فریفتہ ہیں جیسے وہ ہمارے سمیت نذر محمد چوہان کراچی میں ہمارے افسری کے دنوں کے ساتھی پر فد ا فدا ہیں۔کلاسرا صاحب کو اللہ نے مواقع پیشہ اور طبیعت کچھ ایسی عطا کی ہے کہ وہ بڑے آدمیوں سے مل بھی جلد لیتے ہیں اور اسی سرعت سے مایوس بھی ہوجاتے ہیں۔

رؤف کلاسرا
احمد نواز سکھیرا،شہباز گل

میمنوں کو لوگ پڑھا لکھا، کلچرڈ اور بہادر تو سمجھنے پر چونکہ آمادہ ہی نہیں ہوتے اس لیے ہمارا معاملہ ان سے الٹ ہے۔ہم نہ شہباز گل مشیر اطلاعات وزیر اعلی پنجاب کی فہرست میں ہیں نہ اپنے سے صدیوں جونئیر احمد نواز سکھیرا، موجودہ سیکرٹری حکومت پاکستان وزارت اطلاعات و  نشریا ت جو اب بسیار گو فواد چوہدری کی موجودگی میں،مینا کماری کی ”میں چپ رہوں گی“ کی جیتی جاگتی تفسیر بنے مصطفے زیدی کا یہ شعر پڑھتے دکھائی دیتے ہیں کہ ع
آج اک گوشہء گمنام میں افتاد ہ ہے
کل تیرے نام سے تھا نام نگاراں زیدی

سو ہماری ملاقات چھٹے چھ ماہے عارض گلفام کے خال جیسے غیر مطلوب افراد سے ہوتی ہے۔ وہ بھی دوسروں کے طفیل۔

میں چپ رہوں گی
مصطفٰی زیدی

کلاسرا صاحب کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ انہیں میڈیا کا ایک اہم اینکر ہونے اور پاکستان کا باب ووڈورڈ ہونے کی وجہ سے سندیسے آتے ہیں۔ان کی اس لیے بھی اہمیت ہے کہ وہ ان بحیرہ اقتدار میں بے یار و مددگار ڈوبتے ڈبکیاں لگاتے اہلیان سیاست کی طرف پورے کپڑے پہنے Bay Watch کے لائف گارڈز بنے اس وقت ان کی جان بچانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں جب ان کے مخالفین کے بخیے ادھیڑ رہے ہوتے ہیں۔مسند اختیار کی کوتاہی، بد نیتی، بد اعمالی اور نااہلی کلاسرا صاحب سے براداشت نہیں ہوتی۔چند دن بعد وہ انہیں برے  لگنے لگ جاتے ہیں۔
اب کلاسرا صاحب کو کون سمجھائے کہ راہ بھولے ہیں کہاں سے وہ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اصل میں طاقت و اقتدار کی زبان اور احتجاج و احتیاج کی زبان کچھ اور ہوتی ہے۔

باب ووڈ ورڈ
بےواچ

دہلی میں ایک نک سک کی درست اور ہاتھ پاؤں کی پوری بھٹیارن کے جب نصیب جاگے تو تندور لگاتی لگاتی کسی جوان تاجرکی اہلیہ بن گئی۔نصیب اچھے تھے کہ گھر میں قدم آتے ہی خوشحالی کا مست ہاتھی دروازے پر ڈولنے لگا۔ ایک دن اپنے بناؤ سنگھار کے کسی شغل میں لگی تھی کہ کم سن ملازمہ دوڑی  دوڑی آئی اور چیخ کر کہنے لگی۔ ”بی بی جی بی بی جی چاول جل گئے،“ بھٹیارن بوا نے آئینہ میں اترا کر دیکھا اور ترنت کہا ”ہٹ کتیا مردار، وہ دن ٹل گئے۔“
کلاسرا صاحب پیر بھائی ہونے کے ناطے ہم آپ کو سمجھادیں کہ لوگ جب آپ سے گھر کرائے پر یا رقم ادھار مانگتے ہوں ان کے لہجے کی شیرینی،احترام اور عجز دیکھا کریں اور جب آپ ان  سے گھر خالی کرنے یا رقم لوٹانے کا مطالبہ کریں تو ان کی تلخی،شکوہ اور تحقیر نوٹ فرمائیں۔آپ کو اس وقت محسوس ہوگا کہ ان کی آنکھ میں سور کا بال نہیں آیا بلکہ وہ خود اہل خانہ سمیت چشم خنزیر میں شفٹ ہوگئے ہیں۔
ہمارا معاملہ ذرا مختلف ہے۔
ہماری تو ساری زندگی یو پی ایس بن کر گزری ہے۔ بارہواں کھلاڑی، اور بارھواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے۔ مسافت سے ہلکان والے وابستہ افراد شدت سرما سے ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں تب جاکر ہم انہیں یہ تسلی دیتے ہیں کہ:
”جب اس نے آگ دیکھی تو اپنی خاتون خانہ سے کہا کہ ٹھہرو  مجھے وہاں آگ دکھائی دیتی ہے۔۔
شاید میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی چنگاری پکڑ لاؤں یا اس آگ سے راستے کا کوئی نشان مل جائے (سورہ طہ۔ القرآن)

ہمارے ایک دوست ہیں عثمانی صاحب۔
انہیں بڑے آدمیوں کی آنکھ کا سرمہ بن کر رہنا آتا ہے۔ہر رات کہیں نہ کہیں مدعو ہوتے ہیں۔۔جس رات ڈنر   گھر پر کریں۔انہیں ہاجمولا کی پوری بوتل کھانا پڑتی ہے ۔کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ معاملہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسا ان دنوں تھا جب جام صادق علی سندھ کے وزیر اعلی ہوتے تھے اس زمانے میں وزیر اعلی کے افسر مہما نداری چور دورازے سے سول سروس میں باپ کی وجہ سے داخل ہونے والے ایک افسر ہوتے تھے ۔ان افسر مہمانداری نے عادتاً اور لبھاؤ کے طور  پر خوشبو دار الائچی کے چاندی کے ورق میں لپٹے دانے اہم افراد کو پیش کرنے کی ادا اپنا رکھی تھی۔دانے وہ کسی عامل سے پڑھواکر رکھتے تھے۔حسب عادت اس دوپہر بھی انہوں نے چند دانے آئی جی صاحب سندھ کواس وقت پیش کیے جب وہ وزیر اعظم نواز شریف کو رخصت کرکے کار میں سوار ہورہے  تھے۔حضرت نے جلد بازی میں وہ دانے پھانک لیے اور تھوڑی دیر بعد سانس رکنے لگی تو بمشکل ہسپتال پہنچ پائے۔

وزیر اعلی کو اطلاع دی تو مروت  کے مارے مگربہت کھٹور حس مزاح کے مالک جام صادق علی ان کی عیادت کے لیے مڈ ایسٹ ہسپتال پہنچ گئے۔آئی جی صاحب نے اپنی ہسپتال آمد اور Wind Pipe کے آپریشن کا بتایا تو جام صاحب نے فرمایا”سائیں آپ کا حلق چونکہ رزق حلال کا عادی نہیں اس لیے یہ ساری مشکل ہوئی ورنہ الائچی کا دانہ تو بہت چھوٹا ہوتا ہے“۔
عثمانی صاحب کو ہمارے پاس آ ئے  ذرا  دیر ہوئی تھی کہ کسی کا فون آگیا۔کوئی بصد اصرار مدعو کر رہا تھا۔ہمارا بتایا تو ارشاد ہوا کہ ہمیں بھی لے آئیں۔ہم انکاری ہوئے تو عثمانی صاحب باتھ روم میں چلے گئے۔ہمیں آواز تو آئی مگر یہ کاروباری افراد،سیاست دان اور صحافی باتھ روم میں بھی فون کے استعمال کو  معیوب نہیں مانتے۔چائے کی  پیالی لاکر رکھی ہی تھی کہ ہمارے سیل فون پر اجنبی نمبر سے فون آیا۔اٹھاتے نہیں مگر عثمانی صاحب مصر ہوئے تو سن لیا۔ دوسری طرف ہارون لاکھانی میمنی میں شروع تھے۔اب میمن بھی میمن کے گھر دعوت کا انکار کریں تو ہمارا گزارا کیسے ہوگا۔تھوڑی دیر میں ان کی بی ایم ڈبلیو ہمارے گھر پر آگئی تھی دو میل کی مسافت پر کلفٹن میں ان کا گھر تھا۔وہاں ایک اور صاحب بھی موجود تھے۔لاکھانی صاحب کے بچپن کے دوست مارواڑ کے،کیمیکل کے بیوپاری نام احمد بھائی۔

فارم ہاؤس
ہارون میاں کے فارم پر نوروز و نو بہار
ہارون میاں کے ہاری

حضرت نے ہمارے سامنے سلاد کے بڑے سے پیالے کو پاکستانی وہسکی سے بھردیا تھا۔کہنے لگے کہ دیکھتے ہو نا حرامی پانچ برس پرانا گوشت اور نالی کے پانی کی اگائی ہوئی سبزیاں کھلاتے ہیں،ایک منٹ کا بھروسہ نہیں کرسکتے۔ماں بچوں کی ایری زونا گرل کا کھانا کھائے دوسری رات تھی۔بچے ہلاک ہوچکے تھے۔ میڈیا جو اب اس واقعے پر دم سادھ چکا ہے اس وقت ہڑکائی کتیا کی طرح زبان منہ میں نہیں ڈال رہا تھا۔

مری وہسکی

لاکھانی صاحب نے پانچ منٹ تک ہمارا چہرہ بغور دیکھا۔اس دوران عثمانی صاحب نے ہمارا تعارف کرایا تو آہستہ سے کہا ہمارا ان کے ایک دوست پر بڑا احسان ہے اور انہوں نے ہمارا نام سنے لا ہے(سنا ہوا)،اگلی سانس میں  وضاحت بھی کردی کہ سلاد صرف احمد بھائی کھاتے ہیں۔ابھی کیا ہے کہ پاکستانی وہسکی سے گناہ دھلیں نہ دھلیں احمد بھائی کا سلاد جرم فری ہوجاتا ہے۔باہر والی سے پاکستانی وہسکی سستی بھی پڑتی ہے۔دل میں تین سٹینٹ ڈلے لے (ڈالے ہوئے) ہیں اس لیے احمد بھائی چانس نہیں لیتے۔

stent in heart

آپ کے لیے میں نے پمفرے فرائی کرنے کو اور ماش کی دال گھر کی چپاتی اور دہی کے رائتے کے لیے کہہ دیا ہے ۔انہوں نے ایک سانس میں پورا بینکویٹ کا معاملہ حل کردیا۔سامنے کوہی با کا بلیو بینڈ والا ڈومنیکن ری پبلک کا ڈبہ پڑا تھا۔کہنے لگے سگار پیتے ہو نا یا بالکل سنیاس لے لیا ہے۔ہم نے کہا کیوں نہیں  ۔۔ تو ایک ملازم کو میمنی میں کہنے لگے کہ پھاتڑا ون ساب لائی گڈی میں ہکڑو ڈبو رکھی دے۔کہا تو کچھ اور بھی کہ اوپر بتاؤ مہمان آگئے ہیں۔

blue_cohiba_capitol_cigar_

پھاتڑا کے نام پر حیرت ہوئی میمنی میں کھسرے کو پھاتڑا کو کہتے ہیں۔دونوں ہی غائب ہوگئے تو احمد بھائی کہنے لگے جب کوئی پروگرام ہوتا ہے تو سلیم کو باہر دور کہیں بھیجنا پڑتا ہے۔اس کو یہاں عورتوں کے پروگرام بہت گراں گزرتے ہیں اسی لیے لاکھانی بھائی نے اس کا نام پھاتڑا رکھ چھوڑا ہے۔وہاں البتہ یہ بہت خوش رہتا ہے۔
اس سے پہلے کہ وہاں کا مقام طے ہوتا۔ہارون بھائی جینز اور چیک کی بشرٹ پہن کر آگئے۔پیچھے سلیم پھاتڑا ایک نیا نکور کوہی با سگار کا ڈبہ لے کر آگیا۔ چار عدد وسطی ایشیائی بی بیاں بھی آگئیں۔خود ہی کہنے لگے آپ کو دیکھا تو اچھا نہیں لگا کہ شلوار کھم یس(قمیص) میں شیخ رشید کی طرح سگار لگاؤں۔ ابھی یہ کیا ہے کہ پنڈی سیالکوٹ میں ایسی چک چورانوے والی بات چل جاتی ہے کہ فراری لمبورگہنی ڈرائیور چلائے اور آپ پولی سٹر کا شلوار کرتا پہن کر ساتھ بیٹھے ہو۔وہ پاکستان کے ایک بڑے میڈیا مغل کا بتانے لگے کہ ایسا لو۔ لائف ہے کہ شلوار قمیص پہن کر رولس رائس خود چلاتا ہے پیچھے پولیس کی میلی موبائیل (یاد رہے کہ رولس رائس عموماً باوردی ڈرائیور چلاتا ہے اور مالکان پچھلی نشست پر بیٹھتے ہیں)۔وہ Sense of Occasion پر بات کررہے تھے۔

لال فراری
نیلی لمبورگہنی
وردی والے ڈرائیور کی رولس رائس

ہارون صاحب، روس کی شکست و ریخت کے فوراً بعد ایک دور افتادہ وسطی ایشائی ریاست جاپہنچے تھے۔وہاں درالخلافے کے نزدیک بہت بڑی زراعتی زمین کوڑیوں کے مول خرید لی۔ فارم ہاؤس بنالیا اور ایک حرم آباد کرلیا۔سولہ لڑکیوں کا ایک گروپ جو وہاں ملازمت کرتا ہے۔وہ کرشنا کی گوپیاں بن کر ہارون بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔فارم بھی سنبھالتی ہیں دودھ گھی سب خالص ان کا سب کا پروگرام منیجر اپنا سلیم پھاتڑا ہوتا ہے۔فطرتاً رحمدل اور نیک انسان ہے لہذا وہ سب اس سے خوش رہتی ہیں۔ہارون میاں کا اب وہاں بڑا کاروبار بھی ہے۔وہ یہاں پاکستان سے کپڑا منگاتے ہیں اور وہاں سے لکڑی اور اون برآمد کرتے ہیں۔ سردیوں میں یہاں تین ماہ آجاتے ہیں۔ماسکو، میکسکو، مصر سب جگہ آوک جاوک رکھی ہے۔

وہاں کی دوشیزہ
او ماہی میرا شربت ورگا
وہاں کے فارم ہاؤس
کرشنا رادھا اور سول سو گوپیاں بندرا بن میں مل جل کے راس رچاتے تھے
گھوڑی کا دودھ اور گوشت پسند کیا جاتا ہے

ہمارے ڈاکٹر ظفر الطاف نے کئی دفعہ اس ملک کا دورہ کیا۔ایک ڈی ایم جی کے ماتحت افسر جن کی کرپشن اور ریشہ دوانیوں سے ہم  انہیں گاہے بہ گاہے باخبر کرتے رہتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب کو کبھی کسی کی برائی دکھائی ہی نہیں دیتی تھی۔وہ افسر بتانے لگے کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ ان کی وزارتِ  ذراعت سے Dairy Goats کی افزائش نسل پر کوئی معاہدہ کرکے آئیں۔
وہ چلے گئے تو ہمیں ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ ہم ساتھ کیوں نہیں گئے۔فائل پر تو ہمارا نام بھی وزیر صاحب نے منظور کیا تھا۔ خود ہی کہنے لگے کہ اس نے کچھ اور دھندے کرنے ہوں گے اس لیے ساتھ نہیں لے گیا۔ہمیں اس کے ازالے کے لیے وہ اپنے ساتھ ملائشیا لے گئے۔واپسی کے تین ماہ بعد ان افسر کا ارادہ تو کہیں فرانس جانے کا تھا مگر کچھ شواہد سامنے آئے تو چپ چاپ سیف الرحمن کی طرف احتساب بیورو میں نکل لیے۔

وہ افسر اگلی دفعہ کراچی آئے تو کہنے لگے وسطی ایشیا کے اس ملک میں جس بس اسٹاپ پر دیکھو ایک عبارت ضرور لکھی ہوتی تھی۔پہلے تو میں نے اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کی تو کچھ پلے نہ پڑا۔ایک دن بطور ترجمان اور ان کی بکریوں کی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹرضمیرہ فارم والوں کی طرف سے ساتھ تھی۔ بہت حسین تھی اس سے پوچھا کہ یہ کیا  لکھا ہے تو شرم سے بیر بہوٹی بن کرکہنے لگی
”پیار محبت کے مراحل گھر یا ہوٹل جاکر طے کریں۔بس اسٹاپ اس کے لیے ناموزوں جگہ ہے “
ہمارے سوال کواس نے اشارہ سمجھا اور کہنے لگی آؤ ہوٹل چلیں۔

بس اسٹاپ
marshrutka.

کہنے لگے ضمیرہ اگلے مہینے پاکستان آئے گی۔اس کو ڈاکٹر صاحب، بکریوں کی کسی چھتر نسل کا کہہ رہے تھے۔سندھ کی ہے۔وہ آپ دکھانا۔ وہ اس کی بہتری پر کام کرے گی۔ہم نے کہا چھتر نہیں چھپر جسے کوہستانی اور جبلی بھی کہتے ہیں۔شرمندہ ہوکر جھنجلا کر کہنے لگے ملائشیا میں لگتا ہے بہت بکریاں  دیکھی لگتی ہیں۔ ضمیرہ آئی تو ہم اسے ٹھٹہ بدین اور دادو لے گئے۔ایک دو جگہ اس نے ہم سے سڑکوں پر لکھی عبارات کا پوچھا مگر جو ہم نے سچائی سے ترجمہ کرکے بتادیں کہ
قائد کا  جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔
ہیڈماسٹر افشاں کے ساتھ ڈیٹ پر جاتا ہے۔
پوشیدہ امراض کا شرطیہ علاج
مگر مجال ہے اسے ہوٹل کی یاد آئی ہو۔ہمارے حیدرآباد کے ایک شاعر نے کہا تھا ع
ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے
سو ہم نے اس ڈی ایم جی افسر کے مقابلے میں خود کو مزار کا پھول سمجھ کر صبر کیا اور صبر بھی قیامت کا۔

کوہستانی چھپرہ سندھی بکرا
بیر بہوٹی جو بارش کے بعد نکل آتی ہے

 

ہارون صاحب دو دن پہلے رزاق داؤد سے کسی تقریب میں ملے تھے۔ چونکہ خود بھی بانٹوے کے ہیں جسے میمنوں کا چینوٹ سمجھیں اس لیے رشتہ داری نکلتی ہے۔ عبدالستار ایدھی،سیلانی ٹرسٹ کے روح رواں بشیر احمد پولانی جو سیدنا عمر فاروق ؓسے عقیدت کی وجہ سے خود کو پولانی کی بجائے فاروقی کہلاتے ہیں اور پاکستان کا سب سے بڑا فری کچن اور ایمپلائیمنٹ بیوروچلاتے ہیں۔ سب ہی بانٹوہ کے ہیں۔شادی ہو تو ان کی طرف کے دولہا میاں کو دلہن گھر اور سامان سمیت ایسے ملتی ہے کہ رخصتی کے بعد چائے بھی اپنے گھر پر مل سکتی ہے۔

بتارہے تھے کہ چینی رزاق بھائی سے بہت متاثر ہوئے اور ان کے لب و لہجے پر ایسے فدا ہوئے کہ بہت سے معاہدوں کی ناپسندیدہ شرائط جو کرپشن کی وجہ سے پرانے حکمرانوں نے طے کی تھیں ان کی تجدید ہورہی ہے۔ ان کو دونوں ممالک کے لیے Win-Win Situation میں بدلا جارہا ہے۔ہم نے کہا اب ملاقات ہو تو رازق بھائی کو ہمارے نام سے کہنا کہ چین سے تین چار انسٹیٹوٹ زراعتی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر میں مصنوعی ذہانت کے یہاں پاکستان میں لیہ، خضدار، حب اور حیدرآباد میں بنائیں اور ہزار اسکالرشپ گریجویٹ لیول کی چین میں تعلیم کی پکڑ لیں۔ سی ایس ایس جیسا امتحان لے کر بچوں کو چین بھیجیں۔ملک ان کو دعائیں دے گا۔

وہ میڈیا کی جان عثمانی صاحب کی طرح بوزدار صاحب سے بہت متاثر دکھائی نہیں دیے،عمران کو وہ پاکستان کاThe Last Emperor کہتے ہیں۔ آپ نے اگر چین کے آخری بادشاہ Pu Yi (John Lone), کی زندگی پر وہ فلم دیکھی ہو تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ اب مقتدر حلقے اور عوام اس قدر تنگ ہیں کہ سبھی تہیہ طوفان کیے بیٹھے ہیں۔ہارون بھائی کے نزدیک اگر یہ سیٹ اپ بھی پر فارم نہیں کرتا تو پاکستان میں ایسے بہت سر ہیں جو کٹنے کے لیے بے تاب ہیں اور ایسی بہت سی ڈاڑھیاں جو خاک میں روندے جانے کی منتظر ہیں۔پاکستان میں چوں کہ ایران، چین اور روس کی طرح کوئی فکری تحریک نہیں اس لیے اب اگر ایسا ہوگا تو تلنگوں کی موج ہوجائے گی۔ہارون میاں شاہد مسعود کے مداح ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان کا حال بھی ایسی صورت میں عراق،شام اور لیبیا جیسا ہوگا۔

بوزدار صاحب
the last emperor

ان کے اعتراضات کو سن کر احمد بھائی تاجر کیمیکل میدان میں کود گئے۔ان کو عمران خان کا ہر فیصلہ دل سے قبول ہوتا ہے۔اس کی عقیدت میں جیسے پرانی راجپوتانیاں شوہر کی محبت میں آگ میں کود جاتی تھیں۔
احمد بھائی کا بھی وہی حال ہے۔ جب انہوں نے ریحام سے شادی کی  تو سب تھو تھو کررہے تھے تب بھی ریحام خان انہیں جاپان کی شہزادی ایوکو لگتی تھی اور جب طلاق ہوئی تو وہ اسے پھاپھے کٹنی اور ایم آئی سکس کی ایجنٹ جانے کیا کیا پکارتے تھے۔اب پنجاب کے چیف منسٹر بوزدار کا ذکر چلا تو وہ بھی رؤف کلاسرا کی طرح میدان میں حمایت کے لیے کود گئے۔کلاسرا صاحب نے یہ رائے ان سے طویل ملاقات کے بعد بدلی جب کہ ہارون میاں احمد بھائی کا ریکارڈ لگاتے رہے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ بوج دار (بوزدار میمن خ، ز، ش اور ق نہیں بول سکتے) میرا وسیم اکرم ہے اور بوجدار میرا انجمام الحق ہے۔انجمام کوئی گھوڑا ہوتا تو سالے اپن لوگ ریس سروع ہونے سے پہلے اس کے الٹا دوڑنے کی وجہ سے ہار جاتے۔ باقی گھوڑے آگے بھاگتے تو اپن کا گھوڑا پیچھے۔ایک لاکھ دفعہ تو یہ گدھیڑا رن آؤٹ ہوا۔اس کا Mind Management جیرو ہے۔2006 میں اس نے انگلینڈ ٹیسٹ میں کیا کیا تھا،یہ چوتھے دن ٹی ٹائم کے بعد ٹیم لے کر کھیلنے نہیں آیا تو ایمپائر نے ٹیسٹ انگلینڈ کے نام کردیا 1000 ٹیسٹ میچ کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ ہوا۔وسیم اکرم ماشا اللہ سبحان اللہ۔کرکٹر اچھا۔ انسان تیرے میرے جیسا ہے۔وسیم اور ثقلین نے یاد ہے نا بنگلہ دیش کے میچ میں سن 1999 میں چالیس ایکسٹرا رن دیے تھے اور چودہ وائڈ بالیں کرائیں تھیں ہمارے انگریج دوست حیران تھے کہ یہ پاکستانی کھلاڑی اور ان کے رستے دار سالے اپنی ٹیم کی بجائے بنگلہ دیس پر بھاؤ لگا رہے ہیں۔

شہزادی ایوکو
کلاسرا صاجب کی سی ایم پنجاب سے میٹنگ
اینکر مہر بخاری سی ایم کی بریفنگ میں
رجواڑے کی کرکٹ ٹیم
دیکھو ادھر نکلا ہے چاند

احمد بھائی کو اچھا نہیں لگا کہنے لگے ہارون بھائی ابھی کیا ہے کہ باہر کے میوے کھاکھا کر آپ کو لوکل پالی ٹیکس کی کوئی سمجھ نہیں۔میرے بڑے تایا جان راجھستان میں افسر تھے۔اس وقت راجھستان سے جڑے چھوٹے بڑے بائیس رجواڑے ہوتے تھے۔یہ پاکستان سے پہلے کی بات ہے۔وہاں بھی ناصر خان درانی (سابق آئی جی کے پی کے جنہوں  نے بوزدار صاحب سے اختلافات کی بنیاد پر استعفی دیا) جیسے ایک وزیر ہوتے تھے فیض اللہ خان۔نواب ادھر کا بھی آپ کے میرے جیسے لل فقیراتھا۔

راجھستان کے رجواڑے

ہم نے دیکھا ہارون لاکھانی اور سلیم پھاتڑے دونوں کو یہ لفظ کچھ اچھا نہیں لگا چہرہ کچھ کھنچ سا گیا تھا۔ وزیر صاحب بہت قابل ایک دم اسد عمر جیسے مگر لکیر کے فقیر اور ضدی۔تین چار دفعہ نواب صاحب نے کوئی بات کی۔ کچھ حکم دیا تو وزیر فیض اللہ کہنے لگے کہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں۔ایک دن صبح صبح نواب صاحب ناراض ہوگئے۔ فیض اللہ خان کی کلاس لے لی تو دیوان میں استعفی پھینک کر چل دیے۔
راجہ کو اپنے دیوان صاحب کی طرح حقہ پینے کا بہت شوق تھا۔چلم بھر نے والاخدمتگار آیا تو وزیر صاحب کی خالی مسند کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے۔پرسو رام بیٹھ جا، سسری وجارت چلا۔پھیج اللہ کی  بہن کی آنکھ۔ ہاں تو چلائے گا۔جیسے ہم کہیں گے۔ویسے چلانا دیکھتے ہیں تیری طرف کون میلی آنکھ سے  دیکھتا ہے۔

سارا دربار حیران کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی۔مگر پرسو رام تین سال وزیر رہا۔جب تک ہندوستان میں سب رجواڑے ختم نہیں ہوگئے انگریزی میں کہتے ہیں power is never ridiculous اقتدار کبھی بھی مضحکہ خیز نہیں ہوتا ۔

SHOPPING

کہانی درست ہے،احمد اللہ صاحب پر وہسکی کی سلاد اور تلی ہوئی مچھلی کا اثر غالب تھا نرم و گرم رفاقت کے بازو بھی گردن میں حمائل تھے۔سو دروغ بر گردن راوی۔، وہ داستان سنا کر وسطی ایشیا کی مہمان کا ہاتھ تھام کر اوپر چلے گئے اور ہم عثمانی صاحب کو ان کے ہاں چھوڑ کران کی بی ایم ڈبلیو میں کوہی با سگار کا ڈبہ پہلو میں دبائے لوٹ رہے تھے کہ فیس ٹائم پر وہاں بیٹھے بیٹھے نیویارک سے دو دفعہ بیگم کی کال آچکی تھی۔
ماحول دیکھا تو کہنے لگیں ”آئی ڈی آخرت کی فکر کرو یہاں تو ہم نے تھوڑے دن رہنا ہے وہاں قیام لمبا ہے۔جاؤ جلدی گھر جاؤ“۔لوٹے تو  کرشن بہاری نور کا وہ شعر کانوں میں گونج رہا تھا کہ ع
وہ تو غزل سنا کر اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھوگئے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *