میں بھی میلادی ہوں ۔۔۔۔خان مظفر

SHOPPING
SHOPPING
میرا تعلق ضلع گجرات کے  ایک مذہبی قصبے چوہددوال سے ہے یہ قصبہ یونیورسٹی آف گجرات سے محض چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے گاوں کی آبادی مشکل سے سات ہزار افراد پر مشتمل جہاں بچے اور بچیوں کے دو پرائمری سکول کے علاوہ  آٹھ مساجد, دو درگاہ ہیں, ایک دربار جو کھجور والی مسجد میں ہے چوہدری لقمان صاحب کے نام سے اور دوسرا دربار قبرستان کے احاطے میں  میاں حبیب اللہ صاحب کے نام سے مشہور ہے, میاں صاحب اور چوہدری صاحب آپس میں گہرے دوست تھے۔۔
بزرگ کہتے ہیں کہ میاں صاحب جموں سے تبلیغ کرتے ہوئے ہمارے گاوں تشریف لائے اور یہی ڈیرے لگا لیے, اور چوہدری صاحب گاوں کی گجر برادری سے تعلق رکھتے تھے,ہمارے ہاں جب بھی کسی لڑکے کی بارات نکلتی  تو دولہا بن سنور کے پہلے چوہدری صاحب دربار, اور پھر میاں صاحب کے در پر حاضری دے کر(سلام کر کے) نکلتا, بزرگوں کے مطابق یہ رسم پچاس سال سے بھی پرانی ہے جو آج بھی قائم ودائم  ہے, چھوٹے سے پنڈ میں آٹھ مساجد کے علاوہ جامع مسجد کے ساتھ بیس سال پہلے پنڈ کے لوگوں سے لاکھوں روپے چندہ اکٹھا کر کے ( قرآن پاک حفظ ناظرہ ) مدرسہ بھی قائم ہوا تھا جہاں سے ہماری خوش قسمتی کہ آج تک کوئی حافظ یا کوئی قاری بن کر نہیں نکل سکا,تمام  %99  لوگ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں, دس پندرہ نوجوان ایسے بھی ہیں جو صرف قرآن و حدیث, توحید,وحدت کی بات کرتے ہیں, جن کو اکثر پڑھے لکھے جاہل دوزخی, مرتد, کافر, اور ‏‎‎‎‎‎‎‎‎ نا اعوز باللّٰہ پتہ نہیں کیا کیا لقب سے پکارتے ہیں,ان پڑھ اور جاہل معاشروں کی طرح ہمارے ہاں بھی جس نے والضالین کی بجائے والظالین, اور باجماعت نماز میں سورت فاتحہ کے بعد آمین ذرا زور سے کہہ دیا وہ پکا وہابی, اور گستاخ, قرار دیا جاتا ہے۔
فیض آباد دھرنا ہو یا لبیک یا رسول اللہ جماعت کی کوئی بھی کال, ہمارے ہاں بھی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم چوک کو بند کر کے ٹائر جلا کر ,رکاوٹیں کھڑی کر کے ثواب دارین حاصل کرتے ہیں ,پچھلے چند سالوں سے ہر بارہ ربیع الاول کو میلاد شریف کے موقع پر گلیوں, مسجدوں, چوراہوں کو سجایا جاتا اور دوسرے قصبوں کی طرح ایک جلوس بھی نکالا جاتا ,جو شخص اس دن سب سے زیادہ مال جھنڈیوں, سجاوٹ, جلوسوں, اور پکی پکائی دیگوں پر خرچ کرتا وہ کرماں والا کہلاتا باقی سب ماڑے اس کی قسمت پر رشک کرتے,  جوں جوں بارہ ربیع الاول قریب آتا ہے پورے پاکستان کی طرح ہمارے ہاں بھی  میلاد منانے یا نہ منانے کے حوالے سے ایک عجیب سی بحث چھڑ جاتی,عام طور پر محفلوں میں, فیس بک پر واٹساپ گروپوں میں بحث کے دوران  ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے ہوتے اور کبھی کبھی بات گالی گلوچ, ہاتھا پائی تک جا پہنچتی, حال ہی میں میری بھی ایک گاوں کے پڑھے لکھے دوست کے ساتھ میلاد منانے یا ناں منانے کے حوالے سے تھوڑی سی بحث و تکرار ہوئی, بڑی مشکل سے یقین دلایا کہ میں بھی پکا میلادی ہوں لیکن تم سے تھوڑا الگ ٹائپ کا,۔
دوستو ,کچھ دوست کہتے ہیں کہ میلاد منانا اسلام میں بدعت کے زمرے میں آتا ہے,میں ان سے بھی اتفاق نہیں کرتا, اور ضروری نہیں آپ مجھ سے بھی اتفاق کریں, دراصل میلاد ایک تبلیغی سرگرمی ہے اور تبلیغ کے لئے جو بھی طریقہ کار اختیار کیا جائے وہ جائز ہوتا ہے بدعت میں نہیں آتا, بدعت تو دین کے اندر اضافے کا نام ہے, جیسے فرائض,واجبات, نماز اور روزے میں اضافہ ہو ,رہا ثبوت کا مسلہ تو جناب دیگر فرقے بھی اپنی اپنی جگہ تبلیغی سرگرمیاں کرتے ہیں, کوئی سالانہ اہلحدیث اجتماع, کوئی تبلیغی اجتماع, کوئی تبلیغ کے چار ماہ لگاتا تو کوئی دس دن کے لئے جاتا, اسی طرح اگر کوئی مسجدوں میں محفل کر کے گھر میں درود شریف پڑھ کر اللہ اور اس کے حبیب کا زکر بلند کرتا ہے تو میرے خیال سے کوئی ممانعت نہیں,  باقی جو عاشق سال میں صرف ایک دن,  گاڑیوں میں لاوڈ سپیکر لگا کر جلوس اور جتھوں کی شکل میں گلیوں, راستوں کو بند کر کے آقا سےمحبت کا اظہار کرتے ہیں ان کے لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ بھائیو,  ‏گلی محلوں کو سجا کرمسجدوں کو ویران نہ چھوڑ دیا کرو, کیونکہ جن کا میلاد منانے کے لئے آپ جلوس نکالتے ہو ,لوگوں سے پیسے اکٹھے کر کے گلیاں ,محلے ,روڈ سجاتے ہو نماز کو انہوں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے۔
باقی ایک دکھ مجھے ہمیشہ ستائے رکھتا ہے بلکہ اندر ہی اندر کھائے بھی جاتا ہے ,میں ایک سوال کا جواب اپنے پنڈ کے امام قاری ثناء اللہ کی تقریروں سے لیکر ٹی وی پر مختلف علماء کی تقریروں تک دھونڈتا رہتا ہوں,  وہ یہ کہ جس ملک میں لاکھوں لوگ تبلغی اجتماعات میں جاتے ہوں. جہاں لاکھوں لوگ دعوت دین کے لیے سفر کرتے ہوں. جہاں سے لاکھوں لوگ بیت اللہ عمرہ اور حج کے لیے جاتے ہوں. میلاد النبی کے موقع پر ہر شہر میں جلوسوں میں لاکھوں لوگ شامل ہوتے ہوں, جس ملک میں ہر رات لاکھوں میلاد کی محفلیں,  قرآن خوانی, گیارویں شریف کے باقاعدہ ختم منعقد ہوں وہ ملک ایمانداری اور دیانتداری میں,  دنیا میں 160ویں نمبر پر کیوں ہے , ان عبادات اور ریاضتوں کا کیا فائدہ,  جس میں عبادت اور ریاضت کی بنیادی روح  ایمانداری پیدا نہیں ہورہی,,
ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں خود کو یا پھر اپنے خدا کو,,  شاد و آباد رہیں!اساں اُتوں شانت جاپدے، ساھڈے اندر لگی جنگ
سانوں چُپ چپیتا ویکھ کے ، پئے اکھن لوک ملنگ
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *