نمائیندگانِ لبرلزم اور عدم برداشت ۔۔۔ معاذ بن محمود

معاشرے میں افراد کا ایک eco system ہے جس میں شدت پسند، سخت سوچ یا قدامت پسند سوچ کے حامل افراد کا وجود بھی بہرحال موجود ضرور ہے۔ میرا قد آپ دوستوں کو مشورہ دینے کے لیے بہت چھوٹا ہے تاہم سب سے پہلے تو یہی کہنا ہے کہ ثابت قدم رہیے اور اپنی بات دلیل سے کہتے رہیے۔ 

لیکن اس سے ہٹ کر چند اہم باتیں اور بھی کرنی ہیں۔ اصول تو یہ ہے کہ آپ نظریے کو پڑھ کر اس کے بارے میں اپنی اور دوسروں کی ذہن سازی کریں۔ تاہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس طرح ڈیٹا لوگوں کے ہاتھوں میں آچکا ہے، جس قدر آسانی سے دستیاب ہے اور ایک ہی حقیقت جتنے مختلف انداز میں مل سکتی ہے اس کے فوائد کے ساتھ کئی نقصانات بھی ناگزیر ہوچکے ہیں۔ اس پہ ستم یہ کہ انسان کا ذہن باآسانی ناصرف خود سے bias کا شکار ہوسکتا ہے بلکہ ایسے حالات و ماحول تخلیق کرنا بھی انتہائی آسان ہوچکا ہے جس کی بدولت کئی stakeholders مصنوعی طریقے سے افراد کو جانبدار بناتے ہیں۔ عرف عام میں اس ہنر کو پروپیگنڈہ کا نام دیا جاتا ہے۔ 

آج دنیا بھر میں نظریات پڑھ کر رائے قائم کرنے کی بجائے افراد کو دیکھ کر ان کے نظریات کو جج کرنے کی پریکٹس عام ہے۔ چند پاکستانیوں کی وجہ سے بیرونی دنیا میں تمام پاکستانیوں پر دہشت گرد ہونے کا شبہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہر دوسرے دہشت گرد کے مسلمان ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں اسلام کے دہشتگرد مذہب ہونے کا تعین ہونے لگتا ہے۔ یہ ایک bias ضرور ہے مگر بہرحال ایک تلخ حقیقت بھی۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے مسلمانوں اور پاکستانیوں کو خصوصی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ کچھ خیال لبرلز کو بھی رکھنا چاہئے۔ زندہ رہنا سب کا حق ہے اور ماورائے عدالت قتل سب کے لیے ناانصافی تاوقتیکہ ریاستی عدلیہ کی جانب سے گرفتاری یا سزائے موت کا فیصلہ نہ ہو۔ بھلا زندہ رہنے کے حق سے بڑھ کر آزادی کا کیا پرچار ہوسکتا ہے؟

دیکھیے میرا ماننا ہے کہ ہر غلط کام کی کوئی نہ کوئی توجیہ ضرور ہوتی ہے۔ ٹھیک یا غلط اس کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے مگر ایک غلط عمل کے پیچھے کار فرما عوامل دیکھنے پڑیں گے۔ جیسے ہم عشق رسول کے نمائیندوں کی جانب سے گاڑیاں جلانے پر عاشقان رسول کے عشق پر سوال اٹھاتے ہیں ویسے ہی حال ہی میں مولانا سمیع الحق کی موت پر کئی لبرل دوست جس طرح خوشیاں مناتے نظر آئے میں اسے لبرلزم کے خلاف جذبات کی ایک دلیل سمجھتا ہوں۔ ماورائے عدالت قتل جس کا بھی ہو زیادتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے ماورائے عدالت قتل پر خوشیوں کا اظہار کیا گیا۔ جو لوگ سزائے موت کے یکسر خلاف ہیں ہم نے انہیں مولانا کی موت پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے دیکھا۔ 

میں نے شروعات افراد کے ایک eco system سے کی۔ جس معاشرے میں جذباتیت زیادہ ہو، سکول و کالج میں نصاب پاکستان کا مطلب کیا جیسے نعروں پر مبنی ہو، جہاں ایک عرصہ جہاد کی تفصیلات سمجھائے بغیر ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی گئی ہو اس معاشرے کے نارمز بدل چکے ہوتے ہیں۔ اسے ہمارے معیار پر آنے میں وقت لگے گا اور سب سے اہم بات یہ کہ اسے معتدل کرنے میں سب سے زیادہ محنت پہلے سے معتدل عناصر کو کرنی ہوں گی۔ ہم میں سے جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم اعتدال اپنا چکے ہیں یا کم از کم اپنی کوشش ضرور کرنے کی بات کرتے ہیں انہیں سب سے زیادہ برداشت دکھانی ہوگی۔

جناب والا، یہ بیمار معاشرہ ضرور ہے لیکن اسے واپس زندگی کی طرف لانے کے لیے ہمیں محنت کرنی ہوگی۔ اپنی برداشت بڑھانی ہوگی۔ ضدیوں کے ساتھ ضد کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں دیکھتا ہوں دس سال پہلے کی نسبت آج آپ کے ہم آوازوں میں اضافہ ہوا۔ مزید ہوگا۔ کچھ ہمیں اپنے اطوار بدلنے کی ضرورت ہے کچھ غلط فہمیاں اور مغالطے مٹانے کی۔ معاشرے کو عدم برداشت کا طعنہ دینے والوں کو اپنی برداشت کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اختلاف میں ضد کی لکیر پار کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حقیقی لبرلزم میں افکار اختیار کرنے کی بھی آزادی ہے۔ ایسے میں ایک آزاد منش فرد اگر مولوی بننے کا فیصلہ کرتا ہے تو مجھے اور آپ کو اس فیصلے کی تعظیم کرنی ہوگی۔  اگر یہ فرد آگے جاکر میرے اور آپ کے حقوق اپنے نظریے کی تعلیمات “لکم دینکم ولی دین” سے متصادم ہوکر غصب کرتا ہے تو ہمیں through proper channel اس کا سدباب کرنا ہوگا ناکہ ایسا کرنے والے سے نفرت اور ضد کا اظہار۔ ضد اور نفرت کبھی بھلائی کا باعث نہیں بنتے۔ اس فصل سے فقط مزید ضد اور مزید نفرت بڑھ سکتی ہے۔ 

برداشت اور tolerance کا فقدان معاشرے کے کسی ایک طبقے کا خاصہ نہیں۔ یہ خاصیات سبھی کو اپنانی پڑیں گی۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *