• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلمان خود بھی خوار ہورہے ہیں اور دنیا کو بھی پریشان کررہے ہیں۔۔۔اسد مفتی

مسلمان خود بھی خوار ہورہے ہیں اور دنیا کو بھی پریشان کررہے ہیں۔۔۔اسد مفتی

فرانس میں حجاب یا جلباب یا برقع یا جو بھی کہہ لیں پر پابندی کا قانون نافذ کردیا گیا ہے۔اس کیساتھ ہی پیرس میں اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لگ بھگ 80ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ قانون پر عمل درآمد کے پہلے روز 2برقع پوش خواتین کو گرفتار کرکے ان پر جرمانہ کیا گیا ہے تاہم فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو برقع پہننے کے جرم میں نہیں بلکہ مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت عوامی مقامات،اسکولوں کالجوں،دفتروں اور عدالتوں میں چہرہ چھپانے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ایسا کرنے والے کسی بھی شخص عورت یا مرد کو پولیس اسٹیشن لے جاکر نقاب اتارنے کو کہا جائے گا،حکم عدولی پر ڈیڑھ  ہزار پورو جرمانہ کیاجائے گا،اور ایسے افراد جو خواتین کو چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کریں گے انہیں تیس ہزار یورو جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔اس خبر کے ساتھ ہی گریٹر مانچسٹر کے علاقے بری سے خبر آئی ہے کہ برقع پہنے ایک شخص نے جیولری کی دکان لوٹ لی،جبکہ برقع کے نیچے اس نے شاٹ گن بھی چھپائی ہوئی تھی،گریٹر مانچسٹر میں مسلم کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے،اور خواتین میں روائتی برقع کا رواج عام ہورہا ہے، فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے کہاہے کہ خواتین کے حقوق کے دفاع اور مخصوص طریقہ کار کے خاتمے کے لیے بل کی منظوری دے دی گئی ہے اور قانون نافذ کردیا گیاہے ادھر فرانس کے ہمسایہ ملک بیلجیم کی حکومت نے برقع پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے،

برسلز کے مئیر کونسلر نے احتجاجی پروگرام کیخلاف اقدام اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے برسلز کے مکینوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہوگا اور ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوں گے۔
یہاں میں یہ بات بھی بتانا چاہوں گا کہ بیلجیم کی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت نے مسلم خواتین کی طرف برقع پہننے کی پابندی کی حمایت کردی ہے،اس لیے پابندی کا قانون اب بیلجیم میں بھی نافذ ہونے جارہاہے، اس سے پہلے یہ   خبر آ چکی ہے کہ بیلجیم کے شمال میں ایک ٹاؤن نے مسلمان خواتین کو جرمانہ کرنا شروع کردیا ہے۔جو عوامی مقامات میں روائتی برقع اوڑھتی ہیں۔اب  تک  پانچ خواتین کو ایک سو یورو جرمانہ کیا گیا ہے،اس برقع کو مقامی مئیر نے “تقسیم کرنے والا اور جبر کی علامت”قرار دیا ہے۔اس ٹاؤن میں مسلمانوں کی آبادی لگ بھگ سات سو ہے،ماسک ملک نامی اس ٹاؤن میں مراکشی خاتون جرمانے کا پہلا نشانہ بنی۔
ٹاؤن کونسل   حکام کا کہنا ہے کہ یہ لباس (برقع) کمیونٹیز کو تقسیم کرتا ہے،اور منافرت پر اکساتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں عورتیں جن کو جرمانہ کیا گیا ہے کوئی کام  نہیں کرتیں،اور سوشل سکیورٹی،مراعات اور بینیفٹ لیتی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ہونے والا جرمانہ بھی حکومت ہی کو بھرنا پڑے گا،اس لیے یہ خواتین حکومت اور قوانین کو برا بھلا کہنے کی بجائے جرمانہ بھرنے کو ہر دم تیار ہیں۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے یورپ ہی کے ملک اٹلی کے شمالی شہر نوارا میں ایک بازار میں مکمل برقع میں ملبوس خرید و فروخت کرنے والی ایک خاتون (ظاہر ہے مسلم) کو اطالوی پولیس نے جرمانہ کردیا۔ یہ اٹلی میں اپنی نوعیت کا غالباً پہلا واقعہ ہے۔پولیس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ میونسپل پولیس نے تیونس کی ایک خاتون کو 500یورو جرمانہ کیا ہے۔
ادھر میرے ہمسائے جرمنی میں اکثریت اور اقلیت (مسلم) کے درمیان عوامی بحث چھڑی ہوئی ہے۔جرمنی کی اس عوامی بحث میں تارکین وطن کے موضوعات شامل ہیں،لیکن سب سے اہم موضوع جس پر اکثر لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچ جاتی ہے یہ ہے کہ مقامی افراد تارکین وطن پر الزام عائد کرتے ہیں (یہ ایک المیہ ہے لیکن حقیقت بھی یہی ہے)کہ وہ جرمنی معاشرے میں ضم یا گھل مل کر رہنا چاہتے ہیں۔

یہ تو تھیں یورپی ممالک میں پابندیوں اور پیچیدگیوں کے معاملات جو کہ مذہبی نہیں سیاسی ہیں۔
اب ذرا یورپ سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا کو دیکھتے ہیں۔آسٹریلیا کے ایک اپوزیشن سینٹ کے رکن کو ری برنلرڈی نے برقع کو آسٹریلیا کے مزاج اور کلچر کے خلا ف قرار دیا ہے۔کوری برنارڈ ی نے برقع کو غیر مہذب گردانتے ہوئے اسے  عورت پر مرد کے ظلم کی نشانی بتایا ہے۔اس نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ جب موٹر سائیکل سوار اپنی شناخت کروانے کے لیے اپنا ہیلمٹ ہٹاتے ہیں لیکن ایک برقع پوش یا نقاب پوش خاتون مذہبی اصولوں کے تحت نقاب ہٹانے سے انکار کرتی ہے کہ مسلم عورت کو ایسا کرنے سے اسلام روکتا ہے،اور وہ اس لئے کہ اسے مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے،کوری نے مضمون میں لکھا ہے کہ اگر میں سرتاپا خیمہ نما لباس میں آجاؤں تو مجھے کوئی پہچان نہیں سکے گا۔ کوری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا میں برقع پر مکمل پابندی عائد کردینا چاہیے۔ اور آسٹریلیا میں آباد مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ آسٹریلیا کی اقدار اپنائیں ۔

میرے حساب سے آج مسلم معاشرے میں جو پیچیدگیاں اور برائیاں در آئی ہیں بدقسمتی سے ان  پر کم توجہ دی گئی ہے،ان میں ایک پردہ،حجاب،جلباب یا برقع کامسئلہ بھی ہے۔

اس موضوعِ بحث بنے ہوئے مسئلے کو پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف ٹھہرا بہت کم اہل علم ہیں جنہوں نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے،کسی چیز کا جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہوجانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں کام فتویٰ سے نہیں چلتا،ضرورت ہے مشکلات کا حل تلاش کرنے کی،مشکلات کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل کرنا دشوار ہوجاتا ہے،اس وقت ایسی راہ تلاش کرنی پڑتی ہے کہ ا س حکم کا پورا پورا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جاسکے اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے اس کو پُر کیا جاسکے۔ایک بنیادی سوال جس نے میرے ذہن میں سراٹھایا ہے یہ ہے کہ پردے کی غرض و غایت کیا ہے؟۔۔
اس پر میں بھی سوچتا ہوں،آپ بھی سوچیے!
خود تو بیٹھے ہیں  کاغذ  کی ناؤ پر
تہمت لگا رہے ہیں ہوا کے دباؤ پر!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *