• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بلاسفمی قانون، کیا کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دیا جاسکتا ہے؟۔۔۔۔۔نعیم احمد باجوہ

بلاسفمی قانون، کیا کسی کو بھی کافر یا مرتد قرار دیا جاسکتا ہے؟۔۔۔۔۔نعیم احمد باجوہ

سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف ریاست ’’تحریکِ لبیک یا رسول اللہ!‘‘ کے ساتھ راضی نامہ کرتی ہے اور دوسری طرف انہی مذکورہ راضی ناموں  کی شقوں کی مخالفت پر بھی اتر آتی ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ حکومت راضی نامہ پر مجبور ہوتی ہے؟ جس دن سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کی بریت کا فیصلہ قرآنی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کیا، اسی دن سے مذکورہ تحریک نے ملک کے تمام صوبوں میں احتجاجی مظاہرے شروع کیے۔ چوکوں، بازاروں اورموٹر ویز کو بند کیا۔ اسی روز وزیر اعظم کا بیان آیا اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بات کی گئی۔ دوسرے دن احتجاج مزید زور پکڑتا ہے اور تقریباً تمام پاکستان میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں جب کہ وزیر اعظم چین یاترا پر چلے جاتے ہیں۔ شائدچین کا دورہ حکومت کی مجبوری تھا۔

Pakistani Religious leaders hold banners and chant slogans during a protest against Pope Benedict XVI’s recent statements about Pakistan’s blasphemy laws in Lahore, Pakistan, Wednesday, Jan. 12, 2011. Pope Benedict XVI urged Pakistan to reverse its blasphemy laws, saying Monday they were a pretext for violence against non-Muslims, and demanded that all governments do more so Christians can practice their faith without fear. (AP Photo/K.M. Chaudary)


پارلیمنٹ میں بحث ہوتی ہے۔ حکومت مذکورہ تحریک سے مذاکرات پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین کے ساتھ مسئلہ پر گفت و شنید ہوتی ہے اور ان کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اسی روز احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے پانچ دور کیے جاتے ہیں۔ احتجاج کے دوران میں عدالتِ عالیہ اور فوج پر ہرزہ سرائی کی جاتی ہے۔گالی گلوچ کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور فوج کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں۔ عوامی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ بہرحال حکومت اسی روز مذہبی شدت پسندوں کو روکتی دکھائی دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی اپیل دائر کردی جاتی ہے۔ یوں راضی نامہ مذکورہ اور نظرِ ثانی اپیل میں آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی۔آخری متضاداطلاعات آنے تک آسیہ مسیح بیرونِ ملک چلی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے آسیہ مسیح کے ملک باہر جانے کے بیان کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ محفوظ مقام پر موجود ہے۔ آسیہ مسیح کا یہاں رُکنا میں سمجھتا ہوں، خدا نہ کرے کسی انہونی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ گورنر سلمان تاثیر والی بات ابھی کل ہی کا واقعہ لگتی ہے۔کس طرح ان کو اپنے گن مین کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
قارئین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے دلوں میں رچی بسی ہے۔ ان سے محبت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے، بلکہ ان کی محبت کے بغیر کوئی شخص مسلمانی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اب اگر کوئی مسلمان جو کہ اسلام کو اپنا دین مانتا ہو اور اس آڑ میں دینِ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشارے کنائے، تحریری اور یا زبانی طور پر بے حرمتی یا توہین رسالت کرتا ہو، تو کسی عام فرد کے کمپلینٹ پر عدالت ہی اس کوC-295 تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا دینے کی مجاز ہے۔ کوئی عا م فرد اگر بغیر ثبوت اور شواہدکے اور یا ثبوت اور شواہد کے ساتھ کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا سوچتا ہے، تووہ فرد یا افراد قانونی طور پر مجرم بن جاتے ہیں۔ کسی ایسے شخص یا اشخاص کی مذکورہ توہین آمیزی کے خلاف عدالتی کارروائی کرنا عین قانونی امر ہے۔ نیز اگر کوئی غیر دین توہین کا مرتکب ہو، تو بھی اس کو صرف عدالت ہی کے ذریعے سزا دلوائی جاسکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص توہینِ رسالت کا مرتکب ہو، تو اس کو کس طرح قانونی طریقے سے سزا دی جا سکتی ہے؟اگرعام افراد اس کو سزا دینے پر اتر آئیں، تو شائد دشمنی نکالنے کے لیے کوئی بھی شخص زندہ نہ رہے اور شائد ہی کوئی اس الزام سے بری الذمہ ہو۔ کیوں کہ تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر گردانتے ہیں۔ ایک دوسرے کی روایات کو من گھڑت تصور کرتے ہیں۔ ان کی عبادات میں بھی کافی فرق ہے۔ متحارب فرقے بھی ایک دوسرے پر توہین کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ ہاں، یہ الگ بات ہے اگر ان فرقوں کا کسی چیز پر اتفاق ہے، تو وہ صرف قرآنِ پاک کی کتاب ہے۔ اس لیے قرآنِ پاک کے ذریعے سے ان تمام مسئلوں اور فرقوں میں اتفاق رائے بنایا جاسکتا ہے۔

قارئین، اب حل کیا ہوسکتا ہے؟ کیا بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی مصائب کو حل کرنے کے لیے مکالمہ کو فروغ دیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے اور اس کا معیار صرف فطری انصاف، عقلی اور سائنسی توجیح پر ہے۔ نظریاتی و فکری اعتبار سے مکالمہ کے ذریعے ہی کسی کو کسی نظریہ کی طرف راغب یا اس کا مخالف کیا جاسکتا ہے۔ آپ دھونس، دباؤ اور زبردستی کرکے وقتی طور پر اپنی بات منوا سکتے ہیں، لیکن کسی کے ذہن و دل میں کوئی جگہ نہیں بناسکتے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دین اور خدا کو برا بلا کہیں گے، تو لا محالہ وہ آپ کے اچھے دین اور خدا کو برا بلا کہے گا۔ دوسری طرف اگر آپ کسی کو کافر اور جہنمی کہیں گے، تو اس کے دین اور مذہب کے حساب سے آپ کافر اور ملحد قرار پاسکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی اور مذہبی امور، ثواب اور گناہ میں اتھارٹی اور سزا اور جزا کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کی ذات تک محدودہو۔ وہی کسی نیک یا برے کام کا اجر یا سزا دینے کا سزاوار ہے ۔باقی رہا ہمارا دین تو بھائی ہمارادین ہم کو استقامت، برداشت،معافی اور صبر کا درس دیتا ہے اسلئے انسان ہونے کے ناطے انسانیت کا درس دینا سیکھ لیا جائے اور دوسروں کے نظریوں کا احترام کرنا پیش نظر ہو۔ بھلے ہی آپ کسی سے متفق ہوںیا نہ ہوں۔

دراصل مذہبی شدت پسندی، جنونیت اور رجعت پسندی ایک ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کا نام ہے۔ ذکر شدہ مذہبی انتہا پسندی اسّی کی دہائی میں جہادی بیانیہ کے ذریعے عوام کے ذہن میں انڈیلی گئی۔ انہی لوگوں کو امریکہ کے اتحادی کے طور پر اور روس کے خلاف جنگ پر ریڈیو، ٹی وی اور اشتہارات کے ذریعے اُکسایا گیا۔   اِسی ذہنیت کا اثر ہے کہ عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں کس بے مثال بے شرمی سے مشال کو بلاسفیمی اور توہینِ رسالت کیس میں قتل کیا جاتا ہے۔ بس کسی پر بھی توہینِ رسالت کا لیبل چسپاں کرو اور بعد میں اُسے مار دو۔ کیا یہی انسانیت ہے؟ ایک تعلیمی یونیورسٹی میں اس طرح کے واقعات کا ہونا ایک فکری المیہ ہے۔ اس طرح کے واقعات دوسرے جامعات میں بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اس ذہنیت کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں۔ مثال کے طور پر جہادی بیانیہ مرتب کرتے وقت جہادیوں کو پیسوں اور مذہب کی خاطر امریکہ اور روس کی جنگ میں جھونک دیا گیا۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی صورت میں امریکہ کا دبے پاؤں افغانستان سے نکل جانا اس صورتحال کو مزید بے قابو کرنے کا ذمہ دار ہے۔ افغانستان میں طالبان کی گورنمنٹ سعودی، پاکستان اور امریکہ کی تائید سے بنانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہوجانا اور مذکورہ واقعے کے بعد امریکہ بہادر کاافغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرنا، اس کے ساتھ ساتھ عراق، لیبیا اور شام پر حملہ کرنا اور بعد کے واقعات میں دوبارہ طالبان کا ابھرنا اور افغانستا ن کی جنگ میں شرکت اسی ذہنیت کی غماز تھی۔ اُس وقت پاکستان کی ’’طالبان گورنمنٹ‘‘ کی کھلی حمایت سے بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس سارے عرصے میں امریکہ بہادر کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے پاکستان میں اسّی ہزار افراد کو شہید کیا گیا۔ انفراسٹرکچر، معیشت، انڈسٹری الغرض سب کچھ تباہ و برباد کر دیا گیا اور امریکہ بہادر کی ’’ڈو مور‘‘ کی رٹ تاحال جاری ہے۔ ان سب واقعات کے بعد ہماری ریاست کی اس مخصوص’’مائنڈ سیٹ‘‘ سے نمٹنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ذیل میں میری کچھ گذارشات ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے، تو شائد اس عفریت پر قابو پالیا جائے۔

1:۔ حکومت تمام مذہبی گروہوں یعنی فرقوں کے لیے متفقہ طور پر یکساں لائحہ عمل تیار کرے۔ اقلیتوں کی جان و مال اور دیگر مذہبی اور سماجی حقوق کو تحفظ دیا جائے ۔

2:۔ قرآن کے علاوہ تمام فرقوں کی کتب اور روایات کا جائزہ لیا جائے۔ قرآن سے متصادم تمام مواد نکال لیا جائے۔ تشدد کا حق، ریاست کو آئین اور قانون دیتا ہے، اس لیے جو بھی شخص یا اشخاص ریاست یا کسی فرد اور یاکسی ادارے کے خلاف اسلحہ اٹھائے، اور بعد از قانونی چارہ جوئی بغاوت کا مرتکب ٹھہر جائے، تو اس کو جیل میں ڈالنا از حد ضروری ہے۔

3:۔ قرآن کی آیتوں کی تشریح اور توضیح کے لیے ایک سنٹرل اتھارٹی مقرر کی جائے، جس کا مقصد یہ ہو کہ مذکورہ اتھارٹی اس کی تشریح و توضیح کی ذمہ دارہوگی۔ نیز ان کے لیے اصول اور قانون کی پابندی رکھی جائے۔ تمام مسلکی اختلافات، مناظروں اور مذہبی دھرنوں وغیرہ پر پابندی لگادی جائے۔

4:۔ بین المذاہبی ہم آہنگی کے ادارے کو فعال کیا جائے اور تمام اقلیتوں کواس میں نمائندگی و تحفظ دیا جائے۔ نیز اقلیتوں کو سرکاری اداروں میں نوکریوں کے یکساں مواقع دیے جائیں۔

5:۔ قرآن کو مسلمانوں کا دستور مانا جائے۔

6:۔ کسی غیر ملکی حملے پر جہاد صرف ملکی افواج کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ اس لیے غیر ضروری طور پر جہاد کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے ساتھ قانونی طور پر نمٹا جائے۔

7:۔ تعلیمی نصاب سے فرقہ وارانہ تعصبات کو نکال باہر کرنا چاہیے۔ ضروری اسباق کو چھوڑ کر غیر ضروری اسباق کو نصاب وغیرہ سے نکالنا اہم ہے۔ ریاست کی معتدل تشریحات کے علاوہ بقایا تمام تشریحات کو غیر قانونی قرار دیا جائے یا کم از کم ان پر روک ڈالناچاہیے۔

8:۔ ہر فرد کو جو قانونی اور آئینی مذہبی آزادی میسر ہے، اس کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

9:۔ توہینِ رسالت کے قانون میں تبدیلی وقت کا ضروری تقاضا ہے۔ نیز جو کوئی توہین کا مرتکب ہو، ان کو قانونی طور پر سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔ اس لیے ’’از خود‘‘ طور پر سزا و جزادینے والوں کے لیے قانون کے اندر رہتے ہوئے راہنمائی اور سزا کا تعین کرنااز حد ضروری ہے۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *