فکاہی کالم اور مستشرقین۔۔۔نذر حافی

کالمز میں حوالہ نہیں دیا جاتا، چونکہ کالم، کالم نگار کے ذاتی مشاہدے، کسی سے ملاقات یا تحقیق و تجربے کا خلاصہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کو فکاہی کالم میں ڈھالنا خود ایک صبر آزما اور تکلیف دہ مرحلہ ہے، خصوصاً جب ایک لکھاری کو اپنی ہی تحقیق کو خلاصہ کرکے کئی مرتبہ کاٹنا اور تبدیل کرنا پڑے۔ کالم نگار کے پیشِ نظر عوام کو کچھ شواہد کے ساتھ کسی اہم مسئلے کی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ کالم نگاری اور علمی تحقیق میں کوئی بھی حرف، حرفِ آخر نہیں ہوتا بلکہ ہر کالم اور تحقیق کے بعد تحقیق و تحریر کے لئے نئے آفاق اور زاویئے اجاگر ہو جاتے ہیں۔ ان نئے آفاق پر تحقیق کرنا یا کسی نظریئے کو تحقیقی اصولوں پر پرکھنا صاحبانِ علم کی مسلمہ روش ہے اور جہانِ علم میں آج ہم جتنی بھی ترقی دیکھتے ہیں، وہ اسی روش کے باعث وجود میں آئی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ بہت سارے کالم نگار اپنی مصروفیات کی بنا پر روزانہ کالم نہیں لکھتے بلکہ معین یا خاص دنوں میں لکھتے ہیں، اگر کسی کالم میں نظریئے کی بات کی جائے تو پھر قارئین کی سہولت کے لئے کالم میں ساتھ حوالہ بھی دے دیا جاتا ہے، چونکہ نظریئے کا تعلق مکتب اور سکول آف تھاٹ سے ہوتا ہے۔

اپنے گذشتہ کالم میں ہم نے اپنے قارئین کو مستشرقین کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی اور ہم نے محسوس کیا تھا کہ مستشرقین سے متعلق ابحاث کو کسی طرح عوامی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیئے۔ اس کے لئے ہم نے مستشرقین کی جدید تعریف بھی بیان کی تھی۔ آج ہم یہاں سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں کہ تعریف کا تعلق مکتب (School of Thought) سے ہوتا ہے اور راقم الحروف چونکہ حوزہ علمیہ قم کے مکتب سے وابستہ ہے۔ چنانچہ ہم نے حوزہ علمیہ قم کے محقیقین کی پیش کردہ جدید تعریف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جدید تعریف کے مطابق مستشرق کے لئے مغربی ہونے کی قید اٹھا دی گئی ہے اور ہر وہ غیر مسلم جو اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے، اسے مستشرق کہتے ہیں۔ اس کے حوالے کے طور پر ڈاکٹر محمد حسن زمانی کی شرق شناسی و اسلام شناسی غربیان نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ حوالے میں بطور نمونہ ایک آدھ کتاب کا ہی ذکر کیا جاتا ہے اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب حوزہ علمیہ قم کے نصاب میں بھی شامل ہے اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو یہ پڑھائی جاتی ہے۔

اگر کوئی اس تعریف سے اختلاف رکھتا ہے تو اسے اختلاف رکھنے کا پورا حق حاصل ہے، وہ بھی اپنی تحقیق لکھ کر اپنے مکتب کا تعارف کروا کر کہہ سکتا ہے کہ ہمارے مکتب میں مستشرقین کی جدید تعریف یہ نہیں بلکہ یہ ہے اور منبع کے طور پر یہ فلاں محقق کی تازہ ترین کتاب ہے، جو ہمارے مکتب میں آج کل پڑھائی جا رہی ہے۔ مستشرقین کی جدید تعریف کے بعد ہم نے اپنے قارئین کی مستشرقین کی اقسام کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ مجموعی طور پر تین طرح کے مستشرقین ہیں:
1۔ عیسائی مبلغین
2۔ مختلف حکومتوں کے جاسوس
3۔ سچائی کی کھوج لگانے والے
مختلف حکومتوں کے جاسوس مستشرقین کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ ان کا کام مسلمانوں کے اہم مقامات، معدنی ذخائر، جنگی نظریات و طریقہ کار، باہمی روابط نیز مختلف اسلامی فرقوں کے اختلافات کو ڈھونڈنا ان کی معلومات کو قلمبند کرنا اور کسی مسلمان ملک سے جنگ ہونے کی صورت میں درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی حکومتوں کی بروقت رہنمائی کرنا ہے۔

آج ہم اس مسئلے پر بات کو یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ مثال کے طور پر ایک سکول میں ایک بچہ بہت جھگڑالو ہو اور سکول میں ہر روز گالی گلوچ کرتا ہو، حد سے زیادہ چڑچڑا ہو، جس پر بعض استاد یہ کہیں کہ یہ بچہ اس لئے گالیاں دیتا اور لڑتا ہے کہ دوسرے بچے بھی اسے تنگ کرتے ہیں، یہ ایک عامیانہ سوچ اور سطحی نظر ہے، لیکن اگر کوئی استاد اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس بچے کو کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جائے اور ماہر نفسیات اس کے بارے میں ساری معلومات لینے کے بعد یہ کہے کہ اصلی مسئلہ اس بچے کا نہیں ہے بلکہ اس ماحول اور گھر کا ہے جس میں یہ رہتا ہے، لہذا اس کے ماں باپ کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس پر اگر کوئی شخص ڈاکٹر سے یہ کہے کہ کیا آپ اس کے ماں باپ کا نام بتا سکتے ہیں؟ ہم اس کے ماں باپ کو جانتے ہیں، وہ بڑے اچھے لوگ ہیں تو اس کے بعد ڈاکٹر کے پاس مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

اسی طرح مسلمانوں کے درمیان تنازعات، لڑائی جھگڑوں، تکفیری گروہوں اور شدت پسند ٹولوں کی تشکیل کے بارے میں بھی دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک عامیانہ اور سطحی رائے ہے کہ جس کے مطابق چونکہ ایک فرقے کے لوگ گالیاں دیتے تھے، دوسروں کے مقدسات کی توہین کرتے تھے، لہذا دوسرے نے بھی جوابی کارروائی شروع کی، جس سے شدت پسندی اور تکفیریت نے جنم لیا، جبکہ اس کے مقابلے میں ایک دوسری رائے پائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس شدت پسندی اور تکفیریت کا تعلق امریکہ و برطانیہ سمیت پاکستان و اسلام دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے پایا جاتا ہے۔ ان خفیہ ایجنسیوں میں وہ خواہ سی آئی اے، موساد، را، ایم آئی سکس اور ایم آئی فائیو وغیرہ میں سے جو بھی ہو، ان میں مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوانے نیز مسلمانوں کو غیر مسلمانوں سے لڑوانے اور مسلمانوں میں شدت پسندی کو فروغ دینے کے لئے مخصوص شعبے اور ماہرین موجود ہیں اور جو ہماری تعریف کے مطابق مستشرقین میں آتے ہیں اور مختلف ممالک میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کو ہوا دینے کے لئے یہ ادارے سرگرم رہتے ہیں۔ اللہ یاری اور یاسر الحبیب جیسے مولویوں نیز غالی ذاکروں کے دشمنوں کی خفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار ہونے میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے۔

خفیہ ایجنسیوں میں مسلمانوں کے بارے میں اطلاعات کی جمع آوری اور تحقیقات کے لئے مختلف ونگز کے موجود ہونے پر یقین کرنے کے لئے متعدد کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں، جن میں سے ایک بہترین کتاب احمد ساجدی کی لکھی ہوئی “سازمانھای جاسوسی دنیا” ہے۔ ہم لارنس آف عربیہ اور ھمفرے کی بات نہیں کرتے بلکہ “جان فیلبی” (John Fillby) جو کہ اپنے دور کا معروف مستشرق تھا، اسی کے بارے میں مطالعہ کرکے دیکھ لیں کہ اس نے کس طرح سے سعودی عرب کو امریکہ کے چنگل میں پھنسایا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں ایک سطحی اور عامیانہ سوچ یہ ہے کہ ایران کے خوف کی وجہ سے امریکہ اور سعودی عرب آپس میں متحد ہیں، جبکہ ان تعلقات کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ 1930ء میں امریکہ نے جان فیلبی کو خریدا۔

جان فیلبی اس سے پہلے برطانیہ کے لئے کام کرتا تھا، یہ کئی کتابوں کا مصنف اور ایک نامور محقق تھا، اس نے ابتدائی طور پر تیل نکالنے والی ایک امریکی کمپنی میں مشاور کی حیثیت سے کام شروع کیا اور خاندان سعود سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تیل نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ منظور کروایا، جس سے برطانیہ کی بالادستی کو دھچکا لگا اور خطّے میں امریکی استعمار کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہ شخص تقریباً 35 سال تک سعودی عرب میں ابن سعود کا مشیر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب دونوں اپنے تعلقات کے سلسلے میں جان فیلبی کی خدمات کے معترف ہیں، امریکہ و سعودی عرب کے تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کی پیداوار نہیں بلکہ یہ جان فیلبی کے زمانے سے چلتے آرہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان وغیرہ کے بارے میں ایک سطحی نگاہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مسالک کو نافذ کرنے کے لئے ہتھیار اٹھا لئے، جبکہ اس کا تاریخی پسِ منظر یہ ہے کہ 1979ی میں ایک طرف سے روسی استعمار افغانستان میں داخل ہوچکا تھا اور دوسری طرف ایران میں امریکہ مخالف انقلاب کامیاب ہوگیا تھا۔ ان دونوں خطرات سے نمٹنے کے لئے سی آئے اے نے ایک طرف سپاہ صحابہ جیسے گروہوں اور دوسری طرف طالبان جیسے لشکروں کی بنیاد ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ سپاہ صحابہ نے صرف شیعوں کو قتل نہیں کیا بلکہ پاکستان میں متعدد ایرانیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ سپاہِ صحابہ کو پاکستان میں ایران کا راستہ روکنے کا ہدف دیا گیا تھا اور طالبان کو افغانستان سے روس کو نکالنے کا۔ بعد میں جتنے بھی دہشت گرد گروپ بنے، وہ انہی کے کیمپوں کی پیداوار ہیں۔

سی آئی اے کے وہ ماہرین جنہوں نے اس سلسلے میں کام کیا اور پاکستان کی ایجنسیوں کو بھی اپنے اہداف کے حصول کے لئے اعتماد میں لیا، ہماری کی گئی تعریف کے مطابق وہ بھی مستشرقین میں آتے ہیں۔ ان مستشرقین کی مختصر جھلک ان چند سطور میں دیکھی جا سکتی ہے:
Assuming the presidency in 1978, Zia played a major role in the Soviet–Afghan War. Backed by the United States and Saudi Arabia, Zia systematically coordinated the Afghan mujahideen against the Soviet occupation throughout the ۱۹۸۰
) Wynbrandt, James (2009). A Brief History of Pakistan. Facts on File. p. 216. In his first speech to the nation, Zia pledged the government would work to create a true Islamic society.(
اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ سپاہ صحابہ اور طالبان کے بنانے میں سی آئی اے کے کارندوں یعنی مستشرقین کا کوئی کردار نہیں رہا تو وہ اپنے مکتب، اپنی اطلاعات اور معلومات کے مطابق یہ کہنے میں آزاد ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں، بلکہ اس کے لئے میدان کھلا ہے کہ وہ اپنے مبانی اور منابع کے ساتھ اس سلسلے میں اپنی تحقیق پیش کرے اور ہماری معلومات میں اضافہ کرے۔

اسکے بعد ہندوستان میں چلتے ہیں، مثال کے طور پر ہندوستان میں بابری مسجد کے مسئلے کو لیجئے، اس پر سطحی اور عامیانہ نگاہ یہ ہے کہ یہ پہلے ہندووں کا مندر تھا، جسے مسلمانوں نے مسجد بنا دیا اور اب ہندو دوبارہ اسے مندر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس پر تحقیقی نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس مسئلے کا آغاز ایچ او نوبل نامی مستشرق کی اس تحریر سے ہوا، جو اس نے 1885ء میں لکھی کہ بابری مسجد پہلے ہندوں کا بت خانہ یعنی ایک مندر تھا۔ اسی سال ہندووں نے اس مسئلے کو اٹھایا اور ہندووں نے پہلی مرتبہ یہ دعویٰ کیا کہ اس مسجد کے باہر رام کی جنم بھومی یعنی پیدائش کی جگہ ہے۔ اسی سال فسادات شروع ہوئے اور 75 مسلمان شہید ہوئے۔ یہ سلسلہ عدالتوں اور جھگڑوں کی صورت میں چلتا رہا اور 1949ء میں اس مسجد کو بند کروا دیا گیا اور چالیس سال تک یہ مسجد متنازعہ رہی اور اس تنازعے میں ہزاروں انسان مارے گئے۔(استفادہ از شناخت استعمار از مصطفیٰ اسکندری ص۹۷ و چند منابع دیگر)

اب اگر کوئی کہے کہ 1992ء میں اس مسجد کو منہدم کرنے والے ہندووں کو کس مستشرق نے پڑھایا تھا تو ظاہر ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا، چونکہ اس کے لئے اس کی تاریخ میں جھانکنا ہوگا کہ یہ مسئلہ شروع کہاں سے ہوا تھا۔ آخر میں اس مرتبہ کالم کے طولانی اور کسی حد تک کتابی ہو جانے پر پیشگی معذرت چاہتا ہوں اور ایک مرتبہ پھر یہ یاد دہانی کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کالم نگاری اور علمی تحقیق میں کوئی بھی حرف، حرفِ آخر نہیں ہوتا بلکہ ہر کالم اور تحقیق کے بعد تحقیق و تحریر کے لئے نئے آفاق اور زاویئے اجاگر ہوجاتے ہیں۔ ہم نے ایک فکاہی کالم سے اس موضوع کا آغاز کیا ہے، اگر دیگر احباب اس کے باقی رہ جانے والے گوشوں اور دیگر زاویوں پر روشنی ڈالیں تو اس سے ہمیں نہ صرف خوشی ہوگی بلکہ یہ امر خود معاشرے میں علمی رشد اور ارتقا کا باعث بھی بنے گا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *