اور میں فلاح پاگیا.۔۔۔۔۔خرم مشتاق/ قسط دوئم

انہی  دنوں میں شکار کا شوق چرایا. ملکوال کے نواح میں ایک درختوں کا معقول ذخیرہ ہے جسے محکمہ جنگلات نے اپنی کارکردگی اور پوسٹ بحال رکھنے کیلئے ڈفر جنگل کا نام دے رکھا ہے. ڈفر کو جسے چھانگا مانگا سے وہی نسبت ہے جو یروشلم کو مکہ سے (یعنی قبلہ اول سے قبلہ دوم سیاسی ) .مرد مومن مرد حق ضیاءالحق کے عہد خلافت میں یہاں ویسی ہی منڈی مویشیاں برپا ہوئی تھی جیسی چھانگا مانگا سے منسوب ہے. جب پاکستان مشرف بہ لبرل ازم ہوا تو ق لیگ کی تشکیل و تکمیل کے عظیم منصوبہ کی داغ بیل یہیں اسی ریسٹ ہاوس میں رکھی گئی. ڈفر جنگل کے دوسرے کنارے پاک فوج کا ریماونٹ ڈپو ہے. ویسے تو پاک فوج کے ذوق کی داد دینا بنتی ہے کہ پورے پاکستان میں کوئی بھی قابل ذکر یا قابل استعمال جگہ ہو وہ اسے اپنے مبارک قدموں سے محروم نہیں رکھتے. یہاں خچروں اور گھوڑوں کی افزائش اور تربیت ہوتی ہے تاکہ مشکل علاقو ں  اور جنگوں میں کام آسکیں ان کو آفیسرز کی معیت اور کمانڈ میں رہنے کی تربیت دینے کے لئیے افسروں کو ان کے ساتھ رہنے کا اعزاز بخشا جاتا ہے. یہ ایک فقرہ معترضہ تھا.

ریسٹ ہاوس میں پچیس کے قریب ہندووں کے فیملیز آباد ہیں جو تقسیم کے وقت یہیں رہ گئے . وہ جنگل میں مزدوری کرتے ہیں اور کچھ گائے وغیرہ پال رکھی ہیں. میرا ایک ہندو دوست جو ماہر شکاری اور مشہور نشانہ باز اور ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہے, تین دفعہ ممبر ضلع کونسل بھی بنا اس کا نام پھول چند ہے جسے وہاں عرف عام میں پھلا کھتری پکارا جاتا ہے.

پھول چند کے ساتھ شکار کرتا اس کے گھر سے کھاتا جس کی اطلاع ملنے پر میرے گھر والوں نے میرے بھانڈے برتن علیحدہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیں پر میں باز نہ آیا. وہیں سے مجھے رامائن , بھگوت گیتا اور مہا بھارت ہتھے لگیں. یہ سب اردو میں تھیں اور میں ان کا مطالعہ کرنے میں جت گیا .
تلسی آئیو جگ میں ایسے جگ ہنسے تم روئے
ایسی کرنی کر گذرو تم ہنسو جگ روئے

بھگوت گیتا کے اشلوکوں کا پاٹ کیا تو راجن اور کرشن کے مکالمے جہاں وہ تناسخ metempsychosis کا بیان کرتا ہے نے بہت لطف دیا کیونکہ ذہن میں راسخ عقائد سے تقابلے سے حظ اٹھا رہا تھا.

ملکوال میں ہی کیتھولک چرچ کی ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا وہاں پہلی دفعہ بائیبل کارسپانڈس کے کورس کا پتہ چلا. پروگرام مشنری جذبے کے تحت تھا سو ڈاک خرچ بھی صفر تھا . فاصلاتی امتحانی شیٹس بھیجنے کیلئے بھی واپسی لفافہ کتابوں کےساتھ موصول ہوتا . متی ,لوقا, مرقس, یوحنا کی انجیل کا کورس تھا .بے چین طبیعت نے عہد نامہ قدیم اور جدید دونوں پورے پڑھوائے .

ایک صاحب دیوان شاعر اور حکیم سائیں غلام حیدر ساکن سہوترہ پنڈ ذدانخان جن کی کتاب کا نام سدھراں دا گستان ہے کے توسط سے ان کی بھائی جو ائیر فورس سے ریٹائرڈ اور ایک سلسلہ کے مجاز خلیفہ تھے سرگودھا سیٹلائیٹ ٹاون جاکر ملاقات کی. وہ خود کو علم ترجیحات کا بانی مانتے تھے. انہوں نے تحفتا انجیل برناباس عنایت کی. جس کا مقصد واضع ہے.

اب مجھے یقین ہے کہ ہمارے کچھ مومنین دوستوں کے پیٹ میں مروڑ نما سوال گھوم رہا ہوگا کہ میں نے قرآن اور حدیث کے مطالعہ نہیں کیا . ان کیلئے عرض ہے کہ عاصی و پر تقصیر نے قرآن ماظرہ تیسری جماعت تک پہنچتے ختم کرلیا تھا. فیصل آباد گلو والی گلی میں جہاد ددھیال کا گھر تھا وہاں اس کی گلی سپارہ بغل میں دبائے اور چینی کی بوری ایک کونے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گلی کی جھاڑو لگاتے ماسی جی مبارک کےگھر جانے اور آنے کا منظر آج بھی یاد ہے. انہوں نے مجھ سے خوش ہوکر مجھے قرآن پاک کا نسخہ مع ترجمہ و تفسیر عنایت کیا جو میرے زیر مطالعہ آگیا. یہ سعودی حکومت کے تعاون سے بطور عطیہ چھپا تھا آگے آپ سمجھدار ہیں.
جب میں نے ضلع بھر میں تقریری مقابلے میں اول پوزیشن لی تو مجھے احمد رضا خان بریلوی کی تفسیر (مترجم کوئی اور تھے) بطور انعام ملا. غیراللہ سے مدد مانگنا جائز ہے والے مسئلے سے پہلا تعارف وہیں ہوا. پھر پیر کرم شاہ صاحب الازہری سے ملاقات ہوئی اور ان کی ضیاء القران اور ضیاءالنبی کھنگالی. پھر یہ سلسلہ چل نکلا.

اپنے بہت سے سوالات اور الجھنوں کی تحقیق میں مجھے دو مسائل سب سے زیادہ پیش آتے ایک عربی زبان سے ناواقفیت دوسرا اصول الفقہ اور اصول حدیث سے ناواقفیت.عربی نہ سیکھی لیکن المنجد سے کام چلایا اور اصول الفقہ و حدیث کو پڑھا .

اسی عرصہ میں میری مستقل ملاقاتیں پروفیسر ڈاکٹر بشیر مہدی سے شروع ہوئیں. وہ بلاشبہ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور ان کی ذاتی لائبریری کم و بیش پندرہ سے بیس ہزار کتب پر مبنی ہے. پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ہسٹری میں گولڈ میڈلسٹ اور پروفیسر محمد اسلم جنہوں نے خفتگان خاک لاہور ایسی کتابیں لکھیں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا تھا. ان کے اور ایک اور انتہائی معتبر استاد کےساتھ ایک انتہائی ناگوار واقع مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے پیش آچکا تھا جس کا باعث محمود احمد عباسی کی کتاب تحقیق بسلسلہ خلاف معاویہ رضی اللہ و یزید رحمت اللہ علیہ تھی ( یہ کتاب کا ٹائیٹل ہے میرے بخشے القاب نہیں) .
وہ ایک تاریخی کتاب مگر ایک اور نقطہ نظر اور perspective میں لکھی گئی ہے. اس کتاب کے پڑھنے کا اشتیاق ہوا اور اسے پڑھا . پھر satanic versus کہیں سے مل گئی جس کا ابتدائی باب پڑھنے کے بعد ہی اسے پھینک دیا کہ وہ ایک علمی نہیں بلکہ متعصب فکشن ہے.

الغرض کہ ایک سفر تھا جو جاری تھا. اس دوران بے شمار کتب, لٹریچر, تبلیغی مواد , مسلم زعما کی کتب , تاریخ اسلام زیر مطالعہ آئیں.
میں نے میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ملکوال سے کمروں کی قلت کے باعث ٹاٹ پر بیٹھ کر کیا. بارش میں چھٹی مل جاتی اور اس کے بعد کچھ چھ ماہ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بطور ریگولر طالبعلم پڑھا . بعد ازاں مالی مشکلات کے باعث کالج چھوڑ دیا اور پرائیوٹلی انٹر اور بی اے آنرز انگریزی ادب کے ساتھ کیا. ایل ایل بی تیسرے سال جاب کی مجبوری کے باعث ادھورا رہ گیا جسے اب مکمل کررہا ہوں اور ایم بی اے بی اے آنرز کے ابھی 2014 میں کیا .

تشکیک اور سوالات تھے اور ایک بے چینی.

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *