• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما فائرنگ میں ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما فائرنگ میں ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان(اپنے نمائندہ سے)صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور مسجد صدیق اکبر کے مدرس، امام عطااللہ شاہ کو ہلاک کردیا ہے ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے ۔چھاؤنی تھانے کے انسپکٹر امجد حسین نےمیڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ عطا اللہ شاہ مسجد صدیق اکبر میں فجر کی نماز کی امامت کے بعد بنوں روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ عطا اللہ شاہ کو ایک گولی سر پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی ۔عطا اللہ شاہ کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے قریبی علاقے پنیالہ سےہے جہاں ان کا پیر خانہ ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ عطا اللہ شاہ اس علاقے میں مولانا فضل الرحمان کے پیر کی حیثیت رکھتے تھے۔پولیس انسپکٹر امجد حسین نے بتایا کہ انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے اور بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نظر آتا ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ دس دن کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوئے ہیں۔ان میں پہلا واقعہ گیارہ اگست کو بنوں روڈ پر کوٹلی امام حسین کے سامنے پیش آیا جب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں سید ناصر حسین شاہ اور سید یاسر حسین شاہ کو ہلاک کر دیا تھا۔اس واقعہ کے دو روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے مریالی کے علاقے میں سرکاری ملازم مظہر شیرازی کو ان کے گھر کی دہلیز پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک دیا تھا۔مظہر شیرازی کے بھتیجے شاہد شیرازی ایڈووکیٹ کو گذشتہ عید کے روز نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں نے کوٹلی امام حسین کے سامنے ڈیرہ بنوں روڈ کو احتجاجاً بلاک کر دیا تھا۔اس کے بعد سترہ اگست کو عیدگاہ کے علاقے میں نا معلوم افراد نے سجاد حسین پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔چند روز پہلے جنوبی ضلع بنوں میں بھی ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔خیبر پختونخوا میں سات ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں اب تک 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *