گھٹیا افسانہ نمبر 8۔۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

انعام شاہ نے میرا دل جیت لیا ہے. شاہ جی نے  کہا کہ چوہدری صاحب آپ کے لیے میری شہ رگ کا خون بھی حاضر ہے. میں بہت خوش ہوں. ایسے دور میں جب لوگ اپنے اپنے فائدے کے لیے زندہ ہیں وہاں مجھے ایسا دوست میسر ہے. میں اپنے دوستوں پہ خوش ہوا کرتا تھا. میں گھٹنوں کے بَل الٹا کھڑا ہوں. کہنیوں کو ٹیک کر قالین کے دھاگوں میں پھنسے ہوئے چرس کے باریک ٹکڑے ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ ماضی قریب کے واقعات یاد کر رہا ہوں. وقت نہیں بدلتا. لوگ بھی نہیں بدلتے. بس لوگوں کے چہروں سے رنگین، دیدہ زیب، پُرکشش اور دھوکہ باز نقاب اُتر رہے ہیں. میری گاڑی پہ میرے پٹرول کو استعمال کرکے میرے خرچے پہ مٹن کڑاھی کھانے والے جانثار دوست آج مجھ سے منہ پھیر چُکے ہیں. میں بھی اُن سے کوئی گلہ نہیں کر رہا. آج شام جب میں ابراہیم خان کے بھانے پہ گیا تو مجھ سے دوستی نبھاتے ہوئے کہنے لگا چوہدری تیرے خراب حالات کا تُو خود ذمہ دار ہے. میں حیران ہوں کہ بھائی تجھ سے اگر امداد یا ادھار مانگوں تب بھی تیرا یہ سب کہنا نہیں بنتا. رات تین تین بجے تیرے لیے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نلکا ہاتھ سے چلا کر پانی کی بالٹیاں بَھری ہیں کیونکہ آپ کا پیٹ خراب تھا اور آپ نے رفع حاجت کے لیے پانی مانگا تھا. میں چُپ رہا. ابراہیم خان کی باتیں سُنتا رہا. کہنے لگا تیرے خرچے بہت ہیں. تمہارا ہاتھ بہت کُھلا ہے. فضول فضول کاموں پہ پیسے لگا دیتے ہو. لوگ تو خوش ہوتے ہیں کہ چوہدری کو بےوقوف بنا کر یاری کے بہانے سے اِس کی جیب خالی کروا لیتے ہیں، تم بھی دوستی اور یاری کے نام پہ اپنے پیسے اُڑاتے رہے ہو، اب کھانے کے لالے ہیں. میں چُپ رہا. لیکن مجھے اِس سب کی امید نہیں تھی.

چرس کے باریک باریک ٹکڑے اکٹھے کرتے ہوئے مجھے ایک بڑا سارا ٹکڑا پرانی سوکھی چرس کا ہاتھ لگ گیا. خوشی کی انتہا نہیں رہی. ایک گھنٹے سے موبائل ٹارچ استعمال کرتے ہوئے جو چرس اکٹھی ہوئی اُس کو اب والے ٹکڑے کو ملا کر دو سگریٹ نہیں بھرے جا سکتے. حالانکہ میں بس ایک سگریٹ جتنی چرس ڈھونڈ رہا تھا لیکن اب اس ٹکڑے کے مل جانے کے بعد دو سگریٹوں جتنی چرس ڈھونڈنے کی کوشش آخر ایک گھنٹے بعد بارآور ہو گئی. میرے گھٹنے اور کہنیاں چِھل چکی ہیں. قالین کے دھاگوں کے بیچ پھنسے ہوئے چرس کے وہ باریک ٹکڑے جو میرے جانثار دوست سگریٹ بھرنے یا تمباکو مَلنے کے دوران نشہ کی حالت میں گراتے رہتے ہیں پہ نظریں جما جما کر آنکھیں ایسی دکھ رہی ہیں کہ پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے. لیکن اِس گھنٹے میں مجھے سب احباب کی گفتگو بار بار یاد آئی ہے.

یہ وہی حبیب عباسی ہے جس نے رات دو بجے کال کی کہ وہ ابھی سندھ سے واپس پہنچا ہے. تھکاوٹ کی وجہ سے جسم کے ساتھ ساتھ سَر بھی درد کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے. میں اُس کا حکم پَا کر اڈے سے اُس کو لیکر اُس کے گھر کے باہر کار پارک کرکے کار میں ہی بیٹھے بیٹھے دو سگریٹ بھر کے اپنے تھکے ہارے دوست کو سکون پہنچا رہا تھا. آج اُسی دوست سے سگریٹ میں ایک دو کَش کیا مانگ لیے، وہ تو منہ بنا کر اٹھ کر چلا گیا کہ بندہ سکون سے سگریٹ بھی نہیں پی سکتا، واری لینے والوں نے جینا حرام کر رکھا ہے، چرس جتنے پیسے نہیں ہیں تو نشے کا شوق لازمی پالنا ہے. میں چُپ رہا. بولنا بنتا ہی نہیں. میں نے چھانی اٹھا رکھی ہے. مگر اِس بار چھانی کے سوراخ بہت باریک ہیں، اتنے باریک کہ چرس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی اِس چھانی سے گزر نہیں سکتے.

مجھے لگ رہا ہے کہ ابراہیم خان نے سچ کہا تھا لوگ مجھے یاری دوستی کے نام پہ پاگل بناتے رہے ہیں. جب میرے پاس پیسے تھے تو سبھی کہتے یار چوہدری پانچ ہزار دیجیو، تین ہزار پکڑانا، یار دس ہزار دینا میرا موبائل ٹوٹ گیا ہے نیا لینا ہے. چوہدری موٹرسائیکل وارے کا مل رہا ہے بیس ہزار دینا میں ہر ماہ تنخواہ پہ تجھے پانچ پانچ ہزار دیتا رہوں گا. لیکن میں نے تو ابھی تک کسی سے ایک روپیہ نہیں مانگا پھر بھی یہ میرے سے کھچے کھچے کیوں ہیں. شاید اِس لیے کہ کہیں میں اُن سے کچھ مانگ نہ لوں.

خیر اب میرے حالات جیسے بھی ہوں مر نہیں رہا. مشکلات کس کی زندگی میں نہیں آتی ہیں. آج میری باری ہے. کل اِن کی باری آئے گی. لیکن اب کی بار چوہدری وہ نہیں ہو گا جیسا پہلے ہوا کرتا تھا. جیسے تم ویسے ہم. لعنت ہے عشق ہے، لعنت ہے دوستی پہ، لعنت ہے یاریوں پہ. اب میرا تعلق صرف پیداواری ہو گا. کیا لو گے کیا دو گے. وارے کھائے گا تو سودا فائنل وگرنہ سلام دعا گپ شپ سب کے ساتھ مگر کسی پہ ایک روپیہ تب لگاؤں گا جب مجھے یقین ہوا کہ بدلے میں پانچ دس آنے کا مجھے بھی فائدہ ہو گا.

میں نے جب سے انتظار عاصم کا عورتوں پہ مضمون پڑھا ہے میں تو اُس کا دیوانہ ہو گیا ہوں. آج کانفرنس میں اگلی نشستوں پہ جگہ پانے کے لیے وقت سے پہلے پہنچ گیا تاکہ انتظار عاصم صاحب کی گفتگو مکمل دھیان سے سُن اور ریکارڈ کر سکوں. انہوں نے گفتگو کے آغاز میں ہی میرا دل جیت لیا ہے. وہ گویا ہوئے کہ
“لبرل ازم فطری قوانین پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ہر آزاد فطرت سچی اور مکمل ہے اس لئے ہمیں فطرت کی سائنس کی اتباع ٹیکنالوجی سےکرنی چاہئے، اور اس سے کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنا ہی سود مند ہے. یوں افرد کی نفسیات کو بھی آزاد فطرت کے حوالے کرنا ہی عقلمندی ہے. لبرل ازم یہ نہیں کہ ایک فرد کو کسی دوسرے یا تیسرے انسان کی لازم رہنمائی میں دے دیا جائے بلکہ لبرل ازم افراد کو خود مختار ، اور ذمہ دار بناتا ہے ، یہ افرد کو مکمل سمجھتا ہے اور افرد کو ہی اپنا ضامن اور رہبر مانتا ہے. لبرل ازم ہر فرد کو عاقل مانتا ہے ، اس لئے اسے آزاد چھوڑ دینے کا قائل ہے اِس طرح وہ اپنی رہنمائی خود کرنے کے قابل ہو جاتا ہے. لبرل ازم فرد کی معقولیت کو اس کی شخصیت میں سب سے بڑی حقیقت سمجھتے ہوئے اُس کے خلاف جانے سے روکتا ہے”. انتظار عاصم کی گفتگو ایسی تھی کہ میں بےاختیار کھڑا ہو گیا اور اُن کے بیٹھنے تک تالیاں بجاتا رہا. اُس کے بعد سٹیج سیکرٹری نے ڈاکٹر عزیر حسین کو بلایا. مجھے معلوم پڑ گیا کہ یہ کمیونسٹ چھوکرا اب انتظار صاحب پہ کیچڑ اچھالے گا. یہ کھوتا اب اپنی چولیں مار کر ماحول خراب کر دے گا. وہی ہوا. ذرا اِس کمیونسٹ صاحب کی بات سنیے، فرماتے ہیں
“جب تمام انسان اور اُنکے حالات ایک جیسے ہیں ہی نہیں انسانی فطرت کو کس بنیاد پہ ایک جامد مظہر بنایا جاتا ہے. جہاں ایک فرد کا مفاد دوسرے فرد کا نقصان ہے، ایک طبقے کے پاس باقی ننانوے فیصد کی مشترکہ دولت سے زیادہ دولت موجود ہے تو کس طرح سے یہ بات منطقی سمجھوں ہے کہ ہر وہ عمل غیر فطری ہے جس سے باقی ننانوے فیصد بھی اس قابل ہو سکیں کہ ایک فیصد کے برابر کا معیار زندگی حاصل کر سکیں”.

میرا دل قہقہے لگانے کو کر رہا ہے. علی عباس نے میرے بارے خبر بریک کی ہے. حاجی تنویر اور ملک عدنان میرا مذاق اُڑا رہے ہیں. علی عباس نے کچھ کہا ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی تو ویڈیو کو روک کر تھوڑا ریورس کیا ہے. آواز مزید اونچی کرکے سنا تو وہ یہ لوگ آپس میں مشورہ کر رہے ہیں کہ میں فاعل ہوں یا مفعول ہوں گا. حاجی تنویر اور عدنان کی نظر میں میرا فاعل ہونا قرینِ قیاس ہے. جبکہ علی عباس کے مطابق گھنی بھنویں اور لمبا ناک فاعل ہونے کی نشانی ہیں لیکن محض تُک بندی سے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں. ملک عدنان نے کہا کہ یہ جاننا اتنا مشکل بھی نہیں. اُس نے باقیوں کو میرے پاس تجربے کے لیے ایک مفعول بھیجنے کی پلاننگ کی جبکہ اُن کو یہ معلوم نہیں کہ اُن کے دفتر میں کیمرہ اور مائیک اُن کی تمام ریکارڈنگ مجھے دکھا اور سنا رہے ہیں. علی عباس نے کچھ دنوں بعد مکمل پلاننگ سے مجھ تک ایک مفعول غیرمحسوس طریقے سے بھیج دیا ہے. لیکن اُن کی منشاء کے برعکس وہ مفعول یہی خبر لیکر گیا کہ یہ بندہ فاعل نہیں بلکہ مکمل مفعول ہے. یہ سب حیران ہیں. انہوں نے ایک فاعل بھیج کر مجھے مزید پرکھنا چاہا ہے. وہ فاعل تگڑا اور خاصا دلکش ہے. مگر میں نے اُس کی خواہش کے برعکس ایک جارح فاعل کا کردار ادا کرنا چاہے ہے. وہ بیچارہ حیرت زدہ ہو کر علی، تنویر اور عدنان عجیب مخمصے میں سلجھ چکے ہیں. وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں. دونوں تجربات نے اُن کو یہ واضح کر دیا کہ مَیں ہم جنس پرست تو ہوں، لیکن میرا جنسی رویہ فاعل و مفعول میں کیسا ہے کا تعین کرنا اُن کے لیے مزید الجھن پیدا کر چکا ہے. میں ویڈیو دیکھ دیکھ کر ایسا محظوظ ہوا ہوں کہ میرے قہقہے نہیں رُک رہے.

میں یہ سارے واقعہ اپنی این جی او کے ماہرین کو سُنا رہا ہوں. مجھے شاباش دی کہ میں نے کیسے معاملے کو چلا کر اُن تین بےوقوفوں کو مزید بےوقوف بنا کر الجھا دیا ہے. ڈاکٹر شائستہ جو نفسیات میں ماہر نے چائے ختم ہونے سے پہلے واضح کر دیا کہ تمہارے یہ تینوں قریبی دوست ہم جنس پرست رویہ میں تمہارے کردار بارے اِس لیے جاننا چاہتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی کسی ایک کردار کو چننا چاہتے ہیں، کیونکہ اُن کی سماجی نفسیات کو کسی اپنے جیسے دوسرے کی مثال درکار ہوتی ہے. علاوہ ازیں چونکہ ہمارے ہاں مردانگی، غیرت اور وقار کو جنسی تعلقات میں فقط فاعل سے منسوب کر دیا گیا ہے، ہمارے لوگ اپنے قریبی خصوصاً خاوند، والد، بھائی یا بیٹے کو بطور ہم جنس تو شاید قبول کر چکے ہیں لیکن وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اُن کا قریبی رشتہ دار ایک مفعول ہے.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *