تبدیلی

انکے نام جو تبدیلی کے خواہاں ہیں!

پچھلے کچھ عرصے میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر جو طوفان برپا کیا گیا ہے اس سے اس تبدیلی کے حامی و مخالف دونوں ہی محفوظ نہیں رہ سکے۔ یہ نعرہ اتنی شدت سے لگایا جانے لگا ہے کہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس پر بات کی جائے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے؟؟ اگرآپ کا جواب ہاں ہے تو میں آپ سب کے سامنے چند سوالات رکھنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے کس چیز اور کس عادت کو تبدیل کرنا چاہئے؟ کیا تبدیلی کا آغاز برائی سے ہونا چاہیے؟ مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ برائی کیا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ آپ کے اور میرے لیے برائی کا مفہوم ہی مختلف ہو؟

بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اذہان میں نیکی اور برائی جیسا کہ جھوٹ، دھوکہ دہی اور کرپشن کے لیے دو مختلف نظریات موجود ہیں جن میں سے ایک مثبت ہے اور ایک منفی۔ اگر جھوٹ مجھے کسی نقصان سے بچاتا ہے تو وہ جھوٹ جائز ہے۔ اگر دھوکے سے میرے اہل و عیال کو فائدہ پہنچتا ہے تو تھوڑے سے دھوکے سے کیا فرق پڑے گا۔ اگر کرپشن کرنے سے میں معاشرے میں اثر و رسوخ حاصل کر سکتا ہوں تو بھیا باقی سب بھی تو کر رہے ہیں۔۔۔ لیکن یہی سب کچھ کوئی دوسرا سر انجام دے تو وہ جھوٹا، دھوکےباز اور کرپٹ ہے! اس طرح کے معاشرے میں تبدیلی کا پرچم بلند کیجیے لیکن یہ تو بتلا دیجیے کہ تبدیلی کی یہ جنگ سب سے پہلے کس کے خلاف ہونی چاہیے؟ کیا واقعی ہمیں حکومت کی تبدیلی سے اس کار خیر کا آغاز کرنا چاہیے یا اس سے بھی پہلے معاشرے کی تبدیلی کا عمل شروع ہونا چاہیے ..؟

کیا تبدیلی کے لیے بڑے پیمانے پر بغاوت کا ہونا لازمی ہے؟ کیا جلاو گھیراو کے ذریعے کرپشن پر مبنی نظام کا خاتمہ ممکن ہے؟ ایک مرتبہ کسی خاتون سے فعل حرام سرزد ہوا اور اس پہ حد جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس خاتون نے سزا کو تو قبول کر لیا لیکن ایک التجا کی کہ حد جاری کرنے وہ شخص آئے جس نے خود کبھی اس فعل حرام کا ارتکاب نہ کیا ہو اور صفحات تاریخ میں رقم ہے کہ ہزاروں کی آبادی میں سے فقط چند افراد اس حد کو جاری کرنے کے لیے نکل سکے۔۔ تو جو خود کسی شر میں مبتلا ہے کیا اسے خود کو بدلنے سے پہلے کسی پر حد جاری کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔۔۔۔

ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ تبدیلی کے مراحل اور مدارج کیا ہیں؟ آپ تبدیلی چاہتے ہیں لیکن کیا اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس تبدیلی سے جنم لینے والی کیفیات کے لیے کیا حکمت عملی ہو گی یا سب کچھ خدا کے آسرے پر چھوڑ کر تبدیلی کا علم بلند کیا جا رہا ہے؟

خداوند متعال تو قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ “إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ ما بِقَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّروا ما بِأَنفُسِهِم” خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود تبدیل نہ ہو جائیں تو کیوں نہ ہم تبدیلی کو آغاز خود کو بدلنے سے کریں اپنے گھر اپنے دفتر اپنے محلہ اپنے شہر کی حد تک اپنے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔۔ یاد رکھیں معاشرے افراد کے ذریعے بنتے ہیں افراد اگر درست ہوں گے تو معاشرہ درست ہوگا اگر افراد ہی کی تربیت نہ ہو تو چہرے تبدیل کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ آپ لاکھ زور لگا لیجیے بغاوت کر لیجیے لیکن حقیقی تبدیلی اپنے آپ کو تبدیل کیے بغیر ممکن نہیں۔۔۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں تبدیلی کا مخالف نہیں اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں کی حمایت کا قائل۔۔ موجودہ حکمرانوں کے احتساب کو ازحد ضروری اور انہیں معاشرے میں موجود برائیوں کو بہت بڑا ذمہ دار سمجھتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نقطے کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ تبدیلی کا دار و مدار افراد کے افکار اور کردار کی تبدیلی پر ہے۔ چہرے بدلنے سے نہ نظام بدلتا ہے نہ معاشرہ درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ لہذا آئیے تبدیلی لے کر آئیں اپنے کردار میں اپنے رویوں میں اپنے اور اپنے افکار میں کیونکہ اگر میں اور آپ تبدیل ہو جائیں تو معاشرے کا تبدیل ہونا بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔

صفدر جعفری
صفدر جعفری
خود اپنی تلاش میں سرگرداں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *