تھپڑ والا اور صحافتی حدوقیود

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں واقع نادرا آفس میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اس وقت پورے ملک میں مختلف انداز سے بحث جاری ہے۔صائمہ کنول کراچی کی ایک خاتون صحافی جو ” کراچی کی آواز ” کے عنوان سے پروگرام کرتی ہیں۔جس میں کراچی کے مقامی مسائل کو بیان کیا جاتا ہے۔صائمہ کنول کا کہنا ہے کہ مجھے کئی خواتین نے کہا کہ نادرا کا عملہ ہم سے رویہ اچھا نہیں رکھتا آپ ذرا ہمارے مسئلے کو ہائی لائیٹ کریں۔

جب صائمہ کنول نادرا آفس گئیں تو وہاں پر موجود سکیورٹی اہلکار نے انکو پروگرام کرنے سے منع کردیا اور معاملہ توتو میں میں تک پہنچ گیا اور پھر ”تھپڑ ” والا واقع ہوا۔اس وقت مختلف صحافتی تنظیمیں سراپااحتجاج ہیں اور اسکو آزادی صحافت پر ایک وار تصور کیا جارہا ہے۔ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم معاملے کی تحقیق کم اور سنی سنائی پر یقین کرتے ہیں۔جس سے مسائل حل کی بجاۓ خراب ہوتے ہیں۔ہماری صحافت کا المیہ ہے کہ ہم صحت مند مکالمے کی بجاۓ مناظرے کی جانب چلے جاتے ہیں جس سے پر تشدد واقعات جنم لیتے ہیں۔

خاتون صحافی کی جانب سے لگاۓ جانے والے الزامات کا بغور جائزہ لیا جاۓ تو قصور وار دونوں فریقین ہیں۔نشر ہونے والی ویڈیو کو بغور دیکھا جاۓ تو اس میں سیکورٹی اہلکار اپنی ڈیوٹی کو ادا کررہا ہے۔لیکن خاتون صحافی کا لہجہ جانبدار نظر آرہا ہے۔ایف سی اہلکار معاملے کو رفع کرنے کے لیے جان چھڑا رہا تھا لیکن خاتون صحافی نے جس طرح کی نازیبا زبان استعمال کی وہاں پر کوئی بھی موجود ہوتا وہی کرتا۔ خاتون کو معلوم ہوناچاہیے تھا کہ صحافی اپنی راۓ دے سکتاہے کسی کے بارے فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایک صحافی کی ذات غیر جانبدار ہوتی ہے لیکن اگر ویڈیو کا بغور مشاہدہ کیاجاۓ تو صائمہ کنول صاحبہ نےجس طرح کی زبان استعمال کی وہ انتہای نازیبا ہےاور پھر جسطرح وردی کو پکڑنے کی کوشش کررہی ہیں کوئی بھی برداشت نہیں کرے گا۔

ہماری صحافت ابھی بھی نوزائیدہ ہے۔مغرب میں صحافی حضرات کو دیکھیں انکا رویہ غیر جانبدار اور شائشتہ ہوتا ہے۔لیکن یہاں پر اشتعالی جملوں کا استعمال کئی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ہمارے ادارے ابھی اتنے اہل نہیں ہیں کہ اپنے ملازمین کی اخلاقی تربیت کرسکیں۔آپ برصغیر کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی بھی آپکو سکیورٹی فورسز ملازمین عوامی ڈیلںگ میں اچھے نظر نہیں آئیں گے۔ اسکے بعد کیا ایک صحافی کو اتنا جانبدار ہونا زیب دیتا ہے؟ آپ پر گرام کریں لڑائی نہیں۔ میرے خیال میں یہ تھپڑ پاکستان کے منہ پر تھپڑ ہے۔کیونکہ اس معاملے سے سواۓ جگ ہنسائی کے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ایک دوسرے پر الزامات لگاۓ ارہے ہیں ،مقدمات کے لیے پنجہ آزمائی جاری ہے۔ہم کیا کرہے ہیں؟

ہماری صحافت ذاتیات تک محدود ہوگئی ہے؟ ہماری صحافت شعوری طور پر ابھی پختہ نہیں ہوئی ہے؟ یا پھر پیشہ ورانہ تربیت کی کمی ہے۔اس معاملے میں اگر خواتین کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو بہتر تھا لیکن یہاں پر ہر بندہ نے اپنے نظریات کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔جب ایف سی اہلکار معاملے سے جان چھڑا رہا ہے تومحترمہ کو اسکے پیچھے جا کر للکارا مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسکی عزت نفس کو کیوں للکارا؟

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *