مہیدے کا ہوٹل۔۔۔مشتاق احمد

یہ 1938 یا 39 کا ذکر ہے جب ایک دن فیروز خان ٹیمپل روڈ لاہور پر وارد ہُوا اور میرے والد سے گفتگو کے بعد اُس نے اپنی دودھ دہی کی دکان کی بنیاد مستری نذیر کی بجلی کی دکان کے ساتھ ڈالی۔ ٹیمپل روڈ پر بھونڈپورے کا چوک ایک اہم حیثیت رکھتا تھا۔ مال روڈ سے مزنگ چونگی جاتے ہوئے پہلے ریگل سینما، پھر سفاں والا چوک، گوردیوارا اور بعد میں بھونڈپورے کا چوک آتا تھا۔ اس چوک کی خاصیت یہ تھی کی اس کے ایک طرف مزنگ والے اور دوسری طرف بھونڈپوریے رہتے تھے۔ دونوں میں اکثریت اِرایوں کی تھی لیکن جن کے ایک دوسرے سے زمین اور پانی وغیرہ پر جھگڑے وغیرہ بھی تھے۔ اور اگر کبھی بات بڑھ کر زبان سے پھسلنے کے بعد مارکٹائی تک آ جائے تو بھونڈپورے والے ہمیشہ متحدہ ہو کر مزنگ والوں سے لڑتے تھے، جس کی وجہ سے اُن کا نام بھونڈپورے پڑ گیا تھا!

فیروز خان کے دو بیٹے حمید اور یعقوب تھے، جن کو ہم نے ہمیشہ مہیدا اور یہاقو کہا تھا۔ مہیدا مجھ سے چھ برس بڑا اور یہاقو چار برس۔ فیروز خان، جسے سب لوگ چاچا فیروز کہتے تھے، کے دو شوق تھے — اپنی دکان چلانے کے علاوہ وہ ہر روز ریگل یا پلازہ سینما میں انگریزی فلم دیکھتا اور پھر حکیم شیخ محمد مودود صاحب کے دوا خانہ میں، جب وہ دوپہر کو بند ہو جاتا، اپنی افیون کی گولی کھا کر سوتا یا خود سے باتیں کرتا۔ کیونکہ چاچا فیروز دونوں سینماؤں کے اشتہار اپنی دکان پر لگاتا تھا، اس لئے اُسے سب فلموں کے فری پاس ملتے تھے، جنہیں ہم بھی کبھی کبھار استعمال کر لیتے۔ چاچا فیروز کو انگریزی یا اردو نہیں آتی تھی لیکن آپ اُس سے کسی بھی انگریزی فلم کے متعلق پوچھ لیں اُسے شروع سے لے کر آخر تک سب کہانی یاد ہوتی، وہ اور بات ہے کہ چاچا فیروز کی کہانی کا فلم کی اصلی کہانی سے صرف سرسری تعلق ہوتا تھا۔ وہ ہر فلم کی اپنی کہانی بناتا تھا جس میں ہیرو، ہیروین اور ولن کے علاوہ کوئی نہ کوئی خزانہ ہوتا تھا۔ ہم چاچا فیروز سے یہ سب قصّے بڑے شوق سے سُنتے تھے۔

وقت گزرتا رہا اور چاچا فیروز کے بیٹے جوان ہو گئے، اور پھر دھیرے دھیرے انہوں نے دودھ دہی کے ساتھ ساتھ چائے بنانی بھی شروع کر دی۔ درحقیقت چائے کی خواہش اُن ٹانگے والوں کی طرف سے تھی جو رات کو کام کرتے تھے اور جاگنے کے لئے کڑک چائے کے طلب گار تھے۔
پچاس کی دہائی کا لاہور آج کے لاہور سے بہت مختلف لاہور تھا۔ دوسری جنگ عظیم کو ختم ہوئے چند برس ہی گزرے تھے۔ اتنے عالمی سانحے سے ابھی ہوش بھی نہ آیا تھا کہ مقامی سطح پر اُس سے بھی بڑا حادثہ ہر طرف درد کی چادر بچھا گیا۔ کیونکہ ٹیمپل روڈ مال روڈ اور چونگی کی بعد بننے والی بستیوں کے درمیاں ایک اہم سڑک تھی اس لئے اس پر دن رات ٹریفِک چلتی تھی ، اور کیونکہ بھونڈپورے کے چوک میں یہ کافی کشادہ ہو جاتی تھی اس لئے ٹانگے والے رات کو وہاں آ کر مہیڈے کے ہوٹل سے چائے اور دوسری اشیاء کھاتے پیتے تھے۔

بھونڈپورے کے چوک میں ایک طرف چچا علیم اللہ کی نائی کی دکان، ساتھ میں بالا (اقبال) سائیکلوں والا، مہاجہ ریستورانٹ، مہیدے کا ہوٹل اور مستری نزیر تھا۔ دوسری طرف مولوی فروٹ والا، چراغ مٹھائی والا، مستری رشید، چراغ سائیکلوں والا، حافظ ڈرائیکلیں والا اور جالے سائیکلوں والے کا ڈیرہ تھا۔ ان دکانوں کے اوپر چوہدری برکت علی کی بڑی حویلی تھی جہاں ہم سب دوپہر کو کھیلتے تھے اور محترمہ صدیقہ بیگم، اُن دنوں میں صرف صدیقہ، ڈنڈا لے کر ہمیں پیٹنے ہمارے پیچھے دوڑا کرتی تھی۔ یہ بھی ذکر کر دوں کہ چوک کے باقی دو کونوں میں چچا پان والا اور دوسرے میں انڈے والے خان کی دکان تھی۔ مولوی فروٹ والے کے بغل میں ایک چھوٹی سی موچی کی دکان تھی جو نہ صرف ہماری جوتیوں کی مرمت کرتا بلکہ پورے محلے پر نظر بھی رکھتا تھا۔

ذکر تھا پچاس کی دہائی کا — 1955 کے قریب کا عرصہ میری ٹیمپل روڈ کی یاد کا حسین ترین حصہ ہے۔ تب میں مزنگ ہائی سکول میں پڑھ رہا تھا۔ ہر شام ٹیمپل رود پر ہمارے گھر کے نیچے اور مہیدے کے ہوٹل کے سامنے پانی کے چھڑکاؤ کے بعد چھ سات کیرم بورڈ کھیلنے کی میزیں لگ جاتیں، جہاں گھنٹوں مقابے ہوتے، چائے اور ٹھنڈی بوتلیں پی  جاتیں، ہنسی اور مذاق فضا بھر دیتے اور پھر مہیدا اپنے ریڈیو پر ریڈیو سیلون سے گانے سناتا۔ اُس وقت تک مہیدے کے ہوٹل میں بہترین چائے کے ساتھ ساتھ بند مکھن اور دوسری مزیدار چیزوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔

وہ چند برس کیسے گزر گئے مجھے یاد نہیں — اتنی زیادہ گہماگمی تھی کہ کیا کیا لکھوں۔ بھونڈپورے کا چوک ایک زندہ دل لوگوں کا ڈیرہ  تھا۔ اور اس سب کاروائی کا مرکز مہیدے کا ہوٹل تھا۔ مہیدا دن اور شام کو کام کرتا تھا اور یہاقو رات کے وقت۔ یہ صبح پانچ بجے کا کُھلا چائے خانہ رات کے تیں بجے بند ہوتا، وہ بھے صرف برتن اور کڑہایاں دھونے کے لیے۔رات بھر مہیدے کے پچھلے کمرے میں شہر بھر کے ٹانگے والے آپس میں باتیں کرتے۔ ان دنوں لاہور میں صرف ٹانگہ چلتا تھا اور جو کچھ بھی شہر میں ہوتا یہ ٹانگے والے سب جانتے تھے۔

مہیدے کے پچھلے کمرے کے ساتھ میرا کمرہ تھا۔ صرف لکڑی کا ایک پتلا سا دروازہ دونوں کمروں کے درمیان حائل تھا، جس پر دونوں طرف پردا پڑا رہتا تھا۔ جو گفتگو مہیدے کے ہوٹل میں ہوتی تھی اُس کی سب خبر مجھے اور میرے دوستوں کو بھی تھی۔ میں نے وہاں کیا کیا سُنا اور کن کن لوگوں کے متعلق سُنا وہ قصّہ میں نے کہیں اور لکھا ہے۔
اب یہاں نہ صرف ٹانگے والے بلکہ شہر کے دوسرے رات کے باسی بھی آ جاتے — موسیکار، اداکار، شاعر، ادیب وغیرہ وغیرہ!
1958 میں ایوب خان اپنی بیسک ڈیموکریسی کے ساتھ نمودار ہُوا اور محلے کے سب غنڈے اُس کے کارکن اور رکن بن گئے۔ ٹیمپل روڈ پر ہنسی مر گئی، لوگ سنجیدہ ہو گئے اور 1960 میں میرا لاہور سے کوُچ ہو گیا۔ لیکن آج بھی مہیدے کا ہوٹل میری یاد کی ایک اہم ترین حصّہ ہے جہاں بہت پرانے اور پیارے دوستوں کی یادیں آج بھی رہتی ہیں۔
مہیدے سے میں آخری مرتبہ 1979 میں اُس کے گھر میں ملا تھا، جب کہ وہ بلڈ کینسر میں مبتلا ہو چکا تھا۔ سارا سارا دن کوئلے کی آگ پر بیٹھنا اُسے زندگی بھر کاربن مونو آکسئیڈ سے بھرتا رہا تھا! یہاقو سے آخری ملاقات 1982 میں ہوئی تھی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *