اقبال اور عطیہ فیضی۔۔۔۔۔۔عمران مقصود

کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ناکام مرد کے پیچھے بھی عورت کا ہی  ہاتھ ہوتا ہے۔شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی شاعری جس نے مسلمانان بر صغیر میں ایک ولولہ اور جوش پیدا کر دیا تھا جو بعد ازاں قیام پاکستان کا پیش خیمہ بنا۔ ان کی شاعری کا اگر مطالعہ کریں تو اس میں ایک ارتقا کا عنصر بہت واضح ملتا ہے۔ ان کی شاعری سفر یورپ سے قبل کیا تھی اور بعد میں کس تصور کے گرد گھومتی ہےیہ بہت دلچسپ موضوع ہے۔
علامہ اقبال کی ابتدائی زندگی کا مطالعہ کریں تو سفر یورپ ان کی زندگی میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ جب ان کی ملاقات 1907 میں عطیہ فیضی سے ہوئی۔ جس کے بعد علامہ اور عطیہ کے درمیان ملاقاتوں ,عشائیوں اور بحث و مباحثہ کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا۔ اور جلد ہی ان کے روابط بے تکلفی میں بدل گئے۔
کہا جاتا ہے کہ اقبال ان سے شادی کے خوہشمند تھے مگر اس کے حوالے سے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ عطیہ فیضی کون تھی ان کے بارے میں ڈاکٹر منظر عباس نقوی اپنی کتاب خطوط اقبال بنام عطیہ فیضی مطبوعہ 1967 لکھتے ہیں کہ وہ بمبئی  کے اس متمول اور ممتاز فیضی خاندان کی چشم و چراغ تھیں جو تعلیم اور روشن خیالی کے نقطہ ء نظر سے ہندوستانی مسلمانوں میں بہت پیش پیش تھا. ان کے والد حسن آفندی صاحب ایک بڑے تاجر تھے جن کا قیام بسلسلہ تجارت(1880)سے کئی سال تک استنبول میں رہا. یہ وہی زمانہ تھا جب   1892 میں مولانا شبلی بلاد اسلامیہ کی سیاحت فرماتے ہوئے ترکی پہنچے. ڈاکٹر وحید قریشی کے بیان کے مطابق اس وقت ان کی عمر ایک آدھ سال سے زیادہ نہ تھی۔
اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ لگ بھگ 1891 کے اوائل میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک غیر معمولی ذہین لڑکی تھی. اس وقت ان کی عمر تقریباً چ15 سال تھی جب اعلی تعلیم کی لیے سکالر شپ پر انگلستان آگئی۔ یہاں فلسفہ اور لٹریچر کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔اس دور میں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا عطیہ ایک با اعتماد اور بے باک خاتون تھیں۔ اقبال سے پہلی ملاقات اپریل 1907 میں مس بیک کے   گھر ایک دعوت پر ہوئی۔ جو بذات خود مس بیک نے ان کی ملاقات کے لیے ترتیب دی۔ اقبال عطیہ سے پہلی ملاقات میں ان کی ذہانت کے دلدادہ ہوگئے۔ جس کے کچھ روز بعد اقبال نے ان کو ڈنر پر ایک لندن کےریستوران میں مدعو کیا ،ساتھ میں اپنے جرمن دوستوں کو بھی دعوت دی۔ جس پر عطیہ بہت متاثر ہوئیں. اور اقبال کو چائے کی دعوت دے ڈالی۔ گویا ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
غرض اقبال کے اپنے تحقیقی مقالہ میں بھی عطیہ بیگم کی مشاورت شامل ہے۔ جس کے لیے علامہ نے 27 جون 1907 کو مس شولی کے گھر عطیہ کو مدعو کیا اور خاص طور پر ہندوستانی کھانوں کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر اقبال نے ان کو بتایا کہ وہ خود ہندوستانی کھانے بنا سکتے ہیں۔ غرض اقبال نے اس وقت ان کو اپنا پورا مقالہ پڑھ کے سنایا اور عطیہ بیگم نے اپنی آرا ء دی ۔۔۔ جو اقبال نے الگ کاغذ پر نوٹ کیں۔اقبال اور ان کی رفاقت اس نہج پہ پہنچ گئی کہ دوست اور محبوبہ کا فرق کرنا مشکل لگتا ہے۔ جیسا کہ اقبال ایک خط میں لکھتے ہیں کہ “آپ جانتی ہیں کہ میں آپ سے کوئی بات راز نہیں رکھتا۔ میرا ایمان ہے کہ ایسا کرنا گناہ ہے. ” علامہ نے علی گڑھ کالج میں تدریس کی پیش کش کوٹھکرایا تو عطیہ بیگم نے اس کا سبب دریافت کیا تو اس کے جواب میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، احساسات اور محرومیوں کا تذکرہ یوں کیا۔ “میں کوئی ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ میرا تو منشا یہ ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے اس ملک سے بھاگ جاؤں۔ سبب آپ کو معلوم ہے۔ میرے اوپر اپنے بھائی صاحب کا ایک طرح سے اخلاقی قرضہ ہے جو مجھے روکے ہوئے ہے۔ میری زندگی انتہائی اذیت ناک ہے۔ یہ لوگ میری بیوی کو میرے سر  پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے والد صاحب کو لکھ دیا ہے کہ انہیں میری شادی طے کرنے کا کوئی حق نہیں تھا خصوصاً جبکہ میں نے پہلے ہی اس قسم کے بندھن میں گرفتار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ میں اس کی کفالت پر آمادہ ہوں لیکن اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں کہ اس کو ساتھ رکھ کر اپنی زندگی عذاب بنا لوں۔ ایک انسان ہونے کے ناطے مجھے بھی خوش رہنے کا حق حاصل ہے۔ اگر سماج یا قدرت مجھے یہ حق دینے سے انکار کرتی ہے تو میں دونوں کا باغی ہوں۔اب صرف ایک ہی راہ باقی ہے کہ یا تو میں ہمیشہ کے لیے اس بد بخت ملک سے چلا جاؤں یا شراب میں پناہ لوں جس سے خود کشی قدرے آسان ہو جاتی ہے۔ “
آخر میں لکھتے ہیں کہ مجھے معاف کرنا میں ہمدردی کا طالب نہیں. صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لوں. آپ کو میرے بارے میں سب معلوم ہے اس لیے اپنے جذبات کے اظہار کی جرات کی ہے. یہ راز کی بات ہے براہ کرم کسی سے نہ کہیے۔ ملک واپسی کے کچھ عرصہ بعد اقبال کی شادی ہو گئی اور عطیہ بیگم نے سیموئیل راحمین بعد ازاں راحمین فیضی سے شادی کر لی اور یہ خط و کتابت 1912 کے بعد منقطع ہو گئی. تقریباً 20 سال بعد اقبال سے لاہور میں عطیہ کی ملاقات ہوئی ۔ عطیہ اور اقبال کے خطوط سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اقبال کو اپنے مشورے اور آرا سے آگاہ رکھا۔ بعد آزاں یہ خطوط 1947 میں شائع ہوئے جس سے اقبال کی زندگی کا ایک باب محققین کی نظر میں آگیا جس سے اقبال کی شاعری کو سمجھنا اور بھی آسان ہوگیا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *