بکھرا آشیانہ۔۔۔۔۔عبداللہ خاں چنگیزی

 

زندگی کے خشک صحراؤں کے جلتے ہوئے ریت پر سب کو ہی چلنا پڑتا ہے کوئی چاہے یا نا چاہے کسی کے اختیار سے کوسوں دور کی یہ بات ہے اُس کے ماتھے کی لکیروں اور ہاتھ کی ریکھاوں پر وہ منظر نقش کردیے گئے ہیں جو اُس کی زندگی میں نظروں کے سامنے گزرنے والے ہونگے۔

کوئی لاکھ کوشش کرے ہزاروں جتن کرلے یہاں کی دنیا وہاں کردے ،آسمان کو زمیں سے ملانے کی تگ و دو میں اپنے وجود کو فنا کردے لیکن اپنے جسم سے منسلک دو ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر موجود وہ کچھ انچ کے کھینچی  ہوئی  باریک باریک سی پگڈنڈیوں سے آگے نہیں جاسکتا اور اگر وہ اس حد کو پار کرنے کی کوشش بھی کرلے تو گھوم کر وہیں  پر تھکا ہارا بیٹھ جائے گا جہاں اس کی  لکیروں کی منزل ہے.

کچھ لوگ اس منزل کو پاکر خوشی محسوس کرتے ہیں کچھ لوگ ان کے بے رحم شعلوں میں اپنے وجود کو فنا کردیتے ہیں لیکن لکیروں کی اس کائنات پر راضی ہونا ہر کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا.

رات کے دس بجنے والے تھے حاشر اپنی ننھی سی بیٹی کو دیکھتا رہا جو دو دن پہلے ہی اس جہاں میں آئی تھی پلنگ کے درمیاں میں اس کا ننھا وجود دونوں کو ہی خوشی سے سر شار کرتا رہا زبیدہ کی آنکھیں ہر دم اسے دیکھتی رہی تھی

وہ دونوں ہی اس کے لئے نام سوچتے رہے دو دن سے ایک اچھے سے نام پر متفق نہ ہوسکے زبیدہ کئی بار حاشر سے بول چکی کہ جاکر بازار سے لغت کی کتاب لے کر آئے تاکہ اس میں سے کوئی اچھا نام تلاش کرکے اپنی ننھی سی گڑیا کا رکھا جائے لیکن اس نے یہ سوچ کر نہیں خریدا کہ ایسے ہی اچھا نام مل جانے سے اس کے پانچ روپے کی بچت ہو سکے گی۔ اس کے پاس سارے آٹھ روپے تھے جس میں سے اس نے تین روپے کی مٹھائی خریدی تھی۔۔

صبح ہوئی تو حاشر نے مٹھائی کے ڈبے کو ہلا کر دیکھا پھر کھول دیا کچھ مٹھائی اس میں باقی بچی تھی اس نے وہ ڈبہ لیا اور بارش سے بچنے کے لئے اپنی برساتی چوغہ پہنا اور گھر سے نکل گیا تیز بارش میں وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا چلا جاتا رہا کچھ دس منٹ چلنے کے بعد وہ ایک درزی کی دکان میں داخل ہوا اور سامنے بیٹھے ایک  بزرگ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔

وہ نفیس تھا اس کا سب سے گہرا دوست بیٹھتے ہی اس نے نفیس کی طرف ہاتھ میں پکڑے ہوئے مٹھائی کے ڈبے کو اسے تھماتے ہوئے اپنی نوزائیدہ بچی پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ ہی اس سے ایک اچھا نام بتانے کی فرمائش کر دی نفیس مسکرایا اسے مبارکباد دی اور نام بتانے کی بجائے اسے ان الفاظ میں جواب دیا

“نام میں کیا رکھا ہے اللہ اس کی عمر دراز کرے وہ لمبی زندگی گزارے آمین ”

حاشر کو دعا اچھی لگی لیکن دل کو ایک دھچکہ سا لگا ایک نامعلوم سا ڈر کسی کے  چھن جانے کا،وہ اٹھا اور تیز تیز قدموں سے کسی حد تک دوڑتا ہوا گھر کی طرف واپس جانے لگا اس کی دل کی دھڑکن بے اختیار ہوتی گئی جیسے اس نے نفیس کی دعا میں کچھ اور محسوس کیا ہو وہ اپنی ننھی کلی کو چشم زدن میں اپنی بانہوں میں محصور کرنا چاہتا تھا گھر کے قریب ہوتے ہی اس کے  حواس نے اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کیا اس کے گھر کے سامنے لوگوں کا ہجوم سا تھا وہ ہجوم کو چھیرتا ہوا اپنے گھر کے سامنے رکا وہاں ایک ڈھیر سا پڑا تھا مٹی اور گارے کے  سنگم کا ،اس کی کل کائنات اس ڈھیر میں دفن تھی شاید بادلوں کی آوارگی اور بارش کے جوبن کو اس کا آشیانہ ایک آنکھ نہیں بھایا تھا.

وہ گر پڑا اپنی دونوں زانوں پر اور  آنکھوں سے بے اختیار کچھ آنسو اس کے چہرے پر ڈھلک گئے سب کچھ ہوا اس کے ننھے  بے نام جگر کے ٹکڑے کو مٹی کے حوالے کردیا گیا اس کی جیون ساتھی بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر میلوں دور جاچکی تھی محلے کا کوئی آدمی اسے اپنے ساتھ لے کر آیا وہ گم صم سا بیٹھا رہا پھر رات آئی وہ پچھلی رات کی  اس ساعت کے بارے میں سوچنے لگا جب وہ ایک بے نام کے لئے نام سوچا کرتا تھا.

یک دم وہ اٹھا اور اس جگہ سے باہر آگیا اس کا رخ ریل کی پٹڑی کی طرف تھا وہ ان سوچوں سے چھٹکارہ پانا چاہتا تھا جو اس کے ذہن میں پھن اٹھائے ناگن کی طرح بار بار اسے ڈسے جا رہے تھے.

خاصا دور آنے کے بعد جب اسے یقین ہوا کو یہاں اس کو بچانے کوئی نہیں پہنچ سکتا وہ اندھیرے میں ریل کی پٹڑی کے درمیاں کھڑا ہوا اور سامنے سے آتی ریل گاڑی کا انتظار کرنے لگا دور سے ریل کے آنے کی آواز سنائی دی اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر کھول دیں،شاید وہ اپنی موت کو دیکھنا چاہتا تھا ریل گاڑی قریب ہوتی گئی جب وہ پٹڑی پر سیدھی ہوئی تو اس کی روشنی اس کے بلکل سامنے ہوئی اچانک اس کو خود سے کچھ فاصلے پر کسی دوسرے کا وجود نظر آیا اس وجود نے اپنا سر اور چہرہ آسماں کی طرف اٹھایا ہوا تھا اور اپنے دونوں بازوں کو دائیں اور بائیں پھیلا دیئے تھے اس نے بغیر سوچے سمجھے اس کی طرف دوڑ لگائی اور اس کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے خود بھی پٹڑی سے دور گر گیا گاڑی گزرتی گئی آخر کار گزر گئی وہ دونوں آمنے سامنے ہوئے حاشر اس کی طرف چیخ کر بولا ” زندگی گزارنے کے لئے اس کے ہر ایک گھاو کو قبول کرنا پڑتا ہے بزدلوں کی موت نہیں مرتے” وہ اپنے ان الفاظ پر خود حیران ہوچکا تھا جو بے اختیار اس کے منہ سے نکلے تھے.

دونوں قریب آئے ایک دوسرے کو دیکھا تو دوسرے شخص کی آواز کو سن کر وہ کانپ اٹھا بلاشبہ وہ نفیس کی آواز تھی….

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *