• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ستاروں کی شاہراہ سے دور۔۔۔ مزید آنٹی ایم/ محمد اقبال دیوان

ستاروں کی شاہراہ سے دور۔۔۔ مزید آنٹی ایم/ محمد اقبال دیوان

کتاب ” جسے رات لے اڑی ہوا ” اشاعت کے بعد کچھ نئے گل کھلا گئی۔سندھ میں تو سابقہ رابطے بحال ہوئے مگر لاہور میں اس کے ایک قاری عاصم کلیار صاحب نے اسے خلائی مخلوق کی مدد سے ڈھونڈ لیا۔

ان کے حوالے سے جب یہ کتاب ایک بزرگ درّانی صاحب کے ہتھے چڑھی تو وہ کچھ ناآسودہ لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے ایک ہی نشست میں آنٹی   ایم والا باب پڑھ ڈالا وہ کہنے لگے “ابے تو نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ابے تو خوف خمیازہ سے ڈر گیا ہے۔ابے سب بتا دے تو نے تو کچھ زیادہ نہیں بتایا، یہ بتا وہ تیری آنٹی ایم پاکستان کے حوالے سے تجھے کون سا خواب سناتی تھیں۔وہ حضرت ذہین شاہ تاجی کے حوالے سے اور لیاقت آباد (لالو کھیت)کے بابا عبدالحق کے بارے میں کیا بتایا تھا انہوں نے۔ کرنل رضوانی صاحب نے تجھے جو حکم دیا تھا وہ آنٹی ایم کی یقین دہانی کے بعد تو کس کو ڈانٹنے پہنچا تھا۔ابے تو یہ بتا کہ تجھے مدینہ شریف میں کون ملا تھا ۔ مسجد جن میں تجھے کون ملا تھا جب تو حج پر گیا تھا۔ ڈر مت، تیرا کچھ نہیں بگڑے گا۔پاکستان اور اسلام کا تجھ پر کچھ قرض ہے جو تو ہی ادا کرے گا،یہ بتا دے کہ پاکستان کے خلاف جو بھی کام کرے گا وہ خاندان سمیت اجڑ جائے گا۔اس کے ارادوں میں اسے کچھ تھوڑی بہت کامیابی ہو بھی جائے تو اس کی قسمت میں آگے بہت دکھ ہیں۔ہماری طرف سے لکھ کر بابا وزیر محمد واسو قیام پاکستان سے پہلے ایک بزرگ ہوتے تھے۔واسو وہ گاؤں تھا گجرات کا، جہاں وہ رہتے تھے۔اس گاؤں کے نام کو انہوں نے اپنے نام کا حصہ بنالیا تھا۔جیسے تجھ سے ملنے والے ایک بزرگ پیر کاکی تاڑ نے ایک پوری ملامت کا سلسلہ اپنے نام سے وابستہ کرلیا تھا۔ابے تیرا کیا خیال ہے یہ آنٹی ایم پر مضمون تو نے لکھا ہے۔ ابے نہیں اس غلط فہمی میں مت رہیو۔ یہ تجھ سے لکھوایا گیاہے”۔

درّانی صاحب ایک روانی سے بولتے رہے وہ فون ہی پر سر نیہوڑائے ہوئے ایک حیرت و دل چسپی کی تصویر بنا سنتا رہا۔وہ ڈانٹ کر کہنے لگے،” ابے تو گوتم بدھ بنا سنتا ہی رہے گا کہ کچھ بولے گا بھی”؟

طارق درانی مرحوم

حیرت و دل چسپی میں اسکے مبتلا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ان باتوں کا علم کیسے ہوا جو صرف اسے ہی معلوم تھیں یا چند ایسے لوگوں کو جنہیں اس نے خود بتایا تھا۔ اس نے،انہیں یہ تمام باتیں،آنٹی ایم اور کرنل رضوانی صاحب کے وصال الہی کے بعد بتائیں تھیں۔
ان کی یہ گفتگو اور اس پر اظہار رائے کی دعوت کے جواب میں اس نے دو عدد فرمائشیں کیں۔”ایک تو یہ کام اب کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں ہوسکتا ہے “وہ کہنے لگے ” جا تیری کتاب کا دوسرا ایڈیشن آگیا”۔ان کی اس بات کو سن کر وہ کہنے لگا۔اب تک تو یہ کتاب مفت ہی تقسیم ہورہی ہے۔ اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس نے یہ کتاب ایصال ثواب کے طور پر چھپوائی ہے سوائے مشتاق احمد یوسفی کے جنہیں پبلشر نے یہ کتاب تحفتاً پیش کی تو وہ کہنے لگے وہ اردو کی کتاب کبھی مفت نہیں لیتے۔اگر ہم ہی ان کتابوں کو نہیں خریدیں گے،تو انہیں کون لے گا۔”ابے جا تجھے کتاب سے مالی نقصان نہیں ہوگا۔۔ہم دعا کریں گے کہ اس کا اور تیری باقی کتابوں کا خرچہ خود ہی نکل آئے گا۔۔۔ہم نے ہمت کرکے پوچھ لیا کہ وہ گجرات والے بزرگ کون تھے؟


نام تو تجھے بتا ہی دیا کہ وزیر محمد تھا اور واسو گاؤں میں گجرات کے پاس رہتے تھے۔ علامہّ اقبال نے اپنا خطبہء الہ آباد دیا۔یہ29دسمبر 1930 کی بات ہے۔ یہ ان کا صدارتی خطبہ تھا جو انہوں نے مسلم لیگ کے 25 ویں سالانہ اجلاس میں انگریزی زبان میں پڑھا۔اس میں انہوں نے مسلمانان ہند کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔اگلے دن یہ خطبہ ہمارے حضرت وزیر محمد واسو کے ہاتھ میں تھا اور وہ منڈی بہاالدین کے لئے عازم سفر تھے۔ وہاں سے ان دنوں ایک رسالہ بنام صوفی نکلا کرتا تھا۔اس کے ایڈیٹر کو انہوں نے وہ خطبہ دیا کہ وہ اسے اردو میں ترجمہ کرکے چھاپیں۔ انہیں اس پر کچھ تامل تھا کہ ابھی تو پاکستان کا قیام بطور مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست محض ایک تجویز ہے ع

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر گہر ہونے تک۔

وہ کہنے لگے کہ ” او تے وس گیا، مدینۃ الطیبہ وس گیا واسو کہندا ہے او وس گیا۔عربی میں اگر اب مدینہ الطّیبہ کا اردو ترجمہ کریں تو مدینہ بمعنی بستی اور طیبہ بمعنی پاک یعنی پاکستان”۔بزرگوں کے حوالے سے اس طرح کے کچھ واقعات ممتاز مفتی کی کتاب ” الکھ نگری ” میں بھی شامل ہیں۔
علامہ اقبال کا یہ خطبہ شاید اول اول اسی پرچے میں اردو میں طبع ہوکر عوام کے ہاتھ آیا۔

یہ نیا باب، ان کی، یعنی ڈاکٹر طارق درانی صاحب کی فرمائش پر لکھا گیا ہے۔ درانی صاحب اب سے تین برس قبل ایک مختصر سی علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہوگئے(مصنف)۔
===========
آنٹی ایم سے ہماری ملاقات دو زیادتیوں کے حوالے سے ہوئی۔ وہ فیز ون میں ہماری سسرال کے پڑوس میں قیام پذیر تھیں اور ہماری ساس صاحبہ سے پرا نی دوستی تھی۔ پہلی زیادتی بیگم کے قریبی رشتہ دار کے ساتھ ہوئی تھی اور دوسری ہمارے اپنے ساتھ۔
پہلی زیادتی کا شکار ہونے والے صاحب، پی آئی اے میں پائلٹ تھے ان کی انجمن پالپا کے صدر سلیم الحق۔وہ اپنے ہم پیشہ افراد کے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ وہ صدر مملکت ضیا الحق کے ساتھ ملاقات کے لئے گئے تھے۔ ضیاالحق ملاقاتوں میں بہت تحمل مزاج اور نرم گفتار ہوا کرتے تھے۔ ایک پیکرِ خلوص اور عاجزی۔وفد کے تمام ارکان کے مطالبات انہوں نے بڑی دل چسپی اور انہماک بھری ہمدردی سے سنے انہیں بہت تسلی بھری یقین دہانیاں کرائیں۔وقت رخصت سب کو گلے لگایا اور دروازے تک نہ صرف سب کو چھوڑنے آئے بلکہ وفد کے سربراہ کی کار کا دروازہ بھی صدر ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے آہنی ہاتھوں سے کھولا۔واپسی پر جب وہ عزیز،ہمیں ملے تو صاحب موصوف، صدر صاحب کی عاجزی، خلوص،دل چسپی اور انہماک کی تعریف کرتے ہوئے نہ تھکتے تھے۔ہم نے انہیں باخبر کیا کہ

ع ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔۔۔والا معاملہ ہے۔ممکن ہے معاملہ اس کے برعکس ہو کیوں کہ ان کے مطالبات،حکومت کو ایک نافرمانی اور بغاوت بھرا چیلنج لگ سکتے ہیں۔ ہماری بات سن کر انہوں نے ایک جھڑکی بھری بے اعتنائی سے ٹال دیا کہ سول بیوروکریسی،ہمیشہ سے فوجی حکمرانوں کی طاقت سے خائف رہتی ہے لہذا اس کاCynicism،ان کے لئے قابل فہم تو ضرور ہے، قابل قبول ہرگز نہیں۔

آنٹی ایم

ہم نے انہیں چیتاؤنی کے طور پر ایک قصہ سنایا۔یہ واقعہ اسے پنجاب کے کسی بڑے افسر نے سنایا تھا جو گورنر جیلانی کے بڑے چہیتے تھے۔ صدر موصوف کے ایک دوست تھے کالج کے زمانے سے۔دونوں کی ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی۔۔ جب صدر صاحب کسی پراجیکٹ کے معائنے پر گئے تھے۔میزبانوں کی لائین میں یہ برسوں کا گم شدہ دوست بھی تھا۔صدر صاحب، گورنر اور کمشنر کو نظر انداز کرکے سیدھے اس کی طرف بڑھے اور دیر تک گلے لگا کراس سے باتیں کرتے رہے۔چلتے وقت انہوں نے گورنر کے کان میں کچھ کہا اور اگلے دن یہ دوست پراجیکٹ ڈائریکٹر بن گیا۔ پراجیکٹ میں بڑا مال تھا۔ دوست کے دن یکایک پھر گئے۔ دولت کی لکشمی دیوی اس کے دفتر کی خادمہء خاص بن گئی۔ وہ اس امر سے بے خبر تھا کہ جنرل ضیا الحق نے اس کے پیچھے خلائی مخلوق کو لگا دیا کہ وہ اس کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں اس کے بارے میں مفصل رپورٹس فراہم کرتے رہیں۔

اگلی دفعہ جب صدر صاحب اس علاقے میں تشریف لائے تو یہ پرانے دوست ان کے کالج کے زمانے کے ساتھی ان سے خصوصی طور پر بے شمار تحفے تحائف کے ساتھ ملے،ساتھ میں اپنی ترقی کی ایک درخواست ساتھ لے گیا تھا جو انہوں نے بہت محبت اور اسی انہماک بھری دل چسپی سے سنی بھی اور اپنے اے۔ڈی۔سی کو دی کہ وہ اسلام آباد پہنچ کر اس پر ان سے آرڈر کرانے کے بعد اس کا مزید سفر بھی خود مانیٹر کرے اور انہیں اس کے بارے میں آگاہ رکھے۔اگلے دن گورنر کو جو درخواست پر آرڈرز موصول ہوئے تھے وہ کچھ یوں تھے” Keep him on two horns of the bull.”(اسے بیل کے دوسینگوں پر سجا دو)۔ بیوروکریسی جو سیدھے سادھے آرڈرز کو پڑھنے کی عادی تھی اس حکم نامے سے بہت پریشان ہوئی۔ بالآخر سیانے چیف سیکرٹری انور زاہد کے پاس بیٹھے ہوئے ڈاکٹر ظفر الطاف نے متعلقہ سیکرٹری کی الجھن کو دور کیا کہ ان صاحب کو تکالیف کے پریشر ککر میں ابالنا ہے۔اسے گھر سے دور صحرائے چولستان میں تعینات کردیا گیا اور جب تک صدر ضیاالحق، مسند صدارت پر متمکن رہے نہ تو اسے شرف باریابی ملا نہ اس کی مشکلات میں کوئی کمی واقع ہوئی۔

ہمارے عزیز نے، اس واقعے کو بھی سول افسران اور فوجی افسران میں پائے جانے والے، حسد کا ایک باب سمجھا اور نظر انداز کردیا۔ تین دن بعد، جو ایوان صدر سے ہدایات موصول ہوئیں۔اس میں وفد کے تمام ارکان کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔چوں کہ زمانہ مارشل لا کا تھا، لہذا اپیل وغیرہ کا سب حق منسوخ اور ناقابل عمل تھا۔
یہ گھرانہ تب آنٹی ایم کے پاس  ہماری بیگم صاحبہ کے ساتھ پہلی دفعہ حاضر خدمت ہوا۔آنٹی نے مراقبہ کیا اور کہنے لگیں کہ دوسال تکلیف رہے گی۔ ان کے اردگرد ہر سو گہری تاریکی ہے۔اس کے بعد وہ ایک تاریخی مقام پر جاکر جہاز اڑائیں گے۔وہاں جائیں تو شیخ الہند حضرت محمود الحسن کے لئے دعا ضرور کریں۔تب تک کسی کو علم نہ تھا کہ آنٹی ایم کا اشارہ ان کے لئے مالٹا کی ائر لائین میں نوکری ملنے کی طرف تھا۔ جہاں انگریزوں نے جنگ عظیم اول میں خلافت عثمانیہ کی حمایت پر سن 1920. میں قید کیا تھا۔آنٹی کی بات سن کر پائلٹ صاحب کی بیگم صاحبہ نے آنٹی کے گھر سے ہی اپنے بڑے بیٹے کو فون کیا اور صرف اتنا کہا کہ” بیٹا ہم غریب ہوگئے ہیں۔ آنٹی بولتی ہیں کوئی ہوپ (امید)نہیں۔ موئے ضیاء نے ہم کوبرباد کردیا۔میں نے تیرے باپ کو بہت بولا تھااس سے مت ملو مت سیاست میں پڑو۔ یہ ظالم آدمی ہے۔مگر میری کون سنتا ہے “حالانکہ پائیلٹ صاحب کی نو سو ایکڑ زمین تھی۔ ریٹائرمنٹ پر رقم بھی بہت ملی تھی اور ان کی کافی جائیداد بھی تھی۔ پائلٹ صاحب کی بیگم کی یہ بات سن کر سب وہاں مسکرادیئے تھے۔

ہم سے ہونے والی زیادتی ہماری انصاف پسندی کی وجہ سے ہوئی۔ ایک بڑی ٹھسے دار خاتون تھیں۔طاقتور لوگوں کی جانِ محفل۔کسی پرانے بنگلے میں کرائے دار تھیں۔بنگلہ ایک ایسے روڈ پر تھا جہاں اب بنگلے اونچی عمارتوں کا روپ دھار رہے تھے۔مالک مکان ایک جواں عمر مرد تھا جس کے اوقات شبینہ کو بنگلے پر قبضے کا بہانہ بنایا گیا۔اس سے جھگڑا کھڑا کرکے مکان کو سیل کرکے،اس خاتون کے حوالے کرنے کی سفارش ہمیں سرکاری اور ذاتی ذرائع سے کی گئیں۔ہم نے خاتون کو سمجھایا کہ کا گھر اس نوجوان کا ہے اور اگر اس کی حرکات انہیں ناپسندیدہ لگتی ہیں تو وہ کہیں اور منتقل ہوجائیں۔وہ مرد مکاں کہتا تھا کہ ہم نے مالک مکان ہوتے ہوئے بھی انہیں کوئی تکلیف نہیں دی۔کرائے کی ادائیگی میں بھی یہ بہت باقاعدہ نہیں۔میری دوست کے مجھ سے ملنے آنے پر انہیں کیوں اعتراض ہے؟۔۔۔۔ گھر کے راستے علیحدہ ہیں۔
ہم نے دونوں کو سنا اور سفارشوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس گھر کو ضابطہء فوجداری کی دفعہ 145 کے تحت سیل کرنے اور اسے کرائے دار کے حوالے کرنے کی درخواست داخل دفتر کردی۔ اہل طاقت اس فیصلے سے ناراض ہوئے اور ہمیں او۔ایس ڈی بنا دیا گیا۔

وہ دن عجب تھے اس کے ایک عزیز فرید خان ہوتے تھے۔واہ کیا مرد تھے اور کیا خوش ذوق اور دلچسپ ہستی۔ وہ ان چند پاکستانیوں میں سے تھے جن کے عربوں سے تعلقات کا یہ عالم تھا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر لاطینی امریکہ میں اسلحہ فروخت کرتے تھے،ان کی محافل شبینہ میں کون سا بڑا آدمی تھا جو اصرار کرکے نہیں آتا تھا۔
ان دنوں ہمارا یہ حال تھا کہ مذہب اسلام میں یقین تو تھا، مگر ہم سوچتے تھے کہ یہ مذہبی لوگ تین برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی روش دیکھ کر ہم  دین کی طرف راغب ہونے سے کترا تے تھے۔ان افراد کی  پہلی برائی تو یہ ہوتی ہے کہ ان میں اپنی عبادات کے اور حلیے کے حوالے سے یہ تکبر بہت ہوتا ہے کہ وہ اچھے ہیں اور دوسرے برے۔اس لئے کہ وہ ان کی طرح سے عبادت گزار نہیں۔دوسری برائی یہ ہوتی ہے کہ ان کا دین سے لگاؤ ایک انجانے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے جسے آپ انگریزی میں Fear of Unknown کہتے ہیں۔ ان میں تیسری برائی ایک لالچ کی صورت میں ہوتی ہے کہ ہم کسی پر ایک خرچ کریں گے تو اس کے عوض اللہ ہمیں ہمارے اس خرچے سے بڑھ کر دے گا گویا یہ بھی ایک طرح کا مالی صرفہ یعنیinvestment ہے۔

اس رات فرید خان کا ڈرائیور لینے آگیا۔وہ پاکستان آیا ہوا تھا اور باہر سے بطور مہمان آئی ہوئی کچھ گوریاں کچھ اور مردان اثر و رسوخ شریک محفل تھے۔محفل میں جانے کسی کی آمد کا اعلان ہوا کہ فرید خان نے ہم سے کہا کہ بطور افسر ہمارا وہاں مزید بیٹھنا مناسب نہیں سو واپس چلے جائیں ہمیں انہوں نے ایک ویڈیو کیسٹ دے دی۔ تاکید تھی کہ یہ ذرا خفیہ ہے اسے وہ مولانا کوثر نیازی کو دینے کے لئے لایا ہے۔ اس کا ڈرائیور یہ کیسٹ ایک بجے آن کر اس سے لے جائے گا۔صبح جب ہم نے کیسٹ لگائی تو اس کا عنوان تھا”How Rushdie Fooled West” یہ احمد دیدات صاحب کا برطانیہ میں کوئی لیکچر تھا۔اس لئے کہ وہاں شائع ہونے والی ملعون سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses کا ان دنوں ساری دنیا میں چرچا تھا اور مسلمانان عالم اس کی اشاعت پر بہت چراغ پا تھے۔

یہ کتاب سب سے پہلے احمد دیدات صاحب کی کوششوں سے پہلے جنوبی افریقہ اور بعد میں ہندوستان میں ممنوع قرار پائی۔سیاہ فام لوگوں کے لئے اس میں بہت نازیبا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ احمد دیدات صاحب کا ادارہ،روز انہ  ایسے الفاظ کی فوٹو کاپی گمنام طریقے پر وہاں کی وزارت داخلہ کو ڈاک سے بھیج دیتا تھا۔ان کی خفیہ ایجنسی نے جب یہ مواد بھیجنے والوں کا پتہ چلا لیا تو وہ پوچھ گچھ کے لئے احمد دیدات صاحب کے ہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب تو ہر جگہ دستیاب ہے اور یہ سارا مواد اس کتاب میں موجود ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب وہاں پر بین کردی گئی۔
اسی کتاب میں ہندوستان میں جو عورت عصمت اور پاکیزگی کی علامت سمجھی جاتی ہے یعنی رام کی بیوی، سیتا۔اس کے لئے کتاب میں Flighty Sita کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا مطلب بار بار بستر بدلنے والی خاتون کا ہوتا ہے۔ یہ مواد اسی ترکیب کے تحت جب ہندوستان کی وزارت داخلہ کو بھیجا گیا تو راجیو گاندھی جو اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم تھے کمال چالاکی سے اس کتاب کو یہ کہہ کر پابندی لگا بیٹھے کہ  اس میں شامل موادسے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔

شیخ احمد دیدات مرحوم
سلمان رشدی کی کتاب

یہ احمد دیدات صاحب سے اس کا پہلا تعارف تھا۔ہم انہیں، دنیا کے عظیم مبلغ اسلام کا درجہ دیتے ہیں۔ان کی تقاریر سن کر ہمارے   دل میں اسلام کی عظمت پھر سے اجاگر ہوگئی وہ تمام شبہات جو   دل میں تھے یکسر غائب ہوگئے۔ان کی باتوں سے ایمان کو بہت تقویت ملی اور ان کے دلائل کو استعمال کرکے ہم نے بہت سے افراد کے دل سے اس جیسے شبہات کو دور کردیا۔احمد دیدات صاحب کا تعلق ہندوستان کے علاقے گجرات کی بندرگاہ سورت سے تھا اور وہ ہندوستانی وزیر اعظم مرارجی بھائی ڈیسائی کی بہن کے بیٹے تھے۔ہم ان سے اور اس زمانے میں نو منتخب مس ورلڈ،ایشوریہ رائے  سے ملنے خصوصی طور پر جنوبی افریقہ گئے تھے ۔ایشوریہ رائے تو ہماری وہاں آمد سے دو دن پہلے ہندوستان واپس لوٹ گئی تھیں۔

انہی  دنوں ہماری   ملاقات آنٹی ایم سے ہوئی۔ہم نے ان سے سوال کیا کہ آنٹی یہ کیا بات ہے جب ہم دین کے خلاف یہ دلائل دیتے تھے کہ اس سے وابستہ لوگ تین خرابیوں کا شکار ہوتے ہیں یعنی عبادات کا تکبر، موت کے حوالے سے ایک انجانا خوف اور اپنی دریا دلی پر لالچ کا ملمع اور اب جب ہم دین کے حق میں دلائل دیتے ہیں تب بھی لوگ اس کی باتوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ مسکراکر کہنے لگیں ” آپ یہ سمجھ لیں کہ وہ کم سنتے ہیں:۔اس سے کم از کم آپ تکبر کی لعنت سے محفوظ رہیں گے۔ یہ جواب سن کرہمارے اندر خود ستائی کی جو ایک لہر اٹھی تھی وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
جب ہم نے اپنی نوکری کا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا تو وہ گہرے ایک مراقبے میں چلی گئیں اور کہنے لگیں کہ “دو مکھیاں ہیں جو آپ پر منڈلارہی ہیں۔بیس دن بعد ایک بھاگ جائے گی ایک ماری جائے گی۔مکھیوں کا کام تو آپ کو Irritate کرنا ہوتا ہے۔ آپ کو یہ ایک بڑی ملاقات میں ہونے والے فیصلے کے تحت گھر سے بلا کر پوسٹنگ دیں گے۔کوئی ایک نماز منتخب کرلیں اور پھر گیارہ سو دفعہ یہ کلام الہی پڑھ لیں اول آخر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی کے درمیان۔ یہ ہمارے داروغہ صاحب کا بتایا ہوا آزمودہ وظیفہ ہے”۔اس نے جب وقت اور نماز کی پابندی کے بارے میں سوال کیا تو وہ بتانے لگیں کہ” یہ قرآنی وظیفے پابندی وقت سے تیر بہد ف ہوجاتے ہیں ”
ا للہ کا کرنا کیا ہوا کہ وہ طاقتور افسر جو اسے او ایس ڈی بنانے میں پیش پیش تھا وہ خود معتوب ہوا۔ وہ سیاسی شخصیت جو  اس کی معاون تھی اسے اسلام آباد میں وزیر بنا دیا گیا اور اسے کمشنر صاحب نے ایک میٹنگ کے بعد خود فون کرکے پہلے سے بہتر ذمہ داری تقویض کردی۔
ایک ملاقات میں اس نے آنٹی سے ان کی اس چوتھی سمت یعنیFourth Dimension کا پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ “جب وہ گیارہ یا بارہ برس کی تھیں انہیں خواب میں امام حسین ؓ دکھائی دیئے۔ ایک دربار کا منظر تھا انہوں نے آنٹی کو ایک بے حد خوش ذائقہ دودھ کا گلاس پیش کیا جب وہ یہ پینے لگیں تو کچھ لوگ ان کی جانب انہیں دودھ پینے سے باز رکھنے کے لئے بڑھے۔ان کی اس جسارت پر وہاں موجود پہرے داروں نے تلواریں سونت لیں  اور ان کی جانب لپکے اور وہ لوگ ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئے۔اس کے بعد ان پر کشف کے دروازے کھل گئے، اب مراقبہ کرتی ہیں تو انہیں یا تو سائل کے حوالے سے وہ مناظر دکھائی دیتے ہیں یا اگر سوال کا تعلق کسی جواب سے ہو تو وہ انہیں بتادیا جاتا ہے”۔
اس نے دوبارہ سوال کیا کہ” یہ اہل اللہ یہ سب کیسے دیکھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں “؟
انہوں نے وضاحت کی کہ اللہ کو ہر شے کا علم ہے، وہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔وہ جو اس کے ننانوے نام ہیں وہ اس کی معروف ترین صفات کا محض تعارفی ذکر ہے جنہیں ہمارا معمولی انسانی ذہن سمجھ سکتا ہے۔ اب آپ دل لگا کر ذاکر حسین کا طبلہ ایک عمر تک سنیں ۔ یہ تو ممکن ہے کہ آپ کو ایسا طبلہ بجانانہ آئے پر یہ ممکن نہیں کہ آپ کو عمدہ طبلے وادن (بجنے) کے بارے میں ادراک نہ ہو۔ہمارے نبی پاکﷺ کو اس نے قرآن میں رؤف و رحیم کہا ہے جب کہ یہ خالصتاًاللہ کے اپنے اوصاف ہیں۔ وہ ان لوگوں کو جو دنیا سے اجڑ کر اس سے آباد ہوجائیں وہ اپنے علم اور اپنے اواصاف کا کچھ حصہ عنایت کردیتا ہے۔ تاکہ اہل طلب کا ایمان وہ مضبوط کرسیکں اب نبی تو آئیں گے نہیں۔ آپ نے وارث شاہ صاحب کی وہ مشہور لائن تو سنی ہوگی کہ ع رانجھا رانجھا کوکدی نی  وے میں آپ ہی رانجھا ہوئی۔ تو بس ایسا ہی معاملہ ہے اس سے جی لگانے کا۔جب آپ کا دل،سچائی سے اللہ کی جانب لگ جاتا ہے تو قرآن کریم میں ہے کہ مومن میں ایک خاص قسم کی فراست پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ اس کے کان آنکھ اور ہاتھ بن جاتا ہے۔ایک نور اس کے وجود میں اللہ کی عنایت سے سما جاتا ہے۔ جو لوگ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کے دل پر ایک سیاہ دائرہ بن جاتا ہے جو رفتہ رفتہ اس کے دل پر محیط ہوجاتا ہے۔اسے اپنے برے اعمال بھلے اور درست لگنے لگتے ہیں۔
وہ کہنے لگیں یہ ان دیکھی، ادھر اُدھر کی، آج، کل پرسوں کی باتوں کا جان لینا کیا کمال ہے۔ آنٹی اگر آج بقید حیات ہوتیں تو بعید از قیاس نہ ہوتا کہ وہ پیش گوئیاں کرنے والے جرمنی کے ایک ہشت پا  octopus پاؤلو (جس نے ورلڈ کپ فٹبال کے میچوں کی سب پیش گوئیاں ٹھیک ٹھیک کیں) اور ملائیشیا کے طوطے (parakeet ) مینا کُٹی کا بھی حوالہ ضرور دیتیں اس لئے کہ وہ اردو اخبار بہت شوق سے پڑھتی تھیں۔ وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ تو دیگر مذاہب کے لوگ بھی کرلیتے ہیں،کچھ نجومی، کچھ جیوتشی کچھ پنڈت پانڈے۔

اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اللہ کا کہنا مانیں۔ اس کی اور رسول اکرم ﷺ کی محبت میں اور اللہ کے خوف میں ایسے مبتلا ہوں جیسے وہ ہر لمحے آپ کو دیکھ رہا ہے۔ہمارے نبی پاک جن کی شفاعت سے ہماری بخشش ہوگی۔ جن پر اللہ خود درود اور سلام بھیجتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی دفعہ استغفار کرتے تھے اور رو رو کر اپنی بخشش کی اور اپنی امت کی بخشش کی دعا مانگتے تھے۔ دن میں سترستر دفعہ استغفار کیا کرت تھے۔ساری رات عبادت کرتے تھے۔ یہ اس عنایات کا اعتراف تھا کہ یہ جو اتنا بڑا احسان ہوا ہے وہ کہیں  ضائع نہ ہوجائے۔اطاعت میں خوف ہو تو اطاعت میں شوق پیدا ہوتا ہے اسی لئے کسی شاعر نے کہا ہے کہ ع
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ایک عجب خوف،سا دل کو
منا فقین کے فتنے سے اپنے بعد امت کو محفوظ رکھنے کے لئے آپ نے کسی صحابی کو ناموں کی ایک فہرست بتائی تھی پر حکم یہ دیا تھا کہ یہ فہرست کسی پر ظاہر نہ کی جائے کیا عجب کہ اللہ ان میں سے کسی کا دل پھیر دے اور وہ اپنی منافقت سے باز آجائے۔
حضرت عمر بن خطابؓ کو کہیں سے یہ علم ہوگیا کہ ان صحابی کو منا فقین مکہ کے ناموں کا علم ہے۔ آپ نے رو رو کر اس سے یہ پوچھا کہ وہ صرف اتنا بتادیں کہ ان کا نام تو اس فہرست میں شامل نہیں۔یہ ہے اس ڈر کا عالم۔

یہ Time Travel اس کی عنایت کی بات ہے۔اس میں ان کا کوئی اپنا کنٹرول نہیں۔اللہ سے آباد ہونے کی یہ دنیا، عشق کی دنیا ہے، عقل کی نہیں۔ اس لئے کہ ہمارے حضرت داتا گنج بخش کہا کرتے تھے کہ عقل محدود ہے۔ عیار ہے۔ایک اچھی عقل کو پرکھنے کی خاطر دوسری عقل کی ضرورت ہے۔اگر معرفت کی علت عقل ہوتی تو ہر وہ بندہ جو عقلمند ہوتا ہے عارف باللہ ہوتا اور تما م بے عقل، جاہل و بے دین ہوتے۔دلیل کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی نے قرآن  میں کہا ہے کہ” اگر ہم فرشتوں کو کفار کے پاس بھیجتے تاکہ ان سے کلام کریں اور مردوں کو زندہ کردیتے کہ ان کفار سے کلام کریں یا ان کے سامنے ہر چیز کو جمع کردیتے تب بھی وہ یمان نہ لاتے جب تک اللہ یہ نہ چاہتا”۔ سو معرفت اللہ کی مہربانی اور اس کی رضاکے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔استدلال کا طلب کرنا اگر اللہ پر ایمان لانے کے لئے ہو ,تو درست ہے اور اس کو ترک کرنا توکل کے لئے ہو تو ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔

اس بات کو یوں سمجھیں کہ ہمارے نبی حضرت ابراہیم ؑ دلیل کے پیغمبر تھے یعنی The Prophet of Logic ان کے اللہ پر ایمان لانے کا مرحلہ کا آغاز، چاند، ستاروں اور سورج کے طلوع اور غروب سے ہوا۔تب وہ استدلال کی طلب میں تھے۔انہیں ستارے کو، چاند کو اور سورج کو دیکھ کر خیال آیا کہ کائنات کا سب بڑا مظہر وہ ہیں مگر جب یہ غروب ہوئے تو آپ نے کہا کہ مجھے وہ شے کیسے اللہ لگ سکتی ہے جو غروب ہوجائے(سورۃالانام آیات 74-78)۔ اسکے بعد وہ اپنے والد اور قوم کے دیگر افراد کے بتوں کی طرف راغب ہوئے۔سو انہوں نے ایک بڑے بت کو چھوڑ کر سب کو مسمار کردیا اور جب پوچھ گچھ کا آغاز ہوا کہ یہ حرکت کس کی ہے تو آپ نے انہیں قائل کرنے کے لئے کہا یہ یقیناً  اس بڑے بت کی حرکت ہے۔ جب کہا گیا یہ تو نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہے نہ بولتا ہے نہ سنتا ہے تو آپ نے کہا تو پھر تم اس کی عبادت اللہ کو چھوڑ کر کیوں کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان۔سورۃ الانبیاء آیات نمبر 58-66)۔اس کے بعد کا مرحلہ ان کا استدلال طلب کرنے کا حرف آخر تھا۔آپ نے اللہ سے طلب کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندگی کو کیسے لوٹائے گا۔جواب ملا کہ کیا اسے اس بات کا یقین نہیں تو آپ نے جواب دیا کہ یقین تو ہے مگر میں ایمان میں استحکام کی خاطر یہ جاننا چاہتا ہوں سو حکم ہوا کہ چار پرندوں کو لے کر یوں سدھایا جائے کہ وہ اس کی آواز پر اڑے چلے آئیں۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہوگیا تو حکم ہوا کہ انہیں کاٹ کر ان کا قیمہ بنا دو اور اسے آپس میں ملا کر چار مختلف ٹیلوں کی چوٹی پر ڈال دو اور آواز لگاؤ۔ ان کی آواز پر یہ پرندے دوبارہ زندہ ہوکر اپنی سابقہ صورت میں واپس ان کے پاس آگئے(سورۃ البقرہ آیت نمبر 260)
اس نے پوچھا کہ اور استدلال کو ترک کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ ایمان مضبوط ہو تو اس سے توکل پیدا ہوتا ہے۔ توکل ایمان کی Value Added Productہے۔اس کی مثال یوں ہے کہ بتوں کو مسمار کرنے کے بعد جب حضرت ابرہیم کو آگ میں ڈالا جارہا تھا تو ایک حدیث مبارکہ کی رو سے حضرت جبرئیل علیہ سلام آپ کے پاس آئے اور کہا “ھل لک حلجتہ”(کیا مانگتے ہو) تو آپ نے جواب دیا “اما الیک فلا”(مجھے تم سے کوئی طلب نہیں)۔انہوں نے کہا تو پھر اللہ سے مانگ لو جس کے جواب میں آپ نے کہا “حسبی من سؤ الی علمہ بحالی”(میں جانتا ہوں کہ وہ اس بات سے واقف ہے کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے وہ مجھ سے بہت زیادہ دانا اور عظیم ہے اور میری فلاح و بہبود کا ذمہ اس ہی پر ہے۔آنٹی کہنے لگیں کہ اس ایک بات کو بے شمار اہل اللہ اپنی طلب کو رضا الہی کے سپرد کرنے کی دلیل بناتے ہیں۔

اب وہ آنٹی کے پاس تواتر سے جانے لگا اس پر صبح و شام جانے کی پابندی ہٹا دی گئی۔ یہ سلسلہ لگ بھگ چودہ سال جاری رہا۔اکثر نشستوں میں ان کے شوہر پی آئی ڈی سی کے ایک سابقہ ڈائریکٹر موجود صاحب بھی آن کر شریک ہوجاتے تھے۔وہ بڑے وجیہ، منکسرالمزاج اور خوش طبع آدمی تھے۔ بے حد عبادت گزار۔آپ ان سے ملتے تو لگتا تھا کہ بہت سبک دوش روح اپنے اندر بسائے ہوئے ہیں۔
آنٹی کہنے لگیں کہ جب یہ سیر کو جاتے ہیں تو کوئی نہ کوئی مجذوب یا رجال الغیب انہیں ہر دوسرے تیسرے ہفتے،ضرور ملتا ہے۔ان رجال الغیب کا تذکرہ تو آپ کو سر دلبراں، مر اۃالاسرار نامی کتب میں مل جائے گا۔آنٹی ہنستے ہوئے کہتی  تھیں کہ ہم حیران ہیں کہ ان مجذوبوں اور رجال الغیب کی دل چسپی ہمارے موجود صاحب میں کیسے ہوگئی۔ وہ انہیں ڈیفنس کے کسی نہ کسی پارک کی بنچ پر بیٹھے ہوئے مل جاتے ہیں ہنستے ہوئے کہنے لگیں ہم حیران ہیں پارک اور بنچوں کو تو چھوڑئیے ڈیفنس میں گھروں کی تقریبات میں کوئی معقول مرد نہیں ملتا۔ انہیں سڑکوں کے اندھیرے کونوں میں ایسے مرد مل جاتے ہیں۔عجیب عجیب باتیں بتاتے ہیں۔ اکثر تو انہیں پیسے دے جاتے ہیں جو یہ غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں۔
ہماری بیٹی کی شادی تھی۔لڑکے والوں کا اصرار تھا کہ شادی جلد ہو۔ہمارے پاس بندوبست کے لئے پیسے نہیں تھے۔ یہ ایک دن اسی فکر میں غلطاں،ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر والے پارک میں مغرب کی نماز کے بعد بیٹھے تھے کہ ایک مفلوک الحال شخص آگیا اور کہنے لگا “ابے کچھ تیرے پلے ہے”؟ انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر مدد کرنے کے لئے کچھ دینا چاہا تو کہنے لگا “ابے ہم تیری ملاقات کے لئے انبار۔ عراق سے آتے ہیں۔ تو نے پہچانا نہیں “۔یہ ایسے سادہ ہیں کہنے لگے کہ” آج کپڑے میلے اور ڈاڑھی بڑھی ہوئی ہے۔میں سمجھا کوئی سائل ہوگا”۔یہ سن کر اس نے جانے کہاں سے سو سو روپے کے نوٹوں کی گڈی نکالی اور دس ہزار روپے انہیں دے دئیے کہ “لے یہ تیری بٹیا کی شادی کا ہماری طرف سے تحفہ ہے”۔۔(پانچ سو اور ہزار کا نوٹ پاکستان میں ضیا الحق کے دور صدارت میں آیا)۔ساتھ ہی دشمن سے نجات کا ایک قرآنی وظیفہ بھی بتایا۔یہ جب گھر آئے تو بہت خوش تھے مگر میں یہ دشمن سے نجات والے وظیفے کا سن کر کچھ تردد میں پڑ گئی۔ دونوں چیزیں میل نہیں کھارہی تھیں۔بیٹی کے رشتے کے وقت میرے دل میں کئی دفعہ عجیب سے خیال آتے تھے مگر میں انہیں ایک ماں کے خیالات سمجھ کر جھڑک دیتی تھی۔ماؤں کا دل تو اولاد کے بارے میں ہر وقت ہی پریشان ہوتا ہے۔
میں نے پھر بھی اس کے سسرال والوں سے پوچھ لیا کہ ہماری بیٹی کو تنگ تو نہیں کروگے؟۔وہ کہنے لگے کہ ہمارے سات بیٹے ہیں اگر ہم اس کے ساتھ زیادتی کریں تو ساتوں کے جنازے دیکھیں۔میں ان کی اس یقین دہانی پر لرز کر رہ گئی۔شادی کے دوسرے سال سے ہی انہوں نے بیٹی کو مارنا تنگ کرنا شروع کردیا اور ایک دن رات گئے گھر سے نکال دیا ایک بچہ بڑا تھا دوسرا پیٹ میں تھا اور وہ ہمارے گھر تن کے کپڑوں میں ٹیکسی سے آگئی۔موجود کواس کا بہت صدمہ تھا۔ بیٹی سے وہ بہت پیار کرتے تھے کہ وہ اس پارک میں اسی جگہ بیٹھ جاتے تھے اور روتے تھے۔اچانک ایک شام وہ رجل الغیب آگیا اور کہنے لگا وہ وظیفہ تجھے اسی دن کے لئے دیا تھا۔ صرف ایک سال میں اس خاندان میں ہمارے داماد کے پانچ بھائی ہلاک ہوگئے اور اگلے سال باقی دو بھی۔اس سمیت۔۔

اس دوران کچھ خواتین ملنے آگئیں تو آنٹی ایم لان سے اٹھ کر ڈرائینگ روم کی طرف چلی گئیں مگر جاتے جاتے کہنے لگیں موجود وہ وظیفہ آپ کو تو کسی دوسرے کو بخشنے کی اجازت تھی وہ آپ انہیں بخش دیں۔
موجود صاحب کہنے لگے بسم اللہ۔ مگر آپ   کی کسی سے کیا دشمنی ہوگی؟
آنٹی ایم تب تک جاچکی تھیں ہم نے شرارتاً کہا ہے بہت شدید دشمنی ہے۔
اچھاکس سے؟!موجود صاحب کے چہرے پر تفکرات کے گہرے سائے منڈلا اٹھے۔
ان دنوں ایشوریا رائے اور سلمان خان کی فلم ہم دے چکے صنم کے حوالے سے دونوں کے لگاؤ کے بہت چرچے چل رہے تھے ہم نے شرارت سے کہا ایک شخص ہے انکل اس کا نام سلمان خان ہے اور وہ ایک خاتون ایشوریا رائے کے معاملے میں ہمیں بہت تنگ کررہا ہے۔
انکل کی سادہ لوحی کا یہ عالم تھا کہ انہیں نہ تو ان دونوں کے بارے میں کوئی علم تھا نہ وہ اس کے مذاق کو سمجھے اور کہنے لگے “آپ ایک ہندو عورت سے شادی کریں گے؟۔ہرگز نہیں!!!۔آپ کی بیگم تو بہت نفیس اور اعلی ظرف خاتون  ہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ہم دعا کریں گے کہ آپ کو اس حوالے سے اپنے ارادوں میں ناکامی ہو”۔ ارادوں میں ناکامی ہمارے سمیت بہت سوں کو ہوئی۔ہمارے کوئی ایسے ارادے تھے نہ اس نے یہ وظیفہ کبھی پڑھا۔ہم نے جب انہیں یقین دلایا کہ ہمارا  دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہم تو محض ایک مذاق کر رہے تھے تو کہنے لگے “ہاں دوسری شادی ویسے بھی ایک مذاق ہی ہوتی ہے”۔

ہم دل دے چکے صنم

اسی دوران مائی ٹی کو اسے آنٹی ایم کے پاس لے جانا پڑا۔ مائی ٹی بلا کی خوش پوش، خوش مذاق اور اپنی وارفتگیوں میں ایک عجیب طرز عمل کی مالک تھی۔ انگریزی میں بلا کی روانی اور اردو میں عجب سا لوچ تھا۔ اس پر اسٹائل ایسا کہ جہاں جاتی دس بارہ لوگ اسے پلٹ کر ضرور دیکھتے تھے، اس کی دوستی راحیل بخاری کی دوست فلو کے ذریعے ہم سے بھی ہوگئی۔و ہ راحیل کے آستانہء ابلیسیہ کی باقاعدہ ممبر تھی۔ تقریباً ہر شام وہاں آجاتی تھی۔ میاں عارفین کسی بڑی کمپنی میں اعلی عہدے دار تھا۔فلو کا کہنا تھا وہ اس کی بیوی نہیں مگر رہائشی گرل فرینڈ ہے جب کہ راحیل بخاری کا اصرار تھا کہ وہ اسے امریکہ سے بیاہ کر لے آیا تھا جہاں وہ ان دنوں اپنی والدہ کے پاس مقیم تھی۔ان دنوں وہ اپنے خوابوں کے حوالے سے بہت پریشان تھی۔ عارفین سے بھی اس کے تعلقات کچھ کشیدہ سے تھے۔
راحیل اور فلو کے اصرار پر اور خود اس کے مطالبے پر ہم اسے آنٹی ایم سے ملانے لے گئے۔سفید چوڑی دار پاجامہ اس پر باریک لمبا سیاہ کرتا اور کھلے ہوئے بال جو احتیاط سے چنے گئے دوپٹے کو اپنے خوشگوار بوجھ سے دبائے ہوئے تھے۔آنٹی نے پہلے تو ایک نظر بھر کر ہمیں دیکھا اور پھر ایسی ہی بھرپور نگاہ انہوں نے مائی ٹی پر ڈالی۔اس سے یہ سوال پوچھا کہ وہ کیا پیئے گی۔جب آنٹی اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگیں تو وہ بھی پیچھے پیچھے چل دی اور اپنے لئے بغیر چینی اور دودھ کی کافی اور اس کے لئے چائے کی ٹرے تھامے انہی  کے ساتھ لوٹ آئی۔
آنٹی کے سوال پر کہنے لگی کہ اسے خواب میں Demons(بھوت نما ہیولے) ہر رات دکھائی دیتے ہیں جو کبھی اس کے میاں کی صورت میں تو کبھی اس کی نند کی صورت میں اس پر حملہ آور ہوکر اسے نوچتے ہیں۔ اس پر آنٹی ایک خوش مذاقی سے کہنے لگیں یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ بھی ان Demons کو خواب میں دکھائی دیتی ہو ان بے چاروں سے بھی پوچھ لینا چاہیئے۔ مائی ٹی کو اس نے آہستہ سے گود میں رکھے اخبار کی آڑ میں کولہے پر چٹکی بھری کیوں کہ اس کے پھٹ پڑنے کا خدشہ تھا۔ایسا اگر ہوتا تو آنٹی مائی ٹی کو تو باہر نکال دیتیں اور اسے آئندہ آنے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روک دیتیں۔مائی ٹی کا اگلا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کچھ باتیں تنہائی میں ان سے کرنا چاہتی ہے۔
اس دوران موجود صاحب اخبار تلاش کرتے کرتے کمرے میں آگئے اور وہ ان کے ساتھ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ ان کے ذہن میں مجذوب کے بتائے ہوئے وظیفے اور سلمان خان اور ایشوریہ رائے والی بات تازہ تھی وہ اس سے پوچھنے لگے یہ وہ خاتون ہیں جن کا وہ ذکر کر رہا تھا۔ یہ تو ہندو نہیں لگتی۔
ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہمیں مائی ٹی نے اشارے سے اندر بلالیا آنٹی کو باہر سے کوئی فون آگیا تھا۔ وہ فون پر باتیں کررہی تھیں۔واپس آن کر وہ مائی ٹی سے پوچھنے لگیں کہ ہمارے اور اس کے تعارف کی وجہ کیا ہے تو مائی ٹی نے انگریزی میں کہا Well. He is a friend of friend(جی! یہ میرے دوست کے دوست ہیں) جس پر آنٹی نے اسی شرارت بھرے لہجے میں کہا بہتر ہے یہ آپ کے دوست کے دوست رہیں آپ کے دوست نہ بنیں ورنہ آپ کی پریشانیوں کا آغاز جلد ہوجائے گا۔ His Spiritual Guards these days are very strong. They have shoot to kill orders(ان کے روحانی محافظ ان دنوں بڑی طاقت میں ہیں انہیں گولی ماردینے کا حکم ملا ہوا ہے)۔ اس کے بعد انہوں نے مائی ٹی کے حوالے سے ایک طویل مراقبہ کیا اور کئی دفعہ اللہ صمد کا نعرہ بلند کیا۔مراقبے سے واپسی پر وہ کہنے لگیں کہ مائی ٹی جن کے ساتھ رہتی ہے انہیں چھوڑ کر واپس امریکہ چلی جائے گی۔وہاں کچھ عرصے بعد اسے ایک حادثہ پیش آئے گا جس کی وجہ سے وہ چار سے پانچ سال وہیل چئیر پر رہے گی۔اس دوران اس کی زندگی میں ایک سیاہ فام لمبا تڑنگا جن جیساشخص آئے گا۔جس سے تعلقات اس کی زندگی کا ایک اور دکھ بن جائیں گے۔ مائی ٹی یہ باتیں سن کر کھڑی ہوگئی ہمیں اس نے بکس میں ڈالنے کے لئے تین ہزار روپے دئیے اور جب وہ کار میں سوار ہونے لگے تو وہ کہنے لگی Do you really believe in this spiritual crap؟(کیا وہ واقعی اس روحانی بکواس میں یقین رکھتاہے؟) اس پرہم نے اسے گوتم بدھ کا وہ مشہور فقرہ سنا دیا کہ I see what you don’t see۔یہ جملہ وہ اپنے چیلوں کو اکثر کہا کرتے تھے۔

اسی شام ایک شادی کی تقریب تھی جسمیں مائی ٹی بھی مدعو تھی اور ہم بھی۔ مائی ٹی نے پوچھا کہ وہ آج کیا پہنے لباس اور حسن کے بارے میں ہماری رائے کو بہت اہمیت دیتی تھی۔ہم نے کہا کہ وہ اپنی الیکٹرک بلیو جامہ وار ساڑھی اور اس پر سلک کا لال چولی بلاؤز پہنے۔ جب وہ شام کو بن سنور گئی تو اس نے کہا کہ ہم ایک نظر آن کر اسے دیکھ لیں۔ ہم نے کہا دیگ کا ڈھکنا بار بار ہٹا کر دیکھنا باورچی کو تو لازم ہے مگر گیسٹ آف آنر کو یہ زیب نہیں دیتا۔ جس پر اس نے ایک سسکی بھرے لہجے میں کہا So you are my guest of honor tonight?(تو آج کی رات آپ مہمان خصوصی ہیں؟؟؟)مائی ٹی کو شادی میں سب لوگ دلہن سے زیادہ دیکھتے رہے۔ وہ سب سے الگ  تھلگ ایک پیڑ کے ساتھ کھڑی سگریٹ پیتی رہی۔ اس سے باتیں کرتی رہی اور ہلکے نزلے کے  باعث ٹشو پیپر سے ناک ایسے صاف کرتی رہی،جیسے نیک لوگ اپنی نیت صاف کرتے ہیں۔

اس رات ہمیں لگا کہ مائی ٹی کی آنکھیں ہم سے کچھ کہہ رہی ہیں۔ کچھ پوچھ رہی ہیں۔یہ اس کی بہت خاص کیفیت ہوتی تو جو ان کی ایسی ملاقاتوں میں تو عام ہوتی تھی جو اکثر اس کے گھر پر ہوتی تھی۔ وہ گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔ایسے میں اس کی آنکھیں سکڑ جاتیں۔ ہونٹ ایک خفیف سی کپکپاہٹ میں مبتلا ہوجاتے اور اوپر والے ہونٹ پر پسینے کے قطروں کی لڑی پھیل جاتی۔چہرے پر ایک عجب سی دھند چھاجاتی اور گردن کی رگوں میں ایک تناؤ سا آجاتا تھا۔آواز بند سی ہوجاتی تھی،کسی وال کے جواب میں ایک ہلکی سی اوں یا ام ام کرتی ہوئی۔ سگریٹ اس کی انگلیوں میں تھرانے لگتا تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ اس کیفیت میں وہ اسے ایک ایسا چیتا یا شیرنی لگتی ہے جو گھاس میں دبکی ہو، نگاہوں میں ایک وحشت بھرا انہماک لئے شکار کے لئے غول میں کسی بے خبر ہرن پر ششت باندھے، ایک پنجہ ہوا میں بلند، دم بدن کی سیدھ میں آہستہ آہستہ لہراتی ہوئی، جھپٹنے کے لئے تیار۔

چلتے ہوئے اس نے تجویز دی کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے ساتھ امریکہ چل پڑیں ۔ ہم ایسا کہاں کرنے والے تھے ۔ تعلقات میں فاصلوں کی بڑی اہمیت ہے ۔جو فاصلوں کا گیان رکھتے ہیں وہ خوش بھی رہتے ہیں اور محفوظ بھی۔جو دوست ہے اس کا احترام کرو اور فاصلہ رکھو۔ یہ ہماری اس سے آخری ملاقات تھی۔سب کے سمجھانے کو نظر انداز کرکے کے اس نے میاں کو چھوڑ دیا اور امریکہ جاکر Pizza Delivery Girl بن گئی۔اس دورا ن اس کی باقاعدگی سے ای میل آتی رہیں۔شاہ محمود قریشی اور چوہدری نثار کی طرح اسے بھی کم نکات طویل جملوں میں گم کردینے کا آرٹ آتا تھا۔اکثر جملے ایک دوسرے کی نفی ہوتے۔اسی اثنا میں ایک رات وہ کہیں پٹزا دینے گئی تھی کہ سیڑھیوں سے پھسلی اور چار سال تک وہیل چئیر میں رہی۔اس دوران اس کی دیکھ بھال ایک جمیکن کالے نے بہت کی۔ان کا دو سال بغیر شادی کا ساتھ رہا پر یہ ساتھ چل نہ پایا اور وہ دنیا کی بھیڑ میں اپنے دکھ لیئے جانے کہاں کھوگئی۔

امریکہ جانے سے پہلے اس نے راحیل کی اور اس کی پرانی دوست فلو کو کہا کہ جب وہ چلی جائے تو وہ ہمیں  ایک جملہ اس کی جانب سے کہے اور اس سے فرمائش کرے کہ وہ اس پر کوئی اردو میں شعر لکھے۔وہ جتنے مردوں سے ملی ان میں کسی نے اس کی بہت سی تصویریں کھینچی،انگریزی میں نظمیں لکھیں، ایک آدھ نے اس کی پینٹنگز بھی بنائیں مگر اردو میں کسی نے اس پر شعر نہیں کہا۔جب وہ یہ شعر لکھ لے اور اس کے جملے کے جواب میں بیان کئے گئے ہمارے تاثرات وہ اس کے مائی سپیس والے پیج پر بلاگ کردے۔وہ جملہ کیا ہےَ فلو نے اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگی Please tell him in my life he was dancing dervish of destruction(اسے بتادینا کہ میری زندگی میں وہ تباہی کا ایک محو رقص درویش تھا)۔اسی نے وضاحت کی کہ یہ جملہ اس نے اداکارہ شیرن اسٹون کے ایک انٹرویو میں پڑھا تھا اور اسے یہ بہت اچھا لگا۔شیرن اسٹون جو اپنی فلم بیسک انس ٹنکٹ کی کامیابی کے بعد بہت مشہو ر اداکارہ بن گئی تھی جب فلم سلائیور کے سیٹ پر گئی تو وہاں اس کا افیئر ایک ایسے شادی شدہ مرد سے چل پڑا جس کی زندگی میں بہت ناکامیاں تھیں،عام سی شکل و صورت کا عام سا آدمی۔افئیر تو کل چھ ہفتے چلا مگر اس کے نتیجے میں چار طلاقیں ہوئیں۔ جو بھی کسی کو سمجھانے جاتا تھا۔ اس کا ایک دوسرے کی بیوی سے معاشقہ چل نکلتا تھا اور سب کا الزام،شیرن اسٹون کی حرکتوں کو جاتا تھا۔جس پر اس نے یہ فقرہ کہا۔
فلو نے جب اس سے پوچھا کہ یہ ڈانسنگ درویش کون ہوتے ہیں؟۔۔۔۔ تو ہمیشہ کی بد لحاظ مائی ٹی نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جو ہے وہی بتائے گا۔اسے ان چیزوں کا بہت علم ہے۔

وہ جب چلی گئی تو ایک رات فلو نے ہمیں، راحیل کو ایک دو اور دوستوں کو کھانے پر بلایا۔وہاں جب مائی ٹی کا حکم نامہ اس جملے کا ساتھ سنایا تو ہم نے کہا شعر پڑھنا اور یاد کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے شعر موزوں کرنا  ہمیں بالکل نہیں آتے، پھر بھی وہ کوشش کرکے دیکھے گا۔جب فلو نے پوچھا کہ یہ ڈانسنگ درویش کون ہوتے ہیں تو وہ کہنے لگا ممکن ہے مائی ٹی سے غلطی ہوئی ہو انہیں ڈانسنگ نہیں Whirling Dervish کہا جاتا ہے۔ سماع کی باقاعدہ اجازت صرف چشتی اور مولانا رومی کے مولوی سلسلے میں ہے باقی درویش جو دیگر سلسلوں سے متعلق ہوتے ہیں وہ اگر سماع سنیں تو یہ ان کا انفرادی فعل ہے اور حال ذات ہے۔ اس کی ان کے سلسلے میں باقاعدہ اجازت نہیں۔


ترکی کے شہر قونیا میں جہاں مولانا روم کا مزار ہے وہاں سماع کی محفل ہوتی ہے،وہاں سفید چوغوں میں ملبوس درویشوں کا ایک حلقہ،دائرے کی صورت میں مولانا رومی کی تقلید میں رقص کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ مولانا روم پر یہ کیفیت کلمہء طیبہ کے ذکر کے وقت طاری ہوتی تھی اور وہ اٹھ کر وجد میں آن کر ایک دائرے کی شکل میں محو رقص ہوجاتے تھے۔ان کو اس ذکر میں کائنات ساری ایک دائرے کی شکل میں محو رقص دکھائی دیتی تھی۔
یہ تو ہوئی وہاں پر جاری رسم کی ایک بات مگر اصل قصہ یہ ہے کہ مولانا روم کو حضرت شمش تبریز سے بڑی عقیدت تھی جو ان کے مریدین بشمول ان کے صاحبزادے علاالدین کو بھی سخت ناگوار گزر تی تھی۔فیصلہ یہ ہوا کہ شمش تبریز کو قتل کردیا جائے کیوں کہ وہ مولانا روم کی خدمات تعلیمی میں بہت خلل ڈال رہے ہیں۔ایک شب جب یہ دونوں اپنی مجلس قائم کئے بیٹھے تھے اس ٹولے نے دروازے پر دستک دی۔ مولانا اٹھے کہ  دروازہ کھولیں مگر شمش تبریز نے ایک روایت کے مطابق انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ موت کے بلاوے پر لبیک اسی نے کہنا ہے جس کے لئے بلاوا آیا ہو۔ دروازے کا کھلنا تھا کہ یہ گروپ ان پر حملہ آور ہوا جسمیں مولانا کا صاحبزادہ پیش پیش تھا۔ جیسے ہی قاتلانہ حملے میں ان کا خون زمین پر گرا وہ ایک بگولے کی صورت میں رقص کرتا ہوا آسمان کی طرف بلند ہوگیا۔ بعد میں اسی بگولے کی بلندی کو سماع زنوں نے ایک رقص کے روپ میں ڈھال لیا۔

مائی ٹی کے چلے جانے کے بعدہم اس پر یہ دو شعر موزوں کئے اور فلو کو دے دئیے جو اس نے اپنے بلاگ کے ذریعے مائی ٹی کے My Space والے صحفے پر Blog کردئیے۔ع
جو چلا گیا،وہ قریب تھا، کسی اور کا نصیب تھا
شب وصل معاملہ عجیب تھا، میرا دل بھی میرا رقیب تھا
انہیں حسن پہ اپنے ناز تھا، یہاں کم نہ تھے دل کے حوصلے
جہاں جراتوں کی رسائی تھی، وہیں سایہ ء صلیب تھا

بات آنٹی ایم کی پیش گویوں کی ہورہی تھی۔
ایک دن شہر میں کئی لوگ مارے گئے۔سندھ کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی با ت کا غلغلہ بلند ہوا۔ فوج کے ایک افسر نے جناح پور کے نقشوں کا شور مچایا۔ہم آنٹی کے پاس پہنچے تو وہ خلاف معمول بہت سجی بنی بیٹھی تھیں۔ایسا لگ رہا تھا کہ کہیں کسی تقریب میں جانے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ہمیں دیکھ کر کہنے لگیں۔آپ کچھ اجڑے اجڑے سے لگتے ہیں؟۔۔۔
ہم نے جب کہا کہ آنٹی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا تو وہ بہت زور سے ہنسیں اور پھر ایک دم سنجیدہ ہوکر کہنے لگیں انہوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کچھ عرصے پہلے خواب میں دیکھا تھا سفید گھوڑے پر سوار پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں لئے۔ پہلے انہوں نے سندھ کراس کیا اور چلتے چلے گئے اور پھر جہاں حیدرآباد دکن یعنی آندھرا پردیش کی سرحدمہارشٹرا کی سرحد سے ملتی ہے بھارت میں وہاں کوئی اسٹیشن پوسوان ہے۔ وہ جھنڈا آپ نے وہاں زمین پر گاڑ دیا اور کہنے لگے پاکستان کی نئی سرحد یہاں تک ہوگی۔
اس نے کہا کہ ایسا کب ہوگا؟ تو فرمانے لگیں کہ اللہ کا ٹائم فریم اور ہمارا وقت کا شعور بہت علیحدہ ہے۔ وقت کیا ہے؟۔۔ہم اس کی تخلیق کردہ کائنات میں ہی وقت کو ناپنے کے معاملے میں صحیح طرح سے کامیاب نہیں۔مثلاً کائنات میں ایسے کئی سیارے موجود ہیں جو زمین سے برسوں کی مسافت پر ہیں وہاں سے اگر کوئی پیغام بھیجا جائے تو یہاں پہنچتے وقت اسے کئی برس لگ جائیں گے تو وہاں کا وقت اور ہمارا وقت تو ایک نہ ہوا۔اب آپ اذان ہی کو لے لیں۔ جس کی صدا ہر وقت دنیا میں بغیر رکے بلند ہورہی ہوتی ہے۔ہم جب فجر کی آ ذان سن رہے ہوتے ہیں تو کہیں ظہر کی آذان ہورہی ہوتی تو کہیں مغرب کی۔آپ اصحاب کہف کا قصہ الکہف میں آیت نمبر ۹۱ میں قرآن کریم میں پڑھیں گے تو بیدار ہونے پر ایک نے باقی ساتھیوں سے پوچھا ہم اس غار میں کتنا عرصہ سوئے رہے۔ تو جواب ملا ایک دن یا اس سے کم۔ جب کہ وہ اس غار میں ۹۰۳برس تک سوئے رہے تھے۔
بہت بعد میں اس نے کرنل صاحب، جن کے پاس آنٹی نے اسے بغرض تربیت بھیجا تھا وہ کہنے لگے آپ کی آنٹی ٹھیک کہتی ہیں۔پاکستان پر ایک ایسا برا وقت آئے گا کہ اس کے شہر مثل گاؤں ہوجائیں گے اور گاؤں میں دس دس کوس تک دیا نہیں جلے گا۔اس کے بعد پاکستان کا ایک ایسا سنہری دور شروع ہوگا کہ لوگ جس طرح امریکہ کے گرین کارڈ کے لئے تڑپتے ہیں اس طرح پاکستان کی شہریت کے لئے تڑپا کریں گے۔
کرنل محمد اختر رضوانی صاحب فنا فی شیخ کے درجے پر ایک ایسی ہستی تھے۔جن کا دل ہر وقت لاحول ولا قوۃ الا باللہ کے ذکر پر یوں لگا رہتا تھا کہ آپ کو اگر وہ کبھی مہربان ہوکر گلے لگاتے تو آپ کو لگتا تھا کہ سمند کی ایک بپھری ہوئی موج آپ کے سینے سے آن کر ٹکرائی ہے۔ لوگوں کا دل بائیں جانب دھڑکتا ہے مگر آپ کا دل ہر وقت سیدھے شانے سے ذرا نیچے دھڑکا کرتا تھا یہ دھڑکن ان کے موٹے سادہ کرتے سے آپ با آسانی دیکھ سکتے تھے۔ اس نے پوچھا   کہ آپ جو یہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ذکر کرنے کو عطا کرتے ہیں تو اس کا  ایک حصہ یہ بھی تو ہے کہ العلی العظیم تو آپ نے مسکراکر جواب دیا کہ ہمارے بابا جی حضرت دین محمد جن کا مزار ڈنگا جہلم کے پاس ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ڈانگ (وہ ڈنڈا جو دیہاتی کسان اپنے ساتھ رکھتے ہیں) اونچی ہوجائے تو شاخوں میں الجھ جاتی ہے۔ سو جو بھی بھلا ہونا ہے اللہ کی مہربانیوں سے اسی ذکر سے ہوجائے گا۔
لوگ ان کے بارے میں کچھ عمدہ خیالات نہیں رکھتے تھے مگر چونکہ آپ ایک قلندر تھے لہذا لوگوں کی رائے کی کچھ پروا نہیں کرتے تھے۔اس معاملے میں آپ ملامت کے قائل تھے۔ملامت کا سلسلہ حضرت ابو حمدون نے جاری کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ا لملامۃ ترکُ سلامۃ یعنی سلامتی کو ترک کرنا ملامت کا نام ہے۔
ان کے نزدیک اس ملامت کا تعلم رسول اکرم کی اپنی زندگی سے آیا تھا۔ جب تک آپ نے دین کی تبلیغ کا آغاز نہ فرمایا تھا۔اپنے کردار کی عظمت کے حوالے سے پورا مکہ آپ کو امین اور صادق کہا کرتا تھا۔جیسے ہی آپ نے دین کی تبلیغ شروع کی آپ پر ملامت کا آغاز ہوگیا۔ وہاں کے لوگ آپ کو نعوذ باللہ مجنوں، سحر زدہ اور کسی جن کے زیر اثر کہنے لگے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بندہ جب مخلوق سے ناامید ہوجاتا ہے تو اللہ کے قریب ہوجاتا ہے۔آ پ سے کسی نے دریافت کیا کہ صوفی کون ہوتا ہے؟۔۔۔ تو جواب ملا کہ جو اللہ سے لذت پائے وہ صوفی ہے۔کوئی شے بندے کو اللہ سے اتنا دور نہیں کرتی جتنا وہ دنیاوی مرتبہ اور مان جو لوگوں نے کسی بندے کو دیا ہوتا ہے۔ جیسے کسی کا بادشاہ، وزیر،صدر یا کوئی اور بڑے عہدے پر براجمان ہونا۔وہ مناصب دار اپنے اس منصب کے سحر اور اس کی آسائشوں میں الجھ کر،اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔اسے اپنے اسی عہدے کے حوالے سے Image اور ساکھ کی بڑی فکر لگی رہتی ہے۔اسی لئے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ع
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم گماں، لا الہ الا اللہ

ملامت کا غالباً ایسا ہی کوئی لمحہ ہوگا کہ بیٹی جو بلا کی خوش شکل تھی اور انتہائی تعلیم یافتہ بھی اس کا رشتہ پاکستان کی ایک بے حد طاقتور شخصیت کے بیٹے کے لئے آیا۔ جس  سے  آپ کی اہلیہ کا کزن والا رشتہ تھا۔اس رشتے کے ساتھ آپ کے لئے یہ بھی پیشکش آئی کہ انہیں وہ پولیس میں ڈی آئی جی لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔وہ تو آپ نے اپنے مرشد سے اس حوالے سے خواب میں رجوع کیا وہاں سے حکم ملا کہ بیٹی کی شادی اپنے ملازم سے کردو۔ آپ نے لبیک کہا اور بیٹی نے بھی باپ کے سامنے زبان نہ کھولی۔
وہ جہلم میں رہا کرتے تھے،ہمارا ان سے اکثر رابطہ ان سے خطوط اور فون کے ذریعے رہتا تھا مگر ان میں کشف والی یا آنٹی ایم کی طرح مسائل کو چٹکیوں میں حل کردینے والی کوئی بات نہ تھی۔ ایک دفعہ وہ ان سے ملنے گیا۔ان کی محفلوں میں ایک عجیب بات ہوتی تھی۔ سب سے پہلے تلاوت کلام پاک، پھر نعت رسول مقبول اور پھر درس و تعلیمات اور آخر میں دعا اور پھر سادہ سا لنگر جس کی ذمہ داری اپنی حیثیت کے مطابق اس شخص کی ہوتی جس کی کوئی من کی مراد وہاں مانگی جانے والی دعا کے نتیجے میں پوری ہوئی ‘ due(ازراہ کرم اسے شیطان کا حق سمجھیں)”۔
چیف صاحب کمال مہربانی سے مسکرائے اور” “Well Said (خوب کہا) کہہ کر کسی اور جانب بڑھ گئے۔مہمانوں کا ایک جم غفیر ان سے ملنے کا مشتاق تھا۔
یونس حبیب کی ایف آئی آر بھی کٹی اور وہ گرفتار بھی ہوا۔جن عدالتوں میں وہ اپنے پر درج مقدمات کے سلسلے میں پیش ہوتاتھا وہ اکثرہمارے مختلف دفاتر کے قریب ہوتی تھیں۔جیل کے آئی جی سے لے کر اپنی حفاظت پر معمور سبھی لوگوں سے یونس کے خوشگوار تعلقات تھے۔یوں جب بھی موقع ملتا وہ اس کے دفتر مقدمہ شروع ہونے سے پہلے کسی نہ کسی پیشی پر ضرور آجاتا۔اطمینان سے کرسی پر براجمان ہوکر خود ہی چائے کا آرڈر دے کر اپنے نیلے آسمانی سوٹ کی اوپر کی جیب سے بڑا سا پان نکالتا اور منہ میں ٹھونسنے کے بعد چمکیلے براؤں جوتوں میں پھنسے ہوئے سرخ موزوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، ایک ہاتھ میں تھامے سگریٹ سے لمبا سا اطمینان بھرا کش لے کر اس کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا حال ہے؟!!! تو وہ جواب میں مسکراکر کہتا تھا ۔۔۔۔سب مایا ہے۔

یونس حبیب

جس کے جواب میں عدنان مسکراکر جواب دیتا ع
اس عشق میں
جو کچھ کھویا ہے
جو پایا ہے
جو تم نے کہا
جو میرؔ نے فرمایا ہے
سب مایا ہے(ابن انشاؔ)
اس کی اس حراست میں نہ چیف صاحب کام آئے نہ تعلقات کے اس جم غفیر میں کوئی اور اس کی مدد کو آیا۔۔۔
انہی  دنوں ہم اسلام آباد جہاز سے جارہے تھے دوران پرواز اسے ایک میمن سیٹھ سے ہماری ملاقات ہوئی وہ پوچھنے لگے کہ کیا ہم شادی میں شریک ہونے جارہے ہیں۔ اس دن اسلام آباد میں ہونے والی ایک شادی کا بہت غلغلہ تھا۔ہم نے کہا کہ نہ وہ ان صاحب کو جانتا ہے جن کی صاحبزادی کی شادی ہے نہ وہ مدعو ہے۔
وہ میمن سیٹھ تضحیک بھرے لہجے میں کہنے لگے This means neither you are good bureaucrat nor you are human being
ہمیں ان کا یہ انکشاف کچھ سخت اور نامناسب لگا۔یہ میمن گجراتی لوگ اپنی گفتگو میں بہت احتیاط پسند ہوتے ہیں۔ امریکی صدر کی طرح اگر کوئی سخت بات بھی کہنی ہو تو الفاظ کا انتخاب بہت محتاط اور شائستہ ہوتا ہے،بلکہ قدرے نرم۔ان کا Establishment ویسے ہی الفاظ استعمال کرتا ہے جیسے امریکی وزیر دفاع کولن پاول نے صدر مشرف سے 9/11سے فون پر بات کرتے ہوئے استعمال کئے تھے کہ Either you are with us or against us نیلی آنکھوں والے یہ عالی مقام بریگڈیئر جن کی صاحبزادی کی شادی میں شرکت سے محرومی پر ہمیں یہ بھیانک الفاظ سننے پڑے تھے۔ دراصل پاکستان کے نیگروپونٹے تھے۔ بس نیگرو پونٹے کے مقابلے میں ان کی معلومات جہاں بانی محدود، دائرہ کار انتہائی تنگ اور انگریزی ماٹھی تھی۔جمی جمائی حکومتوں کو یہ اتھل پتھل کردینے کے ماہر جیسے کیرم بورڈ کا اسٹرائکر اپنی پہلی ہی ضرب سے بورڈ پر احتیاط سے جمائی ہوئی گوٹوں کو بکھیر دیتا ہے۔

چرخ کہن نے پھر وہ دن بھی دیکھا کہ اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر محمد علی کے دفتر میں ان کی صاحبزادی اپنے زیر حراست والد صاحب کو پرہیز کا کھانا دینے کے لئے سراپا درخواست بنی کھڑی تھی۔
وہ تعلقات وہ طاقت جس پر انہیں یونس حبیب کی طرح بہت ناز تھا اس معمولی درخواست کو پورا کرنے کے معاملے  میں کچھ کام نہیں آرہا تھا۔آنٹی ایسے موقعوں پر دو باتیں کہا کرتی تھیں کہ سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر اکتالیس میں اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے سہارے ڈھونڈتے ہیں ان کی مثال مکڑی کے گھر کی سی ہے اور دنیا میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا جالا ہے۔بس اگر وہ جان لیں دوسرے وہ داتا گنج بخش ؒ کا یہ قول اس کے سامنے اکثر دہراتی تھیں کہ بڑے آدمیوں کی قربت سانپ اور بچھؤں کی قربت ہے۔

آج ہمیں دیا جانے والا یہ حکم،اس ملاقات سے بالکل مختلف تھا جو اس کے روحانی رہنما کرنل صاحب دے رہے تھے۔ہمیں ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہمیں جہلم کے فوجی قبرستان میں زندہ در گور کردیا ہو۔ہم نے ایک بے چارگی سے کرنل صاحب کی جانب دیکھا مگر وہاں اس کے تردد پر کوئی پشیمانی نہ تھی۔
ہم مسلسل چھ ماہ اس تگ و دو میں لگا رہے کہ جنرل صاحب المعروف بہ صدر پاکستان پرویز مشرف سے  ملاقات کی کوئی صورت نکل آئے اور ہم کرنل صاحب کا یہ پیغام کچھ قابل بیان لفظوں میں ان تک پہنچا دیں۔ ایسا نہ ہوا۔۔۔۔
کرنل صاحب ہم سے مختلف خطوط اور فون پر ہونے والی گفتگو میں اس کی کوششوں کا ضرور پوچھتے۔ اس کی کوششوں میں کچے پن اور بے دلی کا عنصر نوٹ فرماتے۔بالآخر وہ اس بات پر رضامند ہوگئے کہ وہ کور کمانڈر صاحب جو ان کے بڑے نزدیکی ساتھیوں میں بطور جرنیل شمشیر و سناں میں شمار ہوتے تھے ان کے ذریعے یہ پیغام آگے پہنچا دے۔
ہم نے آنٹی سے اس بات کا تذکرہ کیا اور اپنے خوف خمیازہ کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگیں مل لیں، کچھ نہیں ہوگا اور ملاقات بھی ہوجائے گی۔ گو اس کے بعد ہماری پوسٹنگ تبدیل ہوجائے گی ہم کسی بہتر پوسٹنگ پر چلے جائیں گے۔کور کمانڈر صاحب نیک آدمی ہیں اور خوف خدا بھی دل میں رکھتے ہیں اور بزرگوں کا دل سے احترام بھی کرتے ہیں۔ان کا انجام بھی مجھے ان جیسے جرنیلوں سمیت جو دین کا خوف دل میں رکھتے ہیں اچھا نہیں دکھائی دیتا۔ آپ دیکھئے گا یہ سب ایک طرف کرکے اپنے عہدوں سے ہٹادیے جائیں گے اور ملک میں کرپشن، اقربا پروری اور بے اصول، طرز حکومت کا ایک طویل دور آئے گا۔ کرائسس آفٹر کرائسس کا آغاز ہوگا۔
ان دنوں ایک میجر صاحب جو فرشتوں میں سے تھے۔بڑی باقاعدگی سے ہمارے دفتر میں آیا کرتے تھے۔اپنا نام فیصل بتاتے تھے۔
ہم بخوبی جانتا تھا کہ یہ خفیہ اداروں کے افسر اور طوائفیں کبھی اپنا اصلی نام نہیں ظاہر نہیں کرتے۔
ان سے جب اس خواہش اور حکم کا اظہار ہم نے کیا تو وہ اس بات پر رضامند ہوگئے کہ کور کمانڈر کا جو اسٹاف افسر ہے وہ ان کا کورس میٹ ہے وہ اس سے تذکرہ کریں گے آگے اللہ مالک ہے۔
تین دن بعد وہ کور کمانڈر کے دفتر میں ملاقات کے لئے منتظر تھا، ملاقات کے لئے تین بریگیڈئیر صاحبان اور دو میجر جنرلز بھی موجود تھے۔
ہماری آمد کے فوراً بعد وہ اسٹاف افسر اٹھا اور اندر اس کی آمد کا بتانے چلا گیا۔
واپس آن کر اس نے کچھ ہدایات جاری کیں کہ وہ اس ملاقات میں کوئی بات اپنی ملازمت کے حوالے سے نہیں کرے گا۔پانچ منٹ کی ملاقات ہے چوتھے منٹ پر وہ کسی بہانے اندر آئے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملاقات کا وقت اب ختم ہونے کو ہے۔کمانڈر صاحب مروتاً اگر اس سے چائے کا پوچھیں تو وہ انکار کردے۔یہ چائے وہ اس کے دفتر میں پلائے گا۔وہ اردگرد نظر دوڑا کر دیکھ سکتا ہے کہ ملاقات کے لئے کتنے اہم لوگ بیٹھے ہیں۔ جنرل صاحب نے ازراہ عنایت اس کے لئے یہ پانچ منٹ اپنے مصروف اسکیجول میں بمشکل Squeeze کیئے ہیں۔اس پرہم نے اتنا ہی کہا کہ جتنی کوفت اسے جنرل صاحب سے اسے ملانے میں ہورہی ہے اتنی ہی کوفت ہمیں بھی یہاں آن کر ہورہی ہے۔اس پر سب نے اسے چونک کر دیکھا۔
جنرل صاحب ہم سے بہت تپاک سے ملے۔ نورانی چہرہ تھا اور دین کی محبت ان کے بشرے سے نمایاں تھی۔
ابتدائی تعارف کے بعد جنرل صاحب نے ہم سے پوچھا کہ ہم کہاں رہتے ہیں تو ہم نے پھر وہی چھوٹے آدمیوں والی حرکت کی جو اس نے یونس حبیب کے ہاں ہونے والی چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کے وقت کی تھی۔ نگریزی میں جواب Sir! We are close doors neighbors
جنرل صاحب ہماری اس غلط انگریزی کی تصحیح کرتے ہوئے کہنے لگے Isn’t it next door neighbors
جس پرہم نے نے کہا It is indeed. But as your doors are always closed on neighbors,that’s why i said closed door neighbors
جنرل صاحب زور سے ہنسے اور کہنے لگے Well I like that
آپ کے بزرگ کا پیغام کیا ہے؟۔۔۔۔۔ وہ پوچھنے لگے۔
انہی  الفاظ میں جیسے انہوں نے دیا ہے یا کچھ نرم کر کے؟۔۔۔۔۔ ہم نے استفسار کیا۔
بالکل انہی الفاظ میں جنرل صاحب نے مطالبہ کیا۔۔۔۔
سر ان کا پیغام یہ ہے کہ صدر پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے کہیں کہ وہ انسان کا بچہ بن جائیں۔پاکستان کا سودا اپنے مفاد میں نہ کریں۔ملک اور اسلام کے فروغ کی خاطر کام کریں ورنہ ذلت اور رسوائی ان کا مقد ر بن کر ان کا پیچھا کرے گی۔
Little Harsh(ذرا سخت لہجہ ہے) جنرل صاحب نے تبسم اپنے ہونٹوں پر سجا کر کہا۔
Your take. Sir(آپ کی مرضی!جنابِ من) ہم نے کہا۔

آپ کے کرنل صاحب فون پر مل سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔ جنرل صاحب نے سوال کیا۔
اس دوران ان کے اسٹاف افسر نے اپنا چہر دکھایا تو وہ کہنے لگے کہ ایک تو ان کا خصوصی فون انہیں وہ لا کر دے۔ ریفریشمینٹ اندر بھیج دے اور اس وقت نہ کوئی فون ملائے نہ وہ خود اندر آئے، جب تک وہ نہ کہیں۔
فون ملا تو وہ کرنل صاحب سے پچاس منٹ تک بات کرتے رہے۔اس دوران یس سر یس سر کی گردان جاری رہی ۔۔جنرل صاحب کہہ رہے تھے وہ ان سے ملنے خود جہلم آئیں گے ممکن ہے صدر صاحب مان جائیں تو یہ ملاقات منگلا میں ہوگی۔آنٹی ایم کے پاکستان کی پھیلتی ہوئی سرحدوں کے حوالے سے بیان کئے ہوئے خواب کا بھی شاید ذکر ہوا کیوں کہ فون رکھنے کے بعد انہوں نے عدنان سے اس اسٹیشن کا نام پوچھا جوہم نے پوسوان بتایا تو جنرل صاحب کہنے لگے کہ وہ نقشے پر اسے بعد میں تلاش کریں گے کیوں کہ یہ نام ان کے لئے ذرا غیر معروف ہے۔ ہم نے وضاحت پیش کی کہ ان دنوں ہندوستان میں بہت سے مقامات کے نام بدلے جارہے ہیں۔وہ کہنے لگے کہ آپ کے بزرگ بہت عمدہ شخصیت ہیں مگر ان کے منصوبے پر عمل کرنے کا مطلب بہت بڑا پالیسی شفٹ ہوگا جو شاید ممکن نہ ہو۔وہ ہمیں بھی دھمکی دے رہے تھے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کا انجام بھی کچھ ان کے لئے پسندیدہ نہ ہوگا۔
حکومت وقت کی پالیسیوں میں نہ کوئی تبدیلی آئی نہ ان جنرل صاحب کا انجام کچھ اچھا ہوا۔ہماری پوسٹنگ بھی تبدیل ہوگئی۔آنٹی ایم کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچی نکلی۔
آنٹی ایم سے ایک ملاقات میں اس نے کہا کہ اس کے کچھ کام ہیں جو پورے ہوکر ہی نہیں دیتے وہ مراقبہ کرکے کہنے لگیں عجب بات ہے حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میرا سینہ کھول دے (رب اشر ح لی صدری والی دعا سورۃ طہٰ آیت نمبر پچیس سے اٹھائیس) اور ہمارے نبی کو خود اللہ نے جتایا کہ کیا ہم نے تمہارا سینہ نہیں کھولدیا۔تم پر سے وہ بوجھ نہیں ہٹادیا جو تمہارے لئے ایک بارِ گراں تھا(سورۃ الم نشرح)۔آپ فجر کی نماز کے بعد وہ سورۃ اول آخر گیارہ دفعہ درود ابراہیمی کے ساتھ وہ سورۃ تینتیس دفعہ پڑھا کریں۔ چھوٹی سی سورہ ہے۔ خود ہی راستے بن جائیں گے۔ایسا ہی ہوا۔
ہم نے پوچھا کہ آنٹی آپ کی ملاقات کراچی میں کچھ بزرگوں سے بھی ہوئی؟!وہ کہنے لگیں دو د فعہ ایسا ہوا۔ یہاں کراچی یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمینٹ تھے پروفیسر اشرف الحق وہ مجھے ایک دفعہ اصرار کرکے حضرت ذہین شاہ تاجی سے ملوانے لے گئے تھے مگر مجھے وہاں کچھ مزہ نہیں آیا بلکہ طبیعت الٹی مکدر ہوئی کہ لوگ وہاں ان کے پیر بھی چومتے تھے اور سجدہء تعظیمی بھی کرتے تھے۔یہ ہمارے نزدیک جائز نہیں تھے ہمارے استاد شیخ مطلوب الرحمان اس سے منع کرتے تھے۔وہ ہم سے بہت عمدگی سے پیش آئے، مگر ہم وہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرے۔ دوسرے ایک بزرگ بابا عبدالحق تھے۔ وہ آپ کے لیاقت آباد کے سی ایریا میں اپنے ڈیرے پر ہوتے تھے۔ہمارے بڑے بیٹے فرازی کی آنکھوں میں ایک عجب بیماری لاحق ہوگئی۔اس کی بینائی تیزی سے جارہی تھی۔ڈاکٹر سب مایوس تھے۔
ہم کو داروغہ جی نے ایسے موقعوں پر ایک خاص عبادت سکھائی تھی۔ ہمیں اس نماز کی ادائیگی کے بعد ایک بزرگ دکھائی دیئے جن کا قیام لیاقت آباد میں تھا۔ یاد آیا کہ ہمارے ایک محترم ملنے والے بریگیڈئر حیات ان کا کئی دفعہ ذکر کرچکے تھے اور بضد تھے کہ ہم ان سے ملیں۔ اب کی دفعہ ہم نے اس کا ذکر بریگٰڈئر حیات سے کیا۔وہ بعد میں کہیں سفیر بن گئے تھے۔ وہ ہمیں ان کے پاس لے گئے تھے۔بڑا سا ڈیرہ تھا۔ بیٹا بھی ہمارے ساتھ تھا۔ بڑی عزت سے پیش آئے۔ ہمیں اپنی کلائی کی گھڑی اتار کر دکھا کر کہنے لگے” عطیہ بیگم یہ دیکھو یہ قیمتی رولیکس گھڑی ہے۔پھر اسے اچھالتے ہوئے کہنے لگے تم اپنی صلاحیتوں کو ایسے اچھال اچھال کر کھیلتی ہو۔ موٹے مرغوں کو ذبح نہیں کرتیں۔ہم تو اس کی قیمت لے کر غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ ان کی چھوٹی بڑی خوشیاں ان کی جیب پر ہاتھ مار کر پوری کرتے ہیں “۔اس دوران وہ پاندان سے پان لگا لگا کر کھاتے رہے۔انگلیوں سے اپنے پان پر خود ہی کتھا چونا لگاتے تھے۔ہم سے کہنے لگے ” دیکھو یہ جو بڑھیا بیٹھی ہے کونے میں اس کی بیٹی بہت ذہین ہے آگے پڑھنا چاہتی تھی۔ مگر اس کی مرضی نہ تھی کہ وہ اسے یونیورسٹی بس سے بھیجے۔ہم نے کہا تیری بیٹی یونی ورسٹی ضرور جائے گی، مگر ٹیکسی سے جائے گی اور آئے گی۔ سو ہم نے ایک موٹے مرغے کو ذبح کرکے ٹیکسی اس کے لئے پابند کردی ہے۔ اب وہاں اس کا دوسرا برس ہے۔ ٹیکسی سے آتی جاتی ہے”۔

اس دوران انہوں نے فرازی کی تکلیف کا احوال بھی پوچھ لیا اور کہا قریب کرو اس کی آنکھ دیکھ کر اپنی انگلی پان لگانے کے لئے چونے میں ڈبوئی اور اس کی آنکھ پر لگادی، ہماری تو چیخ نکل گئی۔ہم نے سوچا کہ رہی سہی بینائی بھی گئی۔کہنے لگے کہ “ڈرو مت اسے سفید تکیے پر اوندھے منہ تین دن سلاؤ۔ تین دن تک اس کی آنکھ سے جو نکلے۔ وہ ایک چھوٹی شفاف بوتل میں بند کرکے لے آنا۔ہم نے ایسا ہی کیا ہر صبح اس کی آنکھ سے ایک کالی جھلی جھڑ کر تکیے پر گری ہوتی تھی۔چوتھے دن ہم گئے تو وہ کہنے لگے اب تمہارا یہ بیٹا ساری عمر چشمہ نہیں لگائے گا۔ماشا اللہ اس کی بینائی 6×6 ہے”۔
ایک دن ہم نے پوچھا کہ وہ قرآن کے حوالے سے جّنوں کے وجود کا تو منکر نہیں مگر کیا انہوں نے کبھی جن دیکھا تو کہنے لگیں کہ ایک جن سے آپ کی بھی ملاقات ہوگی مگر اس میں ابھی دیر ہے۔یہ جو آپ کے موجود صاحب ہیں۔ ان کو جانے کیا شوق ہوا کہ وہ انبر عراق والے رجل الغیب سے جنوں سے ملنے کی ترکیب پوچھ بیٹھے۔ رات کو آن کر  کافی بنائی اور اسے پی کر وہ یہ عمل کرنے بیٹھ گئے۔سورہ نمبر 34 اور سورہ نمبر 73 کی یہ کچھ آیات ہیں جنہیں ایک خاص تعداد میں پڑھنا ہوتا ہے۔آپ کو ہم بتادیں گے مگر آپ انہیں اس طرح سے بغیر اجازت مت پڑھیئے گا۔ آپ کو کبھی اللہ مسجد جن، مکۃ المعظمۃ لے جائے تو وہاں آپ انہیں اسی طرح پڑھ سکتے ہیں۔وہ ایک محفوظ مقام ہے وہاں شریر جن نہیں آسکتے۔تھوڑی دیر بعد ایک چھناکا ہوا اور کافی کا کپ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا اور اس میں ایک ایسا دھواں نکلا جس میں بے تحاشا مشک  تھی۔۔

 

وہ باغ جہاں رجال الغیب سے ملاقات ہوتی تھی

 

خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوئے اس پر
خود ہی منصور کو،سولی پر چڑھا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جوچلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنادیتے ہو
خود جو چاہو،تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرادیتے ہو
جو کہتا ہوں مانا تمیں لگتا ہے برا سا
پھر بھی ہے مجھے تم سے بہر حال گلہ سا
چپ چاپ رہے دیکھتے تم عرشِ بریں پر
تپتے ہوئے کربل میں محمد کا نواسہ
کس طرح پلاتا تھا،لہو اپنا وفا کو
خود تین دنوں سے وہ اگرچہ تھا پیاسا
دشمن تو بہر طور تھے دشمن مگر افسوس
تم نے بھی فراہم نہ کیا پانی ذرا سا
ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں،تسلی نہ دلاسا
کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سر پر
ہے آج اسی شخص کے ہاتھوں میں ایک کاسہ
یہ کیا ہے؟! جو پوچھوں تو کہتے ہو جواباً
اس راز سے ہوسکتا نہیں کوئی شناسا
ایک صاحب اسے بتارہے تھے کہ کعبہ پر جب حاضری کے وقت جو پہلی نظر پڑتی ہے اور دل میں جو طلب ہوتی ہے۔ وہ پوری ہوجاتی ہے ان کے ساتھ دو دفعہ ایسا ہوا۔ انکم ٹیکس کے افسر تھے۔ پہلی دفعہ تو انہیں جانے اس وقت کیوں اپنی وہ پرانی کار یاد آگئی جو حج سے آنے سے کچھ دن پہلے ہی گھر کے باہر سے چوری ہوگئی تھی۔اوپن لیٹر پر تھی لہذا اس کا انہیں واپس مل جانا ناممکن سالگتا تھا۔وہ مل گئی۔ دور دراز کے کسی تھانے سے حج سے واپسی کے دو دن بعد فون آیا کہ ایک منحوس رنگت کی کار کی چوری کی رپورٹ کے حوالے سے یہ کار ایک ویرانے میں کھڑی پائی گئی ہے۔ اس کے اندرونی لوزامات وغیر ہ تو غائب ہیں مگر چونکہ انجن اور دیگر حوالے سے تفصیلات انہی  کی ایف آئی آر میں  موجود ہے وہ اسے بذریعہ عدالت لے لیں۔ تھانے کو البتہ اسے ویرانے سے یہاں تک لانے میں چار ہزار روپے کا خرچہ ہوا ہے۔ وہ دے جائیں۔دوسری دفعہ ان کا رمضان کی افطار میں بریانی کھانے کا موڈ ہوا جو کسی نے افطار کے وقت گرما گرم پلیٹ کی صورت میں حاضر کردی گئی۔اسی طرح صاحب موصوف کو عرفات میں جانے کیوں برف کی طلب ہوئی اور وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، برف تو مل گئی ایک نہیں تین تھیلے بھر کے مگر اپنے خیمے کا نمبر بھول گئے۔مزدلفہ کا قیام جہاں حاجی رات کھلے آسمان کے تلے بسر کرتے ہیں۔ وہ ضائع ہوگیا۔بیوی نے جمرات کا فریضہ، جہاں شیطان کو پتھر مارتے ہیں نائیجیریا کی خواتین کے ساتھ مل کر ادا کیا۔ وہ ہنس کر کہتی تھیں یہ جو پاکستانی مردوں کو بازاروں میں خواتین کو کہنیاں مارنے کی عادت ہے ان کو ذرا نائجیریا،گھانا، ماری طانیہ،مالی گیمبیا کی خواتین کے بازار میں چھوڑیں تو ایک پسلی سلامت نہیں بچے گی۔

یہ کعبہ کا پہلا دیدار بھی عجیب کیفیت کی بات ہے۔ایک بزرگ ہوتے تھے جن کا نام تھا حضرت بایزیدؓ۔ رہنے والے عراق کے شہر بسطام کے تھے لہذا سب انہیں بایزیدؓ بسطامی کہا کرتے تھے۔بچپن میں یتیم ہوگئے تھے۔ایک دفعہ اپنے استاد سے قرآن کا سبق لے رہے تھے کہ سورۃالقمان کی وہ آیت آگئی کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی(آیت نمبر ۴۱)۔ آپ نے سبق روک دیا اور والدہ سے کہنے لگے کہ” مجھ سے دو گھروں کی خدمت نہیں ہوگی آپ یا تو اللہ سے مجھے اپنے لئے مانگ لیں یا اس کی راہ میں مجھے آزاد کردیں “۔والدہ نے آپ کو اجازت دی کہ وہ تحصیل علم کے لئے اللہ کے راستے میں جہاں چاہیں چلے جائیں،تیس برس تک علم کمایا۔ واپسی پر کسی زاوئیے میں شریک تھے(علمی حلقہ جو مغربی افریقہ، مراکش وغیرہ میں معروف ہے) ایک طالب علم نے سوال کیا کہ” یا بایزید اس عرصہء حصول علم میں کیا خاص بات سیکھی”؟ آپ فرمانے لگے” بس ایک سبق حاصل علم ہے کہ ملے تو شکر کرو، نہ ملے تو صبر کرو”۔ طالب علم کہنے لگا” بس اس ایک سبق کی خاطر تیس برس گنوادیئے۔ یہ سبق تو ہمارے شہر کے ہر کتے کو یاد ہے”۔آپ یہ جواب سن کر لرز اُٹھے کہنے لگے “تو تم ہی بتاؤ میں تم سے کیا سیکھوں کہ یہ سفر رائیگاں نہ لگے۔ وہ مسکراکر کہنے لگا نہ ملے تو شکر کرو کہ اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی اور ملے تو بانٹ دو کہ تم تو محض ایک وسیلہ ء تقسیم ہو”۔
بایزید بسطامی ؒ جب پہلی دفعہ حج کے لئے گئے تو واپسی پر اداس تھے۔ لوگوں نے پوچھا “کیا ہوا”؟!کہنے لگے کہ “لگتا ہے حج نہیں ہوا میں تو بس مکان کو دیکھتا رہا۔یہ تو بت پرستی ہوئی”۔ دوبارہ حج کرنے آئے تو واپسی پر پھر اداس تھے۔لوگوں نے پھر پوچھا” کیا ہوا”؟!ا تو کہنے لگے کہ” تلبیہ کی شرط کہ لا شریک لک لبیک ہی پوری نہیں ہوئی۔ مکاں اور مکیں دونوں کو دیکھا۔وحدانیت میں دوئی کیسی”؟! تیسری دفعہ حج سے لو ٹے تو مسرور تھے۔فرمانے لگے” اب صرف مکیں کا جلوہ تھا”۔

ایسا ہی کچھ معاملہ حضرت رابعہ بصری کے ساتھ بھی پیش آیا،کعبہ پر نگاہ پڑی تو کہنے لگیں ” مٹی اور پتھروں کے اس گھر کا اتنا ہنگامہ ہے مجھے تو گھر نہیں، گھر والا چاہیئے”۔ یہ بڑے مقامات نفیء ذات ہیں۔

اسی لئے ہمارے کرنل صاحب اکثر ایک شعر پڑھا کرتے تھے کہ ع
نماز ِزہداں، سجدہ،سجود
نمازِعاشقاں، ترک ِوجود
اسی نماز کے حوالے سے اس نے تہران کے ایک چوک پر جو ایک عبارت کسی بینر پر لکھی دیکھی تھی وہ اس عبارت سے کہیں زیادہ موثر ہے جو آپ پاکستان میں جا بجا لکھی دیکھتے ہیں کہ نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے۔ اس بینر پر لکھا تھا نماز در بارگاہء بے نیاز،تحفہء نیاز مند است

آنٹی کہا کرتی تھیں کہ حدیث مبارکہ ہے کہ دو چیزوں کو پیار سے دیکھنا عبادت میں شمار ہوتا ہے۔اپنے بوڑھے والدین کو اور کعبۃ اللہ کو۔ کعبہ کو اگر آپ عشا کی نماز کے بعد سے فجر تک دیکھیں تو قلب پر بڑی واردات ہوتی ہے۔خود بخود گاہے بہ گاہے آپ کی نگاہ آسمان پر بھی اٹھتی ہے تب وہاں سے آپ کو تجلیات کی ایک بارش ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ حدود ِحرم میں آپ کو کئی ایسے لوگ دکھائی دیں گے جو گھنٹوں ٹکٹکی باندھے کعبے کو تک رہے ہوں گے۔یہ مقام تحیّر ہے ہمارے نبی پاک ﷺ اکثر یہ دعا بھی علم کے فروغ کے ساتھ مانگا کرتے تھے کہ رب زدنی علما، رب زدنی تحیرا یا اللہ میرے علم کو فروغ دے اور اپنے بارے میں میرے تحیر میں بھی اضافہ کردے۔

کسی تذکرے میں درج ہے کہ ملتان میں آج سے پانچ سو سال پہلے ایک بزرگ ہوتے تھے عبدالوہاب صاحبؓ، اپنے سسر سے بیعت تھے ایک دن درس میں سن لیا کہ دو باتیں ایسی ہیں کہ عام مسلمان اس سے واقف نہیں ایک تو یہ کہ قرآن پاک میں اللہ بندے سے باتیں کرتا ہے۔بس اس کی ان باتوں کو سمجھنے کے لئے قلب صادق کی ضرورت ہے، دوسرے یہ کہ مدینہ پاک میں رسول اکرم خود موجود ہیں۔ اگر یہ راز مومن پاجائیں تو مدینہ کبھی نہ خالی ہو۔آپ اس شوق ملاقات میں اگلے دن مدینے جانے کے لئے ان سے اجازت لے کر سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔

پروفیسر جلیل احمد خان کو 1972 میں یونیورسٹی کی ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ وہ انگریزی ادب پڑھاتے تھے۔انگریزی کے شاعر چاسر پر دنیا بھر میں ایک لیڈنگ اتھارٹی مانے جاتے تھے،مگر سیاسی جھکاؤ جماعت اسلامی کی جانب تھا، جو حاکمان وقت کی نظروں میں کھٹکتا تھا۔برطرفی کا خط لے کر گھر آئے اور بینک سے جمع پونجی کی رقم نکال کر سیدھے کراچی پہنچے اور اگلے دن عمرے کے لئے حرم پاک میں بیٹھے تھے۔کہنے لگے کعبہ اللہ کے سامنے بیٹھا تھا۔یہ لالچ بھی تھا کہ جگہ چھوڑ کر جاؤں گا تو شاید پھر نہ ملے اور پیاس تھی کہ گرمیوں کی اس جولائی میں بری طرح تنگ کررہی تھی۔
اتنے میں ساتھ بیٹھے ایک مقامی عرب نے اپنی فلاسک سے بن مانگے زمزم نکال کر دیا اور کہنے لگا جی بھر کے پیو۔پوچھنے لگا کہ کیا کرتے ہو؟!بتایا کہ یونیورسٹی میں شعبہء انگریزی کا سربراہ تھا مگر حکومت وقت کی نگاہوں میں معتوب ٹھہرا اور ملازمت سے نکال دیا گیا ہوں۔آج کل بے روزگار ہوں اور آپ کون ہیں؟!جلیل صاحب  کو  عربی آتی تھی اس سے پوچھا۔اللہ کے گھر میں ہم سب اس کے مہمان ہیں۔ اس نے انہیں ٹالتے ہوئے دوسرا سوال داغ دیاآپ ٹھہرے کہاں ہیں؟ جب جواب ملا تو نماز کی جماعت کے لئے تکبیر بھی شروع ہوگئی۔جماعت کے بعد وہ خاموشی سے کچھ کہے سنے بغیر رخصت ہوگیا۔جلیل صاحب بتانے لگے کہ وہ پوری رات حرم پاک میں ہی رہے اور باہر کہیں ناشتہ کرکے  اپنے ہوٹل کے کمرے میں آن کر سوگئے کوئی دن کے گیارہ بجے ہوٹل میں ہنگامہ تھا۔ گورنر مکہّ کی کار کسی جلیل صاحب کو لینے آئی تھی۔وہ چلدیئے اور وہاں گورنر صاحب کے دفتر میں وہ عرب بیٹھا تھا۔انہیں ایک خطیر مشاہرے پر جامعہء  امام بن سعود میں انگریزی کا پروفیسر لگا دیا گیا تھا۔

آنٹی ایم کوئی مذہبی شخصیت نہ تھیں۔ ان کے شوہر اور بیٹا فرازی ان کے بقول ان سے کہیں زیادہ عبادات کرتے تھے۔آپ انہیں روحانی خاتون ضرور کہہ سکتے ہیں۔ وہ انگریزی کی اصطلاح میں ایک Seer تھیں۔جن پر اللہ کی خصوصی عنایات تھیں۔ قرآن کریم کی سورۃ ال رعد میں چوتھی آیت میں درج ہے کہ ہم انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کرتے ہیں،پھر ایک پھل کو دوسرے پر فضیلت دے دیتے ہیں۔یوں وہ بڑی فضیلت والی خاتون تھیں۔
آنٹی کے آخری ایام بڑے تکلیف دہ تھے۔ پہلے موجود صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے اور بعد میں ان کی صاحبزادی کا انتقال ہوگیا تھا۔ وہ ان کی بڑی خدمت کیا کرتی تھی رہتی بھی ساتھ ہی تھی۔ خاندان کے آپس میں بہت اختلافات تھے۔اسی اختلافات کی روشنی میں ان کے ایک قریبی عزیز نے ان پر جادو کرادیا۔ کوئی ہندو جادوگر تھا جسے بہت خاموشی سے گیرج کے اندر لاکر جادو کرنے کے لئے بٹھادیا گیا۔جو چپ چاپ اپنے جاپ میں لگا رہتا تھا۔ایک دن اتفاقاً آنٹی کسی مہمان کو رخصت کرنے نکلیں تو اس کی کار اس گیرج کے بالکل قریب کھڑی تھی۔ وہ انہیں دیکھتے ہی رفو ہوگیا مگر آنٹی پر تب تک اس کا وار کارگر ہوگیا تھا۔ وہ اپنی کشف والی صلاحیتوں میں بہت کمزور پڑگئی تھیں۔
انہوں نے ہمیں طلب کیا اور حکم دیا کہ وہ فوری طور پر جہلم جائے اور کرنل صاحب کے سامنے یہ معاملہ پیش کرے۔ کرنل صاحب کراچی آئے اور ان پر توجہ کی۔ وہ کچھ دن تک تو ٹھیک رہیں مگر چند دن بعد دونوں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ پہلے آنٹی کا انتقال ہوا پھر کرنل صاحب کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ستاروں کی شاہراہ سے دور۔۔۔ مزید آنٹی ایم/ محمد اقبال دیوان

  1. السلام علیکم
    صاحب کتاب کا ایڈریس مل سکتا ہح ؟؟
    اور یہ کتاب کہاں سے مل سکتی ہے ؟

    والسلام
    منیب الرحمن

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *