وہ کام زیادہ اچھا ہے۔۔۔۔۔گل نوخیز اختر

ڈاکٹر صاحب نے بڑے فخر سے پوز بنایا۔۔۔پھر ایک ادا سے لہرا کر بولے’’پارو! میں تم سے بہت پیار کرتاہوں‘ ہماری محبت میں اگر کوئی دیوار آئی تو میں اُس کے اوپر گر جاؤں گا‘‘۔ میں نے جلدی سے کہا ’’ڈاکٹر صاحب دیوار کے اوپر نہیں گرنا‘ دیوار گرانی ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے جلدی سے سوری کیا اور دوبارہ سے بولے’’پارو۔۔۔میں تم سے بہت پیار کرتاہوں‘ ہماری دیوار میں اگر کوئی محبت آگئی تو ۔۔۔‘‘ میں پھر چلایا’’حضور ! دیوار میں محبت نہیں ‘ محبت میں دیوار‘‘۔ انہوں نے پھر معذرت کی اور تیسری دفعہ بولے’’پارو۔۔۔میں تم سے بہت دیوار کرتاہوں۔۔۔نہیں ۔۔۔محبت کرتا ہوں اور اگر ہمارے راستے میں کوئی پارو آئی۔۔۔نہیں ۔۔۔دیوار آئی ۔۔۔تو میں۔۔۔تو میں ۔۔۔اس کے اوپر گرنے کی بجائے اسے گرا دوں گا۔۔۔‘‘ میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔ ڈاکٹر صاحب ڈائیلاگ بولنے کے بعد فخر سے میرے فیڈ بیک کا انتظار کر رہے تھے۔یہ ڈاکٹر صاحب میرے پرانے واقف ہیں‘ انتہائی اعلیٰ درجے کے سرجن ہیں‘ لیکن دماغ میں ایکٹنگ کا کیڑا گھسا ہوا ہے‘ کسی نہ کسی طرح ڈرامے میں کام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی میڈیکل کے شعبے میں بہت عزت ہے‘ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں‘ بے شمار کامیاب آپریشن کرچکے ہیں لیکن ڈاکٹری کی بجائے ایکٹر بننا چاہتے ہیں۔میں سمجھا سمجھا کر تھک چکا ہوں کہ حضور ایکٹنگ کی فیلڈ میں ایک سو ایک ذلالتیں ہیں‘ آپ بھاگ جائیں گے‘ لیکن وہ نہیں مانتے۔۔۔گھنٹوں ریکارڈنگز میں بیٹھے رہتے ہیں‘ میں نے اپنے ایک دو ڈراموں میں ان سے چھوٹے موٹے رول بھی کروائے ہیں اور حیرت میں مبتلا ہوں کہ اتنے اعلیٰ پائے کے ڈاکٹر صاحب ‘ ڈرامے میں نوکر کا کردار ادا کرکے بھی بہت خوش ہیں۔پہلے میں سمجھتا رہا کہ ڈاکٹر صاحب کو ایکٹنگ کا شوق ہے‘ لیکن اب احساس ہوا ہے کہ انہیں ایکٹنگ کا خبط ہے‘ حالانکہ نہ ان سے ڈائیلاگ یاد ہوتے ہیں نہ ایکسپریشنزدیے جاتے ہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ جس شعبے کے ایکسپرٹ ہیں اُسی کے برخلاف کسی اور شعبے میں اپنی اہمیت منوانے میں لگے ہوئے ہیں۔جو بہت اچھا انجینئر ہے وہ خود کو گلوکار منوانے پر تلا ہوا ہے‘جس کے پاس آئی ٹی کا علم ہے وہ شیف کہلوانا چاہتاہے۔ ابھی کل میری ایک نجی بینک کے مینجر سے ملاقات ہوئی جنہیں اُن کی بینکاری کی صلاحیتوں پر کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں لیکن موصوف ٹی وی اینکر بننا چاہتے ہیں اوربضد ہیں کہ بہت اچھا ٹاک شو کر سکتے ہیں۔شوق اور ضد میں بڑا فرق ہوتاہے‘ شوق یہ ہے کہ آپ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن میوزک سے بھی لگاؤ ہے لہذا شام کو دوستوں کی محفل میں ہارمونیئم یا گٹار کے ساتھ کچھ گنگنا لیتے ہیں۔۔۔ ضد یہ ہے کہ آپ سجاد علی کے مقابلے میں کنسرٹ کرنا چاہتے ہیں۔اپنے اردگرد نظر ڈالئے‘ آپ کو ہر دوسرا بندہ اسی ضد میں مبتلا نظر آئے گا۔ایسے لوگوں کی تعلیم اور تربیت ساری زندگی ایک خاص پیشے کے لیے ہوتی ہے‘ اُسی پیشے میں اِنہیں عزت و وقار بھی ملتاہے لیکن عمر کے ایک خاص حصے تک پہنچنے کے بعد یہ ’’ضدی‘‘ ہوجاتے ہیں ‘ اِن کی ضد کو پروان چڑھانے میں دوستوں یاروں کا بہت ہاتھ ہوتاہے جو انہیں وقتاً فوقتاً باور کراتے رہتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر صاحب! آپ تو بہت اچھی ایکٹنگ کرلیتے ہیں‘‘۔یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ اپنی فیلڈ چھوڑ کر دوسری فیلڈ میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی اصل فیلڈ دوسری فیلڈ ہی ہوتی ہے‘ میں اُن لوگوں کی بات کر رہا ہوں جنہیں اپنی اصل شناخت سے پتا نہیں کیوں چڑ ہوتی ہے۔انہیں لگتا ہے کہ جس کام سے انہیں عزت‘ شہرت اور پیسہ مل رہا ہے وہ بے کار ہے‘ اصل میں تو وہ اول درجے کے فیشن ڈیزائنر ہیں‘ پھر یہ فیشن ڈیزائنرز کی صفوں میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں‘ زہریلے جملے بھی سنتے ہیں اوربے مزا نہیں ہوتے۔اِن کی ضد اِنہیں ہر تلخ بات برداشت کرنے کا عادی بنا دیتی ہے۔میرے پاس کئی’’باعزت‘‘ لوگ ایکٹنگ کا شوق لے کر آتے ہیں‘ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ میں اِنہیں اپنے کسی ڈرامے میں کاسٹ کرلوں‘ میرے لیے انہیں سمجھانا بہت مشکل ہوتاہے کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہی آپ کے لیے بہتر ہے لیکن وہ کچھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔کچھ عرصہ پہلے میرے پاس ایک بیوروکریٹ صاحب تشریف لائے‘ انہیں الہام ہوا تھا کہ وہ ایکٹنگ کے میدان میں اپنے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔میں نے انہیں دست بدستہ عرض کی کہ آپ ایک انتہائی اہم منصب پر فائز ہیں‘ ہر بندہ آپ کو جھک کر سلام کرتاہے‘ ایکٹنگ میں آپ کو یہ سب نہیں ملے گا۔ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور بولے’’تسی اک دفعہ موقع تے دیو‘‘۔میں نے سرتسلیم خم کیا اور انہیں ایک چھوٹا سا رول دِلا دیا۔ آج کل وہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اورابھی تک ڈراموں میں چھوٹے موٹے رول کر رہے ہیں‘ اللہ کا دیا سب کچھ ہے لیکن ایکٹنگ کے صدقے میڈیا کے ہر بندے کی منتیں کرتے نظر آتے ہیں۔
اصل میں ہر انسان کو ایک خاص وقت کے بعد اپنے کام سے بوریت ہونے لگتی.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply