برصغیر کو کرپشن کی بددعا ۔۔۔ اعجاز اعوان

معروف بھارتی کالم نگار وید پرتاب خبر دیتے ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ 526 کروڑ کا فائٹر جیٹ فرانس سے 1670 کروڑ میں کیوں خرید رہے ہیں اور مودی سرکار اس سوال کا جواب دینے سے کترا رہی ہے۔ نواز شریف کے دوست مودی سرکار نے 1923ء میں انگریز سرکار کا بنایا ہوا ایک قانون تلاش کر لیا ہے جس کے مطابق وہ بعض خفیہ معلومات سپریم کورٹ کو نہیں بتا سکتے۔ مودی سرکار کے دور میں مہا کرپشن کے میگا سیکنڈل بھارت میں سامنے آئے ہیں۔ 

عجب ہے کہ برصغیر کی مٹی میں کوئی ایسی تاثیر پائی جاتی ہے کہ یہاں کا ہر شہری دانستہ یا نادانستہ طور پر کرپشن میں ملوث ہو جاتا ہے۔ جتنا بڑا عہدہ اتنی بڑی کرپشن۔ اور انسانی لکیروں نے یا مذہب کی بنیاد پر تفریق نے بددیانتی کو کوئی فرق نہیں پہنچایا۔ یہ آج بھی بلاتفریق مذہب جاری و ساری ہے۔ 

julia rana solicitors

کہا جاتا ہے کہ اگر عوام کرپٹ ہوں تو ان پر مہا کرپٹ حکمران مسلط کر دیا جاتا ہے جیسے کوفے والوں کی سرکشی کو دیکھتے ہوئے حجاج بن یوسف کو ان پر مسلط کیا گیا تھا۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ اگر حکمران کرپٹ ہوں تو ان کی عوام بھی اسی فطرت کو اپنا لیتی ہے۔ 

کرپشن کا ایک عجیب و غریب ڈھنگ آج تک نہیں بھولا۔ بیس بائیس سال پہلے فیصل آباد سے بہاولپور جانا تھا رات دس گیارہ بجے بس فیصل آباد سے روانہ ہوئی۔ رات تین بجے کا وقت ہو گا خانیوال سے کچھ آگے ریلوے کا ایک پھاٹک بند تھا۔ بس کھڑی ہو گئی۔ رات کے اس پہر ٹریفک کم تھی۔ زیادہ تر ٹریفک  کچھ میل دور بائی پاس سے گزر رہی تھی مسافر بسوں کو شہر کے اندر سے گزرنا ہوتا تھا۔ پھاٹک کے دوسری طرف لاہور جانے والی نیو خان کھڑی تھی۔ پانچ سات منٹ تو یونہی گزر گئے پھر خدا بہتر جانتا ہے دونوں بسوں کے ڈرائیوروں نے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کس طرح کمیونیکیشن کی۔ کچھ ڈپر دیئے گئے۔ اور ہماری بس کا ڈرائیور کنڈیکٹر سے کہتا ہے کہ جاؤ یار پھاٹک والے کو 15 روپے دے آؤ، اتنے ہی پیسے نیو خان والا دے گا۔ ہماری بس کا کنڈیکٹر نیچے اترا تو نیوخان والا بھی آ گیا دونوں نے مل کر پھاٹک مین کے ہاتھ پر 30 روپے رکھے تو پھاٹک کھول دیا گیا۔ حیران ہوں کہ اس دور دراز علاقے کے پھاٹک والے کو رات کو بلاوجہ پھاٹک بند کر کے چند روپے کمانے کا ہنر کس نے سکھایا تھا۔ 

Advertisements
julia rana solicitors london

شائد برصغیر کو بددعا ہے کسی کی۔ یہاں کی مٹی میں، ہواؤں میں، پانیوں میں کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہے کہ بندہ کسی نہ کسی سطح پر بددیانتی میں ملوث ہو ہی جاتا ہے۔ جتنی کرپشن آج ان دونوں دیشوں میں پائی جا رہی ہے لگتا یہی ہے کہ برصغیر پر ایک بار پھر کسی تاجک، کسی تُرک، کسی ایرانی، کسی افغان نے حملہ کر دیا ہے اور وہ یہاں سے حسب روایت ایک بار پھر سب کچھ لوٹ کے لے جانا چاہتا ہے۔ ہندوستانی بھی اپنی دھُن کے ایسے پکے ہیں کہ بہت آرام سے اپنی محنت کی کمائی ان ڈاکووں کو دیکر پھر سے نئی کمائی میں لگ جاتے ہیں کہ ان ڈاکووں کے اگلے حملے تک پھر کچھ نہ کچھ جمع کر رکھیں۔ فی الحال تو ایسی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی کہ صدیوں پرانا یہ چلن ختم ہو سکے۔ 

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply