آنٹی ایم ۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

نوٹ : زیر نظر مضمون اقبال دیوان صاحب کی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“ میں شامل ہے۔دیوان صاحب نے لاہور کے ایک نسبتاً گمنام بزرگ کی ہدایت پر اس کا دوسرا حصہ بھی قلمبند کیا جوان کی دوسری کتاب ’وہ ورق تھا دل کی کتاب میں شامل ہے اور اسے اگلی قسط میں شامل کیا جائے گا۔۔

 

محترمہ عطیہ موجود صاحبہ کشمیر ی النسل تھیں،والد نظام آف حیدرآباد کی دعوت پر کشمیر سے حیدرآباد دکن آگئے تھے۔وہیں کسی کالج میں پڑھاتے تھے۔شوہر موجود صاحب ایک پیکر وجاہت تھے۔آپ کے فرسٹ کزن تھے۔پی آئی ڈی سی میں سرکاری ملازم،بڑے محتاط اور شائستہ رویوں کے مالک،عبادتوں سے ہلکان۔ہمارے گھرانے میں ان کی رعایت سے آنٹی عطیہ کو سب ہی آنٹی موجود یا آنٹی ایم کہتے تھے۔

آنٹی عطیہ موجود صاحبہ

وہ ایک نادر روزگار ہستی تھیں،یہ ہمارا مقام نہیں کہ   ان کی روحانیت کا تذکرہ کر یں لیکن گاہے گاہے باز خواں، ایں قصہ پاریناں را۔(ماضی کے یہ قصے کبھی کبھی سنانے چاہئیں)۔
خاکسار کی ملاقات جب آنٹی۔موجود سے ہوئی۔ان کی عمر کم و بیش پینسٹھ  برس کی ہوگی،رنگت گوری مائل بہ سرخی،بال سیاہ اور سفید کے الجھاؤ میں سیدھے اور پیشانی سے چپکے چپکے۔ سرمئی آنکھیں چھوٹی مگر بے حد چمکیلی۔آر پار دیکھتی، آواز پتلی اور صحافی ہارون رشید صاحب کی طرح مردم بے زار اور Dismissive۔طبیعت میں ایک عجب خود اعتمادی بھری بے نیازی،کسی سے کچھ توقعات نہ تھیں اس لیے کسی کو خاطر میں بھی نہ لاتی تھیں۔
پہلے جب وہ فیز ون میں ساتویں  مشرقی گلی میں پڑوسی تھیں تو ہماری ساس صاحبہ سے بہت پکی دوستی ہوگئی تھی۔وہ  بھی ہماری بیگم کی طرح نیک اور عبادت گزار خاتو ن تھیں۔
بعد میں انہوں نے   میاں کی  ریٹائر منٹ پر کراچی کے ایک انتہائی پوش علاقے ڈیفنس فیز ٹو میں اپنا بڑا سا گھر بنا لیا تھا،سادہ ہزار گز کا بنگلہ۔جس کے لان میں پرانے درخت اس سارے علاقے کے سب سے پرانے درخت تھے۔ان کا گھر وہ واحد گھر تھا جس کا دروازہ گھنٹی بجانے پر گھر ہی کا کوئی فرد کھولتا تھا۔گھر میں کوئی نوکر نہ تھا، نہ ہی کوئی چوکیدار، اکثر و بیشتر ان کے ملنے والوں میں سے کوئی نوکر چھوڑ جاتا تھا، جو چند دن بعد گھر کی چھوٹی موٹی چیز چرا کر بھاگ لیتا تھا۔ جس کا تذکرہ آنٹی بڑے مزے لے لے کر کرتی تھیں۔

 

فیز ٹو میں آنٹی کا گھر

آنٹی۔ایم بڑی صاحب کشف خاتون تھیں، اپنی نوعیت کی واحد ہستی تھیں،جن سے  میں آج تک ملا۔ ان کا کشف فی الفور ہوتا تھا اور عندالطلب یعنیOn Demand۔کئی ایسی ہستیا ں ہوتی ہیں جن پر پوشیدہ یا آنے والے حالات رضائے الہی سے ظاہر ہوجاتے ہیں مگر اس بارے میں وہ وقت کی مہلت مانگتے ہیں۔اہل تصوف کے ہاں یہ کرامات کے دائرے میں آتا ہے۔مگر ان پر اللہ سبحانہُ تعالی کی یہ عنائیت تھی کہ ادھر آپ نے ان سے اپنا سوال پوچھا، اُدھر وہ آپ کا اور آپ کی والدہ کا نام پوچھتیں اور مراقبہ میں زور سے  اللہ  الصمد کا اسمِ صفات پڑھ کر آپ پر احوال ظاہر کرنے لگ جاتی تھیں۔ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ انکی بتائی ہوئی بات یا انکشاف غلط ثابت ہوا ہو۔تاخیر کے لیے وہ خود ہی کہتی تھیں کہ وقت کا ادارک تو نبیوں کو بھی نہیں دیا گیا تھا۔

پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم نے انہیں یہ جواب سن کر اپنے ساتھ آئے ہوئے مہمان کی تسلی کے لیے اس حوالے سے جوک سنایا۔۔۔۔۔
کہ ایک شخص نے اللہ سے پوچھا کہ یہ جو آفرینش(وجود میں آنا) کائنات سے لے کر اب تک کاعرصہ ہے یہ آپ کے نزدیک کتنی صدیاں ہیں۔جواب ملا ایک سیکنڈ ،دوبارہ سوال ہوا اور  یہ جو ٹریلن ڈالرز ( بارہ زیرو1,000,000,000,000) ہیں اس کی آپ کے نزدیک کیا ویلیو ہے، تو جواب ملا کہ یہ تو میرے لیے ایک سینٹ کے برابر ہیں۔
ہمارے جیسا میمن تھا آہستہ سے کہنے لگا”ایک سینٹ ہی دے دو اپن کا کام چل جائے گا“۔۔
جواب ملا ”ایک سیکنڈ میں۔“

آنٹی کو وضاحت ا چھی لگی مگر اتاؤلے  مہمان متاثر نہ ہوئے۔اہل طلب کی شتابی تو آپ جانتے ہی ہیں۔اپنا کام پورا تو بھاڑ میں جائے نورا۔

ہم آپ کو بتادیں کہ کرامات کا اظہار  بزرگوں کے ہاں اشد ضرورت کے تحت جائز ہے۔ اہل تصوف کے ہاں جتنے بھی سلسلے ہیں ان میں   کرامات کو کھیل تماشہ اور راہء سلوک کی رکاوٹ کہا گیا ہے، اسے نچلے درجے کا مقام عطا کیا گیا ہے، بلکہ اسے چھپانے کا حکم ہے اور چھپانا بھی کیسا،اہل تصوف اسے حیض الرّجال کہتے ہیں اور اس کو ایسے ہی چھپانے کا حکم دیتے ہیں جیسے عورتیں اپنے حیض کو چھپاتی ہیں۔۔

اس نے پڑھا تھا کہ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاؒ سے روایت ہے کہ یہ کرامات تین طرح کی  ہوتی ہیں ایک علم، بغیر تعلم کے۔ یعنی،باقاعدہ طور پر سیکھے بغیر حاصل ہونا،ایران میں قیام پذیر ایک بزرگ حضرت ابو حفص نیشاپوری جو بول چال کی عربی سے واقف نہ تھے، جب سفرِحج کے دوران حضرت جنید بغدادیؒ سے ملے تو انہوں نے انتہائی بلیغ عربی زبان میں گفتگو فرمائی۔ دوسری قسم یہ ہے کہ جو کچھ عوام الناس حالت خواب میں دیکھتے ہیں،وہ اللہ اپنے اولیا کو حالت بیداری میں دکھا دیتا ہے،تیسری قسم یہ ہے کہ وہ اپنے تصور کا اثر دوسروں پر ڈال سکتے ہیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس کی مزید وضاحت یہ فرمائی کہ کرامت اس کام کو کہتے ہیں کہ جو نبیﷺ کے سچے پیروکار سے انکی اتباع یعنی تقلید میں سرزد ہو۔گو اس طرح کے بعض امور جوگیوں، ساحروں سے بھی سرزد ہوتے ہیں، مگر انہیں کرامات نہیں کہا جاسکتا۔انہیں استدراج کہتے ہیں۔

اولیا اللہ کی کرامات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ حسیّ (Sensory)اورمعنوی یا نظامی (Regulatory)۔عوام حسیّ کرامات کو بڑا جانتے ہیں اس لئے کہ یہ خلاف از معمول اور چونکا دینے والی ہوتی ہیں،یعنی پوشیدہ باتوں کا ظاہر کردینا یا سالک اور سائل کی مصیبت دور کرنے کے لئے تصرف (Intercession) کرنا۔مثلاً کوئی دشمن آپ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو اس کو اس عمل میں اس طرح کی رکاوٹ ڈال دینا کہ اس کا منصوبہ ناکام رہ جائے۔یہ سب معمولی کرامات ہیں اور اس میں استدراج (گمراہی اور کوتاہی)کا احتمال رہتا ہے۔اس کرامت کو صرف اتنا ہی ظاہر کرنے کا حکم ہے کہ اس میں سائل کا ایمان پختہ ہوجائے اور اس میں کسی کو نقصان پہنچانا یا اسے اس کے جائز حق سے محروم کرنا ہرگز مقصود نہ ہو۔

اصل کرامت یہ ہے کہ انسان بندگی معبود میں پیرویء رسول کاپابند ہوجائے۔اس سے نیک کام خوشدلی اور بلاتکلف خالصتاً رضائے الہی کے لیے بلا تمنا ستائش و صلہ انجام پائیں۔کوئی سانس غفلت میں نہ گذرے اس لئے کہ اہل اللہ کے ہاں جو’ دم غافل وہ دم قاتل’ کا سمجھا جاتا ہے۔

آنٹی۔ایم کہتی تھیں کہ وہ جو کچھ کرتی ہیں وہ محض رضائے الہی سے ہوتا ہے، اصلی کارنامہ یہ ہے کہ ان کی بات سے دین کی پابندی آسان ہوجائے۔ان مثالوں کو سمجھنے میں آسانی کے لئے یہ جان لیجئے کہ وہ غیر مسلم خاتون ان کے ہاں کیلی فورنیا سے آئیں۔وہ ایک دعوت کے سلسلے میں اپنے امریکہ کے تجربات بتارہی تھیں۔ ان کی آمد آنٹی۔ایم کے پاس اپنی بہن سے مانگے ہوئے ایک قیمتی نیکلس کی چوری کے بارے میں پوچھنے کے لیے تھی۔یہ نیکلس انہوں نے کسی تقریب میں جانے کے لئے بہن سے ادھار لیا تھا اور تقریب سے واپس آن کر انہوں نے احتیاط سے اپنے کمرے میں رکھا تھا جس کے بعد وہ ان کے گھر سے چوری ہوگیا۔ گھر میں کئی مہمان بھی تھے۔
آنٹی کہنے لگیں کہ  اُنہیں جس پر شک ہو۔اس کا نام بتائیں انہوں نے تین نام لیئے۔پھر اس خاتون کو تجویز کیا گیا کہ وہ ایک صاف چادر بچھا کر خود بھی نہا دھوکر بیٹھ جائیں اور کسی ایک وقت بالخصوص فجر کا مناسب ہے بیٹھ کر بسم اللہ الرّحمان الّرحیم پڑھتی رہیں۔ہار مل جائے گا مگر وہ تجسس اور Shaming سے گریز کریں۔

ان کے جانے کے بعد جب عدنان نے آنٹی سے پوچھا کہ یہ تو آپ نے بہت ابتدائی بات کی تو وہ کہنے لگیں ابتدا تو ہو آگے اللہ خود لے جائے گا۔ایک ہفتے بعد وہ خاتون بہت سی مٹھائی اور تحائف لے کر آئیں۔ہار مل گیا تھا۔ ایک قریبی عزیزہ نے خود ہی لوٹا دیا۔

ان کے پاس لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آیا کرتے تھے۔ صبح دس سے بارہ بجے تک وہ صرف غریبوں سے ملتی تھیں۔اور پانچ سے سات بجے کے درمیان نماز کا وقفہ چھوڑ کر وہ امیروں سے ملا کرتی تھیں۔ایک بکس کونے میں رکھا رہتا تھا جس میں امیر لوگوں کو فی سوال اپنی استطاعت کے حساب سے رقم ڈالنے کا حکم تھا، رقم پورے ہفتے جمع ہوتی رہتی تھی، جمعہ کے دن غریبوں کو بلا کر قرآن کریم پڑھا جاتا اور پھر ایک پرتکلف طعام کا اہتمام ہوتا تھا۔ اسی رقم میں سے کچھ بچ رہتا تو انہی  میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔

آنٹی۔ایم کو صاحبان علم سے بڑی انسیت تھی، وہ اور ان کے شوہر ان سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے، انگریزی کے ایک پروفیسر کو قدیم انگریزی شاعر جیفرے چاسر کی روح کو بلانے کا بہت شوق تھا۔چاسر کواردو زبان کا ولی دکنی سمجھ لیں۔ان کی انگریزی گورے کو بھی برین ہیمرج دے جاتی ہے۔ اس سے شاعری میں استعمال بہت سے ایسے الفاظ جو اب متروک تھے ا ن کا انگریزی کا تلفظ درست کرتے تھے، ایک دفعہ احمد بشیر صاحب نے جو بشری ٰ انصاری کے والد تھے۔ آنٹی۔ایم کو کہہ کر مشہور پامسٹ کیرو کی روح کو بلوایا کہ وہ ان کے  ہاتھ کی لکیریں پڑھ کر ان کے حالات بتلائے۔

چاسر

 

چاسر کی انگریزی

اس نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ” کیا کسی ایک شخص کی روح دوسرے شخص میں سما سکتی ہے،” تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ” پھر اس شخص کی اپنی روح کا کیا ہوگا،یہ یاد رکھیں کہ نہ ایک بدن کو دو روحیں مل سکتی ہیں نہ دو بدنوں کو ایک روح سے ملایا جاسکتا ہے۔ روح کا کسی میں حلول کرنا غیر اسلامی تصور ہے۔روح بدن میں ایک امانت ہے تخلیق کائنات کے وقت یہ جو باری تعالی نے عہدِالست یعنی الست بربکم (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) کا سوال کیا تو آدم کی نسل کی تمام ارواح کو میدان عرفات میں حاضر کرکے یہ عہد لیا گیا۔ (سورۃالاعراف آیت نمبر ۲۷۱) ۔

یہی وجہ ہے کہ حج کے سب سے اہم ارکان عرفات کے میدان میں جمع ہونے سے منسلک ہیں۔ نبی کریم سید المرسلین نے اپنا آخری خطبہ بھی یہیں دیا ،خطبے کے اختتام پر آپ نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ” اے لوگو جب تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو روز قیامت تم کیا جواب دو گے؟” تو وہ گواہی دینے لگے کہ “ہم کہیں گے آپ نے پیغام سچائی اور خیر خواہی سے پہنچا دیا اور اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے انجام دے دیا ۔ان کی اس گواہی پر نبی کریمﷺ نے آسمان کی جانب اپنا رخ پُرنور بلند کرکے تین مرتبہ فرمایا “اے اللہ  گواہ رہنا” یوں میدانِ عرفات ابتدائے آفرینش سے ہی مقام وعدہ و پیماں رہا۔

آنٹی کہنے لگیں روح کی تخلیق بعض صوفیا کے نزدیک جسم کے  وجود میں آنے سے دو ہزار سال پہلے ہوتی ہے۔”اس دوران میں ان کا پوتا آگیا، وہ اسے بہت چاہتی تھیں۔کہنے لگیں ” اس میں بہت روحانیت ہے گو یہ قدرے مجذوب سا ہے۔ دروازے پر کوئی فقیر صدا دے گا تو یہ سب  سے پہلے اسے کچھ دینے کے لئے بھاگتا ہے۔کچھ مجذوب آتے ہیں۔ اس سے دیر تک باتیں کرتے ہیں۔جانے کسی چھلکن میں تھیں ۔۔۔کہنے لگیں روحانیت میں کبھی کسی مجذوب کے قریب بھی نہ پھٹکیں !وہ فرمانے لگیں۔ یہ اہلِ کرب و حکم ہیں۔گم گشتہء راہ ہیں، یا تو کسی مقام پر رک گئے ہیں یا سُکر کا نشہ بہت چڑھ گیا ہے۔اتر ہی نہیں رہا حواس ہی بحال نہیں ہورہے۔

اللہ اللہ کیا مقام تھا چاہتے توہمارے نبی کریمﷺ جذب کی شیرینی میں ڈوب جاتے۔ مقامِ قابِ قوسین  سے بڑھ کر کیا نظارہ ہو گا۔جو مطلوب تھا،وہ مقصود تھا، جو مقصود تھا وہ موجود تھا ،پر اللہ، قرآن الحکیم سورۃالنجم میں فرماتا ہے ما زاغ البصر و ماطغیٰ(نگاہ نہ تو بہکی نہ حد سے تجاوز کی)۔ میاں یہ جو روحانیت اور بلند پروازی ہے یہ بہت ضبط، حجاب اور عاجزی کا مرحلہ ہے۔عاجزی نہ ہو تو ضبط نہیں آتا، ضبط نہ ہو تو حجاب نہیں رکھا جاسکتا وہ کون سے شاعر تھے آپ کے جنہوں نے کہا تھا کہ
دل میں رکھنے کی چیز ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہئے۔۔۔
“آنٹی یہ داغ دہلوی کا شعر ہے ان کی مشہور غزل کہئے کہئے مجھے برا کہئے والی غزل سے”۔۔۔۔۔ خاکسار نے گزارش کی۔
“یہ آپ کو اشعار بہت یاد رہتے ہیں، ہمیں یاد نہیں رہتے”۔۔انہوں نے کمال شائستگی سے شکوہ کیا۔۔
“اشعار اور گانے دونوں، وہ آنٹی پہلے ہی نوٹ پر پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا گیت ہوگا”۔۔۔ہم نے وضاحت کی۔
“جانتے ہیں ایسا کیوں ہے۔ اس میں آپ کو تلّذّذ محسوس ہوتا ہے۔آپ کی یادداشت لذتوں کی یاد داشت ہے Memory of Pleasure”۔وہ آپ کے دوست کس کم بخت بینکر کو ساتھ لے کر اس کے بارے میں پوچھنے آئے تھے۔ آپ شاید  ان دنوں ملک سے باہر گئے ہوئے تھے۔میں حیران تھی کہ اس بینکر کو اس قدر اعداد و شمار اور تفصیلات منہ زبانی یاد تھیں۔پھر میں نے غور کیا کہ اس کا معاملہ عجیب ہے اسے صرف وہ اعداد و شمار یاد تھے جو رقومات سے متعلق تھے۔ تاریخوں کے بارے میں وہ غلطیاں کر رہا تھا یہ اس کی دولت سے بے پایاں محبت کا مظہر تھا”۔

“آنٹی وہ آپ وعدہ کے حوالے سے کچھ کہتے کہتے شاید کسی اور طرف نکل آئیں “ہم نے ان کی طبیعت میں جو بہاؤ تھا اس سے فیض اٹھانے کی خاطر پوچھا۔
”ہاں وہ جو نسل آدم کی ارواح سے میثاق لیا گیا ایسا ہی Covenant اہم وعدہ زمینوں اور آسمانوں سے ان کی تخلیق کے وقت لیا گیا۔ قرآن الحکیم تخلیق کائنات میں اللہ کے چھ دن صرف ہونے کا کئی مقام پر تذکرہ کرتا ہے۔زمین کو بنانے میں دو دن لگے اور اس کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی۔ لیکن زمین کو پہلے دن بچھایا گیا۔ دوسرے  دن آسماں کو بنایا گیا اور پھر زمیں میں مختلف اشیا کو سجایا گیا۔ جیسے سمندر پہاڑ درخت، معدنیات دریا وغیرہ اس طرح زمین کی مکمل تخلیق میں چار دن لگے اور آسماں کے معاملے میں دو دن۔ کائنات کی تخلیق میں چھ دن کا صرٖف ہونا بائیبل میں اور قرآن کی سورۃ الحدید میں مذکور ہے۔جب یہ سب مکمل ہوگیا تو اللہ سبحانہ تعالی نے پوچھا کہ بتلاؤ” الست و بربکم “تو وہاں سے بھی “بلی” کی بلند و بانگ صدا بلند ہوئی پھر دھواں دھواں سے آسمان اور زمین سے پوچھا گیا کہ” کس کے پاس طوعاً و کرہاً  ً لوٹ کر جانا ہے”۔ تو دونوں  یک آواز ہو کر کہنے لگے “ہم تو اطاعت گزاروں کی طرح تیرے ہر حکم کی تعمیل میں تیری طرف لوٹیں گے”۔سورۃ حٰم السجدۃ کی یہ گیارہویں  آیت اسی میثاق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسے بزرگان کرام وعدہء الست کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

آنٹی،کہا کرتی تھیں کہ جب اسے روحانیات اور تصوف پر کچھ پڑھنا ہو، تو وہ حضرت داتا گنج ؓ بخش ؒ کی معرکۃالآرا کتاب کشف المحجوب پڑھا کرے اور اسے اپنی بیڈ سائڈ بک بنا لے۔کئی مرتبہ بڑے لوگ جب ان کی ڈانٹ کھا کر باہر جاتے تو ہم ان سے پوچھ لیتے کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں تو وہ حضرت داتا گنج ؓ بخش ؒ کا یہ قول دہراتی تھیں کہ بڑے آدمیوں کا ساتھ سانپ اور بچھو ؤں کا ساتھ ہے۔غالباً یہ ہندوستان کے مشہور بادشاہ محمد تغلق کو دیا جانے والا  جواب تھا کہ جب اس نے دہلی کے ایک مشہور بزرگ سے یہ فرمائش کی کہ” جمعہ کی نماز وہ قلعے میں واقع محل کی مسجد میں پڑھایا کریں ” تو انہوں نے کہا تھا کہ” ہمارے پاس لے دے کے یہ ایک نمازبچی ہے وہ بھی آپ ہم سے چھیننا چاہتے ہیں “۔۔۔۔۔۔یہ ہی اصلی حکمران تھے۔!

کشف المحجوب

جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کو دربار سے وابستہ ایک عالم کی رنجش کی بنیاد پر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ،جو ان کے مرشد تھے ، اپنے ساتھ دہلی سے اجمیر لے جانے لگے تو ساری دہلی انہیں روکنے پر اصرار کرنے لگی اور آخر میں التمش نے درخواست کی کہ انہیں ساتھ نہ لے جائیں تو وہ مان گئے۔اسی طرح حضرت نظام الدین اولیاؒ کے دہلی تشریف لانے کے بعد گیارہ بادشاہ تخت نشین ہوئے جن میں سے کم از کم تین ایسے تھے جو آپ کے معتقد تھے مگر آپ ایک دفعہ بھی دربار کی طرف نہ گئے، نہ کوئی جاگیر قبول کی نہ کوئی وظیفہ، نہ منصب۔

دربار سے وابستگی اور منصب قضا پر فائز ہونے کی طلب پر آنٹی بہت حیران ہوتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کی ہر اس معاملے سے ڈرو جہاں فیصلہ تم پر چھوڑا جائے ۔اس کی بہت باز پرس ہونی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو !وہ کہتی تھیں دو اشخاص کو یوم قیامت بڑی رعائیت ملے گی۔ ایک عالم با عمل کو اور دوسرے اس جج کو جو  اللہ کی راہ میں انصاف کرنے سے نہ ڈرا۔

کہتی تھیں کہ چار اشخاص کے نام خلیفہ جعفر ال منصور کو تجویز کئے گئے کہ ان میں سے کسی ایک کو قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس کے عہدے پر لگایا جائے۔ سن 763 ؁ء میں چاروں کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا۔ان میں دو اشخاص تو امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو محمد یوسف تھے۔تیسرے ایک اور بڑے باعمل عالم جن کا زہد اور تقویٰ نمایاں تھا، چوتھے کی جعفر منصور سے بڑی قریبی سسرالی رشتہ داری تھی۔ ان میں سے تین تو یہ عہدہ قبول کرنے پر بالکل رضامند نہ تھے سوائے قاضی محمدابو یوسف کے۔
امام ابو حنیفہ کو جب پیشکش ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” وہ خود کو اس عہدے کے لئے اہل نہیں سمجھتے”۔آپ کا یہ جواب اہل دربار کو اور خود خلیفہ کو حیرانی میں مبتلا کرگیا۔ خلیفہ کو ان کے تبحر علم اور نکتہ دانی کا بہت شعور تھا ان کے جواب پر اشتعال میں آن کر کہنے لگا کہ” آپ جھوٹ بولتے ہیں “۔امام ابو حنیفہ اس پر مسکرا کر کہنے لگے “اگر یہ بات ہے تو میرا بیان اور بھی درست ہے کہ میں اس عہدے کے قابل نہیں کیوں کہ خلیفہ کی گواہی مقدم ہے اور وہ مجھے بھرے دیوان میں جھوٹا کہہ چکا ہے اور جھوٹا آدمی اس عہدے کے لئے مناسب نہیں “۔۔۔سسرالی عزیز کو بھی عہدہ قبول کرنے میں تامل تھا۔اس نے یہ حکمت اختیار کی کہ سب کے سامنے بھرے دیوان میں وہ خواتین خانہ کا حال احوال دریافت کرنے لگا جس پر خلیفہ نے سوچا کہ جس کو آداب محفل کی بنیادی باتوں کا شعور نہ ہو وہ  کیوں  کر اس منصب کا اہل ہوسکتا ہے۔ لہذا اسے بھی در خور اعتنا نہ سمجھا گیا۔تیسرے شخص  نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ عرب بہت متکبر قوم ہیں وہ ایرانی النسل ہیں۔ یہ خاندانی پس منظر اور اس کا غیر عرب ہونا اس عہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے یوں اس کو بھی نظر انداز کردیا گیا اور بالاخر نظر انتخاب قاضی ابو یوسف پر جم گئی۔ دربار سے باہر آن کر باقی دو حضرات نے امام ابو حنیفہؓ سے پوچھا کہ ان کا زہد و تقویٰ تو سارے بغداد پر عیاں اور ان کی  علمیت اور دین کی سمجھ کا سارا عرب معترف ہے، پھر انہوں نے قاضی بننے سے کیوں انکار کیا؟۔۔ تو جواب ملا کہ ” انسان کتنا ہی اچھا پیراک کیوں نہ ہو اسے بپھرے ہوئے سمندر میں کودنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کسی سے سنا تھا کہ جسے انصاف کی کرسی ملی اسے گویا الٹی کند چھری سے ذبح کردیا گیا “۔انصاف کے حوالے سے دو باتیں اور سن لیں۔

نیویارک شہر میں دو بڑے ائیر پورٹ ہیں۔ ایک تو ان کے صدر جان ایف کینیڈی کے نام پر ہے اور خاصا بڑا ہے دوسرا اس شہر کے ایک سابق میئر فلوریلا گارڈیا کے نام پر ہے اور لا گارڈیا La Guardia کہلاتا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جسے اب The Great Depressionکہتے ہیں, سن 1935 کے قریب کا زمانہ تھا۔ امریکہ ان دنوں شدید معاشی بد حالی کاشکار تھا، بھوک اور غربت ہر طرف عام تھی۔ایک ٹھٹھرتی ہوئی صبح جب میئر گارڈیا بطور جج کے مسند انصاف پر بیٹھے تو ایک ا دھیڑ عمر کی خاتون(تصویر موجود ہے) کو پیش کیا گیا۔ اس پر الزام ڈبل روٹی چرانے کا تھا۔ بڑھیا نے یہ ڈبل روٹی اپنے لئے اور اپنے تین چھوٹے نواسے،نواسیوں کے لئے چرائی تھی جن کی ماں  مرچکی تھی اور  اب ان کی کفالت کا ذمہ اس بوڑھی نانی کا تھا۔بقول پولیس رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔ مال مسروقہ بھی قبضہ ء ملزم سے گواہان کی موجودگی میں برآمد ہوا تھا۔

مئیر لاگارڈیا
مئیر لاگارڈیا
لاگارڈیا ائیر پورٹ نیوجرسی
جس خاتون نے ڈبل روٹی چرانے کی کوشش کی
ڈبل روٹی کی مجرمہ نانی اماں

پولیس اور عدالت کہیں کی بھی ہو غریب اور بے کس کا جرم ثابت کرنے میں بہت مستعد ہوتی ہے۔طاقت ور افراد کے سامنے ان کا پتہ پانی ہوتا ہے۔ دیکھئے گا روز قیامت جہنم ججوں اور پولیس افسران سے بھری ہوگی۔استغاثہ اپنا کیس،بلاکسی شک و شبے کے ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب رہی تھی۔جج گارڈیانے اس پر دس ڈالر کا جرمانہ کیا اس لئے کہ یہ انصاف کا تقاضا تھا۔عدالت میں ایک سناٹا چھاگیا۔ کیوں کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جیل جانا لازم تھا۔بڑھیا جس کے پاس ڈبل روٹی خرید نے کے پیسے نہ تھے وہ جرمانے کی رقم کہاں سے لائے گی، سب اسی سوچ اور تاسف میں مبتلا تھے۔دل ہی دل میں مئیر لاگارڈیا کو کوس رہے تھے کہ یہ پتھر دل انسان نیویارک میں کیوں پیدا ہوا۔
اس سے پہلے کہ  پولیس کے مارشل اس دکھیاری کو جیل لے جاتے جج صاحب نے کہا اس کا جرمانہ میں ادا کروں گا، مگر ابھی فیصلہ پورا نہیں آیا۔ فیصلے کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ عدالت میں موجود ہر شخص پر فی کس پچاس سینٹ جرمانہ عائد کیا جارہا ہے کیوں کہ وہ سب بھی اس جرم میں شریک ہیں، کہ وہ ایک ایسے شہر اور سماج کا حصہ ہیں جہاں ایک بڑی بی اور چند بچوں کو کو کھانے کے لئے ڈبل روٹی جیسی معمولی شے خریدنے کی استطاعت نہ ہو اور وہ اسے چوری کرنی پڑے۔جرمانے کی یہ رقم بڑی بی کو دی جائے۔ یوں مقدمے کے فیصلے کی رو سے بڑی بی کو پچاس ڈالر کی رقم مہیا ہوگئی۔

کبھی آپ نے سوچا کہ ہمدردی اور خیر خواہی میں کیا فرق ہے۔ ہمدردی میں آپ خود کو محض اظہار افسوس تک محدود رکھتے ہیں جو جرمانے سے پہلے کورٹ میں موجود افراد کی کیفیت تھی اور خیر خواہی وہ جرمانہ تھا جو جج نے ان پر عائد کرکے انہیں  خیر خواہی اور ترحم پر مجبور کیا۔ ادائیگی انصاف کو حق سے زیادہ آگے بڑھ کر سوچنا چاہیئے کہ اس میں مرہم رکھنے اور اس کے گھائل فرد کی دل جوئی کا کیا پہلو نکلا۔لیگل انصاف اور معالجاتی انصاف (Healing Justice میں (وہی فرق ہے جو لاگاڑدیا نے سمجھایا)۔

آنٹی ایم کے پاس ایک دفعہ قدرت اللہ شہاب صاحب  اپنے صدر محترم کی درخواست پر ان سے خصوصی طور پر ایک خفیہ رپورٹ کی تصدیق کے لئے حاضر ہوئے۔ ممتاز مفتی کی کتاب الکھ نگری میں جو انیسواں  باب ہے وہ آنٹی ایم کے بارے میں مگر یہ تذکرہ کچھ سر سری سا ہے۔

شہاب صاحب
قدرت اللہ شہاب
الکھ نگری

ایم۔ آئی کی یہ خفیہ رپورٹ ذرا پریشاں کن تھی اس میں ایک قاتلانہ سازش کے ابتدائی خدو خال وضع کئے گئے تھے۔قاتلوں کی نشاندہی نہ کی گئی تھی۔ نہ ہی سازش کے مقام کا تعین تھا۔آنٹی کا خیال تھا کہ شہاب صاحب شاید  صدر کی ایما پر یہ رپورٹ لے کر آئے تھے۔ تب آنٹی باتھ آئی لینڈ پر ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی تھیں۔اسی سرکاری کمپاؤنڈ میں شہاب صاحب بھی قیام پذیر تھے۔یوں شناسائی تھی۔
صدر ایوب اس رپورٹ پر کچھ پریشان تھے۔
آنٹی نے رپورٹ کے بارے میں کچھ زیادہ سوال جواب نہیں کیے۔ صرف شہاب صاحب سے صدر صاحب کی والدہ کا نام پوچھا اور ایک مختصر سے مراقبے کے بعد فرمانے لگیں کہ قاتل شہر میں آن پہنچے ہیں کچھ مدد گارآج شام یا کل پہنچیں گے ان قاتلوں میں پنڈی سے چار بڑے فوجی افسران کی بیگمات شامل ہیں جنہیں صدر صاحب کی بیگم  صاحبہ نے کھانے پر بلایاہے وہ انہیں زہر دینے کے ارادے سے آرہی ہیں اور وہ یہ بات اپنے stone-headed (اردو ترجمہ غالباً دماغ میں بھس بھرا ہونا ہوگا) صدر کو بتادیں۔ ان کی یہ بات اس خفیہ رپورٹ کی نہ صرف تصدیق کرتی تھی بلکہ اس  سے کہیں زیادہ تفصیلات فراہم کرتی تھی، صدر صاحب نے جب ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ انکار کر بیٹھیں۔ قدرت اللہ شہاب صاحب ان کے بڑے مداح تھے اور وہ بھی ان کی بہت عزت کرتی تھیں، اگر آپ نے ان کی سوانح حیات شہاب نامہ پڑھی ہے تو اس کا ایک پراسرار باب نائینٹی ہے، آنٹی۔ایم نے ہمیں بتایا کہ یہ ہستی انہیں گمان ہے کہ دہلی کے مشہور بزرگ جو حضرت فرید الدین گنج شکرؒ کے مرشد اور حضرت معین الدین چشتیؒ کے خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین  بختیار کاکیؒ کی تھی۔
آنٹی۔ایم کے ڈرائنگ روم میں ایک تصویر لگی ہوئی تھی، یہ بابا تاج الدین جو ہندوستان کے شہر ناگپور میں رہتے تھے اور جن کا سلسلہ یہاں پاکستان میں حضرت ذہین شاہ تاجیؒ کیوجہ سے شہرت پایا۔آپ نے عابدہ پروین کی البم رقص بسمل میں جو وحدت الوجود کے موضوع پر کلام سنا ہے کہ جی چاہے تو شیشہ بن جا۔۔وہ سیدنا تاجی ؒ کا کلام ہے۔یہ تصویر ان کی تھی یعنی بابا تاج الدین ؒ۔

جنرل ایوب
شہاب نامہ
آنٹی کے گھر میں لگی تصویر
حضرت ذہین شاہ تاجی
بابا تاج الدین
بابا تاج الدین اولیا کا مزار ناگپور بھارت
اندرون مزار-بابا تاج الدین اولیا کا مزار ناگپور بھارت
لکڑٰ کی کھڑاویں

اگر آپ اہلِ دل ہوں تو اس تصویر کو گھنٹوں دیکھنے پر بھی دل نہیں بھرتا تھا۔یہ تصویر ان کے پاس ایک عجب طریقے پر پہنچی، وہ بتاتی تھیں کہ ایک شام ایک کالے بھجنگ دبلے پتلے،منحنی سے حضرت ان کا گھر ڈھونڈتے ہوئے پہنچ گئے۔بغیر ٹائی کا سوٹ پہن رکھا تھا اور حیدرآبادی لہجے میں انگریزی بولتے تھے، اور حیدرآباد دکن سے تشریف لائے تھے۔ کہنے لگے کہ حکم ہوا ہے کہ یہ دو تصویریں لے جاؤ اور ایک اس بی بی کو دینی ہے دوسری کسی اور کو۔پوچھنے لگے کہ ” وہ قدرت اللہ شہاب کہاں ہوتا ہے۔؟اس کی خبر لینی ہے”۔شہاب صاحب اس وقت صدر ایوب کے سیکرٹری ہوتے تھے۔بیوروکریسی کا ان دنوں بہت دبدبہ ہوتا تھا ۔ دارالخلافہ پنڈی منتقل ہوچکا تھا،۔آنٹی۔ایم نے کہا کہ وہ انہیں ان کی آمد کی اطلاع دے دیں گی، ان بزرگ سے شہاب صاحب سے ملاقات کی تفصیل,،ممتاز مفتی نے اپنی سوانح حیات الکھ نگری میں تفصیل سے بیان کی  ہے۔

آنٹی۔ایم کو حیدر آباد دکن سے بہت لگاؤ تھا، وہ وہاں جوان ہوئیں بی۔ اے تک تعلیم بھی وہیں حاصل کی ا ور شادی بھی ان کی وہیں پر ہوئی تھی۔وہ کسی سے بیعت نہیں تھیں مگر براہ راست انہیں رسول مقبول محمدﷺ سے اور اما م حسینؓ سے فیض حاصل تھا پھر داروغہ جی اور شیخ الہند شیخ محمود الحسن جو دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگر د تھے اور انگریزوں کی مخالفت کے باعث اٹلی کے پاس مالٹا کے جزیرے میں قید ہوئے ان کے بھائی شیخ مطلوب حسین سے تربیت حاصل ہوئی۔داروغہ جی حیدرآباد کے شاہی محلات کے باغبان تھے پر داروغہ جی کہلاتے تھے۔زیادہ تر عملیات اور وظائف ان کے بخشندہ تھے۔

عاجزی اور بندگی کے حوالے سے اسے چشتی سلسلے کے بڑے بزرگوں کی کتابوں پر مبنی ایک مجموعے ہشت بہشت میں پڑھا ہوا ایک واقعہ   بھی بہت پسند تھا۔سمرقند و بخارا میں ایک بزرگ ہوتے تھے جن کا نام حضرت عثمان خیر  آبادی تھا۔چھوٹی سی کٹیا میں رہتے تھے۔پاس کی زمین پر سبزی کاشت کرتے اور ان کا سالن بنا کر بازار میں فروخت کرنے بیٹھ جاتے،بینائی بہت کمزور تھی، دھات کے سکوں کا زمانہ تھا،کچھ شرارتی لوگ انہیں کھوٹے سکے دے کر سالن لے لیا کرتے تھے،ان بزرگ کی بینائی تو ضرور کمزور تھی پر تجربے کے حساب سے وہ جانتے تھے کہ دیا جانے والا سکہ کھوٹا ہے مگر سالن اور نان دینے کے معاملے میں انہوں نے کبھی پس و پیش نہ کی۔فریب دہندہ کا ہمیشہ بھرم رکھا۔
وقتِ وصال آیا تو اللہ سبحانہ تعالی سے دعا کی کہ یا اللہ میں نے کھوٹے سکے کی وجہ سے آپ کے کسی بندے کو کبھی کھانا دینے سے انکار نہیں کیا۔اگر میری کسی عبادت یا بندگی میں کوئی کھوٹ رہ گئی ہو تو آپ بھی میری بخشش سے مت انکار کیجئے گا۔

جب ہم نے ان سے اپنی روحانی تربیت کرنے کی درخواست کی تو وہ کہنے لگیں کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ناطے اس سے نہ صرف معذور ہیں بلکہ ان کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایک خواب میں انہیں بتادیا گیا ہے کہ ان کا سلسلہ ان کے بعد پاکستان سے کہیں اور افغانستان کے راستے آگے منتقل ہو جائے گا۔البتہ ممکن ہے کہ ہمیں وارثی سلسلے کے کوئی بزرگ اپنالیں۔گو اس بارے میں ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ابھی تصویر بہت دھندلی ہے۔

یہ وارثی سلسلہ، چشتی سلسلے کا ایک ذیلی سلسلہ ہے،حضرت وارث علی شاہ ؒ جن کا وصال 1905 ؁ ء میں ہوا، ہمیشہ ایک زعفرانی رنگ کا احرام بطور لباس پہنے رہتے تھے،جب عزیزوں نے جائیداد کا جھگڑا کھڑا کیا تو اپنی سند ایک حوض پھینک دی اور دنیا کی سیر کو نکل کھڑے ہوئے،جب اپنے مرشد اعلیٰ حضرت معین الدین چشتی ؒ کے مزار مبارک پہنچے تو پاؤں میں پڑی لکڑی کی کھڑاوں سمیت مزار کے اندر داخل ہوگئے، خدام نے بہت شور مچایا تو پوچھنے لگے کہ ” انہیں اس پر اعتراض ہے کہ صاحبِ مزار کو”، خدام نے عرض کی کہ” صاحب مزار کو بھی یہ بات بھلی نہ لگی ہوگی”، اس پر آپ نے فرمایا کہ” جس بات سے دوست ناخوش ہو اس کو ترک کرنا ہی بہتر ہے”،یہ کہہ کر کھڑاوئیں باہر پھینک دیں اور عمر بھر پیر میں  جوتی نہیں ڈالی۔سننے میں آیا ہے کہ مشہور ہندوستانی پینٹر مقبول فدا حسین المعروف بہ ایم۔ایف۔حسین انہی  کی اس روایت کی تقلید میں ننگے پیر گھومتے ہیں۔

آنٹی۔ایم کی اس پیش گوئی کے بارے میں ہم کچھ سرگرداں تھے کہ ایک دن ایک بڑے سے  دفتر  کے  ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنی چوہدراہٹ کا کھاتہ کھولے بیٹھے تھے کہ ایک دفتری ساتھی نے اطلاع دی کہ مشہور زمانہ قوالی ع سرِ لامکاں سے طلب ہوئی سوئے منتہا وہ چلے نبیؐ،کوئی حد ہے ان کے عروج کی، کہ خالق حضرت عنبر شاہ وارثی تشریف لائے ہیں۔
مشہور قوال برادران غلام فرید مقبول صابری نے اسے گا کر امر کردیا ہے۔۔دفتری ساتھی انہیں ہمارے دفتر میں لے آیا۔ وہ اب بہت بوڑھے ہوچکے تھے پر صحت اب بھی اچھی تھی۔ آنکھوں میں بڑی چمک تھی۔ہم نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے ایسی لاجواب نعت کیسے لکھ لی ؟تو کہنے لگے کہ وہ ایک دن مسجد نبوی کے صحن میں عشا پڑھ کر بیٹھے تھے ،دل پر یہ بوجھ تھا کہ ایک عمر گزری شاعری کرتے پر رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ طیّبہ پر کچھ ایسی بات نہ کہہ سکے کہ زبان زدِعام ہو جیسا کہ آپ کا کرم امیر خسرو ؔپر ہوا تھا۔امیر خسرو ؔایک دن حضرت نظام الدین اولیاؒ سے گلہ جو ہوئے کہ حضرت شیخ سعدی نے چار مصرعوں کی ایک نعت لکھی اور وہ بھی لوگ ہروقت یاد رکھتے ہیں، تو آپ محبوب الہی نے دعا دی کہ تم بھی کچھ ایسی ہی نعت لکھو گے کہ فرشتے رشک کریں گے گو اس نعت کا مقام تو بہت بلند ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ نے یہ نعت لکھی تھی۔
بلغ العلٰی بکمالہٖ
کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع،خصالہٖ
صلو علیہ و آلہٖ

اس تذکرے اور دعا کے بعد روایت ہے کہ امیر خسرو پر ایک ایسا عالم کسی شب طاری ہوا کہ انہوں نے وہ مشہور نعت لکھی کہ
نمی دانم چہ منزل بود،شب جائے کہ من بودم۔۔۔۔۔(نہ جانے کیا مقام تھا، جہاں کل شب میں تھا)
بہ ہرسو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم۔۔۔۔۔(ہر سو زخمی اہل دل،مانند پروانوں کے تڑپتے تھے)
پری پیکر،نگارے،سروقدے،لالہ رخسارے۔۔۔۔(پری پیکر،خوش جمال،سرو قد،شھابی گالوں والے)
سراپا آفت دل بود،شب جائے کہ من بودم۔۔۔۔(دل تھا کہ ایک مبتلائے آفت تھا، جہاں کل شب میں تھا)
خدا خود میر مجلس بود، اندر لامکاں، خسروؔ۔۔۔۔۔۔(خسروؔ، اس مجلس َ لامکاں کا میر خدا،خود ہی تھا)
محمد،شمعء محفل بود،شب جائے کہ من بودم۔۔(اور محمد محفل میں مانند ایک چراغ کے، کہ جہاں کل شب میں تھا)

حضرت عنبر شاہ وارثی فرمانے لگے کہ یکایک ان کی نگاہ آسمان پر اٹھی، جہاں انہیں یہ الفاظ لکھے دکھائی دیئے اور انہوں نے جیب سے ڈائری نکال کر قلمبند کرلیا۔ اگر آپ غور فرمائیں تو امیر خسروؔ کا یاد آنا اور اس حوالے سے حضرت عنبر شاہ وارثی کی یہ فر مائش اور پھر یہ نعت کا وجود میں آنا کہ جس کا ماحول اور جذب وہ شب معراج والاہی ہے جوامیر خسرو کی نعت کا ہے کہ

سہانی رات تھی، اور ُپراثر زمانہ تھا
اثر میں ڈوبا ہوا، جذبِ عاشقانہ تھا
انہیں تو عرش پر محبوب کو بلانا تھا
ہوس تھی دید کی، معراج کا بہانہ تھا
سرَلامکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی
کوئی حد ہے، ان کے عروج کی

رخصت کے وقت ہمیں جب انہوں نے گلے لگانا چاہا توہم نے ایک عجیب سی فرمائش کی کہ ایک تو یہ کہ قلب جاری ہوجائے(اہل سلوک کے ہاں قلب کا ہمہ وقت ذکر الہی میں مصروف ہونا قلب کا جاری ہونا کہلاتا ہے)اور دوسرے یہ کہ طبعیت موزوں ہوجائے(یعنی وہ شاعری کرنے لگ جائے)۔ایسا لگا کہ انہیں اس فرمائش پر ایک کرنٹ لگا اور انہوں نے ہمیں یک لخت اپنے سے جدا کردیا۔اور خاموشی سے چل دئیے۔
آنٹی۔ایم سے اس نے جب اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگیں کہ بزرگوں اور درویشوں کے ہاں نہ آپ کی مرضی چلتی ہے نہ ان کی اپنی۔درویش کی زندگی ایک بہت بڑا اور مسلسل امتحان ہے۔سارے وعد ے موت کے بعد کے ہیں، وہ ہی مسئلہ  ہے جو کفار کا تھا، کہ وہ نبی کریمؐ پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ ان کے سارے وعدے مرنے کے بعد کے ہیں۔ اس نے جب یہ جاننا چاہا کہ یہ بزرگی ہے کیا، یہ تصوف یہ کرامات کسے کہتے ہیں۔ کہنے لگیں کہ کرامات کو اس سوال سے علیحدہ کردیجئے، وہ تو عنائیت الہی کہ بات  اپنے کنٹرول سے بالکل باہر ہوتی ہے،درویش کو خود ایسی حالت میں رکھا جاتا ہے کہ یا تو بیوی گالیاں دے رہی ہوتی ہے، یا اولاد خراب ہوتی ہے یا کوئی ایسی واضح ناکامی اس کی زندگی سے جوڑ کر مسلسل اچھالی جاتی ہے کہ ملامت ہوتی رہتی  ہے  اور انا کے غبارے سے ہوا نکلتی ہی رہتی ہے۔پھر کرامات کا بڑا تعلق مشاہدے سے ہوتا ہے جو بعض دفعہ مجاہدے کو شرف قبولیت مل جائے تو مشاہدہ تیز ہوجاتا ہے۔
ہم نے آنٹی سے پوچھا کہ ” وہ یہ کیوں کہتی ہیں کہ درویش کی زندگی مسلسل امتحان ہے؟”۔ تو انہوں نے وضاحت کی کہ ” کیا اس نے کبھی سوچا کہ درویشی بالآخر ہے کیا؟۔اور یہ صوفی کون ہوتے ہیں؟

درویشی ایک بہت بڑ ی اور مسلسل خود احتسابی کا نام ہے،ایک ایسا عمل ہے جس میں ہر وقت خود کو نفی کرکے رکھنا پڑتا ہے، عاجزی کو ہر وقت اپنائے رکھنا پڑھتا ہے،یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں اللہ کے دوست اس کا خوف اس کی محبت میں طاری کیے  رہتے ہیں۔صوفی حضرات وہ ہوتے ہیں جوہر وقت زندگی موت کے انداز میں جیتے ہیں۔ ویسے تو تمام نیک لوگ اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ موت کے بعد وہ اپنے خالق حقیقی سے ملیں گے مگر اہل تصوف جلد باز ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ اللہ انہیں ابھی اور یہیں  مل جائے۔اسی دنیائے فانی میں۔اس لئے کہ انکے نزدیک یہ زندگی اس آنے والی زندگی کی ہی ایک Extension حوالہ ہے،اسی لئے زندگی کے وہ ان چار ذائقوں کو بہت ہی کم کردیتے ہیں جو تمام تر برائیوں کی جڑ ہیں “۔

“وہ کون سے چار ذائقے ہیں آنٹی؟ “ہم نے پوچھا۔
” وہ ہیں تقلیل طعام۔یعنی کھانا سادہ اور کم،تقلیل کلام۔گفتگو بقدر ضرورت،تقلیل منام۔یعنی کم سونا،اس لئے کہ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں کہ میرے محبوب بندے وہ ہیں جن کے تن رات میں بستر سے جدا ہوتے ہیں۔ویسے تو اس کی تجلیات کے ظاہر ہونے کے لئے کوئی مخصوص وقت نہیں مگر ان تجلیات کا ظہور رات میں بکثرت ہوتا ہے۔اور تقلیل بلاختلاط العوام یعنی لوگوں سے کم ملنا۔ جو یہ دعویٰ کرے کہ ” وہ عوام میں بہت مقبول ہے جان لیجئے کہ اس میں منافقت بھی زیادہ ہوگی۔پھر لوگوں سے زیادہ ملنے میں قلب پر برے اثرات پڑتے ہیں، وہ بعض دفعہ اپنی کثافتیں آپ کے دامن میں ڈال دیتے ہیں “۔

ہم نے آنٹی سے پوچھا کہ ” وہ جو مجاہدے اور مشاہدے کی بات کرتی ہیں تو ان کا آپس میں کیا تعلق ہے فرمانے لگیں کہ کرامات کا بڑا تعلق مشاہدے سے ہوتا ہے بعض دفعہ جو مجاہدے کو شرف قبولیت مل جائے تو مشاہدہ تیز ہوجاتا ہے “۔ہم نے پوچھا کہ ” آنٹی کیا مجاہدہ تنہا شرف قبولیت کا معیار نہیں بنتا۔”؟
وہ کہنے لگیں کہ ” نہیں ایسا ہرگز نہیں، کسی کا مرتبہ بلند ہونا صرف عنائیت الہی سے ہوتا ہے،شیطان نے تو بہت مجاہدہ کیا تھا، پر ایک نافرمانی سے ساری محنت ضائع ہوگئی”۔
یہ بات یوں بھی درست ہے کہ حضرت خواجہ بہاالدین زکریا ؒ اپنے مرشد حضرت شیخ شہا ب  الدین سہروردی (جن کی کتاب عوارف المعارف تصوف کی مستند کتابوں کا درجہ رکھتی ہے)کی خدمت میں کل سترہ دن رہے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا ؒ اپنے مرشد حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی خدمت میں کل دو ماہ رہے تھے اور انہیں خلافت کا  منصب عطا ہوگیا تھا۔

مرشد کے دربار میں ان کی یہ آمد بھی کیسی خوش آئند تھی کہ مرشد نے ان کی آمد پراپنا یہ شعر پڑھا ع
اے آتشِ فراقت،دلہا کباب کردہ
سیلابِ اشتیاقت، جانہا خراب کردہ
(تیرے فراق کی آگ میں دل جل کر کباب ہوگیا تو اور تجھ سے ملنے کی لگن نے جان کو اجاڑ کر رکھ دیا تھا)

وہاں خدمت میں کئی اور بزرگ بھی رہتے تھے جنہیں اس عنائیت پر  بہت حیرت ہوئی تھی۔ پوچھنے پر جواب ملا کہ ” نظام الدین سوکھی لکڑیاں لایا تھا لہذا انہوں نے آگ جلد پکڑی اور تم گیلی لکڑیاں لائے تھے “۔انہیں خدام میں ایک ّملا یوسف نامی صاحب بھی تھے جو بارہ سال سے اپنے پیر کی خدمت بجا لا  رہے تھے۔انہیں بھی اس عنائیت پر شدید اعتراض ہوا۔مرشد محترم سے گلہ کیا تو آپ نے ایک بچے سے کہاکہ گلی میں اینٹوں کا جو ایک ڈھیر ہے اس میں  سے ان کے لئے   ایک اینٹ لے آئے، بچہ گیا اور ایک عمدہ سی اینٹ اٹھا لایا،اسی طرح آپ نے ایک اینٹ نظام الدین کے لئے بھی لانے کو کہا تو  وہ انکے لئے بھی ایک ثابت صاف ستھری اینٹ لے کر آگیا اورجب آپ بابا فریدؒ نے ملا یوسف کے لئے اینت لانے کو کہا تو وہ ایک میلی ٹوٹی پھوٹی اینٹ لے آیا۔

خود حضرت نظام الدین اولیا کی مرضی تھی کہ ان کی خلافت کا شرف حضرت امیر خسرو کو  حاصل ہو مگر جب وصال کا وقت آیا تو امیر خسرو باد شاہ محمد تغلق کے ساتھ شہر سے کہیں باہر تھے اور حضرت نصیر چراغ دہلوی آپ کی خدمت میں حاضر تھے جس پر آپ نے خرقہ خلافت عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ” بندہ چاہے امیر کو اور اللہ چاہے نصیر کو”۔

آنٹی۔ایم آج لگتا تھا کہ معلومات کے حساب سے چھلک رہی ہیں۔ویسے تو وہ اس کے سوالات کا جواب دینے میں کبھی بھی بخیلی سے کام نہیں لیتی تھیں مگر آج وہ بہت روانی کے عالم میں تھیں۔ مزید گویا ہوئیں کہ جسے آپ بزرگی کہتے ہیں یہ ایک بارِامانت ہے میں آپ کو ایک قصہ سناتی ہوں جو یا تو میں نے کہیں پڑھا تھا یا شاید اپنے داروغہ صاحب سے دورانِ تربیت سنا تھا۔
وہ قصہ یوں ہے کہ ایک چیلا تھا، ہماری،آپ کی طرح کا،ودیا(ہندی میں علم اور گیان کو کہتے ہیں)کا پیاسا،اپنے گرو کے پاس جب اسکی تربیت مکمل ہوگئی تو گرو نے کہا کہ ایک گیان ایسا ہے جو میں تمہیں نہیں دے سکتا وہ ایک راجدھانی کے راجکمار کے پاس ہے۔تمہیں اس کے لئے ان کے پاس جانا پڑے گا۔جب تک تمہیں وہ یہ گیان نہ دیں، تو مانو کہ تمہاری تربیت نامکمل ہے۔چیلا بہت پریشان ہوا کہ یہ راجکمار لوگ تو دنیا دار ہوتے ہیں،گرو کو یہ کیا سوجھی کہ ہم نے تو دنیا تیاگ دی اور یہ پھر ہمیں اسی راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں۔پر گرو کا حکم تھا اور یہ گیان نہ حاصل ہو تو ان کے حساب سے اس کی تربیت بھی نامکمل رہتی تھی۔ وہ گرو کی چھّٹی لے کر سفر کرتا کرتا اس راجدھانی پہنچ گیا۔
اسے وہاں پہنچ کر پتہ چلاکہ راجکمار جی تو ہفتے میں ایک دن درشن دیتے ہیں اور ابھی وہ دن نہیں آیا،اس نے اپنا ماجرا دربان کو سنایا کہ کس طرح وہ اپنے گرو کی چھٹی لے کر یہاں آیا ہے اور راجکمار سے ملے بغیر نہیں جائے گا۔راجکمار جی نے اس کی بپتا سن کر سندیس بھجوایا کہ اسے شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا جائے۔کل ایک شبھ  دن ہے وہ کل اس سے ضرور ملیں گے۔
اگلے دن جب وہ راجکمار سے ملا تو رات کو بڑا تہوار تھا،ایسا لگتا  تھا کہ ساری راجدھانی دلہن بن گئی،ہر طرف سنگیت اور خوشیاں دکھائی دے رہی تھیں۔راجکمار جی نے اس کو اچھے کپڑے پہنائے اور کہا کہ ایک ٹولی کے ساتھ وہ بھی گھومے پھرے، عیش کرے۔بس یہ ایک دودھ کا پیالہ ہے جو وہ سنبھال کر رکھے اس میں بڑا قیمتی دودھ ہے یہ کم نہیں ہونا چاہیے ۔پیالہ خوشبو دار دودھ سے لبا لب بھرا تھا اور ٹولی کو یہ ہدایت تھی کہ وہ چیلے پر نظر رکھیں کہ چیلے جی نے رات کی رونقوں کے خوب مزے بھی لوٹے ہیں اور دودھ کو کہیں ضائع بھی نہیں ہونے دیا۔اب راجکمار جی سے ان کی ملاقات کل سویرے ہی ہوگی۔
چیلا بڑا خوش تھا کہ راجکمار نے اسے اپنے کام کے لئے خاص طور پر چن لیا ہے۔دودھ کے پیالے کو وہ سنبھال لے گا یہ کونسا ایسا مشکل کام ہے۔یہ ٹولی محل سے نکل کر جگہ جگہ گھوتی پھری۔میلے میں نت نئے تماشے تھے مگر باقی لوگ تو ہر جگہ دل کھول کر شریک ہوئے۔صبح کو جب یہ نیند کے مارے راجکمار جی کی سیوا میں حاضر ہوئے تو راجکمار جی نے چیلے سے پوچھا کہ ” کہو بھئی رات تو تم نے تہوار کے خوب مزے لوٹے ہوں گے؟”۔ چیلے نے منہ بسور کر جواب دیا “کیسے مزے مہاراج میں تو بس آپ کایہ دودھ کا پیالہ ہی سنبھالتا رہا” آنٹی نے کہا کہ “عدنان میاں یہ بزرگی سمجھ لیں ،خوشبو دار دودھ کا وہ پیالہ ہے جو بزرگ ساری عمر سنبھالتے رہتے ہیں “۔

تصوف کا راستہ سلوک کا راستہ کہلاتا ہے۔جس کا پہلا مرحلہ شریعت ہے۔یعنی وہ فرائض اور عبادات جو لازم قرار دی گئی ہیں ان کا خلوصِ نیت سے ادا کرنا۔یہاں سے سفر آگے چلتا ہے تو طریقت کا پڑاؤ آتا ہے۔طریق دراصل وہ راستہ ہے جو ایک صحرا نورد کو پانی تک لے جائے۔صحرا کے راستے  سڑکوں کی مانند متعین نہیں ہوتے۔اسکے لئے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس صحرا کی ان علامات اور وسعتوں سے باخبر ہو جو اس راستے کی نشاندہی کرتی ہوں۔یہی وجہ ہے کہ شیخ کی تصوف یا سلوک کے راستے میں بہت اہمیت ہے۔سالک فنا فی شیخ ہو کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔شریعت اگر دین کے خارجی عوامل اور اس کی ساخت اور اہمیت سے آشنا کرتی ہے تو طریقت اندر کا راستہ کھولتی ہے۔جب ان دونوں مدارج سے سالک کماحقہ طور پر آگاہ ہوجاتا تو تیسرا درجہ حقیقت کا آجاتا ہے۔یہ وہ شعور ہے جو سالک کو اسوقت حاصل ہوتا ہے، جب وہ وجود الہی سے اپنا مکمل ناطہ جوڑتا ہے اور پھر اسے تمام چیزوں کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔جو بندگی کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔

ہم نے دریافت کیا کہ کیا وہ جو لوگوں کے مسائل یوں چٹکی بجاتے حل کردیتی ہیں خود اپنے معاملے میں بھی کبھی لاچار ہوئیں۔کئی دفعہ مگر اپنی لاچاری کا اور اپنے معاملے میں کئی بزرگوں کی لاچاری کا قصہ ضرور سنائیں گی۔ارشاد’ہم نے کہا۔
فرمانے لگیں  کہ 1948ؑمیں  ہندوستان نے حیدرآباد دکن پر فوجیں بھیج کر قبضہ کرلیا، سمجھ لیں مارشل لاء لگ گیا تھا، کسی حاسد کے ایما پر ان کے والد صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔وہ پریشان ہو کر اپنے روحانی استاد داروغہ صاحب کے پاس گئیں جنہوں نے ان کی رہائی سے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کی کہ بی بی معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے۔آپ ایسا کیجئے کہ بارگاہ یوسفین شریفین چلی جائیں، وہاں آج کل ایک بڑے جلالی مجذوب آئے ہیں لیکن جاتے وقت انہیں پیش کرنے کے لئے سفید برفی کی دو ٹوکریاں ضرور لے جائیے گا،انہیں سفید مٹھائی بہت پسند ہے۔آنٹی کہنے لگیں کہ وہاں مٹھائی ٹوکری میں ملا کرتی تھی۔ جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ درگاہ پر پہنچیں تو دو خادموں نے لپک کر مٹھائی کی ٹوکریا ں تو لے لیں مگر ساتھ ہی یہ فرمانے لگے کہ رات سے حجرے میں بند ہیں،بڑے جلال میں ہیں، کسی کو پاس آنے کا اذن نہیں۔آنٹی بتانے لگیں کہ وہ اور ان کے شوہر بے نیل و مرام چلے آئے اور ساری کاروائی داروغہ صاحب کو جا کر بتائی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وہ کل پھر جائیں، یہ نہ بتائیں کہ انہیں کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی کل مٹھائی لے جائیں۔

درگاہ یوسفین شریفین -حیدرآباد دکن
درگاہ یوستیفن شریفین -حیدرآباد دکن
مٹھائی کی ٹوکری

اگلی صبح جب وہ درگاہ پر پہنچے تو خادم دوڑے دوڑے آئے اور کہنے لگے کہ کل حضرت بہت ناراض ہوئے، رات میں پوچھنے لگے کہ وہ جو صبح مٹھائی لائے تھے، وہ مٹھائی کہا ں ہے۔ وہ مٹھائی تو ہم ختم کر بیٹھے تھے مت پوچھیے  کیسی درگت بنی۔آئیے ان کے پاس آپ کو لے چلیں،مجذوب خاصے قوی ہیکل تھے،مسئلہ بیان کیا تو کہنے لگے ہمارا کیا ہے وہ جو لیریا ں لیریاں کرتا ہے،وہ کچھ کرے تو کرے، تو مت جائیو عورتوں سے نہ ملے،مگر تو ایسی جگہ بیٹھنا کہ زیادہ دور نہ ہو۔چلتے چلتے انہوں نے اس محلے کا نام بتادیا۔جہاں وہ لیریاں لیریاں کرنے والے بزرگ کا آستانہ تھا۔
آنٹی۔ایم یہاں داستاں سناتے سناتے رک گئیں۔ ایسا اکثر ہوتا تھا۔انہیں بعد میں یاد دلانا پڑتا تھا کہ وہ کیا  بات کررہی تھیں۔ ” فرمانے لگیں ان مجذوب لوگوں سے بچ کے رہنا چاہیے ۔یہ اپنے آپ میں نہیں ہوتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو راہ سلوک پر اپنا راستہ بھول چکے ہیں۔اب ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو  ایک مقام پر اتنے محو ہوچکے ہیں کہ انہیں اپناآپ یاد نہیں رہا۔ان کا سکر( اہل تصوف کے ہاں ایسی کیفیت جہاں مشاہدہ جمالِ معشوق بے خودی،مدہوشی یا تعطل عقل کا باعث ہوتا ہے) ان کے صحو (عارف کاسکر سے شعوری احساس کی طرف واپس آنا) پر غالب آگیا ہے۔ان میں کچھ ایسے حضرات ہوتے ہیں جو بظاہر تو شدید کرب میں ہوتے ہیں مگر روحانیت میں اپنے مدارج طے کر رہے ہوتے ہیں۔اس حوالے سے وہ بڑے صاحب حکم ہوتے ہیں۔ نہ جانے اپنی بے خبری میں وہ کیا حکم فرمادیں۔”

ہمیں سچ پوچھیں تو اس وقت اپنے سوال کے جواب میں زیادہ دلچسپی تھی کہ وہ کس طرح اتنی صاحب کشف ہوتے ہوئے بھی مجبور تھیں اور کس طرح کچھ بزرگ جن سے وہ اسوقت داروغہ جی سے لے کر ان مجذوب تک ان کی مدد کرنے سے قاصر تھے۔آنٹی کو پھر سے موضوع کی طرف واپس لے آئے۔وہ کہنے لگیں کہ وہ اس پریشانی میں تھیں کہ وہ کس طرح ان لیریاں لیریاں والے بزرگ سے قریب ہو سکیں گی جب کہ وہ تو خواتین سے ملتے بھی نہیں کہ انہیں یادآیا کہ ساتھ کے  محلے میں ان کی بچپن کی ایک ہندو سہیلی کا گھر ہے۔وہ جا کر اس کے گھر بیٹھ گئیں اور میاں کو ان کے  آستانے پر بھیج دیا۔آنٹی نے  جب اپنی سہیلی کو اپنی آمد کی غرض و غائیت بتائی تو وہ کہنے لگی کہ وہ اسکے گھر کے بالکل عقب میں  رہتے ہیں اور دونوں کے مکانوں کی دیوار ایک ہے۔مجذوب بزرگ کی پہلی بات تو سچ نکلی۔
آپ کو آگے کا قصہ ہمارے شوہر بتائیں گے۔آپ دونوں اب لان میں بیٹھ کر چائے پیجئے ہمارے پاس کچھ خواتین آرہی ہیں۔اسی اثناء میں ہم نے دیکھا کہ دو عدد گاڑیاں باہر گیٹ پر آن کر رکیں ایک گاڑی سے اسلحہ سے لیس گارڈ اترے اور انہوں نے مختلف جگہوں پر اپنی پوزیشن سنبھال لی۔دوسری گاڑی سے چار عدد بیبیاں اتریں جو کسی روایتی اعلیٰ گھرانے کی خواتین لگتی تھیں وہ اندر آئیں اور جلدی سے آنٹی کے پاس ڈرائنگ روم میں چلی گئیں۔ابھی ان کے شوہر نے قصہ شروع بھی نہ کیا تھا، کہ ا ن میں سے دو عدد خواتین باہر سیڑھیوں پرآ ن کر بیٹھ گئیں۔انہیں چائے وہیں سیڑھیوں پر ہی پیش کی گئی۔
آنٹی کے شوہر جنہیں خود بھی ان خواتین کے باہر بیٹھنے پر حیرت تھی بتانے لگے کہ شاید ان بیبیوں کی کسی بات پر ان کی  اہلیہ ناراض ہوگئی ہوں گی، اس لئے انہیں باہر نکال دیا ہے۔
بہر حال ہم تو اپنی بات جاری رکھتے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ لیریاں لیریاں والے بزرگ ایک چھوٹے سے  کمرے میں بیٹھے تھے۔کمرے میں ہر طرف چیتھڑوں کا ڈھیر تھا۔جنہیں وہ مستقل پھاڑ کر مزید چیتھڑے بنا رہے تھے۔طاق میں ایک چراغ ٹمٹما رہا تھا ایک کھڑکی کھلی تھی جس کے بالکل نزدیک وہ بیٹھے تھے۔ ایک سماوار جس کے نیچے  انگارے دہک رہے تھے اس بات کا پتہ دیتی تھی کہ اس میں بلا کی خوشبو دارچائے کھول رہی ہے۔سماوار کے نلکے کے نیچے انگاروں سے قریب دو عدد کھلے منہ کے بڑے پیالے پڑے تھے۔ جن میں بہت سی مکھیاں بھن بھنارہی تھیں۔حیرت کا مقام یہ تھا کہ مکھیاں انگارو ں کے قریب کیوں تھیں۔ وہ تو ٹھنڈی اور نم جگہ پر بیٹھتی ہیں۔بہر حال انہوں نے ہماری بپتا بڑے غور سے سنی اور فرمانے لگے” ابے چائے ڈال پیالوں میں “۔جب ہمیں مکھیوں کی وجہ سے تامل ہوا تو وہ تاڑ گئے اور ہاتھ کے اشارے سے مکھیوں کو اڑاتے ہوئے کہنے لگے “بھاگو !تم ہمارے مہمان کو اچھی نہیں لگتیں “۔عدنان میاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سب مکھیاں فوراً ہی کھڑکی سے باہر نکل گئیں،کمرے میں ایک مکھی بھی ادھر ادھر نہ بیٹھی۔گو انگارے خوب دہک رہے تھے اور سماوار سے بھی چائے کا پانی کھولنے کی آواز آرہی تھی۔ مگر چائے اتنی گرم نہ تھی اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے اتنی خوشبودار اور عمدہ چائے کہ لگتا تھا خالص دارجلینگ لوپ۔ چو، ٹی ہے،ہم نے کم از کم تین بڑے پیالے چائے کے پیئے اور اتنے ہی پیالے ان بزرگ نے بھی پیئے۔

لوپ چو چائے

پھر کہنے لگے” اپنی مصیبت ہمارے گلے ڈال دیتے ہیں۔ ایک چیتھڑا انہوں نے ہمیں دیا کہ ” جا کل صبح کچہری چلا جا۔وہاں لال گٹھڑی کے پاس بڈھا بیٹھتا ہے۔کرسی پر پیر رکھ کر بیٹھتا ہے۔ اس کو بتا یہ سب کچھ اور یہ چیتھڑا اس کو دے دینا۔تیری جورو کو ساتھ لے جانا”۔۔
اگلی صبح ہم اور آپ کی آنٹی ضلع کچہری پہنچ گئے ایک پرانے وکیل صاحب سے پوچھا کہ” ایسے کون سے بڑے میاں ہیں جو کرسی پر پیر رکھ کر لال گٹھڑیوں کے پاس بیٹھتے ہیں؟” تو وہ کچھ سوچ کر کہنے لگے کہ “ریکارڈ روم میں جہاں کورٹ کے مقدمات کا ریکارڈ لال گٹھڑیوں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے، ایک ریکارڈ کیپر، بڑے میاں ہیں،جو ہر وقت کرسی پر پیر رکھ کر بیٹھے رہتے ہیں، سارا ریکارڈ انہیں زبانی یاد ہے وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سب کچھ بتادیتے ہیں اورباقی لوگ ان کے بتانے پر ریکارڈ نکال کر ان سے رجسٹر میں چڑھواکر لے جاتے ہیں۔”

آنٹی کے شوہر کہنے لگے “آپ دیکھیں میاں اب تک داروغہ جی سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ بدستور تسلسل سے چل رہا تھا۔ہماری دونوں کی بات انہوں نے بہت تحمل سے سنی اور پھر دراز کھول کر ایک روپے کے تین نئے نوٹ ایک لفافے میں بند کر کے ہمیں دیئے اور کہنے لگے کہ کل ٹرین سے پاکستان چلے جاؤ۔ ان کے والد کل صبح گھر واپس رہائی پا کر آجائیں گے۔کل ہر حال میں ہجرت کرنی ہے۔رکنا نہیں، ورنہ بڑی مصیبت میں پڑجاؤگے۔سامان کی فکر مت کرو۔ لفافہ وہاں اسٹیشن پر جا کر کھولنا۔ اس سے پہلے اس لفافے کو مت کھولنا۔جاؤ بھاگو، بہت تنگ کیا ہے تم نے سب کو۔”میں تردد میں تھا کہ یہ سب کیسے ہوگا مگر ان کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر مجھے دھاڑس سی بندھی کہ ممکن ہے یہ سب کچھ ایسے ہی ہو جیسا انہوں نے فرمایا ہے۔۔

گھر آن کر ہم نے ضروری سامان باندھا۔ صبح دس بجے ایک تانگہ گھر کے باہر آن کر رکا جس میں ان کے والد آئے تھے۔ وہ بتانے لگے کہ سر شام ایک وزیر صاحب جیل پر تشریف لائے اور مسلمان قیدیوں کے بارے میں پوچھا۔جب انہیں بتایا گیا کہ میں بھی قید ہوں تو انہوں نے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور ملاقات پر میرے پیر پکڑ لئے کہ بہت انیائے(ظلم) ہوا ہے۔ آپ تو میرے محسن ہیں۔ آپ میرے والد کی مالی مدد نہ کرتے تو میں پڑھ نہ پاتا۔وہ وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل سے فوراً ان کی رہائی کی بات کرے گا اورچونکہ آپ محض مفاد امن عامہ میں گرفتار ہیں لہذا اس کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد از جلد رہائی پا جائیں۔

گھر کا سامان بندھا دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ ہمارا اگلا قدم کہاں پر ہے۔وہ بھی چلنے پر تیار ہوگئے اور بھاگم بھاگ یہ سارا کنبہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ٹکٹ گھر پر بلا کا رش تھا۔ٹکٹ کا ملنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ایسے میں آنٹی کو ضلع کچہری کے بزرگ کا دیا ہوا لفافہ یاد آگیا، انہوں نے  جھٹ سے  لفافہ  کھولا تو اس میں اس ریل گاڑی کی سیکنڈ کلاس کے تین عدد ٹکٹ مسکرا رہے تھے۔یہ سب لوگ اطمینان سے ریل گاڑی میں سوار ہوکر پاکستان آگئے۔

اس قصے کے مکمل ہونے سے کچھ دیر پہلے ہم نے دیکھا کہ وہ چاروں خواتین واپس چلی گئیں۔ آنٹی سے پوچھا کہ انہوں نے دو عدد خواتین کو کمرے سے کیوں باہر نکال دیا تھا۔وہ مسکرا کر کہنے لگیں کہ وہ ہمیں آزمانے آئی تھیں، ملازماؤں کو بیگمات نے اپنے کپڑے پہنادئیے تھے اور خود ملازماؤں کا لباس پہن کر آگئی تھیں۔اندر آن کر کہنے لگیں کہ ہماری ملازماؤں کو کچھ مسئلہ درپیش ہے۔آپ سے مدد کی درخواست ہے تو ہم نے پوچھا کہ اس میں مالکن کون سی ہیں تو انہوں نے ان دو عدد خواتین کی جانب اشارہ کیا تو ہم نے کہا کہ پھر وہ باہر چلی جائیں اور ملازمائیں جن کو مسئلہ در پیش ہے وہ رک جائیں۔وہ چونکہ اپنی بات کے جال میں خود پھنس گئی تھیں لہذا ہم نے انہیں ان ہی کی بات پر قائم رکھا۔
آنٹی کہنے لگیں کہ جب بھٹو مرحوم کا معاملہ ضیا الحق کے دور میں سپریم کورٹ میں چل رہا تھا ان کی کوئی قریبی عزیزہ نصرت بھٹو کو ساتھ لے کر آئیں تھیں۔بہت متکبر خاتون تھیں۔ ان کے بارے میں پوچھنے آئی تھیں تو ہم نے انہیں بتادیا تھا کہ اقتدار کی کرسی ان کی  پہنچ سے دور اور اندھیرے میں دکھائی دیتی ہے۔

منظر کی تفصیل مانگی تو ہم نے کہا ایک کرسی ہے جس پر اسپاٹ لائیٹ ہے بھٹو کرسی کی طرف جوں جوں قدم بڑھاتے ہیں کرسی اور بھٹو دونوں فیڈ ہوکر معدوم ہوجاتے ہیں لگتا ہے ان کو پھانسی ہوگی۔جیل سے زندہ بچ کر باہر آنا محال لگتا ہے۔انہیں یقین نہ آتا تھا،کہنے لگیں چین لیبیا،شام،یاسر عرفات سب کا دباؤ ہے ضیاالحق کا باپ بھی پھانسی نہیں دے سکتا
ہم نے کہا کہ Finality rests with Allah.(آخری فیصلہ بہرحال اللہ کے ہاتھ میں ہے )مگر ہمیں تو یوں دکھائی دیتا ہے۔ آپ دعا کریں ہوسکتا ہے ہم غلطی پر ہوں۔
وہ کہنے لگیں کہ ملک میں نا انصافی بہت بڑھ گئی ہے، عدالتوں کے فیصلے اور منصف بکنے لگے ہیں۔روز ِقیامت دو طرح کے لوگوں کا حساب بہت ہلکا ہوگا، ایک تو عالم باعمل کا اور دوسرا اس منصف کا جس نے عدالت میں بیٹھ کر انصاف کیا۔اسی طرح ان کی کوتاہیوں پر انہیں سزا بھی اور لوگوں سے بہت زیادہ ملے گی۔یہ معاملہ قرآن کریم کی رو سے بالکل نبی کے گھروالوں جیسا ہے۔ انہیں جتلادیا گیا ہے کہ اگر وہ استقامت دکھائیں گے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے تو ان کا اللہ کے ہاں اجر عام لوگوں کے نیک عمل سے ڈبل ہے اور اگر وہ کوئی کوتاہی اور نافرمانی کریں گے تو ان کی سزا بھی عام لوگوں سے بہت زیادہ ہوگی۔

آپ نے نہیں پڑھا کہ نوح علیہ سلام کے بیٹے کو نافرمانی پر اس باپ کے سامنے جس نے دوسروں کو طوفان سے محفوظ رکھا ڈبودیا گیا اورحضرت لوط علیہ سلام کو حکم دیا گیا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں حالانکہ جن لوگوں کوبستی الٹ کر پتھروں سے کچلا گیا اس میں وہ بیوی بھی شامل تھی اور اللہ کانبی اس کو نہ بچا پایا۔
ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ صرف دو مرتبہ زمین سے چیزیں آسمان کی طرف لے  جائی جائیں گی ایک تو قیامت سے پہلے خانہ کعبہ کو بحفاظت اوپر لے جایا جائے گا اور ایک دفعہ حضرت لوط کی بستی کو اس کے لوگوں سمیت اوپر لے جاکر زمیں پر پھینکا گیا ہے۔دیکھ لیجئے کیسا شدید عذاب تھا کہ آج بھی وہ علاقہ عبرت کا نشان ہے وہاں کوئی چیز نہیں اگتی اور اسے دیکھئے تو ہول آتا ہے۔ عذاب الہی کا معاملہ یوں ہے کہ قوموں کو تو اس دنیا میں ہی سزا دے دی جاتی ہے تاکہ بعد میں آنے والے اہل بصیرت عبرت پکڑیں البتہ کچھ افراد ایسے ہیں جن کا معاملہ قیامت تک موقوف رکھا جاتا ہے
جن معاشروں کو اللہ تباہ و بربادکرنا چاہتا ہے اس میں تین باتیں بہت عام ہو جاتی ہیں۔ پہلے تو اس کے طبقۂ اشرافیہ میں بگاڑ آجاتا ہے۔جو آپ پاکستان میں ہر جانب دیکھتے ہیں۔ دوسرے اس معاشر ے  میں خوف اور تیسرے بھوک کو عام کردیا جاتاہے۔

ہم نے پوچھا کہ آنٹی یہ دوسری اور تیسری علامت سمجھ میں نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ خوف کا یہ عالم ہے کہ حکمران جان کے خوف سے محصور ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ جن لوگوں کا کام آپ کو تحفظ فراہم کرنا ہے وہ روڈ پر ڈرے ڈرے اور سہمے ہوئے چلتے ہیں، حفاظت کے لئے سیکورٹی کی گاڑیاں آگے پیچھے چلتی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ آدھی پولیس،  باقی آدھی پولیس کی حفاظت پر مامور ہے۔ان عام گھریلو خواتین کو ہی دیکھ لیجئے، اپنے ساتھ کتنے گارڈز لائیں تھیں، اگر ایک عام سی گاڑی میں آتیں تو انہیں کون پہچانتا۔جس علاقے کی یہ خواتین ہیں وہاں بد ترین دشمنی میں بھی عورتوں پر کوئی حملہ نہیں  کرتا۔ یہ ان کی غیرت اورقبائلی روایات کے منافی ہے۔

اب رہ گئی آپ کی تیسری بات تو شاید  آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھوک نہیں۔پاکستان میں بھوک  دیکھنی ہو تو لوگوں کے دعوت طعام میں دیکھاکریں، کیسے کیسے عمدہ گھرانوں کے لوگ بد تمیزی اور ہوس کا مظاہرہ کرتے ہیں کتنا کھانا محض اپنی لالچ کی وجہ سے ضائع کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کا آخری کھانا ہے۔
ہمیں آنٹی کی بات سن کر ایک دعوت یاد آگئی، کراچی کے ایک بڑے میمن بزنس مین کے ہاں شادی کی دعوت تھی۔ کھانا  شروع ہوا تو پنڈال میں ایک لمبی لائن لگ گئی، کئی بڑے لوگ اس لائن میں شامل تھے۔اس نے جب کسی سے پوچھا کہ کیا کھانا کم ہوگیا ہے یا سونے کی پلیٹیں بانٹی جارہی ہیں کہ کھانا کھا کر آپ انہیں گھر لے جائیں۔جواب ملا کہ نہیں تلی ہوئی پمفریٹ مچھلی(جسے یہاں پاپلیٹ کہتے ہیں) مل رہی ہے۔اسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ مچھلی جس کی بازار میں قیمت بہ لحاظ مقدار بمشکل سو سے ڈیڑھ سو روپے ہوگی۔یہ لوگ جن میں اکثریت متمول لوگوں کی تھی اپنے گھر میں خرید کر نہیں کھا سکتے جو اس بے ہودہ طریقے پر لائن میں لگ کر لینے کے لئے بیتاب ہیں۔

کچھ دن بعد آنٹی سے اس کی ملاقات ہوئی۔تو کہنے لگیں کہ یہ قدرت اللہ شہاب صاحب بہت اچھے  آدمی تھے۔وہ اور ان کی اہلیہ عفّت دونوں کی طبیعت بہت ہی سادہ تھی۔ان میں وہ آئی۔سی۔ایس یا سی۔ایس ۔پی افسران والا تکبر اور رعونت نہ تھی۔کہیں سے وہ لال رنگ کی سلک کی بش شرٹ لے آئے تھے،عفت کو رنگ پر بڑا اعتراض تھا مگر شہاب صاحب اسے پہننے سے بعض نہ آتے تھے، گھر پر جب جاؤ مشکل سے کھانے میں دو ڈشز ہوتی تھیں اور کبھی کبھار میٹھا بھی مل جاتا تھا۔مگر رہتے بہت سادگی سے تھے۔جب انہیں یعنی آنٹی کو حکم ہوا کہ وہ گھمکول جائیں اور زندہ پیر صاحب سے ملاقات کریں تو کوہاٹ تک موٹر کا بندوبست شہاب صاحب نے کیا۔کوہاٹ کے جی او سی ان دنوں ایک برگیڈئیر صاحب ہوتے تھے جن سے ہم دونوں کی پرانی یاد اللہ تھی۔وہ بھی سادہ کپڑوں میں ملنے انہیں میاں بیوی کے ساتھ چل دئیے۔حضرت زندہ پیر صاحب کا سلسلہ نقشبندی تھا۔ وہ بڑے جلالی بزرگ تھے اور بڑے صاحب ِحکم بھی۔اگر کبھی آپ کو اتفاق ہو توPnina Werbner کی کتابThe Piligirm of Love پڑھیے اس میں ان کا انکے سلسلے کا تفصیلی احوال درج ہے برطانیہ میں اس سلسلے کے بہت پیروکار ہیں۔

قدرت اللہ شہاب بیوی بچوں کے ہمراہ
Werbner_Pnina
نینا وربنر کی کتاب

آنٹی کہنے لگیں  کہ جب ہم دربار عالیہ گھمکول پہنچے تو برگیڈئیر صاحب سے زندہ پیر صاحب نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ” وہ کہاں ہوتے ہیں؟” جس پر انہوں نے فرمایا کہ ” وہ پنڈی میں ہوتے ہیں ” جس پر پیر صاحب کہنے لگے کہ” کیا انہیں پنڈی بہت پسند ہے۔؟۔۔۔” جس پر وہ کہنے لگے “بلا شبہ وہ یہاں سے بہت اچھی جگہ ہے”۔بعد میں وہ  ہم سے باتیں کرنے لگے۔ بزرگوں کے  ہاں اس طرح کی حاضری میں ضروری نہیں بہت سی  باتیں کرنے کے لئے ہو ں۔کیوں کہ روحانیت میں زمان و مکان Time and Spaceکا معاملہ عام فہم سے بہت مختلف ہے۔اور وہ تو اپنے وقت کے قطب تھے۔ملاقات سے فارغ ہوکر جب وہ واپس  آنے کے لئے چلے تو برگیڈئیر صاحب نے ضد کی کہ وہ چائے وغیرہ پی کر ان کے گھر سے نکلیں۔جب ہم وہاں بیٹھے تو اردلی چائے کی ٹرالی لے کر آیا جس میں ایک تار بھی تھا۔ انہوں نے لپک کر تار اُٹھایا تو اس میں ان کی راولپنڈی تبدیلی کا حکم تھا گو انہیں یہاں آئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔

ہم نے آنٹی سے پوچھا کہ” شہاب صاحب کی آج انہیں اچانک کیسے یاد آگئی؟”۔ وہ کہنے لگیں “شہاب صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ live Muhammadیعنی محمد مصطفے ﷺ کی سی زندگی گزارو اور آج اخبار میں انہوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا تو انہیں وہ بہت یاد آئے”
“وہ کونسا شعر تھا آنٹی” عدنان نے پوچھا۔
علامہ اقبال کا وہ شعر ہے ۔۔
کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں ٭یہ جہاں چیز ہے کیا،لوح و قلم تیرے ہیں۔

اس نے آنٹی سے پوچھا کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا بات سب سے زیادہ پسند تھی۔
کہنے لگیں ان کا کردار، کل تریسٹھ برس کی عمر اس میں چالیس سال تک آپ کا کردار لوگوں کے سامنے تھا اور کل 23 برس آپ نے تبلیغ دین کی،ان چالیس برسوں میں لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔اگر آپ غور کریں تو یہ دو خوبیا ں ایسی ہیں جن پر کردار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ابو جہل اور دیگر کفار کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جس شخص نے کبھی کسی ذاتی وجہ سے جھوٹ نہیں بولا  وہ غیر ذاتی وجہNon-Personal Reason کی وجہ سے جھوٹ کیسے بول سکتا ہے۔ ان پر دشمنان دین نعوذ بااللہ جنون، سحرزدہ ہونا یا شاعر ہونے کے تو بہتان باندھتے تھے مگر کسی نے آپ ﷺ کو آج تک جھوٹا نہیں کہا۔پھر آپ دیکھئے کہ وہ وعدہ خلافی کو اور دین کی تبلیغ میں حکمت سے کیسا کام لیتے تھے۔ “۔

فرمانے لگیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وہ سلم نے دین کی تبلیغ میں حکمت اور صبر کا دامن کبھی بھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ آپ نے بلاوجہ تصادم سے ہر وقت گریز کیا۔کیا نبی کریمﷺ  کو یہ برا نہ لگتا ہوگا کہ بیت اللہ بتوں سے بھرا پڑا ہے۔ مگر آفرین ہے آپ کی استقامت اور دور اندیشی پر کہ   نبوت کے ابتدائی تیرہ سال مکۃالمکرمہ اور سات سال مدینۃالمنورہ آپ نے کعبۃاللہ میں رکھے گئے بتوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا،توحید کی نظریاتی دعوت دیتے رہے مگر حملے اور تخریب کاری کا کوئی عمل روا نہ رکھا۔نبوت کے  اکیسویں سال اور ہجرت کے آٹھویں برس مکہ جب فتح ہوگیا تو آپ ٹھوکر مار کر بت گراتے جاتے اور   انہیں چھڑی سے توڑتے جاتے اور اسوقت نازل ہونے والی سورۃالاسرا یعنی بنی اسرائیل کی ایک آیت کے” حق آگیا اور باطل رخصت ہوا اور باطل تو ہے ہی مٹنے کے لئے “پڑھتے جاتے تھے۔مگر اسوقت بھی آپ نے کعبہ کے گرد برہنہ طواف کو کوئی ایشو نہ بنایا۔چار ماہ بعد حج کا موسم آیا تو کفار نے اپنے طریقے سے اور مسلمانوں نے اپنے طریقے سے حج کیا۔

اگلے برس بھی تقریباً یہ ہی طریق کار رہا البتہ حج وفد کی سربراہی حضرت ابوبکر ؓ کو سونپ کراسی وفد میں کفار کے درمیاں حضرت علیؓ کے ذریعے یہ منادی کرادی گئی کہ اگلے سال برہنہ طواف کی ممانعت ہے اور آئندہ سال کفار کی آمد پر بھی پابندی ہوگی۔آئندہ سال آپ پہلی اور آخری دفعہ حج پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے اپنا آخری خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو!گواہ رہنا میں نے اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دیا اور اللہ کا پیغام تم تک سچائی سے پہنچا دیا جس کے جواب میں سورۃ المائدہ کی وہ آیت بھی آپ کی اس گواہی کی تصدیق میں نازل ہوئی کہ “آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کردیا تم پر اپنی نعمت کا اہتمام کیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو چن لیا”۔

چند دن بعدہمارے ایک افسر عالی مقام اسلام آباد سے تشریف لائے۔یہ ایک بہت بڑے افسر تھے۔ہم نے جب انہیں ائیر پورٹ پر خوش آمدید کہا تو عدنان نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر تفکرات کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے۔پوچھا کہ” کیا بات ہے “؟تو کہنے لگے کہ “دشمنی بہت بڑھ گئی ہے”۔آنٹی ایم نے ایک کام کسی کی مشکل دور کرنے کے لئے کہا تھا اور اس کے پاس اس حوالے سے کاغذات تیار گاڑی میں پڑے  تھے،کار جب فیذ ٹو ڈیفنس میں داخل ہوئی تو ہم نے تاخیر کے اندیشے کو کم کرنے کے لیے ان سے اجازت چاہی کہ  وہ یہ کاغذات    آنٹی کے حوالے کردے؟۔وہ پوچھنے لگے کہ یہ آنٹی کون ہیں؟ جب ہم نے ان کا تعارف کرایا تو وہ ملنے کے لئے بے تاب ہوگئے۔ہم نے اندر جاکر ان کے بارے میں جب آنٹی سے اجازت مانگی تو انہوں نے بخوشی اجازت دے دی۔
آنٹی اپنے شوہر کے ساتھ ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھیں۔سلام اور تعارف کے بعد آنٹی نے ہمیں کہا کہ ” وہ ایک کمرے کی ساری ا لائٹس جلا دے”۔لائٹس کے جلتے ہی آنٹی کہنے لگیں کہ “ارے آپ کی جان کو تو خطرہ ہے۔آپ کی والدہ کا نام کیا ہے؟”جس پر انہوں نے    آہستگی سے اپنی والدہ صاحبہ کا نام بتایا توآنٹی ایک گہرے مراقبے کے بعدکہنے لگیں کہ ” دو لوگ انہیں ہلاک کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ایک تو وردی پہنتا ہے اور دوسرے کی ہلکی ڈاڑھی ہے۔آپ پر شاید ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا ہے مگر آپ اس سفید رنگ کی کار میں نہ تھے ورنہ کام پورا ہوگیا تھا”۔افسر کہنے لگے “جی ان کی سرکاری گاڑی کو ایک تیز رفتار ویگن نے دفتر سے کچھ دور پسنجر والی سائڈ سے بہت زور کی ٹکر ماری تھی”۔وہ فرمانے لگیں ” وہ ٹکر اتفاقیہ نہ تھی بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھی جس کا منصوبہ اس وردی والے افسر نے اس ڈاڑھی والے کے کہنے پر بنایا تھا۔وہ فوری طور پر تین کام کریں،ایک تو اپنا روٹ مسلسل بدلتے رہیں۔ گاڑی تبدیل کرتے رہیں، اور اپنی آمد و رفت کا پروگرام کسی کو نہ بتلائیں “۔

افسر کہنے لگے کہ ” اور کچھ “تو آنٹی کہنے لگی “توقف۔اس مراقبے سے دل پر بہت زور پڑتا ہے اور ہمارا دل آپ افسروں جیسا مضبو ط نہیں۔ہم جب عمرے پر گئے تھے تو وہاں دل کی بہت شدید تکلیف ہوگئی۔جس مصری ڈاکٹر نے ہمارا معائنہ کیا وہ کہنے لگا کہ آپ کے دل کی جو حالت ہے اس حساب  سے تو آپ کو زندہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ہم نے ان سے مذاق کیا کہ دیکھیں آپ کی میڈیکل سائنس اب آپ سے جھوٹ بولنے لگی ہے۔”
“آپ کچھ چپ ہیں آپ سے ڈرتے ہیں کیا ورنہ ہم سے تو یہ بہت سوال کرتے ہیں “۔ آنٹی نے مسکراتے ہوئے ہماری جانب اشارہ کیا۔
افسر کہنے لگے کہ” یہ تو آپ سے کیا سوال کریں گے مگر میرے ذہن میں ایک سوال ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو پوچھ لوں “؟۔
ارشاد، آنٹی نے خوشدلی سے اجازت دیتے ہوئے پوچھا۔
“یہ مولوی حضرات اور بزرگوں میں کیا فرق ہے”؟ اسلام آباد سے آنے والے مہمان افسر نے پوچھا۔
مولوی حضرات کو آپ اردو کا استاد سمجھ لیں، وہ ہر اسکول میں ہوتا ہے۔ بچوں کو اردو زبان سکھاتا ہے۔وہ نہ ہو تو بچوں کو اردو زبان کی بنیادی باتوں کا پتہ بھی نہ چلے۔مگر اردو کا ہر پرائمری کا استاد فراز، فیض یا غالب کا درجہ نہیں رکھتا۔گو کہ یہ بھی کسی نہ کسی استاد کے سکھائے ہوئے ہیں۔بزرگ سمجھ لیں فرازؔ، فیضؔ اور غالبؔ ہیں۔
“ویری رائٹ”۔ وہ افسر کہنے لگے۔

ہم نے یہ بات سن کر کہا کہ” مگر آنٹی یہ مولوی حضرات تو بعض دفعہ کردار کے اس معیار پر پورے نہیں اترتے؟۔۔۔
آنٹی فرمانے لگیں کہ ” دین سے قربت ایک طاقت کو جنم دیتی ہے، یہ طاقت منفی انداز سے بھی استعمال ہو سکتی ہے اور مثبت انداز سے بھی۔منفی انداز سے استعمال ہو تو انسان دنیا داری کے راتب سے کھانے لگتا ہے اور ذاتی فائدوں اور مال اور زر کی ہوس میں پڑھ جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وہ سلم کو معراج پر دنیا جہان کے خزانے عطا کئے جاسکتے تھے۔ مگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وہ سلم نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک دن پیٹ بھر کر کھانا دے اور دوسرے دن بھوکا رکھ تاکہ میں تیرا شکر بھی کرسکوں اور صبر بھی کر پاؤں۔

اصل میں سارا دین کردار کی بلندی کی بات کرتا ہے۔ جسمانی عبادت تو نری خود غرضی اور سستا سودا ہیں۔ کردار کی بلندی کے لئے دوسروں کی نہیں اپنی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔اس میں بہت بھوگ اور آزار ہے۔ شاید  انہیں یعنی مولوی حضرات کو یہ بھی بدگمانی ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کے بڑے مقرب بندے ہیں۔ اس لئے کہ وہ عبادات میں بہت مشغول رہتے ہیں۔اس لئے ان کے دل سے اللہ کا خوف نکل جاتا ہے ویسے بھی انگریزی میں کہتے ہیں کہ”A church mouse is least afraid of God”(یعنی چرچ کا چوہا اللہ سے کم ہی خوف زدہ ہوتا ہے)۔
جس پر ہم نے گرہ لگائی کہ ع
مسجدیں ہیں نمازیوں کے لئے
اپنے دل، میں کہیں خدا رکھنا

آنٹی نے داد دیتے ہوئے کہا کہ ” اسے چھوڑیئے ۔آپ نے ایک دفعہ اس حوالے سے ہمیں وہ آپ کے قبیلے کے ایک شاعر کا کوئی قطعہ سنایا تھا۔ ہمیں تو ان کے جتنے اشعار یاد نہیں ان سے کہیے نہ وہ قطعہ سنائیں “۔
“سناؤ بھئی عدنان” اس کے باس کہنے لگے۔عدنان کو پتہ تھا کہ اس کے باس کو اردو شاعری اتنی ہی سمجھ میں آتی ہے جتنی شکسپیئر کو پشتو سمجھ میں آتی تھی، مگر اس نے آنٹی کا دل رکھنے کے لئے کہا کہ “سر وہ مصطفےٰ زیدی کی نظم کوہ ندا سے ایک قطعہ ہے”۔ع
ہر طرف ایک ہی انداز سے دن ڈھلتے ہیں
لوگ ہر شہر میں سائے کی طرح چلتے ہیں
اپنی ہی ذات میں پستی کے کھنڈر ملتے ہیں
اپنی ذات میں ایک کوۂ ندا رہتا ہے
صرف اسی کوہ کے دامن میں میسر ہے نجات
آدمی ورنہ عناصر میں گھرا رہتا ہے
ایہہ النّاس چلو! کوۂ ندا کی جانب

آنٹی نے کہا کہ ” چائے کا ایک دور اور ہوجائے پھر آپ کے لئے ایک دفعہ اور مراقبہ کرتی ہوں “۔چائے کے آنے سے پہلے ہی آنٹی مراقبے میں چلی گئیں۔ یہ دور ذرا طویل تھا اور دو دفعہ آنٹی نے اللہ الصمد کا نعرہ بلند کیا اور کہنے لگیں۔ “وہ جووردی والا آدمی ہے وہ ایک سرسبز پہاڑی مقام جو پاکستان میں نہیں وہاں جائے گا اور نیلا پڑ کر ہلاک ہوجائے گا۔البتہ یہ ڈاڑھی والا آدمی ابھی کچھ دن اور طاقت میں رہے گا اور آپ کو تنگ بھی کرے گا مگر نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔مگر آپ کو کچھ دفتری ساتھیوں اور دو ایک قریبی دوستوں کی وجہ سے بہت نقصان پہنچے گا۔آپ کی موجودہ پوزیشن بھی ان کی وجہ سے چلی جائے گی ۔آپ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں۔ ہمارے اس افسر دوست نے کچھ متفکر ہو کر کہا کہ ضرور کہئے۔ آنٹی کہنے لگیں کہ”You are very bad judge of human beings”(آپ انسانوں کو پرکھنے میں بہت نالائق ہیں)۔
آنٹی کی اس بات سے وہ افسر کچھ مایوس سے ہوئے اور کچھ دیر بعد ہم اور وہ آنٹی سے اجازت لے کر رخصت ہوگئے۔

افسر اگر بڑا ہو،کامیاب ہو اور اپنی علمیت پر اور تعلقات پر بھی نازاں ہو تو جان لیجئے کہ وہ ایک ایسا کریلا ہوتاہے جس نے نیم کے درخت سے لپٹ کر اس کی کڑواہٹ تو اپنے اندر سمولی ہو مگر اس کی شفا یابی سے نہ صرف محروم ہو بلکہ اپنے اوپر وہ شک بددلی اور شبہات کا ایک ایکسٹرا چھلکا بھی اوڑھ لیتا ہے۔
واپسی پر کار میں وہ افسر فرمانے لگے “کیا وہ ان سب باتوں کو مانتا ہے جو آنٹی نے بتلائیں؟”
ہم نے کہا کہ ” وہ اپنے آپ سے صرف تین سوال پوچھیں تو ان کو اپنے اس شک کاجواب مل جائے گا۔
پہلا سوال کیا آنٹی نے ان کی گاڑی پہلے کبھی دیکھی تھی؟کیا یہ دو افراد جن کا حلیہ آنٹی نے انہیں بتایا وہ ہی ہیں جو ان کی دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اور تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ اس وردی والے افسر کا جو انجام آنٹی نے بتایا ہے اس کا انتظار نہیں کرسکتے”۔

“مگر یہ سب انہیں کیسے دکھائی دیتا ہے؟۔”شک کا توانا اژدہا، اب بھی بدستور ان کے ذہن میں پھنکار رہا تھا۔

ہم نے سمجھایا کہ آنٹی کو نبی کریم سے خصوصی فیض حاصل ہے۔آنٹی خود بھی اپنی اس صلاحیت کو جس کے حوالے سے وہ کشف کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کرتی تھیں، کوئی خاص اہمیت نہ دیتی تھیں۔وہ کہا کرتی تھیں کہ اخبارالاخیار نامی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کہا کرتے تھے کہ” سلوک کے 100سو مقام ہیں۔کشف و کرامات کا درجہ ان میں 17واں ہے اگر سالک اسی میں رہ جائے گا تو باقی وہ 83 مقام کیسے طے کرے گا؟ “آنٹی سے جب ان کے کشف کے بارے میں بات ہوتی تو وہ کہتیں کہ بھئی ہم تو اس نبیؐ کے ادنیٰ سے امتی ہیں۔یہ ان کی عنائیت ہے کہ انہوں نے ہمیں یہ سب کچھ عطا کیا۔غزوہ خندق(غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وہ سلم نے خود شرکت فرمائی ہو) کے موقع پر خندق کی کھدائی کے دوران ایک ایسا مرحلہ آگیا کہ ایک انتہائی سخت چٹان کا ٹکڑا بیچ میں آگیا۔یہ ٹکڑا ٹوٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ صحابۂ کرام نے جب اس کی طرف رسول اللہ سلم کی توجہ مبذول کرائی تو آپؐ نے کدال لی اور بسم اللہ کہہ کر ضرب لگائی تو ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا۔اس پر آپؐ نے فرمایا کہ ” اللہ اکبر! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں۔میں وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔”پھر دوسری ضرب لگائی توایک اور ٹکڑا ٹوٹ گیا۔جس پر آپ نے فرمایا کہ “اللہ اکبر!مجھے ایران عطا کیا گیا میں وہاں کے مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں “۔پھر آپ نے تیسری ضرب ماری تو  باقی ماندہ چٹان بھی پاش پاش ہوگئی۔جس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ اکبر! مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں اور میں صنعاء کے پھاٹک دیکھ رہا ہوں “۔اس موقعے پر ایک صحابی (غالباً حضرت سلمان فارسی ؓ جن کی تجویز پر یہ خندق کھودی گئی تھی نے کہا ” رسول اللہ آپ یہ سب کہیں گے تو کفار ہم پر ہنسیں گے کہ یہاں تو مدینہ کے دفاع کے لالے پڑے ہیں اور ہم شام، ایران اور یمن کی تسخیر کی باتیں کررہے ہیں “۔جس پر رسول اکرم نے ان سے کہا کہ ” ایک ملک ایران کی فتح کے موقعے پر وہ خود بھی شامل ہوں گے”۔جب ایران فتح ہوا تو سلمان فارسیؓ ندامت سے بہت اشکبار تھے کہ انہوں نے رسول اکرم کو وہ بات کیوں کہی تھی۔

کچھ دن بعد اس وردی والے اس پولیس افسر کا آئرلینڈ میں دوارنِ نیند انتقال ہوگیا، نیند میں انہیں سانس کی تکلیف ہوئی  اور جسم نیلا پڑگیا۔ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کی موت asphyxiate(آکسیجن کی کمی سے واقع ہوئی ہے) اس طرح آنٹی کی پیش گوئی ان کے بارے میں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔وہ داڑھی والا مخالف بھی رسوا ہوکر ملک سے فرار ہوگیا اور اس پر کرپشن کے الزام لگے۔مزید یہ کہ ان صاحب کی پوزیشن بھی کچھ دنوں بعد ان سے چھن گئی اور وہ اکثر یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ان کی مشکلات کا باعث ان کے کچھ دوست اور دفتری ساتھی بنے۔ان کی ملازمت کے  آخری ایام بہت تلخ تھے۔

آنٹی ایم بزرگوں کی عنائیت کے حوالے سے دو قصے بہت سناتی تھیں۔جب بھی ان کے پاس جاؤ وہ اس بات پر بہت اصرار کرتی تھیں کہ جو کچھ انہوں نے کھانے کے لئے پیش کیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ کھایا جائے۔بزرگوں کے عطا کردہ کھانے سے بہت برکت ہوتی ہے،اس کھانے پر ان کی توجہ ہوتی ہے۔ پہلا قصہ جو انہیں بہت پسند تھا۔ وہ حضرت میاں میرؒ کے حوالے سے تھا۔
حضرت میاں میر ؒجن کا پورا نام میر محمد معین الاسلام تھا۔قادری سلسلے کے بزرگ تھے۔جو سن1550 عیسوی میں سیہون۔سندھ میں پیدا ہوئے اور پچیس برس کی عمر میں لاہور تشریف لائے۔مغل بادشاہ شاہ جہاں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے چاروں بیٹے داراشکوہ،شاہ شجاع،اورنگ زیب اور مراد بخش بھی ہمراہ تھے۔خدام نے اس شاہی وفد کو دروازے پر روک دیا کہ بلا اجازت اند داخل نہیں ہوسکتے۔جس پر شاہ جہان کو بہت برا لگا۔ جب حاضری کی اجازت ملی تو اس نے حضرت میاں میر ؒ سے شکوہ کیا کہ” با درِ درویش دربان نہ باید”(درویش کے آستانے پر دربانوں کی کیا ضرورت ہے) جس پر آپ نے مسکرا کر جواب دیا کہ” بہ باید کہ سگِ دنیا نا باید”(دربان اس لئے ہیں کہ دنیا کے کُتّے اندر نہ آجائیں)۔اس دوران کہیں سے خدام نے یخنی کا ایک پیالہ لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے کچھ چکھ کر اسے شاہ جہان کو دیا،اس نے چکھ کر اسے دارا شکوہ کو دیا،دارا شکوہ جو بعد میں آ پ کا مرید بنا اس وقت کچھ زیادہ ہی نفیس طبع تھا،اس نے دیکھا کہ حضرت میاں میر ؒ کی توجہ کہیں اور ہے تو پیالہ بغیر چکھے،قر یب بیٹھے مراد بخش کو دیاا ور اس کی دیکھا دیکھی یہ پیالہ شاہ شجاع نے بھی بغیر چکھے اور نگ زیب کی طرف بڑھا دیا۔اورنگ زیب یخنی کا وہ پورا پیالہ پی گیا۔جس پر حضرت میاں میر ؒ نے فرمایا کہ” ہم نے تو ہندوستان کی بادشاہت عطا کی تھی مگر لوگوں نے ٹھکرادی ۔جس نے پی لیا وہ بادشاہ بنے گا”۔شاہ جہان کی بادشاہت کل تیس برس اور اورنگ زیب کی بادشاہت کل پچاس برس رہی۔باقی شہزادے بادشاہت سے محروم رہے گو کہ شاہ جہاں کی اور اس کی بیٹی جہاں آرا کی مرضی تھی کہ بادشاہت دارا شکوہ کو ملے۔

دوسرا قصہ جو آنٹی۔ایم بہت مزے لے کر سناتی تھیں وہ یہ تھا کہ پہلے نظام آف حیدرآباد آصف جاہ اپنی سلطنت کے قیام سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔وہاں انہیں کلچے کھانے کے لئے پیش کئے گئے۔آصف جاہ نے پہلی دفعہ میں چار کلچے تناول فرمائے۔میزبان کے اصرار پر وہ بمشکل ساڑھے تین کلچے اور کھا سکے۔ان کی اس کوشش پرحضرت نظام الدین اولیاؒ نے بشارت دی کہ حکمرانی ان کے خاندان میں کل ساڑھے سات پشتوں تک رہے گی۔ان کلچوں کی مناسبت سے نظام آف حیدرآباد کے شاہی جھنڈے پر کلچوں کا نشان بنا تھا۔اور یہ نظامت انکے خاندان میں کل سات پشتوں تک ہی رہی۔جس کا خاتمہ سن1948ع میں ہوگیا۔

ہمیں یاد آیا کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے ایک دن ان کی خانقاہ پر بادشاہ غیاث الدین تغلق کا بیٹااور ولی عہد  ملک جونا الغ خان،آپ کی اجازت سے درویشانہ لباس پہن کر حاضر ہوا۔بادشاہ کی مرضی یہ نہ تھی کہ وہ اس کا جانشین بنے بلکہ چھوٹا بیٹا محمود بادشاہ بنے۔ اس لئے وہ بھیس بدل کر حاضر ہوا تھا۔وہ درویشوں کی ایک ٹولی کے ساتھ حاضر ہو اتھا۔آپ پر اس کا حال عیاں تھا۔ آپ نے خادم کو کہا کہ ” ان کو کھانا کھلاؤ اس لئے کہ درویشوں کے لنگر خانے سے جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ من کی مراد پاتا ہے”۔کھاناتناول کرنے کے بعد جب درویشوں نے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ ” ایک بادشاہ آتا ہے دوسرا بادشاہ جاتا ہے”۔

آپ کے اس ارشاد میں شاہزادے الغ خان کے بادشاہ ہونے کے علاوہ کسی اور کے بھی بادشاہ ہونے کی نوید تھی۔ الغ خان تو محمد تغلق کے نام سے بادشاہ بنا اور 24 تک حکمرانی کی۔

ابھی ملک جوناالغ خان کو درویشوں کے ساتھ رخصت ہوئے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ آپ نے خادموں سے کہا کہ دیکھو ایک بادشاہ باہر دروازے پر بیٹھا ہے۔خادموں نے عرض کی کہ باہر کوئی بادشاہ تو نہیں البتہ ایک خوبصورت مگر انتہائی مفلوک الحال نوجوان بھوکا بیٹھا ہے۔آپ نے حکم دیا کہ اس کو اندر لاؤ اور کھانا کھلاؤ یہ بادشاہ ہے۔
خدام کو بڑی حیرت ہوئی جا کر اس کا حال پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی ایرانی امیر زادہ ہے۔ جس کا نام حسن ہے۔اسے اور اسکے خاندان کو راستے میں لوٹ لیا گیا ہے وہ تین دن سے بھوکا ہے اور نوکری نہیں مل رہی کہ وہ مزدوری کرکے پیٹ بھر سکے۔
خدام نے یہ احوال حضرت نظام الدین اولیاؒ کو سنایا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے لنگر خانے کی بجائے آپ کی خدمت میں لایا جائے۔جب وہ حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ” بہ نشین اے بادشاہ دکن”۔(بیٹھ جاؤ اے دکن کے بادشاہ)
خدام لنگر خانے میں گئے اور کلچے لے کر حاضر ہوئے آپ نے ایک کلچہ اس امیر زادے کو دے کر کہا کہ لے یہ دکن کی بادشاہی کا تاج ہے۔اس نے آپ کا ہاتھ چوم کر وہ کلچہ کھایا اور تعظیم کرکے رخصت ہوا۔آپ نے خدام کو کہا کہ اسے نجومی گنگو برہمن جو ملک جونا خان کے ساتھیوں میں سے تھا اس کے حوالے کردیں کہ وہ اس کی ملازمت کا بندوبست کرے۔
گنگو نجومی نے اسے اپنی زمین پر بطور کسان رکھ لیا اور زمین کا ایک قطعہ کاشت کے لئے سونپ دیا۔ایک دن ہل چلانے کے دوران اسے ایک ایسا برتن کھدائی میں ملا جو جواہرات اور سونے سے بھرا تھا۔امیر زادہ حسن نے وہ برتن  بے چوں و چرا اپنے مالک گنگو برہمن کے حوالے کردیا۔گنگو نے انعام میں اسے آدھی دولت دینا چاہی تو اس نے کہا کہ زمین آپ کی، ہل آپ کا،بیل آپ کے، اس سے کی ہر چیز آپ کی اورمیں تو آپ کا ایک ملازم ہوں۔ میں یہ دولت کی ہنڈیا کا آدھا حقدار کیسے ہوا۔کچھ دن بعد ملک جونا خان جو اب محمد تغلق کے نام سے بادشاہ بن چکا تھا۔ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو دکن بھیجی جانے والی فوج کا سپہ سالار بنایا جاسکے۔کچھ مہمات اس لئے وہاں ناکام ہوئیں تھیں کہ دکن میں مال و زر کی بہتات تھی اور سپہ سالارمخالفین کے ہاتھوں بک کر جنگ ہار جاتے تھے۔
دربار میں صلاح مشورے کے موقعے پربرہمن گنگو نجومی بھی موجود تھا۔اس نے حسن کا نام تجویز کیا اور کہا کہ اس کی ایمانداری مسلم ہے گو اس کی  حربی صلاحیت کا اسے علم نہیں، بادشاہ نے ملاقات کی تو اسے حسن اچھا لگا اور اسے دکن بھیجی جانے والی فوج کا سپہ سالار بنادیا گیا۔حسن کو پے درپے وہاں فتوحات نصیب ہوئیں اور دکن میں ایک روایت کے مطابق اپنے مالک گنگو برہمن کی یاد میں سن 1347 ع میں برہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ سلطنت کے نام کے حوالے سے یہ بات تاریخ فرشتہ میں یوں ہی درج ہے۔
یوں حضرت نظام الدین اولیاؒ کی یہ پیش گوئی کہ ایک بادشاہ آتا ہے ایک جاتا ہے ملک جونا خان اور علا الدین حسن کے حوالے سے حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔

ایک دن عدنان نے آنٹی سے پوچھا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟۔
آنٹی فرمانے لگیں وہ جو سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر۲۵۱ فاذکرونیٓ اذکرکم و اشکروالی ولاتکفرون ط(مجھے یاد رکھو تاکہ تمہیں میں یاد رکھوں،میرا شکر کرو اورکفر سے بچو)۔مگر میاں یہ یاد رکھنا صرف ذکر بالسان یعنی خالی زبانی جمع خرچ نہیں۔یہ تو وہ شکر ہے جو ایک اشرف المخلوقات ہونے کے  ناطے آپ کو اپنے ہر قول اور فعل میں کرنا ہے۔یہ یاد آوری وہ ہے کہ یہ خوف کہ جس سے مجھے پیار ہے وہ میری کسی بات سے ناراض نہ ہوجائے۔یہ وہ یاد ہے اور یہ وہ شکر ہے۔
مگر آنٹی یہ تو کچھ ایسا آسان کام نہیں۔ہم نے گزارش کی  آنٹی فرمانے لگیں کہ انہوں نے کہیں پڑھا تھا اور شائد یہ وضاحت حضرت منصور بن حلاج سے منسوب ہے وہی منصور بن حلاج جسے اس کے جذب کی شدت کی وجہ سے عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کے حکم سے سولی پر ٹانگ دیا تھا۔تصوف کے بہت سے اصرار ایسے ہیں جیسے نیوکلیئر کے راز۔ ان میں ہر ایک کو سانجھی نہیں بنایا جاسکتا۔یہ کیفیات اور تجلیات ہوتی ہیں۔ہر کس و ناکس ان تک رسائی نہیں پاسکتا۔نہ تصوف کو من حیثیت الجماعت آپ نافذ کر سکتے ہیں۔
یہ خالصتاً سالک اور مطلوب کا معاملہ ہے۔
آپ کو میرتقی میرؔ کا وہ شعر یاد ہے جو انہوں نے منصور بن حلاج کے لئے کہا تھا اور آپ کو پتہ ہے کہ لفظ حلاج کا مطلب ہے روئی دھنکنے والا،جس طرح حضرت فرید الدین عطاّر اس لئے کہلاتے تھے کہ  ان کا خوشبویات کا کاروبار تھا۔آپ مجھے یاد دلایئے گا میں ایک قصہ ان کا بھی آپ کو سناؤں گی۔
ہم نے میر تقی میرؔ کا وہ مشہور شعر آنٹی کو یاد دلایا کہ ع
موسم آیا تو نخل ِدار پر میرؔ
سرِ منصور ہی کا بار، آیا
آنٹی کہنے لگیں کہ “منصور حلاج نے اپنے جذب کے غلبے میں ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ وہ جو اللہ کی نعمتوں کا شکر گذار ہونا چاہے اسے چاہیے  کہ وہ ان تین میں سے کوئی ایک صورت اختیا ر کرے۔یا تو ایسا ہوجائے کہ جیسا وہ ماں کے پیٹ میں تھا۔اپنی کوئی مرضی نہ تھی۔زندگی کی بقا کے لئے جو مل گیا وہ ہی اس کا نصیب تھا۔یا وہ ایسا خاموش اور بے آسرا ہوجائے جیسا کہ وہ اپنی قبر میں ہوگا۔یا اپنی عاجزی اور بے کسی کو اس مقام تک لے جائے جو اس کی روزِقیامت ہوگی”۔
ہم نے پوچھا کہ آنٹی! وہ فرید الدین عطاّر کے بارے میں آپ کچھ بتا رہی تھیں۔۔۔۔
آنٹی فرمانے لگیں کہ حضرت فر ید الدین عطارؒ بزرگی کے مقام پر فائز ہونے سے پہلے خوشبویات کے بڑے کامیاب تاجر تھے۔ایک روز کوئی درویش ان کی  دکان پر آیااور آپ سے اپنی حاجت براری کے لئے کوئی سوال کیا۔ حضرت فر ید الدین عطارؒ کاروبار میں ایسے منہمک تھے کہ  اس کے سوال پر بالکل توجہ نہ کرسکے۔جس پر درویش نے چڑ کر کہا کہ” فرید سائل کے لئے تمہارے پاس مہلت نہیں تو جب اللہ کے ہاں سے بلاوا آئے گا تو کیسے جواب دو گے “؟ جس پر حضرت فر ید الدین عطارؒ نے تنک کر جواب دیا کہ بالکل ویسے ہی جواب دوں گا جیسے اس کے بلاوے پر تم نے جواب دینے کی تیاری کی ہے۔اس پر درویش نے کہا کہ دیکھو ہم تو ایسے جواب دیں گے۔یہ کہہ کر زمیں پر اپنی چادر بچھا کر لیٹ گیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر اپنی جان اللہ کو دے دی۔اس ایک واقعے نے حضرت فر ید الدین عطارؒ کی زندگی بدل کر رکھ دی اور وہ راہ سلوک پر گامزن ہوگئے۔

آنٹی۔ایم کی سفارش پر اسے ایک قلندری سلوک کے بزرگ نے اپنا لیا۔اس نے آنٹی سے پوچھا کہ یہ بزرگ جو بظاہر بہت ہی عام سے گوشہ نشین بزرگ ہیں ان سے اسے کیوں وابستہ کیا جارہا ہے۔تو آنٹی فرمانے لگیں کہ بزرگوں کے ہاں سے فیض ملنے کے درجات اور اوقات ہوتے ہیں۔ جس طرح زمیں پر ہر وقت ہریالی اور موسموں میں ہر وقت یکسانیت نہیں ہوتی اس طرح تربیت اور فیض کے چشمے بھی ہر وقت ہر آستانے پر جاری نہیں رہتے۔یہ بزرگ انگلستان سے انجینرنگ میں ایم ایس کرکے آئے تھے۔ والدین کی طرف سے بہت جائداد ملی تھی۔نوکری بھی بہت طمطراق والی تھی مگر پھر کسی کے دامن سے وابستہ ہوکر اپنی ساری جائداد اللہ کے نام پر لٹادی۔
اس نے آنٹی سے پوچھا کہ یہ بزرگ کیا کسی خاص حیثیت کے حامل ہیں۔
آنٹی ہمارے اس طرح کے سوالات کا ہرگز برا نہیں مناتی تھیں۔وہ کہنے لگیں کہ ہم انہیں کس درجے پر  محسوس کرتے ہیں؟
عدنان نے جواب دیا کہ کشف اور مسائل کو حل کرنے کے اعتبار سے وہ درجہ اول یعنی فرسٹ ڈویژن میں ہیں
آنٹی اس کا جواب سن کر کہنے لگیں کہ تو وہ انہیں پوزیشن ہولڈر سمجھے۔پورے پاکستان میں اس وقت اس معیار کے تین بزرگ ہیں،دو پنجاب میں (جن میں سے وہ ایک ہیں) اور ایک سرحد میں۔
بزرگ نے سب سے پہلی پابندی اس پر یہ لگائی کہ وہ اب بلا اجاز ت نہ تو کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوگا نہ کسی مزار پر جائے گا۔نمازوں کی اور روزے کی پابندی کرے گا۔البتہ آنٹی ایم انہیں بہن کی طرح عزیز ہیں اور ان کامعاملہ دوسرا ہے لہذا وہاں حاضری کی کوئی پابندی نہیں۔
کچھ دن بعد ان بزرگ کے حوالے سے دو باتیں عجیب ہوئیں۔
پاکستان ان دنوں کرکٹ کے ورلڈ کپ میں شریک تھا۔اور ہمارے وہی افسر عالی مقام کرکٹ کے بڑے کرتا دھرتا تھے۔ان کی طرف سے ضد کی گئی کہ ہم ان بزرگ سے ان کی ملاقات کا بندوبست کریں ۔ہم نے لاکھ دامن چھڑانا چاہا کہ وہ ملاقات کے معاملے میں بہت اجتناب کرتے ہیں اور وہاں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی کہ فوری طور پر دل کو لبھائے۔ان کے ہاں دل پر اثر انداز ہونے کے لئے ذکر اذکار کی کافی پابندی کرنی پڑتی ہے،مگر وہ بضد رہے۔
بزرگ فرمانے لگے کہ ان کی ٹیم فائنل تک پہنچ جائے گی مگرکچھ کھلاڑی، جواریوں کی قربت کی وجہ سے بہت بدنام ہوں گے۔اس کی وجہ سے ٹیم دباؤ کا شکار ہوگی اور فائنل ہار جائے گی۔وہ ٹیم کو نماز کی طرف مائل کریں اور خود بھی اس طرف توجہ دیں، اور ٹیم کے کھلاڑیوں کا غیر ضروری افراد سے رابطہ ختم کرنے کی کوشش کریں ان صاحب نے ایسا ہی کیا۔مگر بزرگ نے جن خطرات کی نشاندہی کی تھی وہ بلا آخر پورے ہوئے۔ٹیم نہ صرف فائنل ہارگئی بلکہ کچھ نامور کھلاڑیوں کے کردار پر بھی چھینٹے پڑے۔
نئے صدر صاحب سے ان افسر کے بڑے گہرے روابط تھے۔ان کے بیٹے کی جان کو صدر بننے سے پہلے جان کا شدید خطرہ لاحق تھا تو یہ افسر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اسے سنبھالے سنبھالے رکھتے تھے۔افسر کا خیال تھا کہ ان کے صدر بننے کے  بعد ملک میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا اور ان کی اپنی نوکری میں بھی چار چاند لگ جائیں گے۔صدر صاحب نے جس شخص کو اپنا وزیرِاعظم چنا تھا اس کے بھی اس افسر کے گھرانے سے دیرینہ مراسم تھے۔پاکستان کی بیوروکریسی کے لئے ایسا نادر ملاپ کم ہی کسی افسر کو نصیب ہوتا ہے کہ  صدر اور وزیر اعظم دونوں ہی اتنے کسی کے قریب
ہوں۔
وہ افسر کراچی تشریف لائے تو تقریباً معاملہ وہی تھا جو پچھلے افسر کے ساتھ آنٹی۔ایم سے ملاقات میں پیش آیا۔ہم نے پروٹوکول کے حساب سے انہیں بھی ائرپورٹ پر خوش آمدید کہا اور ان کے ساتھ ہی گاڑی میں روانہ ہوئے ۔راستے میں انہوں نے ان بزرگ کے بارے میں پوچھا تو ہم نے بتایا کہ وہ آج کل پنجاب سے کراچی تشریف لائے ہوئے ہیں۔یہ بضد ہوئے کہ ان سے ملاقات کا بندوبست کریں۔رابطہ کرنے پر بزرگ نے بمشکل کچھ وقت دینے کی حامی بھری۔ملاقات میں ملک میں ہونے والی اس نئی تبدیلی پر بات نکلی تو افسرِعالی مقام کا ولولہ قابلِ دید تھا۔صدر فاروق لغاری کی تعریف میں ان کی زبان رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ہم نے نوٹ کیا کہ  وہ بزرگ کچھ زیادہ ہی غور سے ان افسر صاحب کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہ بات شائد کچھ افسر نے بھی محسوس کی اور خود ہی کہنے لگے کہ ”
کیا انہیں صدر صاحب کے محاسن سے اتفاق نہیں؟۔۔۔۔
بزرگ فرمانے لگے” ہمارے اتفاق کرنے سے کیا ہوتا ہے،ہم کیا اور ہماری حیثیت کیا مگر آپ کے معاملات میں ان کی جانب سے آپ کو بہت شدید مایوسی ہوگی۔ان کی جانب سے آپ کو بہت تکلیف پہنچنے کا احتمال ہے۔ممکن ہے اس ساری تکلیف کا آغاز آپ کے خاندانی دوست وزیر اعظم ملک معراج خالد کی مرضی سے ہو۔شائد عربی میں کہتے ہیں کہ
“الاقرب و العقرب”(اقربا ہی بچھو ہوتے ہیں)”
ا فسر کے چہرے کا رنگ دیدنی تھا۔
بزرگ نے چائے کا ایک گھونٹ بھر کر اپنا سلسلۂ کلام پھر سے جوڑا۔فرمانے لگے کہ “یہ جہاں کی مافیا ہے آپ کو اٹلی کے اس علاقے کا نام پتہ ہے؟”
افسر کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے تو ہم نے گفتگو کی روانی برقرار رکھنے کے لیے لقمہ دیا “اس علاقے کا نام سسلی ہے”۔
بزرگ کہنے لگے ” جیتے رہو۔اسی سسلی میں ایک چھوٹا کچھوا ہوتا ہے اور وہاں ایک عقاب بھی ہوتا ہے۔اس عقاب کو کچھوے جب کھانا ہوتا ہے تو اسے بڑی مشکل پیش آتی ہے۔اس لئے کہ کچھوے کا خول بہت سخت اور مضبوط ہوتا ہے اور یہ اپنی جان بچانے کے اس خول میں بند ہوجاتا ہے۔یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ عقاب ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے۔جب اسے کچھوے کو کھانا ہوتا ہے تو یہ اسے اپنے پنجوں میں پکڑ کر انتہائی بلندی پر لے جاکر کسی سخت چٹان پر زور سے پھینکتا ہے۔ جس سے اس کے خول کے پرخچے اڑ جاتے ہیں اور یہ پھرمزے لے لے کر نوچ نوچ کر اسکا گوشت کھاتا ہے۔لگتا یوں ہے کہ یہ آپ کے محترم صدر صاحب اور یہ آپ کے مہربان وزیر اعظم بھی آپ کے ساتھ یہی کچھ کریں گے”۔
افسر عالی مقام کا رنگ اس بات کو سن کر تقریباً اُڑ سا گیا۔بات نبھانے کے لئے پوچھنے لگے کہ ” وہ اس صورت حال سے بچنے کے لئے کیا تدبیر کریں؟۔۔۔
بزرگ کہنے لگے کہ ” تیر ویسے ترکش سے نکل چکا ہے۔آپ گفتگو کے معاملے میں خاصے بے احتیاط ہیں۔طبیعت میں معاملہ فہمی کا بھی فقدان ہے۔ اور آپ کے کچھ ماتحت بھی جلتی پر تیل چھڑکنے کے ماہر ہیں۔اب تک جو آپ کا بچاؤ ہوا ہے وہ آپ کی ایمانداری اور غریب پروری کی وجہ سے ہوا ہے، ورنہ دشمن پالنے کے معاملے میں تو آپ نے کوئی کسرنہیں چھوڑی”
افسر نے بات کی گھمبیرتا کو کم کرنے کی خاطر ذرا شوخی دکھاتے ہوئے کہا کہ” یہ آپ کے نیاز مند بھی تو ہمارے ماتحت ہیں “۔
” یہ تو بے چارے آپ کے وکٹ کیپر ہیں۔باؤنسر اور وائڈ بالیں تو آپ پھینک رہے ہیں۔ان کو الزام کیوں دیتے ہیں۔ہماری آپ کو ایک نصیحت ہم ایک قطعے کی صورت میں بیان کردیتے ہیں شائد آپ کے پلے پڑجائے”۔
بات کم کیجئے، ذہانت کو چھپایا کیجئے
اجنبی شہرہے، بس دوست بنایا کیجئے
یہ ضروری نہیں، ہر شخص،مسیحا ہی ملے
دل ملے یا نہ ملے، ہاتھ ملایا کیجئے

ان بزرگ سے وابستہ کچھ باتیں ہیں آپ بھی سن لیجئے۔ان بزرگ سے زیادہ قلبِ ذاکر ہم نے کسی اور کا نہیں دیکھا۔ وہ اول تو کسی کو گلے ملنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ہم مہربانی ہوئی تو اسے انہوں نے بارہا گلے لگایا۔ہر دفعہ ان سے گلے مل کر ایسے لگا کہ سمندر کی کوئی بپھری ہوئی تند و تیز موج نے دل پر تھپیڑا مارا ہے۔حیرت کی بات یہ تھی کہ ان بزرگ کا دل سینے میں سیدھے ہاتھ پر دھڑکتا تھا جب کہ دل عام طور پر بائیں ہاتھ پر ہوتا ہے۔
ہم نے جب ان سے پوچھا کہ یہ راہء سلوک میں اتنی تنہائی کیوں ہوجاتی ہے تو وہ کہنے لگے کہ اس کا ساتھ جو ہوجاتا ہے۔اس کی موجودگی کا یعنی اللہ کی موجودگی کا جب احساس دل میں جگہ کرلے تو پھر کوئی اور جگہ نہیں بنا سکتا۔معاملہ کچھ یوں ہوجاتا ہے جواٹھارویں صدی کے شعر پیلوؔ نے اپنی مشہور رومانی داستاں مرزا صاحباں میں بیان کیا تھا کہ ع
حجرے شاہ مقیم دے اک جٹّی عرض کرے
(شاہ مقیم کے حجرے پر ایک جٹی عرض کرتی ہے)
دو چار مرن گوانڈناں،تے رہندیاں نو تپ چڑھے
(میری دو چار پڑوسنیں مرجائیں اور باقیوں کو بخار آجائے)
ہٹّی سڑے کمہار دی جتے دِیو ا نت بَرے
(کمہار کی جھونپڑی میں آگ لگ جائے جہاں ہر وقت دیا جلتا رہتا ہے)
کُتّی مرے فقیر کی جیہڑی ٹاؤں ٹاؤں نت کرے
(فقیر کی وہ کتیا بھی مرجائے جو ہر وقت ٹاؤں ٹاؤں کرتی رہتی ہے)
گلیاں ہوون سونیاں وچ مرزا ؔ یار پھرے
(اور گلیاں سونی ہوجائیں تاکہ میرا مرزا یار باآسانی ان میں گھوم سکے)
راہ سلوک کے مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ” میاں ہمارے پاس آپ کے لئے بیعت کا حکم آیا ہے”۔عدنان نے کہا کہ ” تو پھر دیر کس بات کی بیعت لے لیجئے”۔ وہ فرمانے لگے کہ ” آپ کی بیعت ہم نہیں لے سکتے۔ہمارا معاملہ قلندری ہے ان کے ہاں بیعت نہیں ہوتی۔قلندر کو یہ بکھیڑے پالنے کی اجازت نہیں ہوتی۔آپ کو دربار عالیہ گُھمکول۔کوہاٹ جانا ہوگا۔جہاں آپ کی بیعت نقشبندی سلسلے کے انتہائی نامور بزرگ حضرت زندہ پیر صاحب کے پاس آپ کی بیعت ہوگی”۔
ہم نے مہلت مانگی۔کچھ ناخوش ہوئے کہنے لگے کہ ” چلیں آپ کا معاملہ آگے بیان کریں گے۔اگر وہ آپ کی معذرت قبول کرلیں تو ہم ضد کرنے والے کون ہوتے ہیں ” ویسے ان معاملات میں لیت ولعل نہیں چلتی۔مرید کا مطلب مردہ ہوتا ہے اور وہ زندہ صرف پیر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔سپردم بتو می خویش را۔۔۔۔تو دانی ء کم وبیش را(میں نے تجھے اپنے آپ کو سونپ دیا ہے، اس لئے کہ میرے لئے کم کیا ہے اور زیادہ کیا اس کا علم تو صرف تجھے ہے)۔راہ سلوک کا پہلا مقام فنا فی شیخ ہوتا ہے، شیخ سلوک کے مدارج طے کراتا ہوا مرید کو درِ رسول تک لے جاتا ہے تو فنا فی رسول کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جب یہ سفر آگے بڑھتا تو رسول اکرمؐ فنا فی اللہ تک لے جاتے ہیں۔فنا فی اللہ کے بعدسیر فی اللہ کرتا ہے۔چونکہ ذاتِ الہٰی کی کوئی انتہا نہیں اسی لئے فنائیت کی بھی کوئی انتہا نہیں،اس مقام پر سالک اپنی ہستی گُم کردیتا ہے اس لئے اللہ کے سوا اسکے نزدیک کچھ باقی نہیں رہتا۔مگر اللہ کسی کا کوئی قرض اپنے ذمے نہیں رکھتا،لہذا اس کی بندگی کو شرفِ قبولیت عطا کرکے اسے واپس لوٹا دیتا ہے کہ جاؤ اپنے خلیفۃ الارض ہونے کا ثبوت ہمارے راستے میں زندگی گزار کر دو۔اسکے دو مراحل اور بھی ہوتے ہیں سیر مع اللہ اور سیر فی اللہ، ان مقامات پر ہی اسے سیر الارض کے بزرگ اپنی جسمانی حالت سے بلند ہوکرماضی حال اور مستقبل میں زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکردیکھ سکے، کشف القبور کہ قبروں کے اندر کیا کیفیات ہیں اور تصرف کرسکے۔

آپ کی آنٹی۔ایم کو سیرالارض اور تصرف کا مقام حاصل تھا۔
اس کے بعد انہوں نے ایک عجب واقعہ بیان کیا۔ اس کی تصدیق کہیں اور سے نہیں ہوسکی۔ممکن ہے یہاں اسے بیان کردینے سے یہ خلش ختم ہوجائے۔
فرمانے لگے بابا بُلّے شاہ، سیّد تھے اور بلا کے وجیہہ مرد تھے، ان کا نام عبداللہ شاہ تھا اور ان کا زمانہ وہی ہے،جو سندھ کے عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی کا تھا وہ حضرت شاہ عنایت کے مرید تھے۔مسئلہ یہ تھا کہ پنجاب میں برادری کا سسٹم ان دنوں بھی بہت زورآور تھا۔شاہ عنایت ذات کے آرائیں تھے۔ان کا پیشہ باغبانی تھا۔بابا بلے شاہ پر ان کی بڑی نظرِکرم تھی۔

ایک دن یوں ہوا کہ بابا بلے شاہ کو اپنی برادری کی کسی برات میں شامل ہوکر کسی ایسی جگہ جانا تھا جس کے راستے میں شاہ عنایت کا آستانہ آتا تھا۔بابا بلے شاہ نے سوچا کہ میرا اپنا معاملہ اور ہے مگر برادری کے باقی لوگ وں کو میرے سیّد ہوکر شاہ عنایت کے آستانے پر حاضر ہو کر قدم بوسی کرنا شائد ناگوار گزرے، کیوں کہ بابا بلھے شاہ سید اور حضرت عنائت ذات کے حساب سے آرائیں تھے۔لہذا آپ نے برادری کے سامنے خجل اور بے آبرو ہونے سے بچنے کے لئے ایک دوسرا راستہ اختیا ر کیا جو آستانے سے پرے تھا۔بس پھر کیا تھا۔قلب کی کیفیت اور تجلیات غائب ہوگئیں۔بڑے پچھتائے۔
قصور چھوڑ کر دور کہیں چلے گئے اور ایک طوائف کے ہاں ملازم ہوگئے.۔ اسکا باورچی خانہ سنبھال لیا۔ وہ طوائف ہر سال عرس پر شاہ عنائت کے مزار پر حاضر ہوتی تھی۔جہاں میلے پر حاضر دوسرے افراد اپنے انداز سے نذرانہ عقیدت پیش کرتے تھے یہ بھی ناچ کر پیر مناتی تھی،مگر اب کی دفعہ جب اس کی ناچنے کی باری آئی تو اس کے پیٹ میں شدید تکلیف ہوئی اور اس نے بلھے شاہ سے درخواست کہ اسکی جگہ وہ ناچ لیں۔ وہ بڑے وجیہ آدمی تھے۔بلھے شاہ نے گھنگرو باندھے اور اپنا وہ شہرہ آفاق کلام گایا جو دنیا کے سامنے اس طرح آیا کہ

SHOPPING

تیرے عشق نچایا، کرکے تھیا، تھیا
تیرے عشق نے ڈیرہ  میرے اندر کیتا
بھر کے زہرپیالہ میں ناں آپ پیتا
جھب آویں وے طبیبا، نئیں تے میں مرگئی آں
(میرے طبیب جلدی آؤ ورنہ میں مرجاؤں گی)
بزرگ کہنے لگے کہ بلھے شاہ کے اس نذرانہ عقیدت پر لوگ جھوم جھوم اُٹھے رات ان دونوں یعنی مالکن اور رقاص کے خواب میں شاہ عنائت نے درشن دیا۔بلھے شاہ کو تو معافی کی نوید سنائی گئی،طوائف نے البتہ فرمائش کی کہ یہ ہنر اورعقیدت اس کے گھرانے میں سات پشتوں تک ختم نہ ہو۔اسکی خواہش بھی پوری ہوئی،ہند و پاک کی ایک مشہور گلوکارہ جو قصور کی تھی اسی گھرانے کی ساتویں پشت تھی۔
کچھ ماہ بعد ان بزرگ نے ہمیں سختی سے حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو حضرت زندہ پیر صاحب کی خدمت میں حاضری دیں۔ کوتاہی کی صورت میں اپنے آپ کو ان کے دامن سے جدا سمجھیں۔ہدایت یہ ہے کہ وہاں اگر پوچھا جائے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم کس نے دیا ہے تو یہ ہرگز نہیں بتانا۔ہم نے چچا غالبؔ کے انداز میں سوچا کہ ع
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نا ہم بھی سیر کریں، کوہء طور کی
گھمکول کے دربار عالیہ کی حاضری میں ہمیں سب سے پہلے جس بات نے   حیران کیا وہ وہاں موجود بابے تھے۔سب کے سب سفید ریش اور سفید پوش اور کسی آنکھیں نیلی تو کسی کی سبز،انتہائی سبک رو،اپنے کاموں میں مصروف اور خوش مزاج۔اس نے نینا وربنر کی جس کتاب کا حوالے دیا ہے اس میں بھی ان بابوں کی موجودگی کو بڑی صراحت سے بیان کیا گیا۔ایسا لگتا تھا گویا جنوں کی ایک فوج حاضرخدمت ہے۔دو گھنٹے کے بعد اسے دیگر افراد کے ہمراہ حاضر ہونے کا اذن ملا اس دوران ایک بابے نے اس کے سامنے ایک جگ میں مٹیالا سا ایک مشروب رکھ دیا اور کہا کہ اگر وہ اور پینا چاہے تو کسی کو آواز دے کر طلب کرلے۔
ہم نے سوچاکہ اگر وہ ایک گلاس ہی ختم کرلے تو بڑی بات ہے۔مگر جب تک اسے ملاقات کا بلاوا آیا وہ ڈیڑھ جگ ختم کرچکا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ یہ نیبو، گڑ اور کسی انتہائی خوشبودار جڑی بوٹی کا مشروب تھا جسے پینے سے دل کو ایک عجب احساس طمانیت اورچشمے کی سی روانی کی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔
حضرت زندہ پیر صاحب کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ایک احاطے میں کوئی شیر بیٹھا ہے۔ چہرہ بلا کا نورانی اور انتہائی پر جلال،سوائے چہرے کے بدن کا کوئی حصہ نہ دکھائی دیتا تھا۔آنکھوں سے روحانی روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں انہوں نے احاطے کے باہر ایک چادر کو لپیٹ کر پھینک دیا اور ایک سرا ایک ریشمی سبز کپڑے کے اندر اپنے ہاتھ سے تھام لیا، حاضریں جن میں بڑی تعداد پنجاب کے دیہاتیوں کی تھی ان سب کو حکم ہوا کہ بیت کے لئے وہ بھی چادر کو کہیں نہ کہیں سے تھام لیں اور ان کے ساتھ عہد بھی کریں کہ دین کی پابندی رسول کے بتلائے ہوئے احکامات کی صورت میں کریں گے اور ہمہ وقت زبان سے اللہ ہو کا ورد کرتے رہیں گے۔ جب ہم نے نے چاہا کہ وہہم سے تنہائی میں ملیں تو انہوں نے ڈانٹ دیا کہ دین میں کوئی خاص و عام نہیں سب کے سب برابر ہیں وہ اب جائے اور جو کچھ کہا گیا ہے اسپر صدق دل سے عمل کرے۔
ہم کچھ مایوس سا باہر آئے تو ایک بابا اس کو کہنے لگا لگتا ہے آپ کو مزہ نہیں آیا۔ہم نے دھیمے لفظوں میں اس کی تصدیق کی۔بابا کہنے لگا شربت کا ایک جگ اور پیو ا،بھی عصر کی نماز ہوگی وہ نماز پڑھو اور مجھ ے یہیں پرملو آپ کی تنہائی میں ملاقات کراتے ہیں۔
عصر کی نماز سے فراغت کے بعد وہ بابا اسے اندر لے گیا تو وہ پیرصاحب اس کو دیکھ کر مسکرائے اور احاطے کے اندر آنے کا حکم دیا اور فرمانے لگے کہ انہیں چھونے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی اور یہ بتاؤ کہ تمہیں ہمارے پاس کس نے بھیجا ہے۔ہم نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ ان کے حکم کی تعمیل میں یہاں آیا ہے اور اس حکم کا ایک جز یہ بھی تھا کہ ان کے بارے میں نہیں بتانا،جس پر وہ کچھ دیر مراقبے میں چلے گئے اور مسکرا کر کہنے لگے کہ “ساتھ تھوڑا ہے”۔ہم نے  وضاحت چاہی تو فرمانے لگے کہ جب امر الہی ہوگا توہمیں خود ہی پتہ چل جائے گا۔ویسے ہم اس راہ کے مسافر نہیں، بس یہ لوگ زبردستی ہمیں چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ہم پر کچھ دیر انہوں نے توجہ کی نظر کی اور کہا کہ اب ہم جائیں اسلام آباد پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو جائے گا اور اسکے میزبان بھی پریشان ہوں گے۔یہ بات ہمارے لئے کچھ تعجب خیز تھی
واپسی پر ہم ایک رات اسلام آباد اور ایک رات ان بزرگ کے پاس رکے ، جنہوں نے ہمیں وہاں بھیجا تھا۔ان سے ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سن کر وہ بھی محظوظ ہوئے مگر وہ جب آنٹی ایم کی خدمت میں  حاضر ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے اسے اس ورد سے روک دیا کہ یہ فنا کا وظیفہ ہے۔اسے کچھ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ خود جہاں ضرورت پڑی جواب دیں گی۔اگلی ملاقات میں جو ان بزرگ کے ہمراہ ہی آنٹی سے ہوئی انہوں نے خود ہی اس وظیفہ فنا سے روک دینے کی بات کہی جس کے جواب میں بزرگ نے اتنا ہی کہا کہ ہم تو انہیں لے کر اڑنا چاہتے تھے مگر جو آپ کی مرضی۔آپ ہماری چھوٹی بہن ہیں اور یہ آپ کے لاڈلے عدنان میاں۔
اس بیعت کے تین ماہ بعد گھمکول والے بزرگ کا اور ایک سال بعد قلندری سلسلے کے اس بزرگ کا انتقال ہوگیا۔یوں دوران ملاقات ساتھ تھوڑا ہونے والی بات درست ثابت ہوئی۔آنٹی ایم بھی کچھ عرصے بعد دنیا سے پردہ فرماگئیں۔یوں دو سال کے عرصے میں پاکستان سے تین بڑے بزرگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے۔
آنٹی۔ ایم کا انتقال سن 2004 ع میں ہوگیا۔عدنان ملک سے باہر تھا۔ جب وہ ان کی قبر پر فاتحہ کے لئے گیا تو لوح مزار پر علامہ اقبال کا یہ شعر لکھا دیکھا کہ ع
ہزاروں سال،نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے،چمن میں دیدہ ور پیدا

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *