جمہوری منجن

(محترمہ صبا ٖفہیم نے جمہوریت اور ہم سب کو تو لائن میں کھڑا کر دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ریمارکس پاس کرنے والی عدالت خود کہاں کھڑی ہے۔ جمہوریت کو بادشاہی کہنے والی عدالت خود تو مردے رہا کرتی ہے۔ایڈیٹر)

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے سیاستدان ملے ہیں جنہوں نے ہمیشہ صرف اپنے مفادات کوترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں جمہوریت کے ہوتے ہوئے بھی ہم بد ترین آمریت کے سایے میں بے بسی کی زندگی گذاررہے ہیں۔ وزیراعظم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ بیٹھے ہیں جو اپنے چند جی حضورکہنے والوں کے ہمراہ ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔ کہیں آنا جانا بھی پڑے تو وہی چند درباری ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ پہلے تو کبھی کبھار سرکاری ٹیلی ویژن پر وزیراعظم اپنی عوام کو اپنا دیدار کروادیتے تھے مگر اب کچھ عرصہ سے انہوں نے ٹیلی ویژن پر بھی پردہ نشینی اختیار کررکھی ہے۔
ایک طرف تقریبا 20کروڑ وہ عوام ہے جو ہر روز اس امید پر زندہ رہتے ہیں کہ انکے ووٹوں سے منتخب ہوکر حکمرانی کے مزے لوٹنے والا کب انکی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرینگے، کب پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا اور کب عوام کے چہروں پر خوشحالی کا رنگ چمکے گا؟ مگر ہمارے ہی ووٹوں سے ہم پر مسلط ہونے والوں نے نہ صرف ملک کو قرضوں کی زنجیر میں جکڑ دیا بلکہ غریب عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کی دلد ل میں بھی دھکیل دیا۔ یہ شائد اسی لیے ہو رہا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں غریب کو دو وقت کی روٹی کھلا کر دوبارہ پھر ووٹ حاصل کرلیے جائیں۔ ہمارے الیکشن میں اب یہ رواج بن چکا ہے کہ ووٹروں کو خریدا جائے، کسی کو روٹی کے چکر میں، کسی کو چائے کے لالچ میں اور کسی کو پیسوں سے خرید لیا جاتا ہے۔ غربت نے ہمارے ووٹروں کی مت ماردی ہے اور ان میں قوت فیصلہ کی اسی خامی کا فائدہ اٹھا کر سیاستدان ہم پر مسلط ہوکربادشاہی کا خواب دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ بادشاہی کی مسند پر براجمان ہوکر حکمران عوام سے دور بھاگتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ہی حلقہ میں عوام کو منہ دکھانے نہیں آتے اور جس حلقہ سے ووٹ لیکر وزیراعظم اور وزیراعلی منتخب ہوتے ہی انکے ووٹر بھی انکو نہیں مل سکتے۔ اس سے بڑی بد قسمتی اور بدنصیبی اور کیا ہوگی کہ ایک ووٹر اپنے جیتے ہوئے امیدوار کو ہی نہ مل سکے ، جو جیتنے کے بعد ملک کی تقدیر کا مالک بن جائے مگر اس کے ووٹر دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں، انہیں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ ہو اور بیماری کی صورت میں ایڑیاں رگڑ کر مرنا انکا مقدر بن جائے۔ تو پھر ملک میں ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ جسکے پیچھے آمریت اپنا کام کررہی ہو اور ویسے بھی ہمارے حکمرانوں نے جمہوریت کو صرف تماشا بنا رکھا ہے، جب انکا دل چاہا جمہوریت کی ڈگڈی نکالی اور بجانا شروع کردی۔ عوام تو ہماری پہلے ہی فارغ ہے، جہاں مداری نے تماشا لگایا، وہیں مجمع لگ جاتا ہے۔
ہمارے اکثر عوامی مقامات، جیسے بس اڈے ،ریلوے اسٹیشن اور مختلف بازاروں میں اپنی مختلف قسم کی ادویات بیچنے کے لیے مجمع ساز چند کھلونوں اور قصے کہانیوں سے درجنوں لوگوں کو جمع کرلیتے ہیں اور پھر گھنٹوں مزیدار باتیں کرنے کے بعد اپنا منجن اور دوائی بیچ کرہزاروں روپے کی دیہاڑی لگا لیتا ہے۔ مجمع میں موجود ہر شخص یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے کہ جو دوائی ہم لے رہے ہیں وہ کسی کام کی نہیں، مگر پھر بھی وہ مداری کی باتوں میں آکر اسکی دوائی خرید لیتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے سیاستدان بھی الیکشن کے دنوں میں آکر عوام کو اپنی باتوں سے بیوقوف بناتے ہیں اور اپنا منجن بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں سیاسی شعور بھی ہے، عقل اور سمجھ بھی ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ حکمرانوں کا کام صرف لوٹ مار ہی کرنا ہے، مگر اس کے باوجود وہ ہر بار ان کے جھانسہ میں آکر اپنا ووٹ دے کر انہیں بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے ووٹ کو ڈالنے سے پہلے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جتنے امیدوار ہیں ان میں سے بہتر کون ہے، جو کل ہمارے درمیان ہی رہے، نہ کہ وہ الیکشن کے فوری بعد لاہور یا اسلام آباد شفٹ ہوجائے اور پھر اگلے الیکشن میں ہی دوبارہ نظر آئے۔ آج اگر سپریم کورٹ یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔
جمہوریت میں حکمران عوام کے قریب ہوتے ہیں، ہر خوشی اور غمی میں شریک ہوتے ہیں، مگر یہاں تومعاملات ہی الٹ ہوچکے ہیں۔ حکمرانوں اور انکے حواریوں نے جمہوریت کو سرعام الٹالٹکا رکھا ہے۔ ہماری جمہوریت کو ہمارے حکمرانوں نے اپنی ذہنی تسکین کا زریعہ بنا رکھا ہے۔ یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ جمہوری حکمران اپنے سردرد کا علاج بھی یورپ میں جاکر کروائیں اور جمہوریت کے لیے جان دینے والی عوام اپنے علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھائے۔ محب وطن اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے اعلی افسران کھڈے لائن، جبکہ کرپشن کے ماہر اور جی حضوری کرنے میں ماہر چھوٹے افسر اعلی عہدوں پر صرف اس لیے تعینات کردیے جایں کہ وہ حکمرانوں کی جوتیوں پر سے نظر اٹھا کر بات نہ کرسکیں۔ اور انکے نیچے ان سے سینئر نکمے ،نااہل اور مفاد پرست افسران لوٹ مار سمیت ہر غلط کام کو اچھا بنانے میں مصروف ہوں۔ ایسی لولی لنگڑی اور ننگی جمہوریت میں پاکستان قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جائے گا، ہر آنے والا بچہ اپنی پیدائش سے قبل ہی مقروض پیدا ہوگا اور غلام نسل کے بادشاہ حکمران یونہی لوٹ مارکرتے رہیں گے۔ ہماری عدالتیں یونہی اپنے ریمارکس دیتی رہیں گی اور ہم ان مداریوں کے یونہی تماشائی بن کر اپنا وقت برباد کرتے رہیں گے۔ کیونکہ ہم غلام، ہماری جمہوریت تماشا اور ہمارے ادارے معذور بن چکے ہیں اور یہ ہماری مکمل بربادی تک یونہی جمہوری منجن بکتا رہے گا .

Avatar
صبا ء فہیم
نہ میں مومن وچ مسیتاں نہ میں وچ کفر دی ریت آں نہ میں پاکاں وچ،پلیت آ ں نہ میں موسیٰ نہ فرعون کیہ جاناں میں کون ؟؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *