مولانا کی شہادت اور افغانستان کا امن۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

ایشیاﺍﯾﮏ ﻣﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﮨﮯ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺍﺱ ﻣﺠﺴﻤﮯ ﮐﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ – ﺍﺱ ‏( ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ‏) ﮐﺎ ﻓﺴﺎﺩ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﯾﺸﯿﺎﺀ ﮐﺎ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﺱ ‏( ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ‏) ﮐﺎ ﺍﻣﻦ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﯾﺸﯿﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﻣﻦ ﮨﮯ -‘‘
علامہ اقبال نے آج سے ایک صدی پیشتر فرمایا تھا کہ افغانستان کے امن میں   ہی ایشیا کا امن پوشيدہ ہے۔ ماضی و حال کے بھرپور تجزیے کے بعد انکی نظر مستقبل پر تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ علامہ مرحوم کا یہ دعوی پاک افغان رشتوں کی حد تک تو صد فیصد درست ثابت ہوا ہے۔افغانستان میں حالیہ انتخابات کے دوران ہونے والے واقعات کے بعد پاکستان میں مولانا سمیع الحق کے قتل جیسے بڑے واقعہ کا ہو جانا دردناک تو ہے مگر غیر متوقع چیز بالکل بھی نہیں ہے۔دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق کاطالبان پر اثرورسوخ کوئی  ڈھکی چھپی بات نہیں۔طالبان تحریک کا نام ان مدرسوں کے فارغ التحصیل طلبا  سے منسوب کیا گیا ہے جو مولانا سمیع الحق کے زیر سایہ تعلیم حاصل کرتے رہے۔ حقانی نیٹ ورک بالخصوص جامعہ حقانیہ کے بطن سے ہی نمودار ہوا اورآج تک امریکہ کے لیے درد سربنا ہوا ہے۔افغان حکومت میں موجود کچھ حلقوں کی رائے  تھی کہ مولانا صاحب کے ذریعے طالبان سے بات چیت کی جا سکے مگر دہلی اور تہران نواز حلقے کسی صورت دوبارہ مستحکم اور پاکستان کی حمایت سے بننے والی حکومت نہیں چاہتےیہ واقعہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔بالکل صحیح نکتہ اٹھایا ہے آپ نے۔افغانستان میں انتخابات کے دوران پاکستان مخالف شخصيات کے قتل کے بعد سیاسی اور مذہبی شخصيات کو سنگیں خطرات لاحق تھے-افغان پولیس سربراہ جنرل رزاق اچکزئی جن کوافغانستان میں فتل کیا گیا طالبان کے شدید مخالف تو تھے ہی وہ پاکستان ،پاک فوج اور پنجاب کو ان سے بھی بڑا دشمن سمجھتا تھا۔دہلی تہران اور افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر نے رزاق اچکزئی کو ہیرو بنا کر پیش کیا اگرچہ مقتول کی ساری زندگی تشدد سے بھرپور رہی۔

اس واقعے کے بعد باخبر اور ذمہ دار صحافی پاکستان کے بڑوں کو اپنے معاملات کو درست کرنے اور ممکنہ رد عمل کے لیے تیار رہنے کے لیے خبردار کر رہے تھے۔ اس ساری صورتحال میں تحریک لبیک کے دھرنوں نے پاکستان کے دشمنوں کو موقع فراہم کیا اور طالبان کے حملوں کا بدلہ مولانا سمیع الحق کو شہید کر کے لیا گیا۔افغانستان میں انتشار پاکستان کے علاوہ امریکہ سمیت تمام طاقتوں کےمفاد میں ہے اور اس واقعے میں بیرونی ہاتھ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔افغانستان میں موجود طاقتیں کسی صورت پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والی طالبان حکومت کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔مولانا پاکستان اور طالبان کے درميان قربتوں کو بڑھانے اور امریکہ کے لیے پاکستان کی قدر مزید بڑھانے کے کام آ سکتے تھے۔اس قتل کے ذریعے نہ صرف پاکستان کو سخت پیغام دیا گیا ہے بلکہ خطے میں امن عمل کے امکانات مزید معدوم  ہو گئے  ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *