• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مولانا سمیع الحق کے بیہمانہ قتل پر چند سوالات۔۔۔۔رانا شعیب الرحمن

مولانا سمیع الحق کے بیہمانہ قتل پر چند سوالات۔۔۔۔رانا شعیب الرحمن

میڈیا میں مولانا سمیع الحق کی ان کے گھر کے اندر شہادت کی خبر اس انداز سے چلائی جا رہی ہے کہ ان کا گھر بحریہ ٹاؤن میں ہے یہ نہیں بتایا جا رہا کیونکہ بحریہ ٹاؤن کے اندر ایک ہائی پروفائل شخصیت کا قتل ہو جانا بذات خود بحریہ ٹاؤن کے سیکورٹی سسٹم پر سوال اٹھا رہا ہے بحریہ ٹاؤن ایک ایسی کالونی ہے جس میں پلاٹ کی کوئی رجسٹری نہیں جس کا محکمہ مال میں کوئی انتقال کا ریکارڈ نہیں کوئی فرد نہیں ،بس ہے تو کیا ہے سیکورٹی ہے، لوگ وہاں اتنی مہنگی رہائش اختیار کرنا کیوں پسند کرتے ہیں اس لئے کہ وہاں جان و مال کی حفاظت کے فول پروف انتظامات موجود ہیں ،آپ اپنی گاڑی اپنے گھر کے باہر بغیر لاک کیے جتنے دن مرضی کھڑی رکھیں کوئی چوری نہیں کر سکتا ،لیکن اسی بحریہ ٹاؤن میں ہزاروں کیمروں کی موجودگی میں قاتل ایک گھر کے اندر ملک کی نہایت اہم شخصیت کو قتل کر کے موقع سے فرار ہو جائے ،سمجھ سے باہر ہے۔ بلکہ قاتل کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ ان کا ملازم یا کوئی اور فرد ان کے قریب نہیں ہے۔
مولانا سمیع الحق جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے جامعہ حقانیہ کی بنیاد ان کے والد محترم مولانا عبد الحق نے رکھی جہاں سے اس وقت تک لاکھوں طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں جن میں بہت کثیر

تعداد افغانی طلبہ کی ہے جامعہ حقانیہ کی حیثیت آج سے چار سے سات دہائیاں پہلے دار العلوم دیوبند کی ہے جہاں سے سینکڑوں فارغ التحصیل علماء پاکستان کے ہر علاقے میں دین اسلام کی اشاعت کا کام کر رہے تھے اور اپنے آپ کو دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے دیوبندی کہلاتے تھے، دیوبند جو حنفی مکتب فکر کی ایک ذیلی شاخ کی حیثیت کے ساتھ ساتھ خود ایک مکتب فکر کا نام اختیار کر گیا ،بالکل اسی طرح آج افغانستان میں حقانیہ حنفی مکتب فکر کی شاخ دیوبندی مکتب کی بھی اگلی شاخ حقانی کے نام سے ایک مکتب فکر بن چکا ہے، روسی جارحیت کے خلاف جو افغانی اٹھ کھڑے ہوئے ان میں جامعہ حقانیہ کے فارغ التحصیل طلبہ و علماء کا بہت بڑا کردار شامل تھا ،اسی وجہ سے پاک افغان مسئلہ پر ایک واحد شخصیت جن کے لاکھوں فالورز اس وقت بھی افغانستان میں موجود ہیں جس پر دونوں طرف کی عوام کو اعتماد حاصل تھا، عالمی خفیہ ایجنسیوں کے لئے ان کو راستے سے ہٹانا کتنا ضروری تھا ۔کیا ہماری ایجنسیوں کو اس کا ادراک نہیں تھا ؟

اس کے علاوہ سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ ایک 81 سالہ بوڑھے شخص کو قتل کرنا قاتل کے لئے اتنا کیوں ضروری تھا جو بذات خود طبعی عمر کے آخری حصے میں سے گزر رہا ہے جس کو بڑے سے بڑا دشمن بھی ہتھیار کے نیچے آئے ہونے کے باوجود بھی یہ سوچ کر چھوڑ کر چلا جاتا ہے کہ یہ تو خود ہی موت کے قریب ہے اس کو نا حق قتل کرکے اپنے سر اس کا خون کیوں لوں؟۔۔۔ لیکن مولانا سمیع الحق کے سفاک قاتل نے یہ بھی نہیں سوچا، اس سے اس کی درندگی کا خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔۔ جہاں تک میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ قتل کسی عالمی ایجنسی نے بلیک واٹر جیسی کسی تنظیم کے ایجنٹوں سے کروایا ہو گا جو یا تو پاکستان میں انارکی اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں یا ان کے مفادات کے آگے مولانا سمیع الحق کوئی بہت بڑی رکاوٹ تھے اور مولانا صاحب کہیں وہ کام کرنے جا رہے تھے جس کی وجہ سے ان کے مفادات کو انتہائی خطرہ تھا بلکہ اس کے لئے فوری ان کو راستے سے ہٹانا قاتلوں کے لئے ناگزیر ہو چکا تھا ،جس کے لئے ان کی چند سال طبعی موت کا انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا کہ اس شخصیت کی جان پاکستان کے لئے کتنی قیمتی تھی ،اس کے باوجود ان کی سیکورٹی کے سلسلے میں اتنی لاپرواہی کیوں برتی گئی۔

ہم ہر عالم دین کی وفات پر ایک فقرہ کہتے ہیں موت العالِم موت العالَم لیکن مولانا سمیع الحق صرف ایک عالم دین ہی نہیں تھے وہ پاک افغان تعلقات اور امن کی ایک چابی تھے جن کو آج ہم اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کی لاپرواہی نے گنوا دیا جس کا خلا شاید کبھی پورا نہ ہو سکے گا ان کا قتل ہمارے سیکورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کے اوپر ایک سوالیہ نشان چھوڑ رہا ہے۔باقی مولانا سمیع الحق کی قسمت میں زندگی کے آخری حصے میں شہادت کی موت لکھی ہوئی تھی جو ان کی خواہش کے مطابق اللہ تعالی نے پوری کی اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *