• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا مولانا سمیع الحق کا قتل آسیہ کیس ممتاز قادری اور سلمان تاثیر سے جڑا ہوا ہے؟۔۔۔۔ رضوان گورمانی

کیا مولانا سمیع الحق کا قتل آسیہ کیس ممتاز قادری اور سلمان تاثیر سے جڑا ہوا ہے؟۔۔۔۔ رضوان گورمانی

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

مولانا سمیع الحق کا ماننا تھا کہ شہباز تاثیر کی رہائی کے بدلے تاثیر خاندان نے ممتاز قادری کو معاف کر دیا تھا حکومت نے جان بوجھ کر عجلت میں ممتاز قادری کو تختہ دار پر لٹکایا۔
2005 میں جب پرویز مشرف پر حملے ہوئے تو اس کے بعد پولیس کی تمام برانچوں میں کانٹ چھانٹ کا عمل شروع ہوا اور تمام اہل کاروں کے بارے میں سخت چھان بین کی گئی. .سپیشل برانچ میں اس وقت کے ایس ایس پی ناصر درانی نے ممتاز قادری کے انتہائی جنونی عقائد کے باعث اس کا تبادلہ سپیشل برانچ سے پولیس لائنز میں کر دیا ساتھ ہی ان کی سروس بک میں سرخ پنسل سے یہ نوٹ دیا کہ یہ شخص کسی بھی حساس نوعیت کے کام اور وی آئی پی سیکورٹی کے لئے غیر موزوں ہے لہذا اسے ایسا کوئی کام تفویض نہ کیا جائے..

سوال یہ ہے کہ جب اس وقت پورے ملک میں سلمان تاثیر کے خلاف شدید مظاہرے ہو رہے تھے تو اس کے باوجود محرر ڈیوٹی عمر فاروق نے آخر ایسے جنونی شخص کی ہی سلمان تاثیر کے ساتھ ہی ڈیوٹی کیوں لگائی؟۔۔۔۔۔۔ نمبر 2 یہ کہ وی آئی پی کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کے سٹنڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز SOP کے مطابق کوئی بھی اہلکار گاڑی میں سوار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وی آئی پی گاڑی میں سوار نہ ہو جائے لیکن سلمان تاثیر جب ہوٹل سے باہر آئے تو عینی گواہ کے مطابق صرف قادری سڑک پر کھڑا تھا باقی اہلکار گاڑی میں بیٹھے تھے وہ گاڑی سے باہر کیوں نہیں تھے اور جب قادری گورنر پر فائرنگ کر رہا تھا تو کسی نے بھی روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟

نمبر 3 …اس سے پہلے سلمان تاثیر جب بھی اسلام آباد آتے تو ان کے ساتھ اسلام آباد میں بھی لاہور کا سکواڈ ہی رہتا لیکن اس روز لاہور کے سکواڈ کو موٹروے سے ہی واپس بلا لیا گیا اور آگے راولپنڈی کے سکوارڈ کی ذمہ داری لگائی گئی آخر اس کے پیچھے کیا منطق تھی. … یہ ایسے سوال ہیں جو آج تک ذہن میں مسلسل کھٹک رہے ہیں. .صرف یہ ہی نہیں بلکہ قادری کے بیان کے مطابق وہ 31 دسمبر کو اپنے محلے کی ایک مسجد کے خطیب کے سلمان تاثیر کے خلاف خطاب سے متاثر ہوا اور اس سےعلیحدگی میں ملا اور سلمان تاثیر کے قتل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور خطیب کی ترغیب پر ہی یہ قتل کیا تو پھر وہ خطیب بھی اعانت جرم کا مرتکب تھا اسے آج تک نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی شامل تفتیش کیا گیا. .

اس کے علاوہ یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی کہ 31 دسمبر کو اس نے تقریر سنی پھر بقول قادری صاحب کے اس نے محرر ڈیوٹی کی منت سماجت کر کے گورنر کے سکوارڈ میں ڈیوٹی لگائی اور 4 جنوری کو گورنر صاحب کو قتل کر دیا حالانکہ یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ ایسے وی آئی پی افراد جن کی جان کو خطرہ ہو ان کی نقل و حرکت کو آخری وقت تک خفیہ رکھا جاتا ہے تو پھر قادری کو کیسے چار دن پہلے پتہ چل گیا کہ گورنر سلمان تاثیر اسلام آباد آنے والے ہیں؟۔۔۔۔۔

ان سوالات کی وجہ سے اٹھنے والا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ سلمان تاثیر کی شہادت کے پیچھے اس وقت کی صوبائی حکومت کے کسی بڑے کا ہاتھ ضرور ہے. ….

آئیے آگے چلتے ہیں اتنے بڑے قتل کے مقدمہ میں اگرچہ شروع میں ممتاز قادری کے علاوہ اس کے خاندان اور دوستوں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن چالان صرف اور قادری کو ہی کیا گیا. .ڈیوٹی محرر سے لے کر صادق آباد کے امام مسجد جن کا اس قتل میں کلیدی کردار تھا کو تھانے بلا کر پوچھ گچھ کرنے کی زحمت بھی نہ کی گئی اس کے علاوہ 8 جنوری 2011 کو سبزہ زار لاہور سے کسی اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا .اخبارات کے مطابق گرفتار ہونے والے اس شخص کے فون سے ممتاز قادری کو حساس نوعیت کے پیغام گئے تھے اور اس شخص کا سراغ قادری کے موبائل فون کے ڈیٹا سے ملا. .اس شخص کا بھی مقدمہ کے چالان میں کوئی ذکر نہ تھا پولیس کی تفتیش کی طرح مقدمہ کا ٹرائل بھی عام حالات سے ذرا ہٹ کر تھا.

11 جنوری کو ملک اکرم اعوان کی عدالت میں ہی قادری نے اپنے پہلے بیان میں ہی اعتراف جرم کر لیا تھا 15 فروری کو راجہ اخلاق احمد کی عدالت میں قادری پر فرد جرم لگائی گئی. ..اس مقدمے کی زیادہ تر کاروائی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہی سنی گئی کیوں کہ جس ڈھٹائی کے ساتھ اور بغیر کسی خوف اور خطر کے سنی تحریک کے لوگ وکلا، ججوں اور مقتول کے اہل خانہ کو ڈرا دھمکا رہے تھے اس سے عدالت میں یہ کیس سننا نا ممکن ہو گیا تھا..مثال کے طور پر 12 جنوری کو سنی تحریک کے سربراہ شاداب قادری نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سلمان تاثیر کی بیٹی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممتاز قادری سے متعلق بیان بازی سے رک جائے نہیں تو اس کا انجام بھی وہی ہو گا جو اس کے باپ کا ہوا ہے اسی پریس کانفرنس میں شاداب قادری نے اقلیتی رہنما شہباز بھٹی کو بھی دھمکی دی کہ وہ آسیہ کی ہمدردی چھوڑ دے نہیں تو اس کے ساتھ بھی سختی سے نمٹا جائے گا اور ٹھیک 20 دن بعد شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے ..

ان بیانات کو ملک کے تمام اخبارات نے شائع کیا لیکن اس کے باوجود شاداب قادری کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ ہوئی اس کے علاوہ ہر پیشی پر سیکڑوں لوگ جیل کے باہر بھی پہنچ جاتے تھے اور سلمان تاثیر کے خلاف نعرے بازی کرتے. .محض چار مہینوں میں چار ججوں نے کیس سننے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا …26 اگست کو سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو لاہور کے دل اور سب سے زیادہ مصروف روڈ مین بلیوارڈ گلبرگ سے اغوا کر لیا جاتا ہے. .اس سے چند ماہ پہلے شہباز بھٹی کے قتل اور شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد کوئی جج بھی یہ کیس سننے کو تیار نہ تھا. .ٹرائیل کے آخری مراحل میں پرویز علی شاہ جج تھے ان کو بھی مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ..

.بالآخر اکتوبر کے شروع میں ہی پرویز علی شاہ نے ایک بند کمرے کی عدالتی کاروائی میں ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سنا دی. …اس فیصلے کے بعد جگہ جگہ توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو شروع کر دیا گیا یہاں تک کہ وکلا کے ایک گروپ نے پرویز علی شاہ کی عدالت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی. ..پرویز شاہ کا راولپنڈی سے تبادلہ کر دیا گیا اور وہ خود لمبی چھٹی پر بیرون ملک چلے گئے 6 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی جس کی سنوائی تقریبا تین سال کے بعد شروع ہوئی جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس نورالحق پر مشتمل بنچ نے کیس سننا شروع کیا تو یہاں پر بھی قادری کے چاہنے والوں نے احتجاج ریلیوں اور نعروں سے عدالت کو مرعوب کرنا جاری رکھا. .

.قادری کی پیروی کے لیے ہر تاریخ پر وکلا کا ایک جم غفیر عدالت میں پیش ہوتا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف سمیت دو ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوتے تھے. .خواجہ شریف سے اگر لوگ زیادہ واقف نہ ہوں تو بتا دیتا ہوں کہ یہ نواز شریف کے سب سے چہیتے جج رہے ہیں اور خواجہ صاحب کا سر بھی نواز شریف کے احسانات کی وجہ سے سدا ان کے سامنے جھکا رہا اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9 مارچ 2015 کو فیصلہ سناتے ہوئے قادری کی سزا کو برقرار رکھا. ..

ایک بار پھر وہی احتجاج اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے بھی 6 اکتوبر 2015 کے اپنے فیصلہ میں ابتدائی دہشتگردی کی عدالت میں دی گئی سزا کو برقرار رکھا اس کے بعد سپریم کورٹ میں Review کی درخواست دائر کی گئی جب وہ بھی مسترد کر دی گئی تو پھر آخری plea کے طور پر صدر کے پاس رحم کی اپیل بھجوائی گئی جسے چند روز پہلے نامنظور کر دیا گیا تھا لیکن صدر کے فیصلے کو خفیہ رکھا گیا تھا اور پھر اچانک کل قادری کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس قادری کو بچانے کے لیے حکومت پنجاب نے مبینہ طور پر سارے جتن کیے. ..

اپنی ذیلی جماعت سنی تحریک اور صاحبزادہ فضل کریم کے ذریعے جلوس نکلوائے جسٹس خواجہ شریف اور دیگر چہیتے وکلا کے ذریعے کیس کی پیروی کروائی شہباز تاثیر کے اغوا کو آسان اور ممکن بنایا ،نواز شریف کے داماد اور مریم صفدر کے خاوند کیپٹن صفدر کے ذریعے مساجد میں قادری کی حمایت میں تقاریر کروا کر مخصوص حلقہ کو مستقل یقین دلائے رکھا کہ حکومت قادری کے ساتھ ہے پھر اچانک ایسی کون سی مجبوری آ گئی کہ پھانسی کی سزا کے منتظر تقریبا 8000 قیدیوں..

. جی ہاں 8000 افراد میں سے صرف قادری کو ہی اتنی عجلت میں لٹکایا گیا ؟؟؟ کہیں یہ تو نہیں کہ قادری نے ایم کیو ایم کے صولت مرزا کی طرح کچھ راز افشا کرنے کی دھمکی دے دی تھی؟ ؟؟؟ سلمان تاثیر کے والد محمد دین کشمیری تھے اور محمڈن اینگلو اورینٹل میں پروفیسر تھے جبکہ ان کی والدہ بلقیس انگریز تھیں جنہوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا 1950 میں سلمان تاثیر کی عمر 6 سال تھی جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا اس لیے سلمان تاثیر اور ان کے بہن بھائی کی پرورش ان کی ماں نے کی سلمان تاثیر نے انگلینڈ سے اکاونٹیسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان میں مختلف اکاونٹ کمپنیاں قائم کیں جو مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر تی تھیں اس کے علاوہ World call نامی ٹیلیفون بوتھ کا کاروبار بھی انہیں کا تھا اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پہلا پرائیویٹ ٹی وی چینل STN بھی سلمان تاثیر کی ہی ملکیت تھا سیاسی طور پر وہ ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے تھے اور پیپلزپارٹی کے قیام سے ہی وہ پارٹی سے وابستہ تھے. .

ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی وہ شامل رہے. .مارشل لا کے دوران قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں مسلسل چھ ماہ تک شاہی قلعے میں قید تنہائی کاٹی کل 16 مرتبہ گرفتار ہوئے 1980 میں جب مارشل لا اپنے عروج پر تھا تاثیر صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو پر کتاب لکھ ڈالی جب پاکستان کے پرنٹرز نے کتاب چھاپنے سے انکار کیا تو ہندوستان کے پرنٹرز سے چھپوا لی 1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے ایم پی اے منتخب ہوئے. .

2008 میں جب زرداری صاحب صدر بنے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شہباز شریف کے اوپر کسی جیالے کو گورنر بنایا جائے تو سب سے بہترین انتخاب سلمان تاثیر قرار پائے. .سلمان تاثیر کے دور میں گورنر ہاؤس میں جیالوں کا رش لگا رہتا تھا. .تقریب حلف برداری سے لے کر ان کی شہادت تک گورنر ہاؤس “جیئے بھٹو” کے نعروں سے گونجتا رہا شہباز شریف سلمان تاثیر کے بیانات سے تو پہلے ہی تنگ تھے لیکن جب گورنر راج لگا تو شہباز شریف اور سلمان تاثیر میں اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے اور اسی وقت سلمان تاثیر کو منظر نامے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا..؟

اگر محض تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کے باعث ہی ان کو شہید کیا گیا تو پھر اسی نوعیت کا بیان تو شیری رحمان نے بھی دیا تھا لیکن سلمان تاثیر کے خلاف ہی اتنی سخت تحریک چلائی گئی لاہور کے سیکورٹی سکوارڈ کو ہٹا کر راولپنڈی کے سکوارڈ کو لگانا.. ممتاز قادری جیسے جنونی پر پابندی کے باوجود سکوارڈ میں شامل کرنا سکوارڈ میں شامل دیگر اہلکاروں کی بھی گورنر کو بچانے کی کوشش نہ کرنا..محرر ڈیوٹی کے خلاف کاروائی نہ کرنا …قادری کو قتل کی ترغیب دینے والے عالم دین کو شامل تفتیش نہ کرنا. .خواجہ شریف اور کیپٹن صفدر کا قادری کے دفاع میں کردار پھانسی کے منتظر 8000 افراد میں سے محض قادری کو ہی عجلت میں سزا دینا ؟؟؟۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر تاثیر صاحب اور پنجاب حکومت میں پائی جانے والی “نفرت” ہی وہ دلائل ہیں جن کے بل بوتے پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قادری محض ایک مہرہ تھا اصل “کھلاڑی” کوئی اور ہے ؟

SHOPPING

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ملکی منظر نامے پر مولانا خادم رضوی نامی اک کردار ابھرا جس نے ممتاز قادری کی پھانسی کو خوب کیش کرایا حتیٰ کہ گزشتہ الیکشن میں بیس لاکھ سے زائد ووٹ بھی لے لیے انہوں نے قادری کی کرامات تک بیان کر ڈالیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے قادری کا ٹینٹوں کے احاطے میں پلاسٹک شیٹ سے بنا قادری کا مزار کسی بڑے ولی اللہ کے مزار جتنا بڑا پختہ اور قارون کا خزانہ بن گیا اب جب کہ آسیہ کیس جس کی بنیاد پر سلمان تاثیر قتل ہوا قادری قاتل ٹھہرا اور پھر ولی اللہ کے درجے پر فائز ہوا کا فیصلہ ایسے آیا کہ تاثیر کے قتل سے لے کر مولانا خادم رضوی پر ہن برسنے تک کے واقعات کا اصل مقصد ہی فوت ہو گیا اور مزید مولانا سمیع الحق کے انکشافات کہ تاثیر کا قتل اور قادری کی عجلت میں پھانسی شہباز تاثیر کی رہائی کے بدلے معافی والی بات سے بھی ایسا لگتا جیسا کہ شہباز تاثیر کو قادری کے حامیوں نے اغوا کیا تھا یہ سب محرکات مل کر اس کیس پر قائم طاقتور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سارے موقف پر سوال اٹھاتے ہیں کیا مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ بھی اس کی اک کڑی ہو سکتی ہے تحقیقاتی اداروں کو مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کی گرفتاری کے ساتھ اس سوال جواب کا جواب ڈھونڈنے کی بھی سعی کرنی ہو گی

SHOPPING

Avatar
رضوان گورمانی
رضوان ظفر گورمانی سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ہیں روزنامہ خبریں سے بطور نامہ نگار منسلک ہیں روزنامہ جہان پاکستان میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *