بیرسٹر انعام رانا کی تقدیر۔۔۔۔طاہر یسین طاہر

تحقیق و جستجو سے گریز کرنے والے سماج/قوم یا “امت” سے اس سے زیادہ کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ جو جس کی من مرضی میں آیا اسے بغیر تحقیق کیے “آگے” پھیلا دیا۔۔ سوشل میڈیا “امت” نامی معاشرے کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کی آیات اور احادیث تک کو اپنی من مرضی کے “مفاھیم” پہنائے ہوئے ہیں ،ان سے کیوں توقع کی جائے کہ یہ لوگ تحقیق، بیرسٹر انعام رانا کون ہے؟ اور “سیف الملوک” کون ہے؟؟
یہ صرف “سیف الملوک” پڑھتے ،سنتے اور اس پر سر دھنتے ہیں۔۔ انعام رانا کے حصے میں دھکے لکھے ہوئے ہیں۔ ۔ بڑے “وکیل” بنے پھرتے ہیں رانا صاحب۔۔ اور چلے ہیں سماج میں ” مکالمہ” کرنے۔۔۔ لیں کر لیں مکالمہ۔۔۔۔


ارے اللہ والیو۔ بیرسٹر انعام رانا، لندن میں وکالت کرتے ہیں، اپنی ایک لا فرم چلا رہے ہیں اور کئی گورے گوریوں کو نوکری دی ہوئی ہے۔۔ من موجی آدمی ہیں۔ مقبول ویب سائٹ”مکالمہ” اور ویب ٹی وی کے ” سی ای و” ہیں۔۔

 

گذشتہ روز انھوں نے اپنی ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کی تھی۔۔ رات گئے میں نے دیکھا سوشل میڈیا پر انعام رانا کی تصویر دیکھی۔۔ ساتھ لکھا تھا یہ “آسیہ بی بی کا “وکیل” ہے۔۔ ساتھ کچھ گالیاں اور “لعنت” بھیجنے کی “التجا”۔۔۔۔۔
حیرت اس بات پر ہوئی کہ یہاں پاکستان سے ایک وکیل صاحب ہیں، ٹائی بڑی “ٹائٹ” کر کے باندھتے ہیں۔۔۔ انھوں نے بھی بنا سوچے سمجھے رانا صاحب پر اپنی استعداد کے مطابق “لعنت” کی ہوئی تھی۔۔۔ حیرت ہوئی کہ یہ بندہ تو خود وکیل ہے۔۔۔۔کیا اس کو “سیف الملوک” کا بھی پتا نہیں؟؟؟
انعام رانا صاحب کو میں ذاتی طور جانتا ہوں۔ وہ پاکستان کے دو بڑے شہروں۔ لاہور اور کراچی میں سوشل میڈیا کے رحجانات پر دو کامیاب کانفرنسز کر وا چکے ہیں۔، لاہور کانفرنس میں ، میں بھی بحثیت ایڈیٹر مکالمہ شامل تھا۔۔ لاہور والی کانفرنس میں۔برادر عزیز اور معروف صحافی، جناب عامر خاکوانی صاحب۔ملک کے ممتاز دانش ور اور کالم نگار جناب ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب۔ مذہبی اسکالر،پروفیسر ڈاکٹر شہباز منج صاحب اور معروف مذہبی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب نے اظہار خیال کیا تھا۔۔ جتنا میں جانتا ہوں، انعام رانا تو “سادات” کا بھی دل و جان سے احترام کرتا ہے،چہ جائیکہ اسے گستاخ رسول کا وکیل یا قادیانیوں کا وکیل کہا جائے؟؟ افسوس ناک مقام یہ ہے کہ جنھیں اپنی ذات کے بارے میں بھی درست معلومات  نہیں ہوتیں وہ بھی دوسروں کو مسلمان بنانے پر کمر بستہ نظر آتے ہیں۔۔۔ مجھے واقعی بہت افسوس ہوا،جب دیکھا کہ لوگ دھڑا دھڑ انعام رانا کو گالیاں دے رہے ہیں، حالانکہ وہ ملک میں موجود ہی نہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے لندن میں وکالت کر رہے ہیں،،،،

افسوس صد افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *