• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آسیہ مسیح کیس، سپریم کورٹ کے فیصلے میں آئینی سقم۔۔۔۔۔مولانا ظفرالاسلام سیفی

آسیہ مسیح کیس، سپریم کورٹ کے فیصلے میں آئینی سقم۔۔۔۔۔مولانا ظفرالاسلام سیفی

SHOPPING
SHOPPING

سیشن اور ہائی کورٹ سے سزائے موت پانے والی گستاخ نبی خاتون آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جن امور کی بنیاد پر ملزمہ کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا مرحلہ وار ان امور پر ہماری گذارشات پیش خدمت ہیں۔
(۱)سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن بتاتا ہے کہ
اس کیس کی ایف آئی آرپانچ دنوں کی تاخیر سے درج کی گئی جسکے سبب پیدا ہونے والے شک کا لامحالہ فائدہ ملزمہ کو جاتا ہے۔
اس پر عرض ہے کہ۔۔۔
ایف آئی آر کی تاخیر کی وجہ مقدمہ کی سنجیدگی،سنگینی اور غیرمعمولی احتیاط ہے،اس نوع کی تاخیر مقدمے میں کسی طور ملزمہ کو شک کا فائدہ دینے کا سبب نہیں بن سکتی کیونکہ ایف آئی آر کی تاخیر صرف اسی وقت اہمیت کی حامل ہوتی ہے جب استغاثہ کی گواہی اور مقدمہ کے دیگر حالات ملزمہ کے حق میں جارہے ہوں جبکہ یہاں ایسا بالکل نہیں،یہی وجہ ہے  کہ لاہور ہائیکورٹ اپنے فیصلے کے متن میں کہتا ہے کہ ”اس معاملہ سے متعلق پولیس کو تاخیر سے آگاہ کرنے کے ذریعے بظاہر کوئی ناجائز فائدہ حاصل نہیں کیا گیا بلکہ یہ مقدمہ کی سنجیدگی اور سنگینی کے باعث پولیس کو آگاہ کرنے سے قبل غیر معمولی احتیاط ہے“ ہائیکورٹ کا متن قرار دیتا ہے کہ ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل اور مدعی کے فاضل وکیل کی وضاحت سے ایف آئی آر کاتاخیری اندراج بخوبی واضح وحل ہوچکا ہے جس پر مزید کسی بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔پس ہماری نظر میں سپریم کورٹ کا اس امر کو باعث شک قرار دینا چھلکتے تعصب کے سوا کچھ نہیں۔

(۲)سپریم کورٹ کا فیصلہ بتلاتا ہے کہ۔۔۔
مقامی سطح پر منعقد کیے جانے والے جرگہ واجتماع کی قانونی حیثیت کوئی نہیں۔
ہمیں اعتراف ہے کہ ریاستی عدلیہ کے مقابلے میں اس نوع کے اجتماعات کی کوئی حیثیت نہیں مگر ہم سب جانتے ہیں کہ فی نفسہ انکی حیثیت کا انکار کرنا بجائے خود ایک غیرقانونی دعویٰ ہے۔بلوچستان،کے پی کے اور قبائلی علاقہ جات میں منعقد کیے جانے والے جرگوں میں چیف آف آرمی سٹاف سمیت متعدد سرکاری شخصیات ان اجتماعات وجرگوں کی اپنی تشریف آوری سے نہ صرف تعظیم وتکریم فرماتے رہے بلکہ ان میں طے ہونے والے امور کو باقاعدہ سرکاری عمل میں لاتے رہے۔مزیدیکہ ہماری عدالتی تاریخ جرگوں واجتماعات کو اہمیت دینے سے بھری پڑی ہے۔

(۳)سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق۔۔
کیس کی ابتدائی تحقیق ایس پی کے بجائے نچلے لیول پر کی گئی اگرچہ ازاں بعد ایس پی لیول پر تحقیقات ہوئیں۔
تو اس پر عرض ہے کہ ایس آئی محمد ارشد کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیق حقیقت میں چند لمحات پر مشتمل تھی اسکے بعد فوری طور پر ایس پی محمد امین نے مقدمے کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے تحقیقی عمل کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور مکمل تحقیق اپنی نگرانی میں کروائی جسکا اعتراف سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آگے چل کر خود ہی یہ کہہ کر کرلیا کہ ”بعد میں اسکی تصحیح کر لی گئی“ لہذا اسے کسی صورت باعث اعتراض قرار نہیں دیا جاسکتا۔

(۴) سپریم کورٹ مزید کہتی ہے کہ
ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں گواہ صرف دو ہیں۔۔
تو اس پر عرض ہے کہ ایک معزز عدالت ایک مقدمہ بعنوان بشیر احمدبنام سرکار (2005ylr985) میں فیصلہ کے دوران صفحہ نمبر 991پر تحریر کر چکی ہے کہ
”زیردفعہ 295/c تعزیرات پاکستان جرم کو متشکل کرنے کے لیے گواہان کی بڑی تعداد درکار نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ نبی اکرم کے خلاف اس قسم کی گستاخانہ اور اہانت آمیز زباں کا استعمال کھلے عام بلند آواز سے یا پھر کسی جلسے میں یا کسی خاص جگہ پر ہو بلکہ کسی واحد گواہ کا بیان خواہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گھر کے اندر توہین کا ارتکاب کیا ہو وہ بھی اس سزائے موت کا مستحق ہوگا“
ایک تسلیم شدہ قانون کی موجودگی میں اعلی عدلیہ کے ججز کا یہ کہنا کہ گواہ صرف دو تھے حالانکہ اس کیس میں کافی تو ایک بھی ہے فرمائیے قانونی ناآشنائی اور عدالتی مضحکہ نہیں تو کیا ہے؟

(۵)سپریم کورٹ کے فیصلے کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ۔۔
گواہان کے بیانات میں درج ذیل امور میں تضاد ہے۔
(۱) افراداجتماع کی تعداد میں یعنی جرگے میں کتنے لوگ تھے اس بارے میں گواہان کی گواہیوں میں تضاد ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اس سوال کا تعلق مقدمہ کے داخلی دائرہ سے کتنا ہے۔یہ سوال اس قدر غیر سنجیدہ وسطحیانہ ہے کہ اسکی لغویت پر کسی کلام کی ضرورت نہیں۔

مزید کہا کہ مقام اجتماع میں اور ملزمہ کو اجتماع تک لانے کے سلسلے میں دی جانے والی گواہیوں میں بھی تضاد ہے،ہم جانتے ہیں کہ ان اعتراضات کا مقدمہ کی داخلی ہیئت سے کوئی تعلق نہیں،یہ سب اہم ترین سوال کہ ’توہین رسالت ہوئی یا نہیں“ کوگول کرنے کی دانستہ کوشش کرنااور قوم کو موشگافیوں میں الجھانا ہے تا کہ اس پر موجود ناقابل تردید شہادت ڈسکس ہی نہ کرنی پڑے۔
مزیدیہ کہ پیرا نمبر انیس میں دو گواہان یاسمین بی بی اور مختار احمد کا تذکرہ کرتے ہوئے
“yasmin bibi and mukhtar ahmad were given up”
کا اردو ترجمہ یوں کیا گیا کہ
”استغاثہ کے گوا ہان یاسمین بی بی اور مختار احمد ”منحرف” ہو گئے“
حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ منحرف نہیں ہوئے بلکہ انہیں استغاثہ نے زائد از ضرورت سمجھتے ہوئے از خود چھوڑ دیا تھا اور اسکا مطلب بھی  متروک ہے نہ کہ منحرف اور آئین کی زباں میں لفظ منحرف اور متروک میں بعد المشرقین ہے۔

یہاں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ ہائیکورٹ میں گواہان پر کوئی جرح نہیں ہوئی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے قانون شہادت آرڈر 1984کی دفعہ نمبر 132 کے متعلق بحث کرتے ہوئے بار بار کہا کہ جب جرح کے دوران ایک خاص ٹھوس وحقیقت بیان کی جاتی ہے اور اس پر جرح نہیں کی جاتی تو اس سے مراد اس بیان والزام کو من وعن قبول کرلینا ہے،اس ضمن میں مقدمہ بعنوان حافظ تصدق حسین بنام لعل خاتون (PLD 2011 SUPREMCEORT 296)کی نظیر بھی موجود ہے،سپریم کورٹ نے اس امر سے بھی دانستہ پہلو تہی کیے رکھی۔

SHOPPING

نیز آسیہ مسیح کی جانب سے دائر کردہ اپیل بھی آئینی مدت پوری ہوجانے کے بعد دائر کی گئی حالانکہ گیارہ یا پندرہ روز بعد دائر کردہ یہ اپیل کسی طور سپریم کورٹ میں آئین کے تحت لائق سماعت نہیں ہوسکتی تھی۔نیز اس موقع پر مدعی کے فاضل وکیل کی جانب سے قائم کیے گئے سوالات کا کوئی مثبت جواب بھی نہیں دیا گیا اور انہیں اس بنیاد پر کہ گواہوں کی گواہی کے چند غیر متعلقہ پہلو آپس میں متضاد ہیں مسترد کردیا گیا۔
ان مختصرگذارشات کے بعد بھی وہ طبقات جو سمجھتے ہیں کہ مولویت جذبات کی بنیاد پر کھڑی ہے نہ کہ استدلال کی بنیاد پر وہ نہ صرف لائق رحم ہیں بلکہ انہیں اپنی عقلوں کا ماتم کرنا چاہیے۔
نوٹ۔اس عنوان پر تفصیلی کام جاری ہے جو جلد ان شااللہ طبع ہوکر آجائیگا۔

SHOPPING
speciaal sale

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *