افریقہ کے آنسو۔۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

ایک چینی کہاوت سے کہانی کا  آغاز کرتے ہیں۔قدیم لوک کہاوت ہے کہ خدا نے جب دنیا بنانے کا بیڑہ اٹھایا تو تین مٹی کے بت بنا کر پکنے کے لیے تندور میں ڈالے گئے۔تینوں بت جب پک گئے تو انہیں خدا کے سامنے پیش کیا گیا۔تینوں بتوں میں سے ایک بت اچھی طرح پک کر گندمی رنگت کا ہو گیا۔خدائے بزرگ نے اس بت کونہایت شفقت اور پیار سے مشرق میں اتار دیا۔دوسرا بت کچھ کچا رہ گیا جسے ناگواری سے مغرب کی طرف روانہ کر دیا گیا۔تیسرا اور آخری بت دیکھ کر قدرت کو جلال آیا اور اس جلے ہوئے سیاہ بت کو آسمانوں سے پھینکا گیا اور اسکی آماجگاہ افریقہ کہلایا۔روئے زمین پر آباد انسان ان بتوں کی ہی اولاد ہیں۔

ایک کہانی افریقہ پر گوروں کے اقتدار کی ہے۔ایک سفید پری اور قبائلی حبشی کے عشق کی داستان جسکا انجام انگريز محبوبہ کی موت ہوتا ہے۔انسانیت کی حدود سے پرے رہنے والے سیاہ افریقی اور تہذیب کی علامت سمجھا جانے والا گورا رنگ کیا ایک ہو سکتے ہیں؟ دن اور رات بھی کبھی ایک ہوئے ہیں؟

قرون وسطی کا عہد تمام ہوتا ہے اور یورپی جہاز مشرق سے مغرب تک ہر ساحل پر لنگر انداز ہوتے ہیں۔کولمبس١٤٩٢ میں امریکہ نام کی نئی دنیا دریافت کرتا ہے۔اگلی تین صدیاں انسانیت اپنے مقام سے گر جاتی ہے۔سیاہ فام غلام جہازوں میں بھر بھر کر امریکہ لائے جاتے ہیں۔اس سمندری سفر کے دوران بیس لاکھ انسان سفری صعوبتوں،موذی امراض ،سمندری لڑائیوں کی نظر ہو جاتے ہیں۔

اس بین البراعظمی تجارت میں مال افریقہ کے بے بس غلام ہوتے ہیں جنھیں امریکہ کے یورپی مکین انسان بنانے کے لیے جہازوں میں بھر بھر کر لے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس سارے عرصے میں ایک کروڑ پچیس لاکھ افریقی امریکہ پہنچائے گئے۔یہ اعداد و شمار اس وقت کے ہیں جب جنوبی اور شمالی امریکہ کی مجموعی آبادی بھی اتنی نہیں تھی۔تین صدیوں تک افریقہ جمود کا شکار رہا اور انیسویں صدی میں بالآخر افریقہ کی آبادی میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انسانوں کی خرید و فروخت کا یہ دھندا صدیوں تک جاری رہا اور بالآخر ١٨٦١ میں غلامی ممنوع قرار دی گئی۔غلامی کے خاتمے کے بعد بھی ظلم و ستم کا سلسہ جاری رہا اور سیاہ فاموں کو عوامی مقامات پر زندہ جلانے کے واقعات ہوتے رہے۔امریکی تاریخ اور ادب ظلم کی ان داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔١٨٨٢ میں برلن کانفرنس میں براعظم افریقہ کو یورپی اقوام نے آپس میں اتفاق رائے سے تقسيم کیا اور افریقہ کے وسائل کانگو،الجیریا،وسطی افریقہ،نائجیریا ،گھانا سے لندن،پیرس،برلن،ایمسٹرڈیم اور بیلجیم منتقل کیے گۓ۔یورپی لکھاری جوزف کانریڈ کا ناول ”ہارٹ آف ڈارکنیس“ تاریک براعظم پر پیش آنے والے روح فرسا واقعات کی شاندار عکاسی ہے۔

بیسویں صدی کا سورج اپنے ساتھ جدید افکار و نظریات لے کر طلوع ہوا۔افریقہ کی اذیت میں اضافہ ہوتا گیا اور یورپ کا قلب سیاہ  سے سیاہ تر ہوتا گیا۔١٩١٩ میں برپا ہونے والے انقلاب روس کے بعد محکوم دنیا میں بھی بیداری اور امید کی کرن پیدا  ہوئی ۔اسی دوران افریقہ میں انقلابی تحریکوں نے جڑ پکڑی لیکن سامراجی یورپ نے ان نو زائیدہ تحریکوں کو بے رحمی سے کچل دیا۔ہٹلر کا عروج و زوال محکوم دنیا کے لیے نعمت ثابت ہوا اور جنگ سے نڈھال یورپ کی گرفت نوآبادیات پر کمزور ہوتی گئی ۔لیکن ہندوستان کے برعکس افریقی ممالک کو آزادی حاصل کرنے کے لیے خونی جنگیں لڑنا پڑیں۔انقلابی قیادت اور بے مثال جدوجہد کے بعد افریقی اقوام جن سے نہ صرف ان کی زمین مذہب، زبان ،ثقافت، طرز زندگی بلکہ حق انسانی چھین لیا گیا تھا ،کو آزادی نصیب  ہوئی ۔احمد بن بیلا،حسن البنا،قزافی،نکرومہ،منڈیلا،عدی امین،موگابے،سنکارا جیسے رہنماوں نے افریقی اقوام کی میدان جنگ و سیاست میں رہنمائی کی۔کانگو سے لے کر کیریبین تک غلاموں کو انسان تسلیم کر لیا گیا اور اس حق کو تسليم کرنے پر حاکموں نے پوری دنیا سے داد بھی سمیٹی۔

آزادی بھی افریقہ کے لیے ڈراونا خواب ثابت  . ہوئی  اور اب کی بار یورپ کے بطن سے جنم لینے والا امریکہ سامراج کی روائتی دلیل کے ساتھ افریقہ سے غربت،بھوک اور بیماری ختم کرنے کے لیے ٹینکوں،بموں اور بندوقوں سے لیس ”رضاکاروں“ کی فوج لے کر بد قسمت بر اعظم جا پہنچا۔لاطینی امریکہ کی طرح یہاں بھی جن رہنماوں نے امریکہ کے ”فلاحی “ مشن میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی انکو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ امریکی فوجی مقاصد کے ساتھ ساتھ کاروباری کمپنيوں کی آمد بھی شروع  ہو گئی ۔سامراج کے طفیلی ادارے اقوام متحدہ،آئی ایم ایف نے امریکی مفادات کے حصول کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔نکرومہ نے برسوں پہلے نئے عالمی نظام کو ”نیو کالونیل“ نظام قرار دیا تھا۔سنکارا نے قرض کو غلامی کے نئے دور سے تعبیر کیا تھا۔

مگر آج افریقہ قیادت سے محروم اور قرض کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔آج بھی افریقہ کے وسائل سب سے زیادہ ہیں اور چین بھی ان وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔امریکی،برطانوی ،چینی اور فرانسيسی طاقتیں افریقی وسائل کی لوٹ مار کے لیے ہاتھ پاوں مار رہی ہیں۔افریقہ آج بھی غربت،بیماری،بدامنی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔تاریخ اور ادب افریقہ کا نوحہ پڑھتے نظر آتے ہیں مگر قدرت ابھی تک افریقہ سے ناراض ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *