بڑا سا تالا۔۔۔ الطاف حسین رندھاوا

میرے ایک دوست ہیں مٹھی تھرپارکر کے میر محمد بلیدی بھائی ۔ خاصے ظریف طبع واقع ہوئے ہیں ۔ ایک بار کراچی میں خاکسار کو ان کے ساتھ صبح سویرے ایک ہوٹل پر جانے کا اتفاق ہوا ۔ دراصل راقم اور بلیدی بھائی ایک ہی ادارے میں ملازمت کرتے تھے جس کا صدر دفتر کراچی میں تھا اور اس حوالے سے اکثر کراچی آنا جانا ہوتا تھا ۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو بلیدی بھائی نے ویٹر سے ناشتے میں دو تین چیزوں کے بارے میں پوچھا ۔ اتفاق سے بلیدی بھائی نے جس چیز کابھی پوچھا ، ویٹر نے یہی جواب دیا کہ سر وہ تو نہیں ہے ۔ اس پر بلیدی بھائی نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا ، آپ کے پاس کوئی بڑا سا تالا ہے ؟ ویٹر نے حیرانی سے پوچھا، وہ کس لئے ؟ بلیدی بھائی نے جواب دیا ، آپ کے ہوٹل کے لئے ۔
کچھ دن پہلے اسی سے ملتا جلتا مکالمہ عدالت میں ہوا جب نیب ، ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے پانامہ کیس کے حوالے سے عدالت کو یہ جواب دیا کہ یہ کیس ان کے دائرہ کار سے باہر ہے ۔
کاش میرا دوست بلیدی عدالت میں موجود ہوتا اور ان سب سے اور چیف جسٹس صاحب سے وہی سوال دہراتا کہ ” کوئی بڑا سا تالا ہے ؟ “

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *