وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔ معاذ بن محمود

جناب عزت مآب وزیراعظم عمران خان صاحب!

امید ہے آپ کار ہائے ریاست بخوبی نبھانے کی پوری کوشش میں مصروف ہوں گے۔ فدوی آج آپ کی توجہ ایک ایسے معاملے پر دلانے کی جسارت کر رہا ہے جو اب تک بذریعہ مصالحے دار میڈیا آپ کے علم تک رسائی حاصل کر چکا ہوگا۔ یہ سطور لکھتے ہوئے چند خود ساختہ عاشقان رسول کی جانب سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی خبریں متواتر موصول ہورہی ہیں۔ اس غنڈہ گردی کی وجہ آج صبح عدالت عظمی کی جانب سے آسیہ بی بی کو عطا کی جانے والی بریت ہے۔ 

معاملہ آسیہ بی بی کا ہو یا میاں محمد نواز شریف کا، یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی تصفیہ اپنے حل کے لیے انصاف کے مروجہ نظام کے راستے اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ انصاف کی فراہمی میں بدنیتی شامل ہو تو برے نتائج سامنے آتے ہیں۔ بحیثیت آپ کے سیاسی مخالف میں کئی ایسے فیصلوں پر تحفظات بھی رکھتا ہوں جو مکمل طور پر سیاسی ہیں لیکن جناب وزیراعظم، اس کے باوجود مجھ سمیت ہر عقل رکھنے والا شخص یہ سمجھتا ہے کہ انصاف کے اس خستہ حال مگر مروجہ طریقے کو چھوڑ کر اس راستے سے یکسر نظراندازی برتنا یا اسے ماننے سے انکار کرنا، شدت پسندی نامی بہت بڑے فتنے اور نتیجتاً انار کی کا باعث بنتا ہے۔ 

جناب وزیراعظم، ہم سب جانتے ہیں کہ ریاست میں متفقہ طور پر منظور شدہ آئین رائج ہے۔ اس آئین میں موجود تمام شقوں کی پاسداری ریاست کے ہر شہری پر فرض ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس آئین سے غداری کے کئی مجرم دندناتے بھی پھر رہے ہیں لیکن جان رکھیے ہم آپ کی مجبوریوں سے واقف ہیں۔ اس کے باوجود، جناب وزیراعظم، وردی میں ملبوس یہ غدار آمر جتنے بھی برے تھے، وردی کا تقدس ہم پر فرض تھا، ہے اور رہے گا۔ فوج بحیثیت ادارہ ہمارے لیے سرحدوں کے تحفظ کا کام ضرور سرانجام دے رہی ہے جو بہرحال ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ آخر کس حق کے تحت ہم کبھی مذہب تو کبھی عشق رسول کے نام پر شہر کے شہر بند کرنے کی اجازت دیں؟ عام شہری کی زندگی مفلوج کرنے کا اختیار کسی سیاسی جماعت، کسی مذہبی اجتماع اور کسی مسلکی تہوار کو بھی نہیں ہونا چاہئے کجا یہ بنیاد پرست۔ 

جناب وزیراعظم، کیا ریاست مدینہ میں حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو وہی درجہ دیا جاتا تھا جو آج نئے پاکستان میں خادم حسین رضوی کو دیا جارہا ہے؟ کیا ہم پاکستانی دنیا کے سامنے تماشہ بننے کے لیے رہ گئے ہیں؟ کیا اسلام کے نام پر بننے والی ریاست اس قدر بے بس ہو چکی ہے کہ ایک متشدد گروہ ریاست کی اعلی ترین عدلیہ کے فیصلے کو سڑکوں پر چیلنج کرتا پھرے اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہے؟ جناب وزیراعظم، نواز شریف کی لندن واپسی پر جس طریقے سے میڈیا بلیک آؤٹ کیا گیا، لاہور میں جگہ جگہ کنٹینر لگائے گئے، گرفتاریاں کی گئیں، وہ کافی فعال ثابت کوا۔ کیا یہ معاملہ اس سے کم نازک ہے جو انہیں کھلی چھوٹ دی جارہی ہے؟

جناب وزیراعظم، بڑی مشکل سے ہم اپنی نوجوان نسل کو افغان جہاد کے نام پر دہشت گردی کی عفریت سے دور کھینچ لائے ہیں۔ آپ محسوس نہیں کرتے کہ عشق رسول کے نام پر مچنے والا یہ غدر مذہبی شدت پسندی کی ایک نئی شکل ہے جس سے ابھی نہ نپٹا گیا تو مستقبل میں ایک بار پھر ہمیں اس کا شکار ہونا پڑے گا۔ 

سیاسی چپقلش کا مورد الزام چاہے جو بھی ٹھہرے، لیکن سیاسی اختلافات میں مذہبی یا مسلکی جذبات کا استعمال آپ بھی کرتے آئے ہیں اور آپ کے سیاسی مخالفین بھی۔ اب چونکہ آپ اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکے ہیں، ہم عوام آپ سے اچھی امید رکھتے ہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی میں مذہب کے نام پر کسی بھی قسم کی مداخلت کا سدباب کیا جائے اور ایسا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم عوام مؤثر قانون سازی کے منتظر ہیں۔ 

والسلام

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *