• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری اور آخری قسط

رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری اور آخری قسط

SHOPPING
SHOPPING

نوٹ:زیر ِ نظر کہانی محمد اقبال دیوان کی کتاب “پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ “میں شامل ہے!

کتاب

(گزشتہ سے پیوستہ)
“تیرا وہ کراچی کا ڈان اور کیا کہتا تھا؟۔۔۔ ” ایچ۔بی۔کے کو حسد سے زیادہ تجسس نے گھیر لیا تھا ۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کراچی کا کون سا ڈان تھا ۔جس کی اس سے چند رات قبل، گڈو نے جان ابرہام والی تاج پوشی کی تھی۔
وہ کہنے لگا “اڑے اپن کی کراچی کے علاقے رن۔چھوڑ  لائن میں دس کنال کی کوٹھی ہے”
حسین بخش نے حساب لگایا کہ دس کنال کا مطلب تقریباً پانچ ہزار گز ہوتا ہے۔ اپنے ہسپتال کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اسے علاقے کی اکثر سڑکوں اور مکانات کے سائز کا ایک اجمالی اندازہ تھا۔

رن-چھوڑ لائن
رن چھوڑ لینڈ

گڈو نے اسے آر۔ اے۔ ایف کی کوٹھی کی پیمائش کا وقفہ اس لئے بھی دیا کہ ممکن ہے وہ اسے جانتا ہے پر جب اس نے دیکھا کہ ایچ۔بی۔ کے اعداد و شمار کے فریب سے آزاد ہوکر دوبارہ اپنی توجہ اس کی جانب مرکوز کربیٹھا ہے تو وہ پھر سے گویا ہوئی
“سرجن جان ابرہام! (جان ابراہام۔ بھارت کے مشہور اداکار جو ماں کی طرف سے پارسی اور باپ کی طرف سے شامی عیسائی ہیں)میں نے اس سے پوچھا علاقے کابھلا یہ رن۔چھوڑ لائن کیا نام ہوا؟”
وہ اترا کر کہنے لگا” اڑے اپن کی دادی کی دادا بھائی لوگ سے طلاق کی وجہ سے لوگوں نے علاقے کا نام رن چھوڑ لائن رکھ دیا۔ پہلے اس کا نام کچھ اور تھا۔پاکستان بننے کے بعد کراچی کا یہ پہلا طلاق تھا۔”


تو کیا تمہارا تعلق دادا بھائی فیملی سے ہے“ گڈو کو یاد آیا کہ خالد قریشی کی رفاقت میں اس خاندان کے کسی فرد سے اس کی فارم ہاؤس پر ملاقات جلد ہی کچھ بدمزگی میں بدل گئی جب گڈو نے اس کی ہاتھاپائی سے تنگ آن کر پوچھ لیا کہ چلو میں نے مانا کہ تم میمن لوگوں میں عجیب عجیب نام ہوتے ہیں۔
“Thats sinks well with me” میرے لیے اس میں کوئی ایشو نہیں مگر تمہاری طرف کی عورتیں بھی کیا دادا بھائی کہلاتی ہیں۔اس بے تاب مرد نے اس تمسخر بھرے رکیک تجسس کی وجہ سے اپنے ہاتھ فوراً گڈو کی قمیص کی پیچھے سے کھولی ہوئی زپ سے باہر کھینچ لیا اور میزبان کو کہنے لگا  لاہور کیFun Ladies میں Manners ،Class اور Style بالکل نہیں ٹپی کل پینڈو گڈو کو وہ بات تو یاد آئی مگر اس کی حس مزاح نے ایک دفعہ اور مرچوں کا بگھار دینے کے لیے سوچا کہ راشد احمد فاروقی میں کون سی کلاس ہے؟ اس لیے اس نے ایک دفعہ اور جرات کرکے پوچھ لیا
“مگر دادا اورد ادی کی اس طلاق کا علاقے کے نام سے کیا تعلق ہے میری سمجھ نہیں آیا؟ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ شرما کر کہنے لگا” یہ فیملی کا سیکریٹ ہے۔پر تو اپن کو بالکل بپاشا باسو لگتی ہے اس لیے اپن تیرے کو ساری زندگی بپاشا گڈو بولے گا۔۔۔ باسو میں اپن کو باس(ہندی میں بدبو) آتی ہے۔

بپاشا باسو

ابھی پوچھا ہے، تو کیا ہے کہ جس دن مولوی صاحب نے دادی لوگ کو کہا کہ آج کے بعد آپ نے دادا بھائی سے علیحدہ رہنا ہے تو سارا صوبہ ء سندھ اس فیصلے سے ہل گیا۔ ایون(even) چیف منسٹر صاحب نے دادی کو افسوس کا فون کرکے بولا”مسزحاجیانی حسینہ حور بائی آپ کی اس ٹریجڈی پر اگر ہمالیہ خون کے آنسو رووے تو یہ بھی ہماری سندھ حکومت کو کم لگے گا۔ آج آپ کی طلاق کے سوگ میں چیف منسٹر ہاؤس میں کوئی دو بتی سے زیادہ کا فانوس نہیں جلے گا ۔ہم نے آپ کے سوگ میں دو دن اسکولوں کی چھٹی، ایک دن سنیمابند کرنے کا اور دوسرے دن بھی فلم کے تینوں شوز میں کوئی گانا نہیں دکھانے کا اعلان کیا ہے۔ آپ کے علاقے کے ایم۔پی۔اے صاحب کی مرضی تھی کہ کل پہیہ جام ہڑتا ل بھی ہونی  چاہیے  اور لڑکوں کوپچیس ٹارگیٹ کلنگ،چار بس اور چار ٹیکسی جلانے تک پولیس کی طرف سے گرفتاری کی مکمل معافی۔ سندھ کی پہلی طلاق ہے۔ عوام کو جذبات کے اظہار کی آزادی ہونی چاہیے  ورنہ ہمارے سندھ صوبے میں کالا باغ جیسا احساس محرومی جنم لے گا۔ اور میڈیا کو بھونکنے کا موقع  مل جائے  گا۔مگر پھر  ہماری کابینہ نے سمجھداری سے کام لیا اور فیصلہ کیا کہ علاقے کا نام ہی رن۔چھوڑ لائن رکھ دو تاکہ قیامت تک اس علاقے کے مرد سر اٹھا کہ جی نہ سکیں “۔ یہ سب سے بہترین انتقام ہے۔ وہ مزید بتانے لگا کہ “حکومت نے لوگوں نے کے مطالبے پر   علاقے کا نام یہ رکھا کیوں کہ جس طرح بمبئی ایک شہزادی کو جہیز میں ملا تھا۔رن۔ چھوڑ لائن بھی میری دادی لوگ کو ملا تھا۔ ہمارا دادا بھائی البتہ شپ پر خلاصی (ڈیک لیبر) تھا”

ایچ۔بی۔ کے کو کراچی والے آر۔ اے۔ ایف کی یہ بات سن کر ہنسی تو بہت آئی مگر وہ یہ سوچ کر کہ رات بھی نیند کہانی والی جو کیفیت گڈو کی اس شریر رفاقت نے ،اس پر تاروں کی چادر کی طرح تان دی ہے، اس میں مداخلت کی وجہ سے سوراخ ہو جائیں گے۔ وہ اپنی ہنسی ضبط کرکے پوچھنے لگا” اور وہ اپنی کوٹھی کے بارے میں کیا کہتا تھا۔”
“ہاں وہ یہ بھی کہہ رہا تھا”۔ گڈو نے ماتھے پر شکنیں لا کر یاد آوری کا منظر خود پر طاری کرتے ہوئے کہا” ہماری کوٹھی کے پیتل اور المونیم کے دروازے اتنے مضبوط اور بھاری ہیں کہ میری کار اندر آنی ہو یا سامان کا ٹرک آنا ہو تو اندر سے ایک ڈمپر اس کا کنڈا  پھنسا کر کھینچ کر اس کو کھولتا ہے۔”
“اور تم نے بے وقوف کی، اس بات  کو مان لیا؟” ایچ۔بی۔ کے نے اس کی معصومیت کا جائزہ لینا شروع کردیا۔۔۔
“یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں، میں قریشی صاحب کے ساتھ ایک شام کو لاہور سے دور ایک فارم ہاؤس پر گئی تھی اس کے پرانی لکڑی کے دروازے بھی اتنے بھاری تھے کہ کھولنے کے لئے مالک نے بیل گاڑی رکھی تھی۔” گڈو کی وضاحت کے بعدحسین بخش نے اپنی ایک اور شکست کو چپ چاپ پی لیا۔
” تم وہاں کیوں گئی تھیں؟”حسین بخش قاضی نے بمشکل اپنے ذہن کے پردے پر رن چھوڑ لائن کراچی سے وہ دل چسپ منظر نامہ لاہور کے فارم ہاؤس کی طرف منتقل کیا۔
“وہ جو ماڈل باربی ہے نا، خالد قریشی کی کی گرل فرینڈ،اس کا اصل میں نام تو مہر بانو قزلباش ہے، مگر ایویں کول لگنے کے لئے اور ایٹی ٹیوڈ دکھانے کے لئے اپنے آپ کو پہلے باربی پکارتی تھی اور جب سے اسے زُلفِ دراز ہربل شمپو کا ایڈ ملا ہے وہ تھوڑی ہٹ ہوگئی ہے اب اپنے آپ کو باربی۔کیو کہلواتی ہے۔ میں نے خالد صاحب کو کہا بھی کہ اس میں گرینڈ ڈیئزائن ہے۔ اس کا آخری نام بھی قزلباش ہے اور آپ کا بھی قریشی۔ دونوں کیو سے شروع ہوتے ہیں۔سنبھل جاؤ چمن والو۔اس کا اس دن بھائی پھیرو میں اسٹیج شو چل رہا تھا۔
قریشی صاحب نے مجھے کال کیا۔ ان سے ہمارے فیملی ٹرمز ہیں۔میرے امی ابو ان کو ساتھ آنے جانے پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کرتے ورنہ میرا ابا غلام دین تو ایسا غصے والا ہے کہ آتے جاتے کہتا ہے کہ “گڈو منڈیاں نال تو کدی فری ہون دی کوشش کتی تے میں تینوں گنڈاسے نال ووڈ کے اپنے ہتھاں نال دفن کردیاں گا۔اے ساڈی غیرت دا سوال اے”۔ (گڈو اگر تو نے کبھی لڑکوں کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کی تو میں بغدے سے تیرے ٹکڑے کرکے اپنے ہاتھوں سے تجھے دفن کردوں گا)گڈو نے اپنے گھریلو تعلقات، والد محترم کے پاس ِحرمت و عفت اور رموز ِتربیت پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا۔

” تم وہاں کیوں گئی تھیں؟ “ایچ۔بی۔ کے نے اپنا سوال دہرایا
“ہندوستان سے کسی وزیر اعلیٰ کا بیٹا یہاں مہمان آیا تھا۔ قریشی صاحب نے مجھے فون کیا کہ” گڈو چنگے کپڑے پا کے تیار ہوجا ،” ڈرائیور کو بھیجا کہ” میں کپڑے گاڑی میں ہی رکھ لوں اور بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آفس کے نیچے آکر مس کال ماروں تو وہ نیچے آجائیں گے”، میں تیارہوکر آئی۔ شاور بھی وہیں پارلر پر لیا تو قریشی صاحب سے میں نے پوچھا” اگر جناب کا مجھ سے خفیہ شادی کا ارادہ ہے تو میں اپنی گواہی کے لیے اپنی چار سہیلوں کو بلالوں ” تو کہنے لگے نئیں۔۔گڈو کملئے،میری جندڑیئے۔ کچھ وی۔آئی۔پی لوکاں دی ایک  وڈی ہستی دے پتر دے اعزاز وچ فارم ہاؤس تے کی۔ کلب پارٹی ہے”۔(گڈو پگلی،میری جان، کچھ وی آئی پی لوگوں کی ایک بڑے آدمی کے بیٹے کے اعزاز میں فارم ہاؤس پر کی۔کلب پارٹی ہے)
میں نے انہیں پوچھا کہ ” وہ کی۔کلب کیا ہوتا ہے مجھے سمجھادیں تو  آگے میں خود ہی سنبھال لوں گی۔ دیٹ وے آئی ایم ویری کول  that way i am very cool اس میں اور ٹی۔کلب میں کیا فرق ہے؟”
وہ کہنے لگے کہ” ٹی کلب میں چائے چلتی ہے اور کی۔ کلب میں چابی،کی۔کلب دراصل بہت فرمانبردار عورتوں کا کلب ہے ہم وہاں جا رہے ہیں، گھر کامرد جس کے ساتھ اشارہ کرے اس کی زنانی کو دوسرے مرد کے ساتھ بند کمرے میں جانا ہوتا ہے۔ یس، نو کی گنجائش نشطہ ”

میں نے کہا ” قریشی صاحب اسی تے ہمیشہ دے فرماں بردار نیں ، میں اگے وی کدی جناب نوں کسی دے نال جان توں انکار کیتا اے۔”(قریشی صاحب میں تو ہمیشہ کی فرما ں بردار ہوں میں نے پہلے بھی آپ کی حکم عدولی نہیں کی)
قریشی صاحب نے مجھے چوم کر کہا ” ایہی لحاظ مروت تے خاندانی لوکاں دی سب توں ووڈی نشانی ہوندا اے” (یہ ہی لحاظ مروت تو خاندانی لوگوں کی سب سے بڑی نشانی ہے)

گڈو نے اب اپنا سرحسین بخش کے موٹے سے بازوپر رکھ لیا تھا جو کروٹ بدل چکا تھا اور موقع پا کر اسے جا بجا چوم بھی لیتا تھا۔وہ ترتیب کا آدمی تھا، سرجری کی تعلیم میں اس کی ذہنی تربیت انہی  خطوط پر ہوئی تھی۔گھڑی میں بمشکل پونے دو بجے تھے۔ لہذا وہ منظر نامہ ایک مشاق کیمرہ مین کی طرح کراچی کے علاقے رن۔چھوڑ لائن کے ڈان آر۔ اے۔ ایف کی طرف پھر سے زوم کربیٹھا اورپوچھنے لگا کہ” کیا پستول دیکھ کر ہماری گڈوجان گلبرگ والی کو ڈر نہیں لگا۔”
یہ کہنا تھا کہ ایچ۔ بی۔ کے نے دیکھا کہ آپریٹیو اور کمپلین فری کرن عرف گڈو کے چہرے پر پہلی دفعہ ناگواری کے تاثرات اپنے نام میں اس اضافے کو سن کر آئے۔وہ اچھل کر اس سے ذرا دور ہوکر صوفے پر جابیٹھی اور کہنے لگی” لسن! یہ گڈو جان گلبرگ والی۔۔کنجریوں والا نام ہے۔ آپ کو اگر میرا نام گڈو پسند نہیں تو مجھے کرن غلام دین پکاریں جس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”

ایچ۔ بی۔ کے اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے یہ کہہ کر معافی مانگنے لگا۔”ہم تو سوہنے سائیں، سندھ کے لوگ ہیں، اردو ہم کو ویسے ہی نہیں آتی،اودھر کراچی میں جیسے مہاجر پناہ گیر لوگ اپنی گرل فرینڈ کو بلاتے ہیں ہم بھی ان کی کاپی مارتے ہیں ہمارے دل میں برائی نہیں۔ ابھی پیار میں تم کو جان بھی نہیں بلائیں تو ہم پردیسیوں کا لاہور میں کیا بنے گا؟! ہمارا آپ کے علاوہ کون ہے۔”
گڈو کو اس کایہ عاجزانہ انداز بہت بھلا لگا اور وہ واپس آن کر پھر سے اس کے بازو پر لیٹ گئی
میں آگے بات پوری کروں یا آپ نے سونا ہے؟ آپ پوچھ رہے تھے کہ مجھے پستول دیکھ کر ڈر لگا یا نہیں۔”
“بولو نا!بادشاہو! سوہینو” ایچ۔ بی۔کے نے لیس دار خوش آمدانہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
“بہت ڈر لگا، میں نے اسے کہا بھی کہ پستول وہ سرہانے کی بجائے سامنے ٹی وی پر رکھ دے “مگر وہ کہنے لگا کہ اس کی جان کو بہت خطرہ ہے۔ اگر وہ کراچی میں اس سے ملنے آتی تو امریکہ کے ہوائی اڈوں کی طرح اس کے بھی کپڑے اترواکر تین جگہ تلاشی لی جاتی اور کمرے میں آنے سے پہلے اسے کتے سے سنگھوایا بھی جاتا۔ مگر اسے خالد قریشی پر فل بھروسہ ہے لہٰذا گارڈ وہ گھر کے اندر نہیں لایا۔”
“وہ تمہیں کیسا آدمی لگا؟” نہ جانے ایچ۔ بی۔ کے کو کراچی کی اس فراڈیئے ڈان میں بلاوجہ دل چسپی کیوں پیدا ہوگئی تھی۔
ڈ ان ابرہام فاروقی کا وجود بھلے سے اندر سے ڈھول اور بانسری کی طرح کھوکھلا تھا مگر سرجن قاضی کو لگا کہ اس کے تذکرے میں ایک ایسی لے اور تال ہے جس پر وصل کی یہ رات، بپاشا گڈو کے بوسوں کی بوچھاڑ اور بانہوں اور زلفوں کے سائباں تلے لیوا اور سالسا ناچتے  ہوئے  گزر جائے تو گل اے بڑی کمال ہووے۔

بلوچی لیوا ڈانس
سالسا ڈانس

“عجیب کنفیوژڈ سا آدمی تھا سرجن جانو قاضی۔ کبھی گلے کی چین اتارتا تھا کبھی میری طرف دیکھ کرپہن لیتا تھا۔ جیسے میں چرا لوں گی۔ میں نے کہا بھی کہ قریشی صاحب کے پاس آنے والی ہر لڑکی کا نادرا کے پاس ریکارڈ ہے ۔
“وہ ریکارڈ تو خود کش بمباروں کا بھی موجود ہے، ہن آکھو”۔ اس نے فوراً میری بات کاٹ دی۔
“سونے سے پہلے ساری بتیاں بھی  آن رکھنے کی ضد کر رہا تھا۔ ” گڈو بتانے لگی میں نے پوچھا “تمہاری والدہ کی واپڈا کے چیئرمین سے شادی ہوئی ہے؟ “تو یہ سن کر وہ بہت ہنسا۔مجھے چوم کر کہنے لگا
“گڈ سینس آف ہیومر۔ میری ماں جسے جوانی میں سب مہاجروں کی فردوس کہتے تھے اگر  میرے لوزر باپ کی بجائے واپڈا کے  کسی بڑے سے شادی کرلیتی تو میری زندگی یوں خطروں میں نہ گھری ہوتی۔ چھتیس ملکو ں کی پولیس ڈان جان ابرہام فاروقی کو شکاری کتوں کی طرح نہ تلاش کر رہی ہوتی۔مجھے قتل و غارت گری کرکے ڈان بننے کی ضرورت نہ پیش آتی۔”
سرجن ایچ۔بی۔کے کو لگا کہ خود گڈو کو بھی اس کے تذکرے میں ایک لطف محسوس ہوتا ہے۔ایسا نہیں کہ وہ اس کی شخصیت کے جعلی پن کو جلد ہی اس رات نہ بھانپ گئی ہو۔ پولیس والے اور رنڈیاں بھلے سے زبان بند رکھیں مگر اپنے سے واسطہ رکھنے والے افرادکے بارے میں جانتے بہت کچھ ہیں۔

ایچ۔ بی۔ کے نے پوچھا کہ” وہ سویا بھی کہ نہیں یا رات کو کھڑکی سے کود کے بھاگ گیا؟”
نہیں سویا تو صبح چھ بجے تک۔ یہیں اس گھر میں میرے پاس۔رات کو نیند میں بولتا بھی رہا مگر رات کو ڈیڑھ گھنٹہ اس بات پر ہماری بحث ہوتی رہی۔وہ ضد کر رہا تھا کہ سونے سے پہلے شیر جنگل میں دھاڑتا ہے اور ڈان جان ابرہام فاروقی پستو ل سے فائر کرتا ہے۔ تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ علاقے میں کس کا راج ہے۔۔۔میں اسے روکتی رہی کہ ایسے نہ کرنا قریشی صاحب کی محلے میں بڑی عزت ہے۔ ہمارے محلے میں آج تک گولی نہیں وجّی۔اس نے پہلے تو کرنل صاحب کے والد صاحب کی سامنے والی تصویر کا نشانہ لینا چاہا۔ پستول کی نالی ان کی تصویر کی طرف کر کے چیخ کر کہنے لگا “اوئے جاگیردارا ، کراچی دے ڈان نو اینی بے رحم اکھاں نال نہ تک۔ نیئں تے میں اے اکھا ں انہاندے ساکٹ وچ کڈ چھڈاں گا۔۔۔بے غیرتا مینوں لگدا اے۔۔تیری موت تینوں میرے سامنے لے آئی ہے ۔ ہن تو اپنی ساہواں دا حساب کرنا وی بھل جائے گا۔”(او جاگیر دار کراچی کے ڈان کو اتنی بے رحم نظروں سے نہ تاڑو، نہیں تو میں ان ا ٓنکھوں کو ساکٹ میں سے نکال دوں گا۔ بے غیرت، مجھے لگتا ہے تیری موت تجھے میرے سامنے لے آئی ہے، اب تم اپنی سانسوں کا بھی حساب نہیں رکھ پاؤگے)

میں نے ہاتھ پاؤں   جوڑے کہ یہ کرنل صاحب کے ابا جی کی تصویر ہے۔گولی اس کو ماری تو ہ کرنل صاحب ہم سب کا اسلام آباد کی لال مسجد والا حشر کردیں گے ۔ تب جاکر وہ باز آیا پھر بھی اس نے کھڑکی کے پاس جاکر فائر کرنے کی کوشش کی۔اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ بقول اس کے گولی چیمبر میں پھنس گئی اور وہ اودھم مچانے لگا دو ایک جگہ فون کیے۔ کسی کو کہہ رہا تھا اس سیکٹر انچارج کو ددبئی کی پہلی فلائیٹ والا ٹکٹ دے کر باہربھیج دو۔ میں سوچنے لگی کہ یا اللہ چیمبر میں پھنسی گولی نہ چلنے کا ٹکٹ دینے سے کیا تعلق ہے تو بہت پوچھنے پر کہنے لگا کہ “جس سیکٹر انچارج نے گوالمنڈی سے یہ اسلحہ ہمیں فراہم کیا ہے۔ اس حرامی نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ وہ موت کا حقدا رہے۔ہوسکتا ہے وہ ٹیپو ٹرکاں والے کی گینگ کا ممبر ہو ہمیں مقابلے میں مروانا چاہتا ہو اس کی لاش کل پیٹزا ڈیلیور کرنے والا لڑکا بوری میں بند کرکے چڑیا گھر میں بڑے باندرکے پنجرے کے پاس پھینک جائے گا۔”

میں نے اپنی جنرل نالج کے لئے پوچھا کہ اس میں دوبئی کی فلائیٹ کا کیا ذکر تھا تو وہ میرے کاندھے پر کاٹ کرکہنے لگا تو ٹیپو ٹرکاں والی گینگ کے لئے تو کام نہیں کرتی اس کا مطلب ہے گوالمنڈی کے سیکٹر انچارج کے قاتل پہلی فلائیٹ سے دوبئی سے آئیں گے۔
میں بہت ڈری اگلے دن میں نے قریشی صاحب کو کہا بھی کہ ” وہ چڑیا گھر والے ایس پی کو فون کرکے پوچھیں کہ کوئی لاش تو نہیں ملی “مگر خالد صاحب کہنے لگے “گڈو تو جھلی ہے۔۔ لوکاں تے عمران خان د ی گلاں نو ں سیریس لے لیندی ہے۔۔او لوزر Loserتے ساڈا کیمکلز دے ووڈے ڈیلر دا پتر ہے۔ کراچی دے لوکاں نوں اونج وی پرسنالٹی پرابلم بوہتے ہوندے نیں (گڈو تم بالکل پاگل ہو ہر آدمی کی بات کو بہت سنجیدگی سے لینے کی عادی ہو وہ لوزر تو ہمارے کیمکلز کے ایک بڑے ڈیلر کا بیٹا ہے، کراچی کے لوگوں کو ویسے ہی پرسنالٹی پرابلم بہت ہوتے ہیں)
“ایسے آدمی نیند میں بھی بہت باتیں کرتے ہیں؟” ایچ۔بی۔کے نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ کوئی ٹینشن ذہن پر ہو،کچھ ناحل شدہ مسائل اور رکاوٹ کا شکار خواہشات، دماغ پر بوجھ بنے ہوں یا رات کو کھانا زیادہ کھالیا ہو تو اکثر ایسا ہوتا ہے۔

” تم کو اندازہ ہوا کہ وہ کیا کہتا تھا نیند میں؟ “۔ایچ۔ بی۔کے جس کے ہاتھ اور انگلیاں اب وائلن کے گز کی طرح گڈو کے بدن پر گھوم رہے تھے پوچھنے لگا۔
” اندازہ کیا ،مجھے پتہ تھا کہ وہ فلم شعلے کے ڈائیلاگ   مجھے نیند میں چمٹا چمٹا کر بول رہا تھا۔۔۔ کتنے آدمی تھے۔؟میں بھی جواب میں ہر دفعہ منا بھائی ایم۔ بی۔بی۔ ایس والا ڈائیلاگ ہنس ہنس بولتی رہی۔۔ آدمی کتنے بھی ہوں۔۔۔ بھائی ٹینشن نہیں لینے کا۔۔۔ بھائی۔ سرکٹ آپ کے ساتھ ہے نا۔ اکیلاسب کو سنبھال لے گا ”
سونے سے پہلے میں نے اس  سے پوچھا کہ ” کراچی کا اتنا بڑا ڈان روزی روٹی کیسے کماتا ہے۔؟ ”
مجھے کہنے لگا ” بپاشا گڈو تجھے تو قسم واجد ضیا کی طرح پنامہ والی ٹیم کا  ممبر ہونا چاہیے تھا ،سالی والیم ٹین کے ڈبے میں لوڈیڈ پستول دیکھ کر نواز شریف کا وکیل ماں سے دودھ بخشوانے کی بات کرتا مقدمہ لڑنے کی نہیں۔ اتنے پرفیکٹ سوال پوچھتی ہے تو چھوری۔ڈان کے تین کام ہیں۔ عبدالرحمان ڈکیت اور شعیب خان سے روزانہ بھتہ لینا، بلیک واٹر اور نیٹو افواج کو افغانستان میں مرغی کا گوشت،تازہ گرما گرم قندھاری نان اور شمپو کی سپلائی کا ٹھیکہ ہے میرے پاس مگر میرا مین بزنس کراچی میں کچرا ٹھانے کا ہے۔ کچرا کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے کہیں بھی پھینک سکتا ہے مگر اس کو آر۔ اے۔ ایف کی مرضی کے بغیر کوئی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ چھوری تیرے پاس بھی کوئی ٹھیکہ ویکہ ہے کہ نہیں؟ ”
میں نے بھی ہنس کر کہا ” میرے پاس ماں ہے۔”

منا بھائی اور سرکٹ
کچرا اٹھالو لوکو

تصویر بشکریہ عینی

وہ کہنے لگا ادھر ابھی لاہور میں اپن لوگ کا دھندا جما نہیں۔ بولے  تو زونل انچارج کو بول کر سب مزارات کا عورتوں کے جوتے چپل سنبھالنے کا ٹھیکہ لے کر تیرے کو دے دوں۔تھرٹی پرسنٹ ڈان ابرہام فاروقی کا کمیشن ہوگا۔ اودھر کراچی میں تو ام لوگ کا کام سکسٹی فورٹی پر چلتا ہے بیس پرسنٹ پولیس کا ہوتا ،ادھر پندرہ پرسنٹ پنجابی طالبان کا ہوگا۔
” سرجن قاضی جان ابرہام، میں نے کہا نہیں، ہم لاہور والوں کے پاس پڑھا لکھا پنجاب ہے، کوئی دھندہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے اس کی آخری بات سمجھ نہیں آئی۔ کچرا اٹھانے میں کیا آمدنی ہوسکتی ہے؟ ” َایچ۔بی۔کے کو کچرا اٹھانے والے اس ریکیٹ کے بارے میں ڈاکٹر جمیل بہاری نے پوری جان کاری دے رکھی تھی مگر اس نے سوچا یہ بہت بور اور بوجھل موضوع ہے اور رات کے اس حسین قیام سے اس کا براہء راست کوئی تعلق بھی نہیں تو وقت کیوں ضائع کیا جائے۔
” یہ بتاؤ وہ سویا کہ نہیں؟ ” گڈو کو لگا کہ ایچ۔بی۔کے کو شاید ہر کتاب کا آخری باب پہلے پڑھنے کی عادت ہے۔
” وہ سویا کہ نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔ میں تمہارے اوپر لیٹ جاؤں؟۔۔۔۔” گڈو نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھے اور اس کی اجازت موصول ہوئے بغیر ہی اس کے اوپر چڑھ کر لیٹ گئی۔

” ایک بات پوچھوں؟! ” گڈو نے ایک اور اجازت مانگی اور ایچ۔ بی۔کے نے یہ سوچ کر کہ دیکھیں وہ یہ اجازت ملنے کا انتظار کرتی ہے کہ نہیں،یا اکثر پاکستانیوں کی طرح یہ بھی اس کی گفتگو  کا ایک عیارانہ لاحقہ ہے۔ اس نے اجازت دینے میں امریکی   ویزا   کی سی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔ ایچ۔ بی۔کے کا اندازہ درست نکلا ،وہ اس کے اجازت دینے سے پہلے ہی کہنے لگی کہ ” یہ کیا بات ہے دیکھنے میں تو تمہارا بدن بالکل جان ابرہام جیسا اور فیل کرنے میں ٹھنڈے واٹر بیڈ جیسا ہے؟”

واٹر بیڈ

” اچھا تم کو واٹر بیڈ کا بھی پتہ ہے؟ ۔۔یہ ایک ایسا کامن گراؤنڈ تھا جہاں پہلی دفعہ گڈو اور ایچ۔ بی۔کے کا ذہنی ملاپ ہوا۔
” یہ تب کی بات ہے۔۔ جب باربی۔کیو قریشی صاحب کی زندگی میں نہیں آئی تھی”۔۔اس نے سوتن جلاپے کے ساتھ واٹر بیڈ سے اپنے پہلے تعارف کا راز عیاں کرنے کی ٹھانی۔”میں اور خالد صاحب ملتان سے رحیم یار خان کسی   عرب شہزادے سے ملنے کے لیے گئے ۔ میں ہر وقت ان کے ساتھ ہوتی تھی۔ ہم اتنی گرمی میں دوپہر دو بجے پہنچے۔ ایک بڑے سے محل کے وہاں کوئی پاکستانی منیجر صاحب تھے۔ وہ کہنے لگے ہاں شہزادے نے آپ سے ملنا تھا مگر ان کو کوئی کاروباری ایمرجنسی ہوگئی اور وہ صبح پانچ بجے فلائی کرگئے۔

شہزادے رحیم یار خان میں

ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ ساتھ والے ہال سے ایک ستر پچھتر برس کا عرب بڈھا نکلا اور مجھے دیکھ کر بے تاب ہوگیا۔معلوم ہوا عرب شہزادے کا پھوپھا ہے۔پہلی دفعہ پاکستان آیا ہے۔ضد کرنے لگا کہ ہم اس کے ساتھ لنچ کریں۔لنچ تک وہ خالد صاحب کے بہت قریب آگیا تھا۔ ہم نے جانے کی ضد کی تو کہنے لگا “دھوپ بہت ہے کچھ دیر آرام کرکے چلے جائیں “۔ آخر میں آرام کا یہ مطلب نکلا کہ مجھے اس کے ساتھ کمرے میں جانا پڑا۔ وہ مجھے واٹر بیڈ پر لے گیا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی اللہ جانے اس نے بیڈ کا کونسا بٹن دبایا کہ جامنی، پیلی، لال، ہری اور نیلی لائیٹں بستر میں چمکنے لگیں اور بیڈ بھی اِدھر اُدھر زور زور سے ہلنے لگا۔ میں نے کہا” یا اللہ اے صحرائی ڈڈو، اے بڈھیاں دا جان ابراہام !مینوں کتھے کرنٹ ہی نہ لاچھوڑے” (یا اللہ یہ صحرائی مینڈک، یہ بڈھوں کا جان ابرہام مجھے کہیں کرنٹ ہی نہ لگا دے) اس راز کو فاش کرکے گڈو کچھ دیر کو خاموش ہوگئی پھر کچھ ہی دیر بعد مسکراکر اس کے سینے پر کہنیا ں ٹکا کر آنکھوں میں جھانک کر بدن کو بستر جان کر اچھلتے ہوئے کہنے لگی۔ “۔یہ واٹر بیڈ اچھا ہے۔ اس میں کوئی لائیٹں نہیں جل رہی ہیں۔کرنٹ لگنے کا خطرہ نہیں ”

واٹر بیڈ

” اچھا تم کو یقین ہے کہ اس واٹر بیڈ میں لائٹیں نہیں جل رہیں؟” اب شرارت کی باری ایچ۔ بی۔کے کی تھی
” تمہارا فیورٹ سوال مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ بتاؤ وہ سویا کہ نہیں؟ ” گڈو اسے پھر سے چڑانے لگی۔چلو بتادیتی ہوں پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم سب مردوں کو دوسرے مردوں کی بیڈ سائیڈ اسٹوریز کیوں اتنی اچھی لگتی ہیں “؟۔۔۔یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب کوئی آسان نہ تھا۔
” جب وہ سوگیا تو میں چپ چاپ اٹھی اور پستول باتھ روم کی کھونٹی میں لٹکا دیا۔”گڈو شب کی کارروائی پھر سے سنانے لگی۔
“اس نے اور کیا کہا۔”
وہ کہنے لگا “بتیاں بجھا دواپن کو نیند آرہی ہے اپن کو لگتا ہے تمہارے قریشی صاحب کی شراب بارہ سال والی بلیک لیبل تھی جب کہ مابدولت کراچی میں کم از کم اٹھارہ سال والی وہسکی گولڈ لیبل پیتا ہوں۔ ورنہ بتیس سے چھتیس برس والی بلیو لیبل سے نیچے اپن کا منہ نہیں کھلتا۔بارہ سال والی وہسکی سے جلدی نیند آجاتی ہے”

12 years old

میں نے اسے کہا” ڈان جان ابرہام! تم مردوں کا کیا پرابلم ہے کہ ایک نشہ بوڑھا تو دوسرا جوان چاہیے ۔”
وہ کہنے لگا “بپاشا گڈو میں سمجھا نہیں ذرا کھل کے بولو۔ڈان راشد احمد فاروقی کو تو چھتیس ملکوں کی پولیس تلاش کر رہی ہے اور وہ تمہاری بانہوں میں بے یار و مددگار پڑا ہے”
میں نے کہا “پانچ فٹ ایک انچ کے کراچی کے بے مروّت چھکّے! (بمبئی کی زبان میں ہیجڑا) لڑکی تم کو چھوٹی عمر کی اور شراب تمہیں بڑی عمر کی چاہیے “۔۔۔
” وہ اچھل کر بستر میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ” اتنی ذہین عورت کے پیار کے لئے میں ساری عمر ترستا رہا ہوں مجھ سے شادی کرلو۔ اپن کی اولاد کو جعلی ڈگریوں کے ٹنٹے سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔”
“میں بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی۔ کوئی مرد مجھے کسی بات میں جلدی دکھائے تو میں الرٹ ہوجاتی ہوں میں نے کہا پہلے حج کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر آؤ۔ پھر داتا دربار پر میرے ساتھ سات جمعرات چل کر وعدہ کرو کہ رن ۔چھوڑ لائین کی دس کنال کی کوٹھی رونمائی پر مجھے سلامی میں دو گے تو میری طرف سے ہاں ہے۔”گڈو نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے یہ راز کھول دیا۔
وہ کہنے لگا “بپاشا گڈو تو جان ابرہام فاروقی کی جان مانگ تو حاضر ہے۔ پستول سے سات کی سات گولیاں میرے سینے میں اتار دے ما قسم اف سے ارے نہیں کروں گا۔۔۔مگر پیاری گڈو بپاشا یہ پرکھوں کی جاگیر۔۔۔یہ میں تجھے نہیں دے سکتا۔”

اُس نے تمہارا اس کو چھکّا بلانے پر برا نہیں منایا؟۔۔۔ “ایچ۔ بی۔کے اس سوال کی روشنی میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ بے عزتی کے معاملے میں گڈو کے اپنے رنجور ہونے کے معیار کیا ہیں؟
جب میں نے اسے کہا کہ “پانچ فٹ ایک انچ کے کراچی کے بے مروّت چھکّے تو وہ ایک آنکھ کھول کر کہنے لگا اپن کو چھکا بولے تو بپاشا گڈو۔۔کرکٹ کا آفرید ی والاسکسر بولے لا کے نہیں؟
میں نے بھی بھانپ لیا کہ ڈان کو اگر اصلی بات بتادی تو کہیں وہ ایک ہی بوری میں گوال منڈی والے سیکٹر انچارج کی طرح میرا کام بھی نہ لپیٹ دے ۔اس لیے میں نے چالاکی کی اور اس کو ٹالنے کے لیے کہہ دیا “سر ڈان ابرہام فاروقی یہاں ماں باپ کی مرضی کے بغیر جو بھی باؤنڈری ٹپ جائے وہ لاہور میں چھکا کہلاتا ہے۔”

“ادھر ممبئی میں جو اپنا بھائی لوگ ہے وہ چھکا ہیجڑے لوگ کو بولتا ہے۔ابھی جب سے پنڈی میں کورٹ کی مدد سے بندیا رانی لوگ آئے ہیں میں نے سنا ہے لاہور والے شاید اگلا ڈی۔سی۔او یاڈ ی۔ ا ٓئی۔ جی ان میں سے اٹھائیں گے؟”
میں نے اسے جتا دیا کہ میں بستر میں سیاست اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بات نہیں کرتی۔
حسین بخش نے اسے جتایا کہ” وہ کوئی ڈان وان نہیں، تم کو ماموں بنایا ہے حرامی نے۔۔۔ کراچی کا کیمیکل کا مارواڑی بیوپاری ہوگا۔”
یہ بات سن کر گڈو کے چہرے پر ایک انجانی سی اداسی طاری ہوگئی۔ ایچ۔بی۔کے کو ایسا محسوس ہوا کہ ایک دفعہ تو گڈو کا دل قریشی صاحب کا اسے پارلر سے تیار کراکے شادی نہ کر نے کی وجہ سے مجروح ہوا ہوگا تو دوسری طرف بپاشا گڈو کہہ کر جان ابرہام فاروقی کا شادی کی پیشکش کرکے مکر جانا ایک کمینی حرکت تھی۔ اس نے یقین دلانے کے لئے گڈو کو کہا کہ” وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ وہ علاقہ رن چھوڑ لائن، ان کے علاقے گڑھی شاہو اور شاہ علمی مارکیٹ جیسا ہے۔ وہاں کے مکینوں کے لئے اپنے گھروں میں سانس لینے کی جگہ نہیں تو پانچ ہزار گز کی کوٹھی کا وہاں ہونا چاند پرٹرین کے ذریعے پہنچنے جیسا ناممکن ہے۔”

شاہ عالمی مارکیٹ
شاہ عالمی

گڈو نے آہستہ سے روہانسی ہوکر پوچھا کہ” یہ کراچی کے لوگ لاہور کی لڑکیوں سے اتنا جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟”۔۔
“میں نے تو تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ “ایچ۔بی۔کے فوراً اپنے دفاع پر اتر آیا۔
“تو پھر آپ کراچی کے نہیں ہوں گے۔” اس نے ایچ۔بی۔کے کادل رکھنے کی خاطر کہا
“نہیں میں نواب شاہ کے پاس ایک علاقہ ہے، قاضی احمد وہاں کا رہنے والا ہوں۔”
آپ نے بتایا نہیں کیا یہ لیبل پر راشد فاورقی کی طرح آپ کا نام لکھا ہے۔
“نہیں یہ اس کمپنی کا نام ہے جس نے یہ ریڈ باکسر بریفس بنائے ہیں۔مگر یہ تو بتائیں آپ یہاں اکثر آتی ہیں؟” ایچ۔ بی۔کے نے اپنی جھینپ پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں مہینے میں تین دفعہ رات کو اور دو دفعہ دوپہر میں جب خالد صاحب کی ماڈل دوست شوٹ پر یا کسی ڈرامے کی ریہرسل پر گئی ہوتی ہے ادھر آتی ہوں ”

وہ کچھ دیر تک ایچ۔ بی۔کے ،کے  چہرے پر اپنی  گود سے پلٹ جانے کے تاثرات کا جائزہ لیتی رہی اور یہ سوچ کر کہ اسے شاید اس شرارت کا کچھ صدمہ ہے ،اٹھ کرالماری کے پاس گئی اسے کھول کر  کچھ کپڑے نکالے اور غسل خانے میں چلی گئی۔ پہلی دفعہ ایچ۔ بی۔کے نے کمرے کا جائزہ لیا۔تین پورٹریٹ بستر کے عین سامنے والی دیوار پر لگے تھے۔ درمیان والی بڑی تصویر سوٹ ٹائی میں ملبوس ایک سنجیدہ سے مرد کی تھی۔دیوآنند جیسا شریر چہرہ اور ویسی ہی ٹوپی، ہونٹوں پر شرارت بھری مسکراہٹ اور برقی اسکیل کی طرح ٹھیک ٹھیک تولنے والی، چبھتی ہوئی آنکھیں۔ اس کے وجود میں چھپی عیاشی شیشے کے پیچھے چھلک رہی تھی۔دوسری تصویر جو اس کے برابرتھی اس میں یہی صاحب سامنے دیکھتے ہوئے کسی کار کے اسٹیرنگ پر بیٹھے تھے اور تیسری تصویر جو اس بڑی تصویر کی داہنی طرف تھی اس میں شیراونی میں ملبوس ڈرامہ وارث کے حلیے  والے کوئی چوہدری صاحب تھے۔کلف دار پگڑی، چھوٹا چوہے جیسا منہ  اس پر آہستہ سے دونوں جانب یو۔ ٹرن لیتی مونچھیں، پر جلال آنکھیں جن کو تصویر کھنچواتے وقت،بے زبان کیمرے پر بھی رحم نہیں آیا تھا۔

دیو آنند
ڈرامہ وارث کا کردار
وارث کے چوہدری حشمت

گڈو جب غسل خانے سے برآمد ہوئی تو گلابی رنگ کی ایک پتلی سی بے بی۔ڈول نائٹی پہنی ہوئی تھی۔کچھ کہے بغیر ہی وہ ایک کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی جس سے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔ایچ۔ بی۔کے کے لئے یہ ایک عجیب شش و پنج والا لمحہ تھا۔کپڑے تبدیل کرکے آنے میں ایک خوش آئند  اشارہ تھا مگر اس کا یوں بستر سے دور جاکر، کھڑکی سے باہر دیکھنا،اسے لگا شاید یہ وہ وقفہ ہے جس میں وہ خود کو اسے جسمانی طور پر قبول کرنے لئے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہے۔اس نے سوچا کہ یہ اس کا پیشہ ورانہ حق ہے لہٰذا وہ برش کرنے کیلئے باتھ روم چلا گیا۔واپس آکر جب وہ بستر کی طرف جانے لگا تو گڈو نے شرارت سے کہا ” سرجن جان ابرہام یہاں آؤ میرے پاس۔”
ایچ۔ بی۔کے اس کے پاس جاکر کہنے لگا “میرا نام جان ابرہام نہیں، سرجن حسین بخش قاضی ہے۔”اس کا خیال تھا کہ گڈو اگر حسین بخش سے متاثر نہ ہوئی تو سرجن کے پیشگی اضافے سے ضرور دب کر رہ جائے گی۔

جان ابرہام ،بپاشا باسو

” اچھا تو سرجن جان ابرہام، میرا ایک ووڈا پرابلم یہ ہے کہ مجھے جو بھی مرد اچنگا لگداہے میں اسے جان ابرہام کے نام سے بلاتی ہوں۔ کبھی کبھی میں اپنے ابو کو بھی جان ابرہام کہتی ہوں جس پر وہ
خوش اور میری بے بے ناراض ہوتی ہیں وہ کہتی ہیں گڈو کمینی ا یویں کیوں ایدا مغز خراب کرنی ہے اینوں تو گاما۔غلام دین ہی رین دے ۔مہینے میں دو دفعہ میں خالد قریشی کو بھی دوپہر کے وقت یہاں جان ابراہام قریشی صاحب پکارتی ہوں جب خالد صاحب کی وہ ماڈل دوست باربی۔کیو شوٹ پر یا کسی ڈرامے کی ریہرسل پر گئی ہوتی ہے”۔ گڈو نے نام کے حوالے سے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا۔
گڈو خود ہی کھڑکی سے لگی جب اس کی بانہوں میں سما گئی تو اس نے پوچھا
“آپ کیا یہاں قریب میں رہتی ہیں؟”۔۔۔۔

“جی وہ جو سامنے پیڑ نظر آرہا ہے اس کے ساتھ والی بلڈنگ میں خالد صاحب کا بہت بڑا سا دفتر ہے تین فلور، ان کے پاس ہیں۔اس سے لگ کر بالکل ایک گلی ہے۔ اس گلی کے ساتھ ایک گراؤنڈ ہے اس کے پیچھے لڑکیوں کا ایک اسکول ہے ا س کے ساتھ ہی ایک گلی مڑ جاتی ہے پھر ایک مسجد آتی ہے اس کے ساتھ ہی تیسری گلی میں پانچواں مکان میرا ہے۔”اپنی دانست میں کرن عرف گڈو نے اپنے مکان کا پتہ بہت آسان کرکے بتایا تھامگر سرجن حسین بخش قاضی کو لگا کہ اسے کسی نے پورا گوگل ارتھ کا پروگرام یاد کرنے کو دے دیا ہے۔
“مجھے یہ سب کہاں یاد رہے گا؟”ایچ۔ بی۔کے نے اپنی کم مائیگی کا  اظہار   کرتے ہوئے کہا۔
“کیوں آپ پڑھے لکھے نہیں؟”۔۔۔۔گڈو نے اس کی بانہوں میں سے آزاد ہوکر بستر کی طرف جاتے ہوئے پوچھا۔
“اس کا پڑھے لکھے ہونے سے کیا تعلق؟ بلیوں اور اونٹوں کو بھی راستے یاد رہتے ہیں۔”ایچ۔ بی۔کے کو لگا کہ اس نے رات میں پہلی دفعہ اس سے میدان مار لیا ہے۔

” سرجن جان ابرہام! ہم پڑھا لکھا صرف ان کو سمجھتے ہیں جو اسکول کالج گئے ہوں۔یہ بلیاں اور اونٹ بہت ہشیار ہوتے ہیں، ہماری بلی کو جب بھی بچے دینے ہوتے ہیں وہ کسی میٹرنیٹی ہوم یا سرجن کو نہیں ڈھونڈتی۔چپ چاپ کوئی محفوظ سا کونا ڈھونڈتی ہے اور فارغ ہوجاتی ہے۔تیسرے ہفتے اس کے بلونگڑے ہماری نظروں کے سامنے کھیل کود رہے ہوتے ہیں۔” گڈو نے ایک دفعہ اور ایچ۔ بی۔کے کو زچ کیا۔ لاہور کی یہ انیس سالہ خراب لڑکی کرن عرف گڈو اسے کسی قیمت پر دلائل میں جیتنے نہیں دے رہی۔ مگر عجب بات تھی سرجن ا یچ۔ بی۔کے کو آج اپنی ہار، میں کوئی سبکی،کوئی گرواٹ محسوس نہیں ہورہی تھی ورنہ وہ جس پس منظر اور سماجی حیثیت کا آدمی تھا اور اپنے میڈیکل کالج میں بھی جہاں وہ سرجری پڑھاتا تھا وہاں طالب علموں کی اسے غلط ثابت کرنے کی یا دلائل میں الجھنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔

اس نے دل ہی دل میں ہار مان کر جب سونے کا اعلان کیا تو گڈو اٹھی اور ایک دوپٹہ  الماری سے نکال کر ایچ۔ بی۔کے کی طرف پھینکتے ہوئے ،اس سے ایک عجیب درخواست کی کہ وہ اسے اپنی یہ ریڈ باکسر شارٹس پہننے کے لئے دے۔ اپنے گرد وہ اس کی خاطر باتھ روم میں اس کا دوپٹہ اپنے ستر پر لپیٹ لے اور وہاں سے آتے ہوئے بڑا والا تولیہ بھی ساتھ لے آئے۔ جب وہ باتھ روم گیا تو گڈو اپنا بدن پھیلا کر مون سون کی ہواؤں میں لہلہاتی کھیتی کی مانند بستر پر پسر گئی ۔جب غسل خانے سے ایچ۔ بی۔کے نے اپنی شارٹس اس کی جانب پھینکی تو اس نے انہیں نائٹی  کے نیچے پہن لیا وہ شارٹس کچھ کمر کے گرد ڈھیلی تھیں۔ اس نے جھٹ سے اپنے پرس سے سیفٹی پن نکالیں اور ان کے الاسٹک کو کمر پرکس لیا۔
آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کرتو سرجن حسین بخش قاضی کو خود پرکچھ ہنسی آئی۔ایک عورت نے جو عمر میں اس کی نصف عمر سے بھی کم ہے اس کا کیا حلیہ بنادیا۔ وہ خود کو اس حلیے میں کوئی مراٹھی دھوبی محسوس کرنے لگا۔اس نے کہا سونے سے پہلے آج کی رات کا آخری سوال۔۔۔
“میں اپنا سیل فون نمبر نہیں دوں گی۔ میں صرف خالد صاحب کے بلانے پر آتی ہوں۔” کرن نے کہا!
“گھوڑا رے گھوڑا۔(سندھی زبان میں ہائے ہائے)۔ایک تو آپ لاہور والوں کو ہم سندھ کے لوگوں کے بارے میں غلط اندازے لگانے کی بہت عادت ہے ا”یچ۔ بی۔کے نے جتلایا۔
” اکثر  مردوں کا رات کا آخری سوال یہ ہی ہوتا ہے اس لئے میں نے پہلے ہی منع کردیا۔۔ سوری! پوچھیں ”
“یہ دوپٹہ آپ نے مجھے کیوں دیا۔میرا کام تو تولیے  سے بھی چل سکتا تھا”؟
تولیہ میں خالد صاحب کے مرحوم سسر کی تصویر پر ڈالوں گی۔آپ ان کی آنکھیں تو دیکھیں لگتا ہے جیسے آپ کا ایکسرے کررہی ہوں۔ تصویر پر تولیہ نہ پڑا ہو تو مجھ سے سویا نہیں جاتا۔ لگتا ہے یہ مجھے ننگا دیکھ رہی ہیں۔ میرے بدن پر اچھل کود رہی ہیں۔ چیچوں چیچوں چاچا،گھڑی میں چوہا ناچا کی طرح۔میں لاکھ بتیاں بھی بند کروں۔ ان کی دیدہ دلیری نہیں جاتی اور مجھے ساری رات سکون نہیں ملتا۔میری نانی کہتی ہیں۔۔ خالد دا سسر چنگا بندہ نئیں سی۔۔۔ پرمجھے پرانے افئیر زسے کوئی سروکار نہیں۔۔۔ آئی ایم ویمن آف ٹوڈے۔وہ کرسی پر چڑھی اور باتھ ٹاول اس درمیان میں لگی ایکسرے آئز والی تصویر پر ڈالدیا۔ایچ۔ بی۔کے کو لگا کہ کہیں تولیے  کے وزن سے تصویر نہ گر پڑے مگر گڈو نے اسکے دونوں کونے کمال احتیاط سے پردے کی رییلنگ پر بطور سہارے کے ٹکادئے۔۔ لگے ہاتھوں ایچ۔ بی۔کے نے اس سے شیروانی والی تصویر کا بھی پوچھ لیا۔
گڈو بتانے لگی کہ” وہ کرنل صاحب کے والد کی ہے۔وہ کیسے آدمی ہیں، میری نانی کو ان کے بارے میں پتا نہیں۔ وہ صرف خالد صاحب کے سسر کو اچھی طرح جانتی تھیں مگر مجھے پرانے افئیرز سے کوئی سروکار نہیں۔ کرنل صاحب ایک رات محفل میں کہنے لگے۔ اللہ بخشے میرے ابا جی نوں بھی میرے ورگا اپنا حکم چلان دا بہت شوق سی۔” (اللہ بخشے میرے والد صاحب کو بھی میری  طرح اپناحکم چلانے کا بہت شوق تھا)

میں نے کہا ” غلط۔بالکل غلط۔” گڈو نے اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
کرنل صاحب ناراض ہوگئے اور کہنے لگے ” گڈو تو میری سونٹی جنی کڑی ہو کے مینوں غلط کہندی اے۔” (تم میری چھڑی جتنی لڑکی ہوکر مجھے غلط کہتی ہو)
میں نے انہیں گلے میں بانہیں ڈال کر چومتے ہوئے کہا” کرنل جان ابرہام۔۔ ماں صدقے۔ تسی اینج آکھو کہ مینوں وی اپنے والد صاحب دی طرح حکم چلان دا بڑا شوق ہے۔کیوں کہ او تہاڈے توں پہلے حکم چلا کے لنگ گئے نیں ۔” (آپ ایسے کہیں کہ مجھے بھی اپنے والد صاحب کی طرح حکم چلانے کا بہت شوق ہے کیوں کہ وہ حکم چلاتے چلاتے خود جہاں سے چل بسے) گڈو نے گفتگو میں اپنی برتری ایک دفعہ اور ثابت کرتے ہوئے کہا۔
” سرجن جان ابرہام قاضی آف قاضی احمد حال سکنہ کراچی آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ مجھے جو مرد دل سے اچھا لگے میں اس کو جان ابرہام کہتی ہوں “۔ گڈو نے وضاحت پیش کی۔
اب سرجن جان ابرہام قاضی کی بازی لے جانے کی باری تھی وہ اسی کے لہجے کی نقل کرتے ہوئے کہنے لگا ” غلط، بپاشا گڈو۔۔ بالکل غلط۔”
” او کس طرح” وہ پوچھنے لگی۔
” او اینج (پنجابی میں وہ اس طرح) کہ آپ کو سب ہی مرد، دل سے اچھے لگتے ہیں۔اب تک آپ نے کم از کم پانچ آدمیوں یعنی مجھے، رن چھوڑ لائن کے ڈان راشد احمد فاروقی کو، شہزادے کے چچا صحرائی ڈڈو، اپنے نہ ہونے والے دولہا خالد قریشی کو اور ریٹائرڈ کرنل طاہر کو بھی جان ابرہام کہا ہے۔
یہ سن کر وہ بہت اطمینان سے بستر سے چہرے پر مسکراہٹ سمیٹے، اٹھ کر اس کے سامنے اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی اور ایک سسکی بھرے لہجے میں کہنے لگی ” تسی کراچی دے لوکی ایمان نال بڑے رہزن تے چالاک ہوندے ہو۔ اس کے ساتھ ہی اس نے خود ہی اچانک ایک جھٹکے سے بالوں کے پیچھے گردن کی پشت پر بندھی ڈوری کھول کر ا پنی نائٹی فرش پرگرادی۔

حسین بخش نے دیکھا کہ تصویر کے چھپ جانے کے بعد گڈو کی رات میں ایک نئی شخصیت ابھری۔وہ جو خالد نے کمرے میں داخل ہوتے وقت ایچ۔ بی۔کے کو  بتائی تھی۔۔۔کہ گڈو اچھی لڑکی ہے، صاف ستھری،کو آپریٹیو۔۔۔۔ مکمل وی۔ آئی۔ پی اسٹف۔۔ وہ اس کی توقعات سے بڑھ کر نکلی۔صبح پانچ بجے جب ایچ۔ بی۔کے ہوٹل واپس جانے کے لئے اٹھا اور غسل خانے سے واپس آیا تو گڈو بدستور اس کی ریڈ باکسر بریفس پہنے بالکل ایسے سورہی تھی جیسے شکم مادر میں بچہ سوتا ہے، کہنیاں اور گھٹنے پیٹ کی طرف موڑے۔ معصوم سی مسکراہٹ چہرے پر لئے۔ سراپا سکون، پیہم اطمینان کی تصویر بنی۔
سرجن ایچ۔ بی۔کے نے مسکرا کر اسے غور سے دیکھا۔ تندرست شانے کے پیچھے جہاں بالوں کی ایک ریشمی لٹ پیار سے پنکھے  کی ہوا میں کسی مست ناگن کی طرح ادھر ادھر لہرا رہی تھی ایک ٹیٹو  بنا ہوا تھا۔ ایچ بی کے کو اکثر مریضوں کے آپریشنز کے دوران بھی چشمہ لگانے کے باوجود کبھی کبھار جھک کر فبیولا Fibula اور کیپلریز Capillaries (باریک نسیں)ڈھونڈنے میں دقت ہوتی تھی۔ اس نے جھک کر ٹیٹو دیکھا تو اسے ایک باریک سی رنگ برنگی تتلی کے بالکل نیچے فرینچ کنکشن یو کے کے وہ انگریزی مخفف F.C.UKدکھائی دیے۔

ٹیٹو

یہ وہ مخفف تھے جنہیں بزرگ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے کپڑوں پر دور سے دیکھ کر برا مناجاتے تھے اور جنہیں غور سے پڑھ کر سرکاری کالجوں کی لڑکیا ں شرما کر انگریزی میں واؤ  سو کول (Wow! So cool کہہ اٹھتی تھیں۔اس نے ایک مشاق سرجن کی طرح نیند سے مات کھائی گڈو کے شانے کو بالکل ایسے ہی چھوا گویا وہ آپریشن کرتے ہوئے کوئی فیبیولا تلاش کر رہا ہو ۔اس کی نائیٹی سرہانے رکھی تھی اور پن کھول کر ایک طرف کردینے کی وجہ سے وہ ریڈ باکسر بریفس اس کے کولہوں پر بالکل وہاں سے سرک گئی تھی جہاں اس کی کمر کے اتصال پر دو خوبصورت بھنور بن رہے تھے۔ ایچ۔ بی۔کے نے باتھ روم میں بغیر بریفس کے پتلون پہنی تو اسے کچھ عجیب تو لگا مگر وہ کچھ سوچ کر مسکرادیا اور بٹوے سے پانچ ہزار کے پانچ نوٹ نکالے اور خاموشی سے انہیں اس کی نائیٹی کے نیچے رکھ کر اس کے ان دو ڈمپلوں کو آہستگی سے چوما۔گڈو،نیند میں معمولی سی کسمسائی پر نہ آنکھ کھولی نہ کوئی آواز نکالی۔ کراچی کے سرجن حسین بخش قاضی نے لاہور کی کرن عرف گڈو پر ایک الوداعی نظر ڈالی اور ڈرائیور کے ساتھ ہوٹل واپس آگیا۔

ناشتہ کرکے کے وہ کمرے میں ویک اپ کال کا الارم سیٹ کر کے سوگیا اور ٹھیک ساڑھے نو بجے کے قریب اٹھ کر تیار ہوکے جب وہ ہال میں آیا۔ سیمینار کا آج کے سیشن کا پہلا لیکچر ایوب میڈیکل کالج کے کوئی پروفیسر صاحب دے ر ہے تھے ، وہ اس دوران لیکچر سنتے سنتے سو گیا۔اس کے بعد چائے کا وقفہ تھا اور پھر اس کا لیکچر۔ اس کی آنکھ اس وقت کھلی جب اس کے کاندھے پر کسی نے بہت پیار سے ہاتھ رکھا۔اس نے آنکھ کھول کر دیکھا تو ڈاکٹر ستارہ اس کے پاس کھڑی تھی۔ہال میں باقی ساتھی باہر چائے پی رہے تھے۔اس سے پہلے کہ وہ پوچھتا کہ وہ لاہور کب اور کیوں آئی ہے؟ ستارہ کہنے لگی کہ ” ایک چھوٹا سا ورک شاپ Anesthetists کا بھی ہورہا ہے جس میں آنا تو کسی اور پروفیسر صاحب کو تھا مگر ان کے سسرال میں کوئی ایمرجنسی ہوگئی تو میں ان کی جگہ پرنسپل صاحب کو کہہ کر اور یہ سوچ کر چلی آئی کہ ایچ۔بی۔کے بھی لاہور میں ہے۔

جب سرجن حسین بخش قاضی کا نام پکارا گیا تو اس نے اپنا ڈیزائنر سوٹ بغیر لال بریفس کے پہنا ہوا تھا۔ اس نے ڈاکٹر ستارہ کو کہا بھی کہ اس نے بریفس نہیں پہنے مگر وہ مسکر ا کر کہنے لگی کہ لوگ اسے دیکھنے نہیں سننے آئے ہیں۔ وہ دل کھول کر بولے۔ اس کے لیکچر کا موضوع AMIS (Anterior Minimally Invasive Surgery in Hip Replacement تھا جس میں وہ مسلز کو کاٹنے اور کولہے کے گرد موجود رگوں کو نقصان پہنچائے بغیر، سرجری کے فوائد بتانا چاہتا تھا مگر لیکچر کا آغاز  اس نے یہ کہہ کر کیا کہ:
آپ کے اس حسین لوگوں کے حسین شہر لاہور میں خاکسار نے زندگی کے کا ایک اہم سبق سیکھا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کو ہارنا برا نہیں لگتا اور وہ اپنی جیت کے احساس سے اس قدر بے نیاز ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے آپ کو اپنی ہار کی سبکی محسوس نہیں ہوتی ۔کل شام تک میں پریشان تھا کہ اس قدر باشعور اور باعلم شرکاء کو اس نئی تکنیک کے حوالے سے کیا سمجھا پاؤں گا،مگر رات ایک دعوت میں گلبرگ کی گڈو سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے با آسانی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پے در پے شکست دے کر یہ سمجھادیا کہ اچھی سرجری وہ ہوتی ہے جس میں مسلز اور چھوٹی چھوٹی رگوں کا کم از کم نقصان ہو۔ تاکہ شفا یابی کا عمل فطری اور تیز رفتار ہو۔ آج اگر آ پ  کو میرا یہ لیکچر پسند آئے تو اس کا ٹوٹل کریڈٹ  اس لڑکی کو جاتاہے۔ جو مجھے یقین ہے،اب تک چہرے پرمعصوم سی مسکان لیے ایک بڑے  سے بستر پر شکم مادرمیں خوابیدہ بچے والی پوزیشن میں سو رہی ہوگی۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی specialization اور پیسوں کے لالچ میں پیشہ ور قسم کے بھوت بن گئے ہیں۔اس کی وجہ سے ہم دنیا کو بہت جلد بازی میں Tunnel Vision سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں پتہ کہ جان ابرہام اور بپی لہری کون ہیں۔دوسری قطار میں میری ہم پیشہ ساتھی اور اوکاڑہ میں گھٹنوں کی سرجری کی مشہور معالج ڈاکٹر سلیمہ وٹو دکھائی دے رہی ہیں جو میری بات سن کر مسکرا بھی رہی ہیں۔ میری ان سے درخواست ہے کہ وہ شکیرہ، فٹ بال والے میسی اور گلوکار ریکھا بھردواج کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کریں۔کیا پتہ ان کو بھی کبھی گھٹنے کا علاج کرانا پڑجائے،میری کراچی کی رفیق کار ڈاکٹر ستارہ بھی اپنی گوناگوں مصروفیت میں سے وقت نکال کر خاص طور پر میرا یہ لیکچر سننے آئی ہیں۔ ان سے بھی میں ہاتھ باندھ کر درخواست کروں گا کہ وہ یہودیوں کی دکان سے خریدے ہوئے کپڑوں کے علاوہ پانچ فیٹ سات انچ کی گلبرگ لاہور کی گڈو پر بھی دم کردیا کریں کیوں کہ اس کی وجہ سے بھی کئی لوگوں کواندرونی خلفشار محسوس ہوتا رہتا ہے۔اس غیر سنجیدہ اور بظاہر بے ربط الاپ کے بعد آپ کے دو منٹ اور اس موضوع کو سمجھانے کے لئے لوں گا اور میں گلبرگ کی گڈو کا پسندیدہ ایک شعر پڑھوں گا کہ ع
تازہ ہوا کی چاہ میں اے ساکنان شہر
اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے

ہم جلد بازی اور لالچ میں جب ڈاکٹر ستارہ کے ہاتھوں بے ہوش پڑے مریض کے جیب اور بدن پر اپنی جراثیم سے پاک چھریاں اور آرے چلا رہے ہوتے ہیں تو اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بھلا کر یہ نہیں سوچتے کہ مریض کا بدن ہمارے ہاتھ میں ایک امانت ہے۔
ہماری معالجہ ایک Responsible Healing Process ہے۔ہم اس کے مطلوبہ ہدف کے علاوہ بھی سامنے کے مسلز اور رگوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ ہم کو تو بس اپنا ہدف مطلوب ہے اور یہ نقصان تو دراصل جنگ کی طرح کا ا یک ناگزیرکو لیٹریل۔ ڈے میج ہے۔ ہمیں اپنے طرز عمل سے اس بھیانک،منفی پروپیگنڈے کا بھی ازالہ کرنا ہوگا کہ سرجنز، طب کی ناکامی کی گود میں جنم لیتے ہیں۔ جدید،سرجری اور علاج کا بنیادی فلسفہ اور مقصد یہ بھی ہے کہ مریض کو ہم کم سے کم نقصان پہنچائے بغیرشفا یاب کردیں۔ اس لیے اس کو اے۔ ایم۔ ائی۔ ایس یعنی کم سے کم نقصان دہ سرجری کہتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ملٹی میڈیا پر سلائیڈوں کی مدد سے اس نے بڑی مہارت اور سکون سے اس تکینیک کی وضاحت کی۔

لیکچر کے بعد کئی سوال و جواب بھی ہوئے مگر کسی نے گلبرگ کی گڈو کے بارے میں نہ پوچھا۔وہ شاید یہ سمجھ بیٹھے کہ سرجن حسین بخش قاضی نے اس کا ذکر ایک خشک اور خالصتاً جراحتی موضوع میں دل چسپی اور وضاحت پیدا کرنے کے لیے کیا تھا۔ لنچ کا اعلان ہوا تو اس کے سامعین تین واضح گروپوں میں تقسیم تھے۔ ایک گروپ تو وہ تھا جسے یہ لیکچر اپنی موضوعاتی دسترس کی مناسبت سے بہت اچھا لگا۔ دوسرا اس کے برعکس یہ سوچ رہا تھا کہ اس طرح کی تقاریر میں ایسی بے ربط اور غیر ضروری تمہید سے اگر پرہیز کرلیا جاتا تو بہت عمدہ لیکچر تھا۔مگر طالب علموں بالخصوص نوجوان لیڈی ڈاکٹرز میں اسے بہت پسند بھی کیا گیا اور ملتان کی ایک ڈاکٹر  جو اگلے ماہ اعلی تعلیم کایڈنبرا روانہ ہونے والی تھی اپنے ساتھیوں سے کہنے لگی کہ” کراچی دے مرداں وچ جو گل کہن دا انداز ہے اوساڈے پنجاب وچ نظر نئیں آؤندا۔سرجن قاضی دا کمال ویخو زندگی دی اک عام جہی مثال نو ں کس طرح استعمال کرکے اینہا مشکل کن سیپٹ آسان کردتا۔”  عام سی مثال کو کس طرح استعمال کرکے اتنا مشکل خیال آسان بنا دیا۔
اس کی ساتھی گھٹنوں کی سرجری کی ماہر ڈاکٹر سلیمہ وٹو کہنے لگی “ڈاکٹرعامرہ! تسی اپنے ایمان نال دسو کہ اے سرجن قاضی دا کمال ہے کہ ساڈ ے لاہور دی اس کڑی دا،جیہڑی حالے تیکر بریفس پا کے کِتے لمی پئی ہونی”
(ڈاکٹر عامرہ! آپ یہ اپنے ایمان سے بتائیں کہ یہ سرجن قاضی کا کمال ہے یا ہمارے لاہور کی اس لڑکی کا جو بریفس پہنے اب تک کہیں لمبی تان کر سورہی ہے)

لنچ کے دوران اس کی نگاہیں ڈاکٹر ستارہ کو تلاش کرتی رہیں۔ اسے لگا کہ وہ کسی خصوصی پلاننگ کے تحت ورک شاپ میں شرکت کے لیے اس سے ملنے لاہور آئی ہے۔ ورنہ جن پروفیسر صاحب کو دعوت کے حساب سے یہاں آنا تھا کہ وہ تو ایمپریس مارکیٹ کا بھی مفت کا دورہ چھوڑنے والی ہستی نہ تھے۔ اس نے جب ڈاکٹر عامرہ خاکوانی سے پوچھا کہ” کیا آج یہاں کوئی  Anesthetists کا بھی ورکشاپ چل رہا ہے تو وہ کہنے لگی “ہاں ڈاکٹر ستارہ بتا رہی تھی مگر ڈاکٹر سلیمہ کو اس کا پتہ نہیں۔ممکن ہے گیسٹ لیکچرز کا کسی کمپنی کا اسپناسرڈ سلسلہ ہو”
لنچ سے ذرا دیر پہلے اسے ڈاکٹر ستارہ سب سے جدا،ایک ستون سے لگی خاموشی سے اسے تکتی ہوئی دکھائی دی۔ خوبصورت سیاہ شلوار کرتا، شانے تک اسڑیکوں بھرے لہراتے ہوئے بال، نہ تو اس نے نظر کا چشمہ پہنا تھا نہ ہی حجاب اور نہ عبایا۔ براؤن رنگ کے کنٹیکٹ لین سیز کے پیچھے اس کی نگاہوں میں پیار کا ایک طوفان امڈ رہا تھا۔ برسوں سے سینت کر رکھا گیا وہی طوفان۔۔ جو ڈاکٹر جمیل بہاری اور دیگر ساتھیوں کو اس کی نگاہوں میں اکثر منڈلاتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

سیمینار کا سہ پہروالا سیشن منتظین کی جانب سے اظہار تشکر کا پروگرام تھا۔اس کے بعد میں لاہور کی سیر،رات کو البتہ ایک محفل موسیقی اور کسی بڑے ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کے ڈئزائن کردہ ملبوسات کا فیشن شو جہاں ان کے نیلام سے ہونے والی آمدنی کسی ہسپتال کے نئے قائم شدہ وارڈ کے لئے خریدی جانے والے الیکٹروسرجیکل یونٹس کی خریداری کے لیے دی جانی تھی۔
ایچ بی کے نے ڈاکٹر ستارہ سے کہا کہ۔۔” وہ بغیر چشمے عبایا اور حجاب کے اتنی حسین لگ رہی کہ اس کا دل چاہ رہا ہے کہ وہ سب کے سامنے اسے نظر بد سے بچانے کے لیے دم کردے”۔۔ تو وہ شرما گئی اس نے جب پوچھا کہ “پروگرام کیا ہے؟!”
ڈاکٹر ستارہ کہنے لگی کہ ” اگر اس سے ملاقات نہ ہوتی تو وہ شام  کی پرواز سے لوٹ جاتی مگر اب وہ بتائے کہ کیا کریں؟!”
ایچ۔ بی۔کے کہنے لگا کہ ” رات کو فیشن شو   دیکھتے ہیں۔۔ آگے اللہ مالک ہے”
ڈاکٹر ستارہ یہ سن کر کہنے لگی “اس کے ایک جاننے  والوں کی نتھیاگلی میں کوٹھی ہے، کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ جب پنڈی لاہور جانا ہو تو ویک اینڈ کے لئے چلے جائیں۔ آج کل ویسے ہی کوئی مہمان وہاں پر مقیم نہیں۔ ملازم وغیرہ سب ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ میں لاہور آرہی تھی تو میں نے ان سے کہا تھا کہ میں اپنے آپ کو ڈی اسٹریس کرنے شاید نتھیا گلی جاؤں۔ انہوں نے میرے سامنے ہی وہاں ملازمین کو میری آمد کا بتا دیا تھا۔ کل ہفتہ اورپرسوں اتوار ہے پیر کی صبح اسلام آباد سے کراچی لوٹ جائیں گے کالج آج کل ہڑتالوں کی وجہ سے ٹھنڈا چل رہا ہے۔۔موسم سرما کی پہلی برف پڑی ہے وہاں چلتے ہیں۔”
ایچ، بی،کے نے جب اسے چھیڑنے کے لئے کہا کہ”برفباری کا مزہ لینے کے لیے اتنا دور جانے کی کیاضرورت  ہے کمرے کا ائیر کنڈیشنر اٹھارہ ڈگری پر رکھیں گے۔”
وہ کہنے لگی”” نہیں اسی وقت نتھیا گلی چلو۔۔یہاں لاہور میں لگتا ہے کہ گلبرگ کی گڈو تمہیں مجھ سے چھین لے گی۔
حسین بخش قاضی نے شرارتاً کہا “ایک شرط پر؟”
ڈاکٹر ستارہ نے پوچھا” وہ کونسی؟”
” لندن میں یہودیوں والی دکان سے خریدے ہوئے تمہارے کپڑوں پر دم میں کروں گا۔”
“منظور۔۔مگر نتھیا گلی میں ” ڈاکڑ ستارہ نے نگاہیں چراتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
” ستارہ ڈارلنگ ، میری سپنا لان!یہ چابی پکڑو کمرہ نمبر تین سو دس میں جاؤ۔میرے رول آن بیگ میں سامان پیک کرکے نیچے لے آؤ تاکہ میں اس دوران یہاں نیچے کچھ اس وارڈ کے لئے ڈونیشن بھی دے دوں منتطمین سے مل کر معذرت بھی کرلوں اورر کوئی کار، بار کا بندوبست بھی کرلوں۔”ایچ۔ بی۔ کے نے اپنی ایکزٹ اسٹریٹجی ایک ہی سانس میں بتاتے ہوئے کہا۔

SHOPPING

اس نے خالد قریشی کو کار اور ڈرائیور کے لئے فون کیا تو وہ کہنے لگا کہ ” اس نے گڈو کو اتنی بڑی رقم دے کر زیادتی کی ہے۔ وہ پرانی محلے دار ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اگر وہ چاہے تو گڈو کو بھی ساتھ ہی کار میں نتھیا گلی لے جانے کے لیے بھیج دے۔وہ کہہ بھی رہی تھی کہ سرجن جان ابرہام کی ایک امانت میرے پاس ہے۔میں نے اس کو سمجھا دیا ہے کہ وہ سنبھال کر رکھے میں کراچی جاؤں گا یا آپ لاہورآئیں گے تو لوٹا دیں گے۔”
“سائیں دل اور امانت تو اسی کو لوٹائی جاتی ہے جس نے رکھوائی ہوتی ہے۔اب آپ کا اور گڈو کا زندگی بھر کا ساتھ ہے۔ہم سندھ کے لوگ بے وفا نہیں۔ ابھی آپ کرنل صاحب اور گڈو کراچی آئیں تو ہم کو خدمت کا موقع دیں،ہمارا نمونہ مڑیئی (سندھی میں محض) غریبانہ ہے پر دل عاشقانہ اور انداز امیرانہ ہے۔”ایچ۔ بی۔ کے نے خوش دلی سے جواب دیا۔”
اس کے جملے کے آخری حصے کو سن کر خالد قریشی کہنے لگا “سائیں بپاشا گڈو نے تو ایک رات میں آپ کو شاعر بنادیا۔”
“اور بھی بہت کچھ۔۔۔ہم نے اپنا کولہوں کی سرجری والا لیکچر اسکے کولہے دیکھ کر اس ہی کے نام منسوب کردیا”
نتھیا گلی جاتے ہوئے تاجول اُتلی کے مقام پر جب ڈاکٹر ستارہ اس کے کاندھے پر سر رکھے خالد قریشی کی کار کی پچھلی سیٹ پر سورہی تھی پہاڑوں پر گری موسم کی پہلی برف پر نگاہ پڑتے ہی حسین بخش نے فیصلہ کیا کہ اب کی دفعہ بینا کی لندن کی فلائیٹ لگی تو وہ چیک والی باکسر بریفس کے دو پیکس اور منگوالے گا۔لیبل والی بات پر مٹی پاؤ۔ وہ بھی تو ہمارے بزرگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *