عمران خان اور ن لیگ کا بڑھتا ہوا “پراسرار” آگ کا جنون

ہر پاکستانی کا بالعموم اور ن لیگ کے ووٹر کا بالخصوص حق ہے کہ کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف جواب دیں کہ لاہور، ملتان، پنڈی، اسلام آباد اور اس کے علاوہ پنجاب میں مختلف جگہوں پر ان کے دور میں انتہائی حساس ریکارڈ کیوں بار بارجل جاتا رہا ہے ؟…یہ واقعات تب متواتر ہونا شروع ہوئے جب عمران خان نے شریف برادران کی کرپشن کی طرف سب کی توجہ مرکوز کر کے دلانا شروع کی۔ میں نے پچھلے چند دن ریسرچ کی تو چونک کر رہ گیا کہ یہ حساس ریکارڈ صرف تبھی جلتا ہے جب نواز شریف یا شہباز شریف کسی جے آئی ٹی میں، یا کسی انکوائری میں بری طرح سے پھنسنے لگیں۔

ذیل میں صرف چند مثالیں دی گئی ہیں، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے؛

tripako tours pakistan

١- اپریل 2009 میں ایل ڈی اے کے کمپیوٹر ریکارڈ روم میں “پراسرار” آگ بھڑک اٹھی جس نے سب کچھ خاکستر کر دیا.

٢- مئی 2013 میں الیکشن ہی کے دنوں میں پلازہ میں “پراسرار ” آگ نے میٹرو ٹرین اور 1.5 ٹریلین کے غبن کے ثبوت ضائع کر دئے…آٹھ لوگوں کی موت بھی واقع ہوئی…جب بہت شور و غوغا اٹھا تو ایک بیان جاری کر دیا گیا کہ سب اہم ریکارڈ سلامت ہے (دیکھنا ۔کس نے تھا؟) حکومت ہی ان کی ہے

٣- مارچ 2014 میں سی ڈی اے اسلام آباد کے اسٹیٹ ریکارڈ کے دفتر میں “پراسرار” طور پر تین سال میں تیسری مرتبہ آگ بھڑک اٹھی…آگ کو اس کمرے سے خصوصی محبت ہے چونکہ اربوں کی زمینوں کے گھپلے یہیں ہوا کرتے ہیں..زرداری ہو یا نواز ، اس کمرے کی شامت آئی ہی رہتی! …پولیس آسانی سے ایسے مواقع پر “شارٹ سرکٹ ” کے سر سب منڈھ دیتی ہے

٤- مارچ 2014 میں دو سال میں “دوسری ” بار نیس پاک لاہور کے ریکارڈ “شارٹ سرکٹ” سے جل گئے….بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں اور دوسرے انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ پیسہ کھڑچ کرنے کے تمام ریکارڈ ایک ساتھ صفا چٹ

٥- ستمبر 2014 میں لاہور میں الیکشن کا ریکارڈ جل گیا …ان دنوں عمران دھاندلی کا الزام لگا رہا تھا…تبھی یہ عجیب “اتفاق ” پیش آیا

٦- اپریل 2016 میں ایف بی آر نے بہت سا ریکارڈ تب جلا دیا جب جے آئی ٹی نے ان سے آفشور کمپنیوں کی بابت اسے طلب کیا تھا…اب سب سمجھ آتا ہے کہ کیوں کچھ “ثابت ” نہیں ہو پاتا….کچھ ثابت چھوڑا ہی نہیں جاتا تو ثابت کیسے ہو ؟؟

٧-اگست 2016 میں بیت المال پنجاب میں “پراسرار” طور پر آگ بھڑک اٹھی اور کروڑوں کے غبن کے الزامات سے میاں برادران کو نجات دے گئی

٨ – ستمبر 2016 میں رمضان شوگر مل میں اس وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی جب تھوڑی ہی دیر پہلے وہاں پر میاں برادران کے گھپلوں پر قادری بات کر رہا تھا…یاد رہے یہی وہ مل ہے جس کے بارے میں را ایجنٹس کو پناہ دینے کا بھی الزام ہے …دوسرے الزام کی صداقت پر مجھے شبہات ہیں لیکن غبن کے ریکارڈ کا وہاں موجود ہونا تو خیر بالکل قرین قیاس ہے .

٩- ستمبر 2016 ہی میں گوجرانوالہ میں واقع نندی پورپراجیکٹ کے ریکارڈز “پراسرار” افراد نے جلا کر راکھ کر دئے..اللہ کی یہ مدد عین اس وقت پہنچی جب اس پراجیکٹ کی ناکامی اور غبن میں میاں برادران پھنسنے لگے تھے…

١٠- دسمبر 2016 میں ضلع کچہری ملتان میں سو سالہ زمینوں کا ریکارڈ اور ملتان میٹرو کا ریکارڈ بھی جل کر راکھ ہو گیا….جب بہت شور و غوغا اٹھا تو ایک بیان جاری کر دیا گیا کہ سب اہم ریکارڈ سلامت ہے (دیکھنا کس نے تھا؟ حکومت ہی ان کی ہے!)

Advertisements
merkit.pk

بھئی بات یہ ہے کہ میری پوری فیملی پکی ن لیگی ہے اور اگلی بار فیصلہ میں نے مکمل طور پر میرٹ پر کرنا ہے اسلئے یہ دس بڑی مثالیں پیش کر دی ہیں …ان کا شافی جواب ملا تو ہی کچھ فیصلہ ہو گا.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ثاقب چوہدری
ثاقب چوہدری سعودی جامعہ میں عشرہ بھر تدریس کے بعد اب کینیڈا میں ایک لیموزین فلیٹ ، تدریس ، اور متعدد موضوعات پر خامہ فرسائی میں خود کو مصروف رکھتے ہیں......

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply