بے جا تنقید اور نکتہ چینی۔۔۔۔علینہ ظفر

میری دعا ہے کہ میرے لوگوں میں دوسروں پہ بے جا تنقید اور نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات کا احساس بیدار ہوجائے کہ کوئی اعلی و بہترین بصیرت ہمارے اوپر موجود ہے جو ہر پل ہمارے ہر عمل کی نگران ہے۔لہذا لوگوں پہ نگاہ رکھنے کے بجائے اپنے اعمال پہ نگاہ رکھیں۔ بار گاہِ الہیہ میں اپنی غلطیوں اور گناہوں کی  دل سے معافی کے طلبگار ہونا زیادہ افضل ہے نہ کہ دوسروں پہ طنز و طعنہ زنی کرنا اور ان کی ٹوہ میں رہ کر  بلا خوف اس کا یوں اظہار بھی کردینا کہ اگلا بیچارہ شرمندہ ہو اور آپ خوامخواہ کسی کی دل آزاری کا باعث بنیں۔اگرکوئی دوسرا شخص یہی رویہ آپ کے ساتھ روا رکھے تو آپ کبھی بھی اسے نہیں سراہیں گےکیونکہ آپ اپنی لگام یا ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھمانا ہر گز گوارہ نہیں کریں گے۔ میں نے اکثر ارد گرد دیکھا اور سنا ہے کہ اگر کسی انسان نے دوسرے سے کوئی زیادتی کی ہو تو قدرت اس کا بدلہ اُس کی اولاد کو تکلیف دے کر لیتی ہے۔اس پر کچھ عرصہ غور کرنے کے بعد اپنے ایک استادِ محترم سے میں نے اس کی بابت پوچھا۔ وہ مسکرا دیئے پھر کہنے لگےکہ انسان کو اس دنیا میں سب سے زیادہ اولاد کے رشتے سے محبت ہوتی ہے اور وہ بے لوث محبت ہوتی ہے۔وہ اسے تکلیف سہہ کر جنم دیتا ہے، کئی مشکلیں کاٹ کر اس کے آرام کا خیال رکھتا ہے، بہت شفقت سے اس کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی خاطر وہ پوری دنیا سے لڑ جاتا ہے۔اس لئے جب اسے اولاد کی طرف سے کوئی رنج پہنچتا ہے تو اس کو کسی کے ساتھ کئے گئے اپنے برے سلوک یا زیادتی کاتب احساس ہوتا ہے۔اللہ کسی کو اولاد دے کر آزماتا ہے اورکسی کو نہ دے کر بھی۔ جب کسی سے برا سلوک کرنے لگیں تو ہمیشہ پہلے اپنی اولاد کو ذہن میں رکھ لیا کریں کہ خدانخواستہ کہیں اس کا اثر آپ کی اولاد پہ نہ پڑ جائےکیونکہ سب کو ہی اپنی اولاد پیاری ہوتی ہے اور وہ اسے پریشانی ، دکھ یا تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔کسی کے بھی معاملے میں ہر اس عمل ، جملے یا لفظ سے اجتناب برتیں جس سے دوسرےکا دل دکھے اور ہمارے اساتذہ فرماتے ہیں کہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا سبب نہ بنو کہ دِلوں میں رب بستا ہے۔ مجھے بابا جی کی کہی ایک بات یاد آ رہی ہے جو کہتے ہیں کہ  دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرو اللہ تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرے گا۔ ایک واقعہ ان سے منسوب ہے جس میں   ایک  شخص  نے ان  کے سامنے کاغذ اور قلم رکھتے ہوئے ان سے کہا کہ میرے لیے کوئی نصیحت یا کوئی دعا تحریرفرما دیجئے۔انہوں نے اس پر یہ الفاظ تحریر کیےکہ” اللہ تجھے اندھا کر دے۔”وہ شخص یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ یہ کیسی دعا ہے؟ شاید اسے ان الفاظ پر بد دعا کا گمان ہوا۔ ان سے استفسار پر بابا جی نے اسے اس بات کا مطلب سمجھاتے ہوئےفرمایا ، “میری دعا ہے کہ اللہ تجھے اندھا کر دے دوسروں کےاعمال سے کہ تُو ان پر تنقید نہ کر سکے اور معترض نہ ہو سکے۔”اللہ ہم سب کو اپنے حضور توبہ اور معافی مانگنے ،ہمیں دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے اور خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *