• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط1

رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط1

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

دو اقساط پر مبنی

زیرنظر کہانی محمد اقبال دیوان کی کتاب ”پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ“ میں شامل ہے۔

پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ

سرجن قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی کا اصل نام تو صرف حسین بخش قاضی ہے مگراس کی تمام دستاویزات میں قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی ہی درج ہے۔ اس کی ساتھی،ڈاکٹر ستارہ جس سے اُسے نکے ہوندیاں دا پیار ہے یعنی بچپن کا پیار جسے انگریزی میں Puppy Love کہتے ہیں۔ڈاکٹر سرجن قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی اس کا پنجابی ترجمہ ” کُّتے لاڈیاں دا پیار ” کرتا ہے۔اس کی یہ پنجابی اصطلاح رامپور کے مہاجر پٹھان خاندان کی چشم و چراغ ڈاکٹر ستارہ یوسف زئی کو بالکل پسند نہیں۔وہ اس سے اکثر پوچھتی ہے کہ ” اس کا اتنا لمبا نام کس نے رکھ دیا کہ اس میں دو دفعہ قاضی کا لفظ آتا ہے؟!” اس کے سوال کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ ” اس کے والد کا انتقال نہر میں نہاتے وقت ڈوب جانے کی وجہ سے پیدائش سے سات ماہ قبل ہی ہوگیا تھا وہ پیدا ہوا تو دادا نے اس کے مرحوم باپ کا نام بھی اس کے نام میں شامل کردیا۔”ڈاکٹر ستارہ یوسف زئی اس پر اعتراض کرتی ہے کہ ” یہ نام اس کے نام کے آخر میں آتا تو کوئی تُک بھی تھی۔”

ڈاکٹر ستارہ جیسے لوگ
بھارت کے نامورر سائنسدان اور مرحوم صدر ابولکلام

“اڑے الو کی پٹھی۔ یہ میرے مرحوم باپ کی بے وقت موت کی وجہ سے احتراماً پہلے لگایا گیا ہے۔” وہ چڑ کر وضاحت کرتا ہے جس پر اسے مزید چھیڑنے کے لیے پوچھتی ہے کہ ” اس کے دادا کا نام کیا تھا؟”تو وہ بتاتا ہے کہ ” ا للہ ڈینو قاضی”تو کہتی ہے کہ اگر وہ بھی اس کی پیدائش سے پہلے اللہ کو پیارے ہوجاتے تو اس کا نام قاضی اللہ ڈینو قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی ہوتا۔یعنی اس کا انگریزی مخفف KADK2000+10AHHBK اس نے اپنے ہاٹ میل کے اکاؤنٹ Sitara_2010@ hotmail.comکا پاس ورڈ بنالیا ہے۔ وہ اس کے اعتراض کے جواب میں مزید وضاحت کرتا ہے کہ جنوبی ہندوستان میں اس طرح کے نام رکھنا عام رواج ہے ان کے ایک انتہائی قابل احترام صدر کا پورا نام اول فقیر جین(زین) العابدین عبدالکلام مانک یار ہے۔اس علاقے میں پہلے باپ کا نام،پھر اپنا نام،پھر علاقے کا نام رکھنا ایک عام رواج ہے مزید وضاحت کے لیے وہ اپنے نام سے پہلے  اپنی ذات کا نام بھی شامل کرلیتے ہیں۔

ایک رات ان کے ہڈیوں کے وارڈ پر نئی مشینوں کے افتتاح کی تقریب تھی جس میں ڈاکٹر ستارہ یوسف زئی بھی سرجن حسین بخش کی درخواست پر مدعو کی گئی تھی وہ ا سی کی فرمائش پر نیلی ساڑھی،اپنے عبایا اور کرسچن ڈائر کے اسکارف کے ساتھ پہن کر آئی تھی۔ سرجن حسین بخش قاضی کا بیٹا پچھلی رات اپنے اسکول کے فنکشن میں بحری قزاق کا روپ دھار کرگیا تھا۔سر جن حسین بخش قاضی اس کا لیدر آئی پیچ Leather Eye-Patch جو بحری قزاق اپنی ایک آنکھ پر پہنتے ہیں، وہ لے آیا اور تقریب سے پہلے اپنے سوٹ کا کوٹ اتار کر اسے وارڈ میں تقریب شروع ہونے سے پہلے لگا کر گھوم رہا تھا ستارہ جب اس کے کمرے میں آئی تو وہ یہ پیچ لگا کر اور سر پر آپریشن کے وقت لگائی جانے والے ٹوپی پہن کر ٹوائلیٹ سے برآمد ہوا اور اس سے چھیڑنے کے لیے پوچھنے لگا کہ” کیسا لگ رہیئا ہوں؟!”۔۔۔ڈاکٹر ستارہ یوسف زئی نے اسے ایک نظر بھر کر دیکھا اور کچھ دیر توقف کے بعد کہنے لگی:
” چوتئیم سلفیٹ!”

اس جواب کا سرجن حسین بخش نے بہت برا مانا اور کئی دن تک اس سے بات نہ کی۔ ایک دن جب وہ آپریشن سے فارغ بیٹھا اپنے کمرے میں کسی رپورٹ کی ورق گردانی کررہا تھا ،ڈاکٹر ستارہ پیچھے سے آئی اپنے ہاتھ اس کی آنکھ پر اور ہونٹ اس کے بھرے بھرے گال پر رکھ دیے۔حسین بخش کو اس کی یہ ادا بہت اچھی لگی اور وہ کہنے لگا ” ابھی میرے مٹھڑے سائیں اپنے ہونٹوں کی کشتی ہمارے ہونٹوں کے ساحل پر بھی تو لاؤ ” وہ اس کی اس فرمائش پر خود کو جلدی سے علیحدہ کر بیٹھی اور بتانے لگی کہ اس نے بلاوجہ ہی اس کے ” چوتئیم سلفیٹ!” پکارنے کا برا مانا، ورنہ اسکول،کالج میں تو لڑکے لڑکیاں اس سے بھی زیادہ بے باک اور بے ہودہ ا الفاظ آج کل دوستانہ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔اداکارہ ودیا بالن   فلم عشقیہ میں اداکار ارشد وارثی کو اسی سوال کے جواب میں ” چوتئیم سلفیٹ!” کہتی ہے۔وہ سمجھی کہ سرجن قاضی اللہ ڈینو قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی اسی ارشد وارثی کی نقل کررہا تھا لہذا
اس نے بھی در جواب آں غزل،بالکل ودیا بالن کے انداز میں اسے ” چوتئیم سلفیٹ!” پکارا

لیدر آئی پیچ
ودیا بالن اور ارشد وارثی فلم عشقیہ کے سین میں

” ابھی ہم نے وہ فلم نہیں دیکھی اور دیکھی بھی ہوتی اور ہم پڑھا لکھا نہیں ہوتا تو تمہاری اس گالی پر کلہاڑی سے کارو کاری کا الزام لگا کر تمہاری منڈّھی(سندھی زبان میں گردن) اتار دیتا۔”
” پیار کرے کلہاڑی چلائے جھوٹے عاشق سے ڈرئیو۔ پھر میری گردن اتار کر کیا کرتے ۔۔۔سرجن قاضی اللہ ڈینو قاضی عبدالحکیم حسین بخش قاضی عرف KADKAHHBK؟!” سامنے بیٹھی ڈاکٹر ستارہ یوسف زئی نے اٹھلا کر پوچھا۔۔۔
“یہ ایک کروڑ روپے کا سوال ہے؟ اس کے بعد میں بھی باپ کی طرح سندھو دریا میں چھلانگ لگا کر مرجاتا۔ تیرے بنا بھی کیا جینا۔۔۔او ساتھی رے “حسین بخش نے اسے معاف کرتے ہوئے فلمی انداز میں گنگنایا۔

سرجن حسین بخش قاضی کا شمار کراچی کے بڑے اور کامیاب آرتھوپیڈ ک سرجنز میں ہوتا ہے۔ اس کے مہاجر دوست اسے ہڈی ڈاکٹر کہہ کر چھیڑتے ہیں مگر ویسے   حلقہ احباب میں سب ہی ایچ۔بی۔ کے کہہ کر پکارتے ہیں۔وہ ایک خوش پوش اور مسرور طبع، شخصیت کا مالک ہے۔ اس کے واردڈروب میں ویسے تو بہت سے کپڑے ہیں۔ طرح طرح کی شرٹس، ادھر اُدھر کے دوروں میں خریدی ہوئی پتلونیں،موزے، کف لنکس اور ٹائیاں۔ انہی  کپڑوں میں کچھ سوٹس بھی ہیں۔ جن میں سے دو تو ڈئزائنر سوٹس ہیں۔ اُسے مگر اپنی یہ ریڈ باکسر بریفس جن میں اندر کی سمت ایلاسٹک پر پیچھے کی طرف اور باہر سامنے کی سمت،اسے بنانے والی لندن کی مشہور کمپنی کا ایک جیسا لیبل لگا ہوا ہے،بہت پسند ہیں۔ چیک والی تین باکسرز بریفس کا یہ ایک پیک تھا جس میں سے اب صرف ایک پیلی اور دوسری نیلی بریفس اس کے پاس باقی رہ گئی ہیں۔ کبوتر کے لہو جیسی سرخ بریفس جو اسے ان تین میں سب سے زیادہ عزیز تھی،وہ کہیں اپنے دل سمیت چھوڑ آیا ہے۔

باکسرز شارٹس
پیل نیرین ورم

مرد اپنا دل کہیں چھوڑ آئیں تو اسے اتنا مس نہیں کرتے۔ ان کے عشق میں ستائی ہوئی عورتوں کا خیال ہے کہ اکثر مرد وں کا دلPlanarian worms کی طرح ہوتا ہے۔ اسے درمیان سے کاٹ دو تو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ایک کی بجائے دو دل بن جاتے ہیں۔اسی لئے کامیاب اور ہرجائی عورتیں، ہر وقت اسی طرح کی چیر پھاڑ میں لگی رہتی ہیں۔
چیک والی ان تین باکسرز بریفس کا یہ پیک،ایک ائیر ہوسٹس مریضہ بینانے، اسے لندن سے اسی کی فرمائش پر لاکر دیا تھا۔ ایچ۔بی۔ کے نے انہیں بینا سے منگواتے وقت یہ توجیہہ پیش کی تھی کہ اس طرح کی بریفس یہاں دستیاب نہیں۔مہینوں پہننے کے بعد بھی ان بریفس کا حلیہ بالکل ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے، جیسا کہ  پہلے دن ہوتا ہے ۔وہ اشیا اور تعلقات جو مہینوں بعد بھی اپنی سابقہ اصلی حالت پر برقرار رہیں، سرجن حسین بخش قاضی کو وہ بہت اچھی لگتی ہیں۔

ائیر ہوسٹس بینا ، باہر کے کسی ائیر پورٹ کیesclators( برقی سیڑھیاں ) اترتے ہوئے گر پڑی تھی۔ مختلف سرجنز کا خیال تھا کہ اس کی کمر کی چوٹ ایسی ہے کہ وہ اپنی بقایا عمر وہیل چیئر پر ہی گزارے گی،مگر ایچ۔بی۔ کے نے اس کا بڑی دل جمعی سے علاج کیا اور اللہ نے اسے شفا دی۔تین ماہ کے علاج کے بعد وہ دوبارہ مصروفِ پرواز تھی۔ اس نے شفا یاب ہونے پر بینا کو کچھ باتوں سے کم از کم چھ ماہ تک پرہیز کرنے کو کہا تھا۔بینا بے چاری نے یہ پرہیز پورے ڈیڑھ سال کیا۔یہ پرہیز کیا تھا یہ مریض اور ڈاکٹر کا معاملہ ہے۔ لہٰذا ان کو یہاں بیان کرنا پروفیشنل مس کنڈکٹ شمار ہوگا۔ بیرونی ممالک میں تو ایسی باتوں پر مقدمات قائم ہوجاتے ہیں، سزا بھی ہوتی ہے تو اکثر بھاری ہرجانہ بھی دینا پڑتا ہے۔

برقی سیڑھیاں

اب جب کبھی وہ کوئی باہر کی پرواز کرتی ہے ایچ۔بی۔ کے سے، ضرور پوچھ لیتی ہے کہ اسے کسی شے کی وہاں سے ضرورت تو نہیں۔ ان تمام اشیا کہ   جو وہ  اسے لاکر دیتی ہے ایچ۔بی۔ کے ضد کرکے قیمت ضرور دیتا ہے۔ جو وہ کچھ تامل کے بعد رکھ لیتی ہے۔

پہلی دفعہ اسے جب، ان باکسرز بریفس کو پہننے میں کچھ تامل ہوا تو اس نے اپنی ذہنی خلش کا ذکر ہسپتال میں ڈاکٹر ستارہ سے کیا۔وہ اس بڑے سرکاری اسپتال میں مریضوں کو بے ہوش کرنے کا کام کرتی ہے یعنی anesthesiologist ہے۔ زیادہ تر وہ سرجن حسین بخش کے ہڈیوں کے شعبے میں ہی پائی جاتی ہے۔ دونوں میں بہت دوستی ہے۔ میڈیکل کالج میں بھی وہ ساتھ ساتھ تھے۔

مارک اینڈ سپنسر

ڈاکٹر ستارہ مذہبی قسم کی خاتون ہے۔ ہر وقت حجاب، ہمہ وقت عبایا۔ تعلیم ختم کرتے ہی شادی ہوئی تھی مگر چل نہ پائی۔ بنک میں ملازم،میاں کے مطالبے بہت تھے، نوکری چھوڑو، میرے ماں باپ کا خیال کرو۔ میری بہن کی شادی اپنے بھائی سے کرادو۔ آپس کی ناچاقیاں جب زیادہ ہی بڑھ گئیں تو سرجن قاضی کے مشورے اور مدد سے ہی اس نے طلاق لے لی۔سرجن قاضی کا سگا بھائی ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل بھی رہا ہے۔ماموں جج تھے اور بہنوئی کا شمار بڑے وکیلوں میں ہوتا ہے۔آدھا خاندان عدلیہ پر قابض ہے۔
ایچ۔بی۔کے کچھ ساتھیوں کویہ شک ہے کہ ستارہ کو اس سے ایک گہرا لگاؤ ہے۔وہ ایک خاموش سی محبت  میں مبتلا ہے، جو اکثر اس کی نگاہوں سے تو جھلکتی ہے مگر جس کا اس نے کبھی لفظوں میں اظہار نہیں کیا۔
ڈاکٹر ستارہ کی تحریک ِدفاع عصمت و حرمت میں جب ایچ۔بی۔ کے نے اپنے بد زبان اور بد گفتار ساتھیوں کو سمجھایا کہ ” اڑے بابا! وہ حجاب اور عبایا پہنتی ہے رب کی پناہ مانگو۔ کیسا عشق کہاں کی محبت۔تم لوگوں کو پاکیزہ عورت پر بہتان کی سزا قیامت میں کوڑوں کی صورت میں ملے گی؟”
اس کی وضاحت سن کر پیتھالوجسٹ ڈاکٹر جمیل بہاری جوشام کے اوقات میں ا ورنگی میں سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ایک پرائیویٹ لیبارٹری چلاتا ہے اور خود بھی پکا تبلیغی ہے،مذاقاًکہنے لگا:
“ڈاکٹر ستارہ کا حجاب اور عبایا ایک لفافہ ہے اس سے دھوکہ مت کھاؤ۔ لفافے کا خط کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔لفافہ جتنا پیک ہوگا مضمون اتنا ٹائٹ ہوگا “
اس دلیل پر سب نے واہ واہ کی تو ڈاکٹر توفیق کہنے لگا:
“اگر اسے ڈیٹ پر لے جانا ہو تو میرا کلفٹن والا فلیٹ خالی ہے۔پرانے کرائے دار چلے گئے ہیں۔ جگہ بھی سیف ہے۔دوستوں کے لئے جان بھی حاضر ہے مگر ڈیٹ کا ولیمہ ضرور ہوگا۔”
اتنے میں ہسپتال کے ایم، ایس صاحب آگئے تو خوش گپیوں کا یہ میلہ تلپٹ ہوگیا۔

ایچ۔ بی۔ کے نے ایک دن،جب سرجری کے ساتھ والے کمرے میں کوئی نہیں تھا اورڈاکٹر ستارہ اس کے ساتھ بیٹھی اسٹور سے مریض کو بے ہوش کرنے کے لئے منگوائی گئی کسی دوا ئی کا انتظار کر رہی تھی، دونوں ایک دوسرے کی انگلیوں سے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایچ۔بی۔کے نے کہا :
“میرے پاس ایک بریفس کا پیک ہے۔اس میں سے صرف ایک دو دفعہ، میں نے ایک بریفس پہنی ہے پر اندر اور سامنے کی طرف لگے لیبل کی وجہ سے ایک اندرونی خلش محسوس کرتا ہوں۔کیوں کہ یہ لیبل ایک عیسائی بزرگ کے نام پر ہے۔”
” یہ یہودیوں کی سازش ہے کیوں کہ وہ دکان عیسائیوں کی نہیں ان کی ہے۔میں جب لندن گئی تھی تو اپنے لیے بھی اس طرح کے کچھ کپڑے اسی دکان سے لائی تھی۔ایسا لیبل ان پر بھی لگا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اعمال کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے ” ۔ڈاکٹر ستارہ نے اس کا دل مضبوط کرنے کے لیے کہا۔۔ “ آرے مائی جانی کیا بولتے تو، تم کو ان انڈر گارمنٹس کو پہننا برا نہیں لگتا؟ٖ”ایچ۔ بی۔کے نے پوچھا۔
“نہیں، وہ بھی تو ہمارے دین کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔اسے واقعی ا گر کوئی خلش ہے اور اگر حسین بخش  نے وہ باکسرز ابھی تک پہنے نہیں تو انہیں لے آئے۔ وہ ان پر کچھ دم کردے گی۔ انشاء اللہ اس کے و سوسے جاتے رہیں گے۔شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اسے ہروقت بہکا تا رہتا ہے۔ وہ اپنے اس طرح کے کپڑوں کو کچھ نہ کچھ دم کرکے پہنتی ہے۔” یہ اضافی معلومات فراہم کرتے ہوئے ڈاکٹر ستارہ نے اس کی مشکل کا حل تجویز کردیا۔
فرض کرو میں نے پہنے ہوں تو کیا تمہارا وظیفہ پکا کام کردے گا”۔حسین بخش کہنے لگا۔ ڈاکٹر ستارہ نے اس کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایچ۔بی۔ کے نے بھی وہ سرخ باکسر بریفس اسے لاکر نہیں دکھائے اور  ا  نہیں خاموشی سے ڈاکٹر ستارہ کی دی ہوئی اس وضاحت کا سہارا لے کر پہننے لگنے لگا کہ وہ لوگ بھی تو ہمارے بزرگوں کا مختلف بہانوں سے مذاق بناتے ہیں۔ یہ لیبل تو انہوں نے خود ہی لگایا ہے۔ جب برطانیہ میں کوئی اس کمپنی کو،جس نے یہ باکسر بریفس بنائے ہیں  sue کرے گا تو وہ اسے پہننا ترک کردے گا۔تب تک اسے ان زیر جاموں سے کوئی جذباتی وابستگی پیدا نہیں ہوئی تھی۔

ایچ۔بی۔ کے کو ان ریڈ باکسر بریفس سے جذباتی وابستگی اس وقت پیدا ہوئی جب وہ لاہور گیا۔وہاں سرجنز کی کوئی ملک  گیر سطح کی کانفرنس تھی۔ اس کا شمار چونکہ ملک کے ان مشہور سرجنز میں ہوتا ہے ،جو کولہوں اور ریڑھ کی ہڈی کی سرجری میں خاص مہارت رکھتے ہے لہٰذا اس کا وہاں مدعو کیا جانا لازمی امر ٹھہرا۔

لاہور

کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اسے ایک پرانے واقف کار،نعمان صاحب مل گئے۔نعمان صاحب ایک بینک میں وائس پریزیڈینٹ ہیں ان کے بیٹے کے ٹوٹے ہوئے کولہے کا علاج، ایچ۔بی۔ کے نے بالکل بینا والی،دل جمعی سے کیا تھا۔ وہ پھر سے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا اور کرکٹ بھی کھیلنے لگا تواس کی وجہ سے وہ سرجن حسین بخش قاضی کے گرویدہ ہوگئے۔ وہ اپنے مریضوں کا علاج بہت محبت اور توجہ سے کرتا ہے۔اپنے مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں اس وجہ سے بہت مقبول ہے۔
لاہور ائیر پورٹ پرنعمان کو لینے خالد قریشی  آئے تھے۔قریشی صاحب بہت کامیاب صنعت کار ہیں۔
نعمان صاحب کی پانچ سات سال قبل جب لاہور میں پوسٹنگ تھی، انہوں نے اس خالد قریشی کا تعارف کسی ایسے ریٹائرڈ کرنل صاحب سے کرادیا،جو اپنے سرمائے کے استعمال کے لئے ایک قابل اعتماد کاروباری پارٹنرکی تلاش میں تھے۔فوج سے فارغ ہونے کے بعد ان کے پاس کاروبار کے لئے کرپشن کا مال خاصی وافر مقدار میں تھا۔ یہ مال و منال انہوں نے ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں جمع کیا تھا۔کراچی میں ان کے پاس کچھ اہم سول اداروں کی تحقیقات تھیں۔ جس کا انہوں نے سب کا بھلا،سب کی خیر کی مسلسل فقیرانہ صدا کے حساب سے بہت لابھ اٹھایا۔

خالد قریشی کے تعلقات اپنے سسرالی عزیزوں کے ساتھ ایسے تھے کہ پہلے ان کی مدد سے کمیکل بنانے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری ڈالی اور پھر جب کرنل صاحب پارٹنر بنے تو اسی کاروبار میں مختلف اضافے ایسے کئے کہ بعض معاملات میں ان کی کمپنی کی سارے ملک میں زرعی ادویات کی ایک قابلِ ذکر اجارہ داری سی بن گئی۔
اب ان کی کمپنی کی کاروباری درجہ بندی ایسی ہوگئی تھی کہ وہ فیڈرل سیکرٹری اور مرکزی وزیر سے نیچے بات نہ کرتا تھا۔ ترقی کے ان زینوں پر چڑھنے میں ایک روایت البتہ ایسی تھی جسے وہ
مذہبی جوش و خروش سے نبھاتا تھا ۔ وہ تھی اپنے ان پرانے دوستوں اور افسروں کا بے حد احترام اور خیال کرنے کی روایت، یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اسے ترقی کا سفر تیزی سے طے کرنے میں مدد کی تھی ۔ کاروبار کی دن دوگنی اور رات چوگنی یہ ترقی، وہ جانتا تھا کہ اس امدادا ور دوست داری کے نیٹ ورک کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی۔

یہ دوست اور مددگار دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، عید، بقرعید قسم کے تہوراوں پر کیک، پھولوں کے گل دستے، ڈائریاں انہیں باقاعدگی سے ارسال کرتا تھا۔ ان کی اولاد کی شادی پر مقامی برانچ کے سربراہ کو مناسب سے تحفے کے ساتھ تقریب میں شریک ہونے کی ہدایت تھی۔شادی   کے دنوں میں کار بمع پیٹرول اور ڈرائیور کے اینڈ ٹی ایسوسی  ایٹس (خالد اینڈ طاہر ایسوسی  ایٹس) کے کمپنی اکاؤنٹ پر بھجوادی جاتی۔ جب یہ تعلق دار کہیں آتے جاتے تو مہمانداریوں میں بھی خاصی فراخ دلی کا اہتمام ہوتا تھا۔
اس حوالے سے خالد نے ہی کرنل صاحب کو سمجھایا تھا کہ سرکار کے افسر،خوب صورت نخریلی داشتائیں اور ریس کے گھوڑے پیار سے پالے جاتے ہیں۔ انہیں تانگے کے گھوڑے کی طرح ہر وقت دوڑانا بے سود ہے۔ان کو رائل ایسکاٹ اور کنٹکی ڈربی یا قائد اعظم گولڈ کپ کے ایونٹس کے موقعے پر میدان میں لانا مفید ہوتا ہے۔ جب یہ ادھر ادھر ہوں،تو ان کو آرام کرنے دو۔ ان کاخیال رکھو اور ان سے افزائش نسل کا کام لو۔ تعلقات کی نئی کھیپ تیار کرو۔

Royal Ascot

کرنل صاحب نے ایام مارشل لاء میں بہت حکم چلایا تھا۔ ان کے لیے تعلقات کی اس توجہ طلب،نرسری کی آبیاری مشکل عمل تھا۔وہ پی۔آر کے آدمی نہ تھے۔ شب کو جب وہ خالد اور دوسرے چند ساتھیوں کے ساتھ پینے بیٹھتے تو پبلک ریلشننگ پر اپنے نادر خیالات کا اظہار یہ کہہ کر فرماتے تھے کہ” پاکستان میں پی۔ آر کا مطلب صرف اتنا سا ہے کہ والدہ نے اپنے لئے کس مرد کا انتخاب کیا جس کے نتیجے میں آپ کی اس دنیا میں آمد ہوئی۔دوسرے وہ سیاہ بختی جو غریب باپ کی صورت میں آپ کی ترقی کے دامن پرکالک بن گئی اسے آپ نے کس کا داماد بن کرخوش بختی اور موقع  پرستی کے ڈی ٹرجینٹ سے دھوڈالا۔تیسرے آپ کو ایک ایسی بہن ملی جس کے گھر کے باہر دولت کی لکشمی دیوی گھاگھرا چولی پہن کر ہروقت مجرے کے لئے تیار رہتی ہے۔۔۔ تو آپ بھی اپنے بہنوئی کے ذریعے Derivative Fortune (اکتسابی طالع بختی) کے مالک بن بیٹھے۔۔۔اس کے علاوہ۔ کوئی پی۔آر نہیں۔”
اس طرح کی ذہنی گفتگو کے دوران ریٹائرڈ کرنل صاحب پر جب نشہ جلدی چڑھ جاتا تو وہ ہندوستانی فلم ‘منڈی’ جسے انہوں نے بقول ان کے خود کے چوالیس دفعہ دیکھا تھا اس کے کردار ٹُنگ رُس کی طرح گھوم گھوم کر ناچتے ہوئے اپنی بھاری آواز میں یہ گنگنانے لگتے تھے ع

سب مایا ہے، اس عشق میں جو کچھ کھویا ہے، جو پایا، جو تم نے کہا، جو میرؔ نے فرمایا ہے،سب مایا ہے۔۔۔۔۔۔

قطب قلی بادشاہ تھے رنگ رنگیلے، رنگ رنگیلے۔ پھر یکا یک نصیر الدین شاہ کے جس نے فلم میں طوائف رکمنی بائی کے خاص ملازم ٹنگ رس کا لافانی کردار ادا کیا ہے، اس کے انداز میں چیخ کرکہتے تھے ۔۔۔” رکمنی بائی پوٹیاں (حیدرآباد دکن کے محاورے میں لڑکیاں) سے دھندا کراکے کوئی جنت میں نئیں گیا بائی،۔۔۔۔تو بھی ادھرج رہ جائیں گی بائی۔ آخر میں سالا ٹنگ رس ج کام آئیں گا۔۔سب تیرے کو چھوڑ جائیں گے بائی” ۔۔۔۔اور پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگ جاتے۔اس وقت خالد قریشی ان کی دوست کو بیڈ روم کی جناب اشارہ کرکے آہستہ سے کہتا ” اینو شمشان بھومی وچ لے جا۔۔۔۔” جس پر وہ خاتون جو کرنل طاہر کی رات بھر کے لیے افسرمہمانداری ہوتی مسکر ا کر آنکھ مارتے ہوئے کہتی ” تے نالے اینوں پیار دی چتا دے وچ ساڑھ کے راکھ کرچھوڑاں ” (اور اسے پیار کی چتا میں سلگا کر راکھ کر دوں)

نصیر الدین شاہ بطور ٹنگرس۔فلم منڈی

ریٹائرڈ برگیڈیئر رانجھا جو اکثر اپنا حلق تر کرنے وہاں آتے تھے اور کرنل طاہر کے کورس میٹ بھی تھے۔ کہا کرتے تھے کہ یہ جو نشے کی حالت میں بے خود ہوکر ناچنے کی عادت کرنل صاحب کو پڑی ہے۔ اس میں تاسف اور فوج کی ملازمت دونوں کے علاوہ کراچی کی کی ایک بہاری خاتون واجدہ حسین کا بھی بہت بڑا رول ہے جو بالکل ا داکارہ آنجہانی سمیتا پاٹل کی ماں جائی لگتی تھی۔ ویسی ہی کھنکتی ہوئی بے باک ہنسی، وہی سیاہ آزاد منش، پر سکون آنکھیں ، بدن کے تراشیدہ خطوط، دراز قد اور اس پر کاٹن کی آدھی آستین والے پھنسے پھنسے بلاؤز کی ساڑھیاں۔پنجاب کے علاقے سوہاوا کے کرنل طاہر کو اس کی رفاقت میں لگتا کہ پٹنہ بہار کے کالے جامن ان کے منھ میں گھلتے ہی چلے جارہے ہیں۔

سمیتا پاٹل بطور زینت -فلم منڈی

واجدہ نے بھی کرنل صاحب کی مارشل لا کی پوسٹنگ سے وہی کام لیا جو اللہ دین اپنے چراغ کے جن سے لیتا تھا۔اس نے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ خفیہ اداروں کی رپورٹیں بھی کرنل صاحب کی مزید ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔فلم منڈی انہی  دنوں ریلیز ہوئی تھی جب ضیا الحق کے مارشل لاء کا طوطی ہر طرف بول رہا تھا۔ کرنل صاحب کو فلم کی ہیروئن سمیتا پاٹل کے روپ میں واجدہ حسین باکثرت دستیاب تھی مگر کرئیر ان کے ہاتھ سے بابل کے دامن کی طرح چھوٹ گیاتھا۔
خالد قریشی بہت پر سکون اور دوست دار طبیعت کا مالک تھا وہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر خود ہی تعلقات کے بحرظلمات میں گھوڑے دوڑاتا رہتا اور انہیں یہ باور کراتا کہ پاکستان میں ہی نہیں ،ساری دنیا میں پی۔آر میں ایک نئی جہت یہ بھی شامل ہوگئی ہے کہ آپ شراب، عورت اور پیسہ،فراوانی سے بروقت کس کو فراہم کرسکتے ہیں تاکہ تعلقات کی بلٹ ٹرین وقت مقررہ پر آپ کو اپنی منزل پرپہنچادے۔

وہ انہیں مزید قائل کرنے کے لیے ایک دن بتانے لگا کہ ساٹھ کی دہائی میں جب اسلام آباد میں افسر تھوڑے اور اختیارات بہت تھے، باہر کی ایک کمپنی کو یہاں کچھ بے دریغ قسم کی سہولتیں درکار تھیں۔انہوں نے افسر مجاز کی ایک عجب پسند کا کامیابی سے کھوج لگایا۔اس افسرِ عالی مقام کو سیاہ فام عورتیں بہت پسند تھیں ؛ دراز قد، آہو چشم،چیتے کا سا بدن رکھنے والی، جو اسلام آباد کے دیار نور میں تیرہ شبوں کی ساتھی اور وحشت رفاقت میں کالی گھٹا کی طرح برسنے والی ہوں۔ یہ ممکن نہ تھا کہ افسر خاص کو ہر دفعہ پاکستان سے باہر تکمیل شوق کے لئے لے جایا جاسکتا۔پنڈی میں ایک بڑا ہوٹل کھل چکا تھا لہذاحسن سیاہ فام کو چند دن ڈیپوٹیشن پر موقع محل کی مناسبت سے گاہے بہ گاہے کمپنی اکاؤنٹ پر سیلز پروموشن کے کھاتے میں یہاں بلا کر حاضر خدمت کیا جاتا۔مذکورہ افسر دنیا کی نگاہوں سے چھپتے چھپاتے ادھر ادھر دیکھ کر پہنچ جاتے اور غڑپ سے ہوٹل کے کمرے میں چلے جاتے۔اس کمپنی کی کوئی درخواست کبھی بھی فائل نہ ہوتی تھی۔
“اچھا تے تینوں کیویں پتہ؟”۔۔۔۔۔ ریٹائرڈ کرنل طاہر کے لئے یہ انکشاف نیا بھی تھا اور اس میں تاسف کا میلا سیاہ دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگے کہ ان کا کراچی کا قیامِ کیوں ایسی سعادتوں سے محروم رہا، حالانکہ ان کے خنجر تفتیش کی دھار تلے مرغ بسمل بنی ہوئی کئی کمپنیاں بھی تھیں۔وہ اس دوران حکم فرماتے تو یہ کمپنیاں تارے زمین پر لے آتیں مگر وہی ناداں تھے جو چند مقامی کلیوں پر قناعت کر گئے۔
” اللہ بخشے میرے خالو مارکیٹنگ کے آدمی تھے۔ میری تربیت انہی  کے پاس ہوئی ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں پہلے واپڈا میں انجینئر تھا “۔ خالد قریشی المعروف بہ کے۔ کے نے وضاحت پیش کی۔
ریٹائرڈ کرنل طاہر کے ذہن میں بہ یک وقت دو سوال ابھرے مگر چونکہ فوج میں وہ اپنی کپتانی کے زمانے میں کوئٹہ اور مری میں ایک دو انٹیلی جینس کورسسزکرچکے تھے تھے لہذا انہوں نے صرف ایک سوال پوچھنے پر اکتفا کیا ۔
“خالو کیا اسی کمپنی کے ملازم تھے جو ان سیاہ فام نسوانی تیندووں (Panthers ) کی فراہمی کے سہارے کاروبار کی  منازل طے کرکے آگے بڑھی؟”
” سر جی!ایک تے تسی ہر بات دی کھوج بڑی لاندے ہو،پرانا زمانہ ہور سی ۔ہن نہ اس طرح دے حالات نیں، نہ اس طرح دے شوقین مزاج افسر۔ہن تے تسی جان دے ہی ہو کہ سروسز  وچ کس طرح دے ماٹھے تے پینڈو افسر آگئے نیں ۔ ایس لئی ہن میں تھلے گل ہی نہیں کردا۔ وڈے نال گل کرو۔ اسٹریٹ ون شاٹ کل Straight and One Shot Kill “(سر ایک تو آپ ہر بات کی بڑی کھوج لگاتے ہیں۔اب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کیسے فضول اور دیہاتی قسم کے افسر ملازمتوں میں گھس آئے ہیں ۔ اسی لیے میں اب اپنے معاملات نچلی سطح پر ڈیل ہی نہیں کرتا۔بس ان کے بڑوں سے معاملہ رکھتا ہوں۔ ایک گولی اور پکا نشانہ) خالد قریشی نے بڑی مہارت سے بات بدل دی۔

اپنی پیشہ ورانہ تربیت کی روشنی میں جو سوال کرنل صاحب نے نہیں پوچھا وہ یہ تھا کہ یہ خالو وہی ہیں جن کی صاحبزادی سے بعد میں کے۔ کے یعنی خالد قریشی نے شادی کی؟
ان طویل مباحثوں کے بعد جب کرنل صاحب مان گئے تو انہوں نے کمپنی اکاؤنٹ پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل کا مستقل بنیادوں پربزنس سوئیٹ بک کرالیا۔سامان اور ملازمین سے مکمل طور پر آراستہ ایک بنگلہ افسروں اور اہل معاملہ کی دلداری کے اسی مقصد کے لئے مخصوص کردیا۔
نعمان بینکر نے جب ایچ۔ بی۔کے کا تعارف ایئر پورٹ پر خالد قریشی سے کرایا تو کے۔کے کو ایسا لگا کہ کراچی،ان کی لاہور آمد کی وجہ سے اہم ترین شخصیات سے خالی ہوگیا ہے اور وہاں کی سب سے مقتدرہستی ، سرجن حسین بخش قاضی۔۔ کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے سب سے بڑے ماہر کے روپ میں، لاہور،نعمان کے ساتھ آگئی ہے۔ اس نے بلا تکلف انہیں اپنے ہاں ٹھہرنے کی دعوت دی۔ایچ۔ بی۔کے نے جب اسے یہ کہہ کر معذرت کی کہ اس کے قیام کا بندوبست کانفرنس والے ہوٹل میں ہی ہے تو وہ مصر ہوا کہ رات کا کھانا وہ اس کے اور نعمان صاحب کے ساتھ ہی کھائے ،رات کو بیٹھ کر کہیں پی پلا لیں گے۔ ایک دو دوست اور ہوں گے۔ کچھ ہلا گلا رہے گا۔سب اپنے ہی جیسے لوگ ہیں تو ایچ۔ بی۔کے نے حامی بھر لی ۔۔۔۔۔یہ اسی رات کا قصہ ہے۔

گلبرگ میں ایک شاندار بنگلہ تھا۔ جس میں یہ محفل برپاہوئی۔پینے کے دوران ہی تین لڑکیاں آگئیں۔ چوتھی لڑکی کا انتظار تھا۔ کرنل صاحب کی آنے والی دوست تو ازبکستان کی،علمیہ تھی۔ وہ اس دوران ان ہی سے لگ کر بیٹھی رہی اور انہی  کے کہنے پر دو تین دفعہ ناچی بھی۔دوسری ذرا فربہ اندام سی،معصوم صورت مگر دراز قد والی لڑکی،نعمان بینکر کے لئے تھی۔ جسے ناچنا بالکل نہیں آتا تھا مگر وہاں سونی ٹی وی کا ناچ کا مقابلہ تو تھا نہیں کہ وہ الی منیٹ ہوجاتی۔لہٰذا جب بھی نعمان میاں نے ناچنے کی ضد کی وہ پہلے تو خود کھڑی ہوجاتی اور بعد میں نعمان بینکر بھی مصروف رقص ہوجاتے۔ تیسری لڑکی کے۔ کے کی اپنی کوئی دوست تھی جو تھیٹر کی کوئی اداکارہ اور ابھرتی ہوئی ماڈل تھی۔ چپ چپ سی اداس آنکھوں والی مگر کچھ اسٹائلش  ۔خالد قریشی کی سر پرستی کی وجہ سے ہی وہ ٹیلی ویژن کے کئی ایسے اشتہارات میں تواتر سے دکھائی دیتی تھی۔یہ اشتہارات کپڑے دھونے کے سستے صابنوں، پنکھوں،کیڑے مار دواؤں،مقامی طور پر بنی ہوئی واشنگ مشینوں اور غسل خانے کی صفائی میں استعمال ہونے والے کیمکلز کے تھے۔ناچتی بھی ان تینوں میں وہی سب سے اچھا تھی۔البتہ چوتھی لڑکی کو ایچ۔ بی۔کے،کے لئے کار بھیج کر بلوایا گیا۔ اس نے آنے میں کچھ تاخیر کی تو یہ سب کھانا کھانے قریب کے ریستوراں میں چل دئیے۔وہاں سے واپس آئے تو کرن جسے پیار سے یہ سب لوگ گڈو کہتے تھے۔ وہاں اکیلی بیٹھی اسکرو ڈرائیور پی رہی تھی۔ ایک خوبصورت سے جام میں ووڈکا میں نارنجی کے جوس کی بہتات اور آڑو اور انگورکے قتلے بھی تیر رہے تھے۔ساتھ ہی اردو کے ایک مشہور ہفتہ وار رسالے کی ورق گردانی کر رہی تھی۔

گڈو جیسے لوگ

جب سب آکر واپس اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو پہلی مرتبہ گڈو نے نظر بھر کر سرجن حسین بخش قاضی کو دیکھا۔عمر پینتالیس برس کے لگ بھگ۔ گہری سیاہ مونچھیں جن کے بارے میں یہ یقین کرنا مشکل  نہ تھا کہ سر کے بالوں کی طرح انہیں بھی بوٹ پالش جیسے خضاب سے رنگا گیا ہے۔قد درمیانہ، گڈو نے اندازہ لگایا اس سے چارانچ چھوٹا ہی ہوگا۔ اس کابدن لگتا تھا، مدت ہوئی کہ ورزش سے ناآشنا اور بے وقتی خوش خوراکی،تفکرات سے بے نیاز زندگی اور رواں آمدنی کے تساہل کا شکار ہوکرکچھ بے ہنگم سا ہوگیاتھا۔ انداز میں البتہ ایک محتاط سا رکھ رکھاؤ اور نگاہوں میں ایک جائزہ لیتی ہوئی شدت تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی نگاہیں اگر کسی مقام پر ٹھہر  جائیں تو وہاں معمول سے زیادہ ٹھہری رہتی ہیں۔اس کے اس جائزہ مشن کے دوران مشہور گیت  ع سانجھ سویرے ہن موجاں ہی موجاں۔۔۔ جب سی ڈی پلیئر پر بجا تو ترنگ میں آن کر ناچنے کے لیے پہلے گڈو کھڑی ہوئی، پھر وہ ماڈل اور آخر میں نعمان بینکر والی وہ فربہ اندام لڑکی بھی سب کی دیکھا دیکھی کھڑی ہوگئی۔

ایچ۔ بی۔ کے نے سوچا کہ لاہور میں دراز قد کی لڑکیاں اچھی خاصی تعدا د میں ہوں گی۔جب ہی تو یہ تینوں پانچ فیٹ سات انچ کے لگ بھگ قد کی تھیں۔جن میں انیس برس کی گڈو کا جسم متناسب اور ہاتھ پاؤں جوانی کی گنگناتی ہوئی توانائی بھری حرکتوں سے معمور تھے۔ اس کے ہاتھوں کی مخروطی انگلیا ں بھی لمبی اور تراشیدہ تھیں جب وہ ناچتے ہوئے سر سے اوپر اپنے سڈول عریاں بازو لے جاتی تو شاید انہیں انگلیوں کی وجہ سے وہ باقی لڑکیوں سے زیادہ دراز قد لگتی تھی ۔ قامت کی حسین طوالت کے اس تاثر کو قائم رکھنے میں اس کی صراحی دار گردن بھی بہت مدد کرتی تھی۔چہرہ بھی دل کش تھا۔ آنکھوں میں شرارت کے طبلے کے گمک دار توڑے بجتے تھے اور ان میں ذہانت بھی نمایاں تھی۔ اس نے نارنجی رنگ کا کاندھے پر بو کی شکل میں بندھی ہوئی ڈوریوں والا سموکڈ سی قوین ٹاپ، ایک کارڈرائے کی پرانی جینز کے ساتھ پہنا تھا۔ بال بنے ہوئے ضرور تھے پر انہیں بے احتیاطی سے کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ جن میں شانے تک پہنچتے پہنچے چھلے دار لہریں آگئی تھیں،مختلف براؤن اور سنہری رنگوں سے ان میں اسٹریکیں ڈال دی گئی تھیں۔ وہ اسے وہاں موجودتمام لڑکیوں میں سب سے پیاری لگی۔ ایچ۔ بی۔کے نے اندازہ لگایا کہ ستاروں میں بسنے والی اس لڑکی کو زمین پر اس کی میزبانی کی خاطر ہی بلوایا گیا ہے۔ ناچتے ناچتے ہی علمیہ اور کرنل صاحب ایک کمرے میں اور نعمان بینکر اپنی محبوبہ کے ساتھ دوسرے کمرے میں تیتر اور بیٹر کی دُم کی طرح گم ہوگئے۔ایچ۔بی۔ کے لئے ایسی محافل کچھ نئی نہ تھیں کہ وہ اس طرح کی آنکھ مچولی سے گھبراتا۔ جب گڈو سامنے والے کمرے کے باتھ روم میں گئی تو خالد قریشی نے کہا:
” سر آپ بھی تھک گئے ہوں گے۔ گڈو اچھی لڑکی ہے، صاف ستھری،کو آپریٹیو، وی۔آئی۔ پی اسٹف۔ آج تک اس کی کوئی کمپلین نہیں آئی۔ کوئی خاص مہمان آئے تو اس کو زحمت دیتے ہیں آپ آج رات یہیں سوجائیں، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔صبح چلے جائیے گا ورنہ نیچے کار اور ڈرائیور موجود ہے۔ جب دل چاہے چلے جایئے گا۔میں ساتھ والے کمرے میں ہوں کوئی پرابلم ہو مس کال ماریں گے تو باہر آجاؤں گا”۔
“نہیں فی الحال ایک بجا ہے میں چار پانچ بجے تک ہوٹل چلا جاؤں  گا ،کپڑے بپڑے اودھر ہیں نا سائیں۔”ایچ۔بی۔ کے نے جواب دیا۔
خالد قریشی نے سوئیٹ ڈریمز کہا اور اندر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

گڈو جب باتھ روم سے باہر آئی توایچ۔بی۔ کے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھا اسی رسالے کی ورق گردانی کررہا تھا جو وہ ان کے واپس آنے سے پہلے پڑھ رہی تھی۔اس نے پوچھا۔
“آپ کو بھی یہ رسالہ اچھا لگتا ہے؟”
“نہیں کوئی خاص نہیں بس ایسے ہی کچھ نہیں تھا تو میں نے اسے   دیکھنا شروع کردیا “۔ایچ۔بی۔ کے نے جواب دیا۔
“میں تو تھی باتھ روم میں ” گڈو نے آنکھ مار کر شرارت بھرے انداز میں کہا۔مگر اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر باہر یہ کہہ کر چلی گئی کہ “میں کچن سے پانی کی بوتل لے آؤں اکثر مردوں کو رات کو بہت پیاس لگتی ہے۔آپ چینج کرلیں۔”
ایچ۔ بی۔ کے نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور وہ اپنی ریڈ باکسر بریفس پہن کر پلنگ پر یوگا کا نیم کنول آسن مار کر بیٹھ گیا۔وہ واپس آئی تو اس نے پہلا سوال اس کے جسم کو دیکھ کریہ کیا ” آپ ورزش کرتے ہیں کیا اور آپ کا نام جان ابرہام ہے؟”

 

یوگا کا نیم کنول آسن
جان ابراہام

بپی لہری

“جان ابرہام نہیں تو میرا نام حسین بخش قاضی ہے۔” اس نے کچھ لجاحت سے جواب دیا۔زندگی میں پہلی دفعہ اسے اپنے نام کے معاملے میں کچھ احساس کمتری لاحق ہوا۔
“آپ کا بدن تو بالکل جان ابرہا م جیسا ہے “اس نے شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔ “کراچی کی عورتوں کی تو آپ کو دیکھ کر سانس رک جاتی ہوگی۔”
اس کی یہ بات سن کر ایچ۔ بی۔ کے جس کا شمار کراچی کے بڑے سرجنز میں ہوتا تھا،کو یکایک یہ الجھن آن پڑی کہ وہ اپنے سے عمر کی آدھی سے بھی کم، لاہور کی اس انیس برس کی خراب لڑکی سے کیسے پوچھے کہ جان ابرہام کون ہے؟ لہذا اس نے اپنی برتری ثابت کرنے کا پاکستانی مردوں والا ایک اوراوچھا راستہ تلاش کیا اور اسے کمتر ثابت کرنے کے لئے کہنے لگا:
“ورزش کو باہر کے لوگ ورک آؤٹ بولتے ہیں۔”
“مجھے بھی باہر کے لوگوں کی طرح، ورک آؤٹ کا شوق ہے “گڈو نے اشتیاق اور تاسف کے ملے جلے لہجے میں کہا۔
“پھر کیا کرو نا بابا، ورک آؤٹ تو تم کو اور بھی قیامت بنا دیں گا۔”ایچ بی کے نے بیک وقت تلقین اور تعریف کا انداز اپنی برتری جتاتے ہوئے اپنایا۔
“ایک مسئلہ ہے۔چھت پر ورک آؤٹ کرو تو محلے کے مرد اور لڑکے بڑے تاڑو ہیں۔ وہ اپنے کوٹھوں پر آجاتے ہیں اور نیچے صحن یا گھر میں کرو تو بے۔بے کہتی ہے کہ ایسے ہی فضول ہاتھ پیر چلانے سے تو اچھا ہے کہ تو صحن میں جھاڑو ماردے، برتن دھودے، آٹا گوندھ کے رکھ دے۔ ابھی بھائی اور ابا آتے ہوں گے آندے نال ہی ٹکڑ(کھانا)مانگیں گے” وہ تقریباً روہانسی ہوکر کہنے لگی۔
“میری ایک تجویز ہے آگے آپ کی مرضی۔” ایچ۔بی۔ کے نے کہا۔
“وہ کیا؟”
“آپ کپڑے تو بدلتی ہوں گی جب کپڑے بدلنے لگیں تو کمرہ بند کرکے ورک آؤٹ کرلیا کریں۔”
” یہ بالکل ہی غلط تجویز ہے” گڈو کہنے لگی۔ ” کپڑے انسان اس وقت تبدیل کرتا ہے، جب باہر جانا ہو اگر میں اس وقت ورزش کروں تو پسینے کی وجہ سے کپڑوں میں بو آجائے گی اور رات کو سونے سے پہلے تو کھانا کھایا ہوتا ہے اور ہماری طرٖف سیانے کہتے ہیں کہ کھانے کے تین گھنٹے بعد تک ورزش نہیں کرنی چاہیے۔”
ایچ۔ بی۔کے کو لگا کہ بھلے سے وہ ایک بڑا سرجن ہے ،گڈوکی عمر اس کی آدھی بھی نہیں مگر وہ فطری طور پر اس سے کہیں زیادہ ذہین لڑکی ہے۔
اس کے ورک آؤٹ نہ کرپانے کا دکھ،کچھ ایچ۔ بی۔کے،کے دل میں بس گیا اس نے کہا “اگر وہ ایک بات کی اجازت دے تو وہ خالد صاحب کو کہہ کر اس کے لئے کسی کلب میں ورزش کا بندوبست کرادے گا۔”وہ اسے نہیں بتانا چاہتا تھا کہ اس کی فیس وہ کراچی سے بھجوادیا کرے گا۔۔
“خالد صاحب آپ کے دوست ہیں؟”۔ گڈو نے آہستہ سے سرک کر اس کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں نعمان صاحب کے دوست ہیں۔”ایچ۔ بی۔کے نے وضاحت کی
وہ اس کے مڑے ہوئے زانو پر سر رکھ کر اور اس کی ناف میں اپنی انگلی گھماتے ہوئے پوچھنے لگی “آپ بینکر ہیں؟ ”
کیوں؟
“وہ اس لئے کہ خالدصاحب نے کہا تھا کہ کراچی سے بینکر دوست آیا ہے؟ اپنی آمد کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس نے بتایا۔

“نہیں بینکر کا نام تو نعمان صاحب ہے ” ایچ۔ بی۔کے نے شناخت پریڈ مکمل کرتے ہوئے کہا
“وہ جو موٹی لڑکی کے ساتھ ہیں؟! “گڈو نے وضاحت طلب کی۔
ایچ۔ بی۔کے نے کمال احتیاط سے اسے گود میں سمیٹ لیا وہ بھی جذبہ خیر سگالی کے اس اظہار کے جواب میں اپنی بانہیں اس کی گردن میں ڈال کر اطمینان سے بیٹھ گئی۔لطف و کرم کے قافلے نے قیام مختصر کیا تو وہ پوچھنے لگا کہ ” اسے یہ کیسے اندازہ ہوا کہ اس کا موٹی لڑکی کے ساتھ والا دوست بینکر ہے؟”
“خالد صاحب کا مہمان جب بھی کوئی بینکر ہوتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی موٹی لڑکی ضرور منگواتے ہیں؟”گڈو نے مہمانداری کے وہاں مروج پروٹوکول کا راز کھولتے ہوئے بتایا۔
اس دوران ایچ۔ بی۔کے نے جب اس کے  دائیں شانے پر بو کی صورت بندھی ٹاپ کی ڈوری کھو لنا چاہی تو وہ مچھلی کی طرح پھرتی سے بستر پر گود سے لڑھک کر پلٹ گئی اور ہنس کر کہنے لگی کہ” مجھے جلدی اور ہلدی وونوں اچھی نہیں لگتے اسی لئے میں نے آنے میں بھی وقت لیا۔”
اس کی دسترس سے کچھ دیر کے لیے دور ہوجانے کے بعد بھی اس نے اپنی نگاہیں مہمان سرجن کے چہرے پر ہی مرکوز رکھیں اور فاصلے کا تاثر کم کرنے کے لیے ہاتھ بڑھا کر اس کی ریڈ باکسر کے ایلاسٹک پر لگے لیبل کو جو اس کے پیٹ کی شکن کے بوجھ تلے کچھ مڑ سا گیا تھا سیدھا کرتے ہوئے اپنی انگلی سے چھو کرکہا۔” یہ آپ کا نام لکھا ہے؟”
وہ ہنس کر کہنے لگا کہ ” اگر یہ نا م میرا ہوتا تو کراچی میں ایک آدھا اسکول میرے نام پر ہوتا اور لندن اور روم میں شایدمیرا دن بھی منایا جاتا۔”
“اچھا تو آپ کو دن بھی منانے کا شوق ہے میں تو سمجھی تھی کہ خالد صاحب اور ان کے مہمان صرف راتیں منانے کے شوقین ہیں؟!”
“آپ کو یہ کیوں شک ہوا کہ یہ میرے نام کا لیبل ہے۔؟”
“پچھلے ہفتے خالد صاحب کے ایک مہمان کراچی سے آئے تھے ان کا حلیہ بہت عجیب تھا۔قد تو مجھ سے بھی پورے چار انچ چھوٹا تھا مگر بغیر آستین کی فوجیوں والی جیکٹ اور جینز بڑے سے بیلٹ کے ساتھ پہنی تھیں۔ ہال میں داخل ہوتے ہی اودھم بھی بہت مچایا، جب کمرے میں اندر آگئے تو ایک پستول بھی جیب سے نکال کر میز پر رکھا تھا ان کی جینز کی ہپ پاکٹ اور جیکٹ کے سامنے   بڑا بڑا RAF لکھا ہوا تھا۔”
“رائل ائیر فورس۔” پینتالیس کے کراچی کے سرجن حسین بخش نے ایک اور دفعہ لاہور کی اکیس برس کی گڈو کے سامنے ہشیار بننے کی کوشش کی۔
“نہیں ” وہ پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے تقریباً چیخ کر کہنے لگی ” راشد احمد فاروقی”۔
اسی ہنسی کے دوران گڈو نے اسے آہستہ سے دھکیلتے ہوئے بستر پر لٹادیا اور خود اس کے کشادہ سینے پر لیٹ کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مونچھوں پر اپنی مخروطی لمبی انگلیوں سے پیانو بجانے لگی۔
میں نے راشد احمد فاروقی سے پوچھا کہ” یہ کیا ہے؟”
وہ کہنے لگا “میرا ن سگنیا Insigniaہے۔ میں کراچی کا ڈان ہوں۔”
ایچ۔ بی۔ کے کو بہت دنوں کے بعد دھیمی آنچ پر سلگتے کسی جواں بدن کی قربت میں باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ وہ اس سلسلے کو جاری رکھنے کی خاطر پوچھنے لگا ” گڈو سائیں آپ کواس کا حلیہ کیسے عجیب لگا؟ آرمی کی فٹیگ واسکٹ اور جینز،کمر میں بڑا پٹہ وغیرہ، یہ تو کراچی میں بڑانارمل لباس ہے”۔
“اس نے بپّی لہری کی طرح رات میں بھی دھوپ کا بڑا سا چشمہ، سونے کی تین چار چینیں بھی گلے میں ڈالی ہوئی تھیں اور ہاتھ کی ہر انگلی میں ایک پتھر والی انگوٹھی اور کلائی میں سونے کا ایک برسلیٹ بھی پہنا تھا جس پر آر۔ اے۔ ایف لکھا تھا ۔”
جان ابرہام کے وقت تو ایچ۔بی۔ کے سے گڈو کا تعارف نیا تھا اس لیے وہ اسے گڈو کی بجائے کرن پکار تا رہا۔مگر اب وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں تھے اور دیوار پر لگی گھڑی میں بمشکل ڈیڑھ بجا تھا تو اس نے سوچا کہ وہ بپی لہری کے بارے میں ضرور پوچھ لے۔آخر کار نالج از پاور۔

ایچ۔ بی۔کے نے اس کے گالوں پر اپنی انگلیاں الٹی چلاتے ہوئے ان پر لگے بالوں سے خفیف سی گد گدی کرتے ہوئے خود کو ایک تسلی دلائی کہ اگر وہ اس کے اگلے سوال پر مذاق اڑاتی ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ کونسا اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا ریکارڈ ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی پروفیسر کے عہدے پر ترقی نہیں ہو پائے گی۔”یہ بپی لہری کیا ہے؟”
” ہائے تو کیاآپ پڑھے لکھے نہیں؟!” گڈو نے اس کے سوال پر چونک کربے دھڑک پوچھ لیا۔
“اڑے اُلّو کی دم میں کراچی کا بہت بڑا سرجن ہوں، کولہوں اور ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کا اسپیشلسٹ” ایچ۔بی۔کے نے اس رات گڈو کو متاثر کرنے کی آخری کوشش کی۔
” کراچی کے اتنے بڑے سرجن اورآپ کو بپی لہری کا پتہ نہیں کہ وہ میوزک دیتا ہے؟”
“ابھی آپ میرے کو بتاؤ کسی کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ جائے یا ریڑھ کی ہڈی سرک جائے تو وہ بپی لہری کے پاس جائیں گا کہ سرجن حسین بخش قاضی کے پاس آئیں گا”
“سب کی ہڈیاں تو نہیں ٹوٹا کرتیں نا، مگر میوزک تو سب کو اچھا لگتا ہے”۔گڈو نے اس کی ناف میں  اپنے دائیں پیر کا انگوٹھا گھماتے ہوئے اسے ایک دفعہ اور غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *