• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • برطانیہ کا تاریک اندرون۔۔سٹی آف لندن/عمیر فاروق

برطانیہ کا تاریک اندرون۔۔سٹی آف لندن/عمیر فاروق

برطانیہ کا تاریک اندرون۔ سٹی آف لندن

برطانوی سلطنت کے دور میں لندن دنیا کا فنانشل مرکز تھا لیکن سلطنت کو ختم ہوئے مدت ہوئی لیکن آج بھی دنیا کا فنانشل مرکز یا عالمی سرمایہ داری کا گھر لندن ہی ہے دریں اثنا جرمنی جاپان اور امریکہ برطانیہ کی نسبت بہت بڑی معاشی قوتیں بن گئیں لیکن لندن کی حیثیت پہ فرق نہ پڑا حتی کہ بعض معاملات میں وال سٹریٹ بھی لندن کے اثرورسوخ کا مقابلہ نہین کرتی
آپ سے کوئی سٹی آف لندن کے میئر کا نام پوچھے تو آپ بلا تامل صادق خان کا نام لیں گے لیکن یہ جواب غلط ہوگا کیونکہ یہاں گریٹر لندن یا عرف عام میں لندن کے میئر کا نام نہیں پوچھا گیا بلکہ سٹی آف لندن کے میئر کا پوچھا گیا ہے جو چارلس بومین ہے۔

کیا وجہ ہے کہ بے شمار دفعہ مختلف عالمی فورمز پہ کالا دھن اور منی لانڈرنگ روکنے کی کوششوں کے باوجود اس کا کوئی فُول پروف حل نہ نکل سکا بظاہر یہ مسئلہ لاینحل نہیں لیکن حل نہین ہورہا
یہ تینوں سوالات بظاہر ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں لیکن گہرائی میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دراصل یہ برطانیہ کا مخصوص آئینی، قانونی اور انتظامی ڈھانچہ ہے جو آڑے آتا ہے۔ اس کا براہ راست تعلق سٹی آف لندن اور تاج برطانیہ کےماتحت جزائری کالونیوں کی خصوصی حیثیت سے ہے۔
تاج برطانیہ کے ماتحت ان جزائر مثلاً کیمین آئی لینڈ، ورجن آئی لینڈ، جرسی اوع جبرالٹر وغیرہ کو مکمل اندرونی خود مختاری حاصل ہے جہاں تاج کی طرف سے لیفٹیننٹ گورنر تاج کے نمائندہ کی حیثیت سے بہت سے انتظامی اختیارات کا مالک ہوتا ہے۔

ان کالونیز کا نظام بظاہر جمہوری ، صاف ستھرا اور ترقی یافتہ دنیا کی مانند ہے لیکن یہاں بینکنگ اور کمپنیز کے قوانین بہت کھلے اور آزاد ہیں۔ دنیا کا کالا دھن چاہے وہ ٹیکس چوری کا ہو یا جرائم ڈرگس یا کرپشن کا پیسہ ہو بالاخر ان کالونیز کے بینکوں کا رخ کرتا ہے۔ یہ اکاؤنٹ خفیہ بھی نہیں ہوتے اور نہ سوئس بینکوں کی طرح نام کی بجائے نمبر کا اکاؤنٹ ہوتا ہے۔ یہ اکاؤنٹ مختلف فرموں کے نام پہ ہوتے ہین جنہیں آف شور کمپنیز کہا جاتا ہے جو انہی کالونیز میں رجسٹر ہوتی ہیں۔ لیکن اصل مالک یا بینفیشرئ کی شناخت خفیہ رہتی ہے۔ یہاں برطانیہ کا سیکریسی کا مخصوص طریقہ استعمال ہوتا ہے جسے ٹرسٹی کہتے ہیں یہ عموماً کوئی لاء فرم ہوتی ہے ٹرسٹی کے پاس اصل مالک کی ہر معاملہ میں نمائندگی کا اختیار ہوتا ہے۔
مزے کی بات ہے کہ ان کالونیز میں کوئی رجسٹر آف ٹرسٹی موجود نہیں جہاں یہ ٹرسٹ رجسٹر کرانا لازم ہو کوئی بھی وکیل ٹرسٹ ڈیڈ تیار کرسکتا ہے اور اس کی پوری قانونی حیثیت ہوتی ہے۔ پھر اس آف شور کمپنی کی ملکیت میں مزید آف شور کمپنیاں ہوتی ہیں تاکہ اصل بینیفشری کی شناخت مزید الجھ جائے۔ اور کسی ذیلی کمپنی کے نام پہ اکاؤنٹ کھلوا کر یہ پیسہ جمع کرایا جاتا ہے۔
بنیادی ڈیل عموماً لندن میں ہی ہوتی ہے جہاں ان تمام لاء فرمز کے ہیڈ کوارٹرز ہوتے ہیں یہیں ان تمام بینکوں کے ہیڈکوارٹر بھی ہیں اس طرح ان کالونیز جنہیں ٹیکس ہیونز کہتے ہیں میں انہی بینکوں کی ذیلی شاخوں میں جمع کرایا گیا پیسہ بالاخر لندن سے ہی کنٹرول ہوتا ہے۔
اب سوال ہے کہ آخر شفافیت کے تمام تر دعووں کے باوجود کالے دھن کا یہ کھیل آزادی سے چل کیسے
رہا ہے۔ یہاں سٹی آف لندن کا رول سامنے آتا ہے قریبا ہزار سال قبل ولیم فاتح نے جب برطانیہ فتح کرکے جدید برطانیہ قائم کیا تو شہر لندن اس وقت بھی اپنی فصیلوں کے اندر موجود تھا ولیم نے شہر سے معاہدہ کیا کہ شہر اپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہوگا اور پارلیمنٹ میں شہر کا نمائندہ Rememberencer کے نام سے آج بھی موجود ہوتا ہے جو سپیکر کے پیچھے بیٹھتا ہے بنیادی طور پہ اس کا کام شہر کے مفادات کا پارلیمنٹ مین تحفظ کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ بہت طاقتور لابی ہے اور برٹش پارلیمنٹ کے بہت سے قوانین کا اطلاق اس سٹی آف لندن یا سکوائر میل پہ اطلاق نہیں ہوتا۔ گریٹر لندن کے موجود اس چھوٹے سے لندن سٹی کی اپنی الگ کونسل ہے جسکا انتظام کارپوریشن آف سٹی آف لندن چلاتی ہے۔
اس کے کل پچیس وارڈ ہیں جن میں سے صرف چار میں شہریوں کو ووٹ دینے کا حق ہے باقی اکیس وارڈز میں کارپوریشنز اپنے ملازمین کی تعداد کے تناسب سے ووٹ دیتی ہیں۔ چونکہ اس مربع میل میں لائیڈز لندن سے لیکر بینک آف لندن اور دیگر بڑے بینکوں کے ہیڈکوارٹر ہیں تو یہی بینکنگ کارپوریشنز عملاً پارلیمنٹ میں اپنے نمائندہ کا انتخاب کرتی ہیں یا شہر کے لارڈ مئیر کا۔ پارلیمنٹ میں انکا نمائندہ یا ری میمبرنسر انکا لابسٹ ہے شہری کارپوریشن کے پاس بے تحاشا فنڈ ہوتا ہے انکے تھنک ٹینکس ہیں، مین سٹریم میڈیا پہ انکا بے اندازہ اثرورسوخ ہے اور اسی طرح پارلیمنٹ پہ بھی یوں عملاً یہ کوئی ایسا قانون بننے ہی نہیں دیتے جو ان بینکنگ کارپوریشنز کے مفاد کے خلاف ہو اسی طرح بیوروکریسی پہ بھی انکا بہت اثر ہے پارلیمنٹ میں انکا نمائندہ روایتی طور پہ تاج کے بہت قریب رہ کر کام کرتا ہے۔ کونسی سی کراؤن کالونی میں کس کو گورنر مقرر کیا جائے وغیرہ میں انکی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *