• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شدت پسندی کا منطقی تجزیہ۔۔۔۔۔۔عتیق الرحمان/مقابلہ مضمون نویسی

شدت پسندی کا منطقی تجزیہ۔۔۔۔۔۔عتیق الرحمان/مقابلہ مضمون نویسی

شدت پسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ قبل اس کے کہ ہم شدت پسندی کی کسی مخصوص قسم پر بات کریں یا اس کے حل کی طرف جانا چاہیں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ شدت پسندی ہے کیا چیز ؟ اور یہ کیسے پیدا ہوتی ہے؟ جب تک ہم شدت پسندی کی تعریف کا تعین نہیں کریں گے تب تک اس کے اسباب کو تلاش کرنا یا اس کا حل پیش کرنا ممکن نہیں
شدت پسندی بنیادی طور پر ایک انسانی رویہ یا ذہنی رجحان ہے۔ ہر وہ شخص یا گروہ جو طاقت کے ذریعے اپنے خیال یا ایجنڈے کی تنفیض چاہتا ہے وہ شدت پسند ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ اس کا خیال یا ایجنڈا کیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو شدت پسندی اپنی اصل میں مکالمے سے انحراف یا بہ لفظ دیگر مکالمے کے خلاف مزاحمت کو کہا جائے گا

سوال یہ ہے کہ آخر ایک انسان کیوں کر شدت پسندانہ رجحان رکھتا ہے؟
آپ نے اپنی ذندگی میں بہت سے ایسے افراد دیکھے ہوں گے جو شدت پسندانہ ذہنی رجحان رکھتے ہیں۔ آپ اگر ان سب میں قدر مشترک تلاش کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر شدت پسند دو معاملات میں یکساں سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے پاس علم کم اور انفارمیشن / معلومات ذیادہ ہوتی ہیں اور یہ معلومات بھی یکطرفہ ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ہر شدت پسند اپنے مفروضے یا نظرئیے یا خیال کو حتمیت اور قطعیت کے درجے پر رکھتا ہے۔ شدت پسندی خواہ مذہبی ہو یا سیاسی اس کا نقطہ آغاز کسی نہ کسی نوع کے تعصب سے ہوتا ہے۔ مذہبی شدت پسندی کا آغاز مذہبی تعصب سے ہوتا ہے۔ مسلکی تعصب مسلکی شدت پسندی پر منتج ہوتا ہے تو لسانی یا گروہی تعصب لسانی یا گروہی شدت پسندی کا باعث بنتا ہے۔

اس اعتبار سے ہم شدت پسندی کی تعریف کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ متعصبانہ سوچ جسے جبرا ً معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے فی الاصل شدت پسندی ہے۔ لغوی اعتبار سے شدت پسندی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ انسانی رویہ جس میں سختی ہو ۔ یعنی کوئی فرد یا گروہ اپنے نظرئیے یا مفروضے پر مکالمے کی بجائے مجادلے کو فوقیت دے تو اسے شدت پسندانہ رجحان کہا جائے گا۔ شدت سے مراد سختی۔ مضبوطی۔ یا تیزی ہے۔ اس کا تعلق براہ راست انسان کے ذہنی رجحانات سے ہے اس کو انتہا پسندی بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر انتہا پسندی کو شدت پسندی سے اگلے درجے کی چیز سمجھا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کو انگریزی میں ایکسٹریم ازم اور انتہا پسند کو ایکسٹریمسٹ کہا جاتا ہے ۔ چونکہ چیزیں اپنی اضداد کی وجہ سے اپنا مفہوم واضح کرتی ہیں اس لئیے جب ہم شدت پسندی کا اندرونی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کا ایسا متضاد نہیں ملتا جو اس کی قدر کے تعین میں معاون ثابت ہو۔ تاہم اعتدال پسندی۔ عدم تشدد۔ روشن خیالی۔ رواداری۔ برداشت۔ صبر و تحمل۔ رحم و نرمی۔ جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار و تصورات کو اس کے بالمقابل پاتے ہیں۔ شدت پسندی کے متضادات اپنے بطون میں خیر کا عنصر لئیے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ اخلاقی آدرشوں پر مشتمل ان صفات کی موجودگی میں معاشرے پر شدت پسندی کا غلبہ بہت مشکل ہے۔ پھر کیوں ہمیں ہر گام پر شدت پسندانہ رویوں سے واسطہ پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب شدت پسند اذہان کے نفسیاتی تجزئیے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔انفرادی طور پر شدت پسند افراد کا مسئلہ نفسیاتی ہوتا ہے۔ افراد عام طور پر مختلف ذہنی رجحانات کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی کسی ایک فعل کے مختلف انسانوں پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ اسے ہم ایک تمثیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لال مسجد آپریشن ایک واقعہ تھا اس واقعے کے رد عمل میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں خودکش بمبار تیار ہوئے۔ بہت سوں نے اس واقعہ کو درست اقدام قرار دے کر اس کی حمایت کی۔ بہت سوں کا خیال تھا کہ اس واقعے سے بچا جا سکتا تھا لیکن مناسب کوشش نہیں کی گئی۔ بہت سوں نے اس واقعے کے پس پردہ سازشی تھیوریاں ڈھونڈ نکالیں۔ الغرض درجنوں اقسام کے ردعمل سامنے آئے۔ جن میں شدت پسندانہ ردعمل بھی موجود تھے ۔ثابت یہ ہوا کہ شدت پسندی بالعموم کسی عمل کے اس رد عمل کا نام ہے جس کی شدت عمل کے کم از کم مساوی یا اس سے زیادہ ہو۔اس زاوئیے سے ہم شدت پسندی کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ ’’ہر وہ ردعمل جس کی شدت عمل کے مساوی یا اس سے کہیں زیادہ ہو شدت پسندی کہلائے گی‘‘ اس ضمن میں ایک ایسا مسئلہ بھی پیدا ہوا جس نے شدت پسندی کو ختم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ۔وہ تھا شدت پسندی کی اصطلاح کا غلط استعمال یا مخصوص مقاصد کے حصول کے لئیے شدت پسندی کی اصطلاح کا استعمال ۔ میڈیا کے ذریعے خاص طور پر مغربی میڈیا نے شدت پسندی کے اپنے الگ معیار مقرر کر لئیے۔ اور ہر اس فرد کو جو مغربی یلغار سے خائف تھا یا اس کی راہ میں مزاحم تھا اسے شدت پسند قرار دے کر اس اصطلاح کو مشکوک بنا دیا۔ جس کے نتیجے میں شدت پسندانہ سوچ ابھر کر سامنے آئی ۔ بلکہ بعض شدت پسند گروہوں نے شدت پسندی کے الزام کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔

یہی وہ مرحلہ تھا جب شدت پسندی نے معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ جیسا کہ شدت پسندی کے منطقی تجزئیے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ شدت ہسندی ازخود کسی شخص کا فکری و ذہنی رجحان نہیں بلکہ کسی مخصوص واقعے کے نتیجے یا رد عمل میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ اس کے تدارک کے لئیے ضروری تھا کہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جاتا تا کہ ہر انسان اس کے مقابلے میں خیر پر مشتمل اخلاقی اقدار کی جانب راغب ہوتا۔ بدقسمتی سے نائن الیون کے بعد اس اصطلاح کا بہت زیادہ غلط استعمال اس کے فروغ کا باعث بنا۔ ابھی تک ہم نے شدت پسندی کو بحیثیت مجموعی دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے ابھی ہم اس کی ذیلی اقسام کی طرف نہیں گئے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *