• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • سپین، 13 ہلاکتیں، دوسرا دہشت گرد حملہ ناکام، ملک میں سوگ

سپین، 13 ہلاکتیں، دوسرا دہشت گرد حملہ ناکام، ملک میں سوگ

اسلام آباد(انٹرنیشنل مانیٹرنگ ڈیسک)سپین میں پولیس کا کہنا ہے کہ کیمبرلز میں ہونے والے ایک اور دہشت گرد حملے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کم از کم پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ان مشتبہ افراد کا تعلق گذشتہ روز شہر بارسلونا میں ہونے والے حملے سے تھا۔ بارسلونا حملے کے ذمہ داری خود کو دولت اسلامیہ(داعش) کہلانے والی دہشت گرد تنظیم نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ہسپانوی میڈیا نے 18 سالہ موسیٰ ابوبکر کو مشتبہ شخص بتایا ہے۔ موسیٰ ابوبکر، دریس ابوبکر کے بھائی ہیں جن کے کاغذات مبینہ طور پر حملے میں استعمال کی جانے والی وین کو کرائے پر حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔اس سے قبل پولیس کے مطابق جمعرات کو بارسلونا میں ایک نامعلوم شحض نے اپنی وین سے راہ گیروں کچل دیا تھا۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ڈرائیور فرار ہو گیا تھا۔سپین کے وزیراعظم نے اس واقعے کوجہادیوں کا حملہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ایک دوسرا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹس پہنی ہوئی تھیں۔کیٹلن ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والے اس دوسرے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت سات افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک شخص کی حالت نازک ہے۔حکام بارسلونا اور کیمبرلز کے حملوں کے تانے بانے بدھ کو ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے جوڑتے ہیں، جس میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلیں جبکہ کیمبرلز کی بندرگاہ پر گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔اس سے پہلے جمعرات کی شام کو بارسلونا میں ایک گاڑی کے پیدل چلنے والوں پر چڑھ دوڑنے سے 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *