• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لہو بسمل کا مقتل کی زمیں پر۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

لہو بسمل کا مقتل کی زمیں پر۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

SHOPPING
SHOPPING
speciaal sale

سعودی صحافی جمال خشوگی جی کی ہلاکت سے متاثر ایک خیالی کہانی۔صرف خاتون کردار کا خیالی خاکہ (نامکمل ہے)

میرا نام ایمل ہے۔ میں مقتول سالم جبیر کی دوست تھی، کچھ لوگ نادانی میں مجھے اس کی منگیتر بھی کہتے ہیں۔۔ ۔ہمارے گھرانے کے افراد کا تعلق ممالک یعنی تین ترکی،قبرص اور یونان سے ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ قریبی رشتہ دار تینوں ممالک میں منقسم ہیں۔اس کی وجہ ہماری دو نسلیں ہیں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں کہ شادی کے لیے اپنے ملک میں کوئی مرد یا عورت دستیاب نہیں ہوپاۓ۔ پہلے میں اس بارے میں اتنا سوچتی نہیں تھی۔آج کل میرے پاس سوچنے کو بہت وقت ہے۔

مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ بحیرہ اسود سے تیس کلو میٹر دور یہ ترکی کا شمال مشرقی علاقہ ہے۔اس کا نام آرٹ ون ہے۔جس پہاڑی پر مجھے لاکر رکھا گیا ہے وہ کورو دریا کے عین اوپر واقع ہے ۔یہاں ان کی فوجی تنصیبات ہیں۔ان کی ایک بٹالین یہاں موجود ہے۔عجیب قسم کے فوجی ہیں۔استنبول جہاں میرا زیادہ تر قیام رہا ہے وہاں اس طرح کے لوگ میں نے بہت کم دیکھے۔انہیں ہیمشن کہتے ہیں پہلے یہ کبھی آرمینی عیسائی تھے اب اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔مرد اور خواتین دونوں حسین ہوتے ہیں۔

آرٹ ون
دیرنر ڈیم آرٹ ون_
ہیمشن
ہیمشن

اس علاقے کی اپنی تاریخ ہے جنگ و جدال سے بھرپور، آرمینی ، روسی،اور ترکی۔تین قومیتیں، تین مذاہب یہاں ایک مدت سے برسرپیکار رہے ہیں۔1921 میں روسی یہاں سے ایک معاہدے کے تحت چلے گئے تو یہاں ترکی کا مکمل تسلط ہوگیا۔
مجھے یہ بلاوجہ ایک انٹرنیشنل تنازعے میں گھسیٹ لائے ہیں۔میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس  چشم طوفان میں آن کر کھڑا ہونے میں قصور میرا اپنا ہے یا میرے ادارے کا۔مجھے یہاں ایک سہولت دی گئی ہے کہ میں شام کو واک کروں۔میری والدہ کو بھی یہاں مجھے ساتھ رکھنے کی اجازت دی گئی۔میری واک پر نگرانی کے لیے ان کی دو ہیمشن خواتین افسر ہوتی ہیں،موسم اچھا   ہو تو یہ مجھے دریا میں کشتی رانی بھی کرنے دیتے ہیں۔یہاں میرا کسی سے رابطہ بھی نہیں۔جس دن سالم جبیر کا قتل ہوا یہ مجھے گرفتار کرکے پہلے قونیا ایک ہسپتال میں لے گئے وہاں میری پلاسٹک سرجری کی گئی۔جب میری امی وہاں آرٹ ون پہنچائیں گئیں تو انہیں بھی مجھے پہچاننے میں کچھ وقت لگا۔میرے بال سیاہ سے بھورے ہوگئے ہیں اور ناک اور ہونٹ بھی پتلے کردیے گئے ہیں سینہ اور کولہے بھاری ہوگئے ہیں۔

آرٹ ون میں میری کشتی

صحافی سالم جبیر سے میری دوستی لندن میں ہوئی تھی۔میرے ادارے کے بڑوں کو اس بات کا پتہ تھا۔یونی ورسٹی آف ویسٹ لندن میں انہی  نے کھانے پکانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ مجھے ترکی اور عربی کی مہارت حاصل کرنے بھیجا تھا۔ میں اس تربیت کے بعد استنبول کے ایک بڑے ہوٹل میں بیکری کی انچارج بنادی گئی۔تنخواہ اچھی،آزادی بہت ۔سالم جبیر جب ترکی آیا تو مجھے اس سے روابط قائم کرنے کو کہا گیا۔ہم ساتھ ہوتے تھے۔

سچ پوچھیں تو میں اپنے ادارے کے کسی بڑے سے کبھی نہیں ملی۔اس لیے مجھے نہیں پتہ کہ سالم جبیر کی موت کیوں کر ہوئی۔اس دن میری چھٹی تھی۔وہ رات میرے پاس ہوٹل میں ہی تھا،صبح کہنے لگا مجھے سفارت خانے میں کام ہے۔ تم بھی چلو۔میں چلی گئی ۔وہ عمارت کے اندر چلا گیا ۔میں قریب ایک ریستوران میں جاکر بیٹھ گئی ۔ایک گھنٹہ انتظار کیا۔ ۔فون کیا تو فون بند، میرا دوست ضرور تھا مگر میرے کام میں غیر ضروری سوال اور دل چسپی fatal error سمجھی جاتی ہے ۔میں نے چپ سادھ لی ۔بعد میں جو کچھ ہوا وہ میرے لیے بھی ناقابل یقین ہے

سالم جبیر کو مارنے کو کہتے تو میرے بلغارین مافیا والوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ان کے لوگ جب یونان میں کہیں سینگ پھنسا لیتے ہیں تو میں ہی ان کی مدر ٹریسا بنتی ہوں ترکی کے اسمگلروں  سے بھی اچھے روابط ہیں اور انڈر ورلڈ کے بڑے تو میرے کیکس کے عاشق ہیں عاشق ہیں آج کل یہاں دولت اسلامیہ والے بھی ویلم ویلے بیٹھے ہیں ہر وقت کہتے ہیں باجی ایمل کوئی کام کاج،کوئی خدمت۔۔ ایسے کرائے کے قاتلوں کی یہاں بھرمار ہے .وہ میرے لیے سالم جبیر کو نامعلوم قاتل کے ذریعے یہ قتل کرادیتے اور اس کے بعد میری  طرف سے پارٹی ۔دوستی بھی تو کسی شے کا نام ہے۔ آپ استقلال اسٹریٹ کا رش تو دیکھیں۔میں سالم کو کسی بہانے وہاں آنے کو کہتی،چھپ کر اس کی شناخت کرتی۔کچھ دیر بعد قریب کی گلی سے کوئی زہر والا خنجر گھونپ کر چلا جاتا۔اس دوران میں مزے سے آئس کریم والے کی چہلوں کا لطف لیتی۔نہ کوئی گواہی۔اسی رات ہم انجمن قتال ہنس ہنس  کر کھانا کھاتے۔مرنا مارنا میرے لیے کوئی نیا کھیل نہیں۔

استقلال اسٹریٹ میں شام
حاطے ریستوراں
استقلال اسٹریٹ میں آئس کریم

میں جانتی ہوں آپ کے ہاں اسے مذاق سمجھا جائے گا مگر میرا تعلق واقعی محکمہء زراعت سے ہے۔میری تعلیم بھیDoctor of Veterinary Medicine  میں ہے۔اپنی اس ڈگری کے حصول کے لیے جانے سے دو سال پہلے ہوا یوں کہ مجھے اپنے محلے کے ایک لڑکے سے عشق ہوگیا۔ فرسٹ لو۔پاگل پن کا دوسرا نام۔ ہم تازہ تازہ یونان ہجرت کرکے آئے تھے۔شہر تھالامیہ۔پہلے ہم قبرص سے انطالیہ،وہاں سے ازمیر اور وہاں سے ایتھنز اور پھر لامیہ۔عشق مجھے ایتھنز میں ہوا تھا۔ابا کو وہاں فوراً پولیس میں نوکری مل گئی۔

لامیہ یونان
سیاح یونان میں

میرا یہ عشق ذرا خوار کرنے والا تھا۔اماں ابا کو سمیع اچھا نہیں لگتا تھا۔ہمارا گھرانہ مذہبی نہیں،سال میں کوئی ایک دفعہ چرچ چلا جائے تو اس پر باتیں ہوتی تھیں مگر وہ البانیہ اور کوسو اور جانے کہاں سے تھا مسجد روزے سے دور پرے کا کوئی تعلق نہ تھا مگر ابا کو پتہ لگ گیا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔ یوں میرے اس تعلق کو بہت پسند کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا تھا ۔اس کے ساتھ باہر جانے پر سوال جواب ہوتے تھے جب کہ دیگر رشتہ دار لڑکیوں کو اس رکاوٹ کا سامنا نہ تھا ۔اسی کے عشق میں مجھے جم جانے اور تائی کنڈو سیکھنے کا شوق ہوا اور میں تھائی لینڈ کی کک باکسنگ موئے تھائی اور کورین تائی کینڈو ملا کرKun Gek Do سیکھ گئی اور جونیر کیٹگری میں سرخ بیلٹ تک جاپہنچی۔

تائی کینڈو

تب نائن الیون نہیں ہوا تھاسمیع کو ایک دن دوست کی کار چلاتے ہوئے ایک ادھیڑ عمر کی امریکی سیاح عورت مل گئی وہ کم بخت کو ایسا اچھا لگا کہ وہ اسے امریکہ لے گئی۔مجھے بتایا تک نہیں۔مجھے پہلی دفعہ لگا کہ ابا مسلمانوں کو ٹھیک برا سمجھتے تھے۔میرے  جسم و جاں اور جذبات کا وہ پہلا حوالہ تھا۔ میں ان دنوں سولہ سال کی تھی مجھے تو اپنا کنوار پن ٹھیک سے برتنے کا موقع بھی نہ ملا۔دو سال میں ہماری رفاقت کے شب و روز ایسے تھے کہ میری طرف سے کبھی انکار نہ تھا اور اس کی جانب سے جدوجہد کا  مظاہرہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔مجھ سے یوں بھی پورے چار سال بڑا تھا۔

ہم عورتوں کا ایک عجب مسئلہ ہے پہلا مرد دھوکا دے تو بدن اور روح کے کئی حوالے ماند پڑجاتے ہیں۔میری امی کہتی تھیں کہ جانو جذبات کا کینسر ہوگیا،روح کا میجر ایکسڈنٹ ہوگیا، زندگی کی کار ٹوٹل ہوگئی،باڈی، انجن سب نیا۔یہ راز دوسرے نہ بھی جانیں تو عورت کو پتہ رہتا ہے  کہ وہ وہ ری کنڈیشنڈ اور ری فربشڈ ہوگئی ہے۔

جس رات وہ وعدے کے مطابق  اس ادھیڑ عمر کی سیاح خاتون جس کو وہ لے کر جزیرہ کورفو گیا تھا وہاں سے واپس سے نہ لوٹا تو مجھے دل میں ایک خلش سی محسوس ہوئی مگر یہ سوچ کر کہ سیاحوں کے  پروگرام بدلتے رہتے ہیں میں خود بھی لامیا میں(UTH The University of Thessaly )چلی گئی۔میں نے آپ کو پہلے بتایا ہے نا کہ میں ڈنگر ڈاکٹر ہوں Doctor of Veterinary Medicine۔

کارفو جزیرہ

ایک نئے طالب علم کے لیے نئے شہر میں نئے  مضمون کے اس یونیورسٹی میں بہت دباؤ بھرے تقاضے ہوتے ہیں۔Larissa-Karditsa جہاں ہمارا کیمپس تھا وہ نہ خود آیا نہ کوئی خط،نہ فون۔میرا خیال تھا کہ ماہ دو ماہ کی دوری سے عشق کی آگ اور بھڑکے گی مگر ایک ماہ بعد جب میں ایتھنز آرہی تھی تو بس کے اڈے پر اس کی بہن مل گئی۔اس نے بتایا کہ سمیع آسٹن ٹیکساس چلاگیا ہے اور وہاں اس نے شادی کرلی ہے۔
مجھے بہت دکھ ہوا۔ عجیب بات تھی مگر میں نے سوچا سمیع کا بدلہ کسی نہ کسی مرد سے لینا ہوگا۔
ان کم بختوں کو بھی تو پتہ چلے کہ ایسی بے وفائی پر عورت کس کرب سے گزرتی ہے۔عشق اور سیکس میں تمام ذی روح مادائیں بہت محتاط شاپنگ کرتی ہیں۔ہمارے کریڈٹ کارڈ میں مردوں یا نر جتنا بیلنس نہیں ہوتا۔آج اس کے بستر میں تو کل اس کی بانہوں میں۔اس میں عورت،بلیوں اور چڑیوں کی قید نہیں۔ہمارا تو معاملہ ایسا ہے کہ ایک بچہ پیٹ میں آیا اور زندگی پر ذمہ داری کا بار گراں ٹوٹ پڑتا ہے۔ہم تو الفا میل ڈھونڈتی ہیں اب ہمارا انتخاب ہی الفا میل کی جگہ کوئی لوزر لُل بشیرا نکلے تو ہم نے کی کھٹیا وٹیا۔(سرائیکی کھایا کمایا جیتا)۔

دوسرا سبق جو میں نے اس ناکامی میں سیکھا۔ لیکن رکیے کیا یہ میری ناکامی تھی کہ اس کی دھوکہ دہی۔اس بحث کا کیا حاصل۔وہ سبق یہ تھا کہ تعلقات جو خون کے رشتے سے نہ جڑے ہوں وہ مفادات کی سرزمین میں پلتے ہیں۔اپنے پلانز کسی کو مت بتاؤ۔ اپنے خواب کسی سے مت شئیر کرو۔سب سے پہلے خواب مرتے ہیں۔ایک تعلق میں دو جنازے کون اٹھائے ہجر کا جنازہ اور اس کے ساتھ پیار کی ارتھی۔
یونی ورسٹی کے دن جلد ختم ہوگئے ۔
وہیں لاریسا میں ایک سرکاری فارم پر مجھے نوکری مل گئی۔ اپنی ایک دوست زوئے کے ساتھ میں ایک رات کسی بار میں تھی، ہم نے پی ہوئی تھی۔ شراب کے طاری سرور نے شوخی کا لیور بھی کس کر ہی کھینچ دیا تھا با،ر بند ہوئی اور ہم دونوں باہر نکلے تو وہاں آئے ہوئے ایک سیاح کو ہم اپنے کم کم لباس کی وجہ سے گیم لگے۔ اس کی بدتمیزی اور دست درازی کو روکنے کے لیے میں نے اپنا پرانا ہنر آزمایا اور اس کی خوب ٹھکائی کی۔میری اس دوست کے والد کے بارے میں مجھے پتہ تھا کہ وہ National Intelligence Service (NIS) لامیہ میں کسی بڑے عہدے پر تھے۔ تین دن بعد ان کے گھر کھانے پر مجھے بھی بلایا گیا تھا۔مجھے لگا زوئے نے میرے بارے میں اس رات کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھی طرح بتادیا تھا۔انہوں نے صرف اتنا کہا  ،ایمل تمہارا چہرہ ایسا ہے کہ یہ تمہیں بہت ممتاز نہیں بناتا۔بھیڑ میں گم ہوجانے والا وجود لگتی ہو۔ہر چند کہ تمہاری ذہنی  اور جسمانی تربیت ایسی ہے کہ اس کی فارم کے جانوروں سے زیادہ سرکار کے جانوروں کو ضرورت ہے۔

لارسیا کردستا

اگلی صبح مجھے میرے محکمے کی سربراہ نے کہا کچھ خاص کام ہے جس میں مجھے ان کے ہمراہ ایتھنز جانا ہوگا۔ میں اپنی رہائش گاہ بھی خالی کردوں۔ایتھنز میں وہیں   دو عورتوں اور مرد نے میرے بارے میں سوال جواب کیے اور مجھے وزارت زراعت میں ایتھنز بھجوادیا۔ ایک ماہ تک میرا تقرر محکمہ زراعت کے بین الاقوامی پالیسی کے ادارے میں رہا اور دو ماہ انہوں  نے مجھے ایک ایسی ٹیم سے روشناس کرایا جو یونان کی جانب سے مختلف ممالک میں ہوٹلوں اور سفارت خانوں کے رابطوں میں تھی۔یہیں مجھے چھوٹے ہتھیار چلانا سکھائے۔دیگر زیر تربیت افراد کے لیے شاید یہ مارشل آرٹس کے پروگرام پر مختلف کیمیکلز کے  انسانی جسم پر اثرات کے لیے شاید مجھے زیادہ محنت نہیں کرائی گئی۔ایک ڈنگر ڈاکٹر ہونے کے حساب سے مجھے ادویات کے اثرات کا زیادہ بہتر علم تھا۔میری دشواری کا آغاز اس وقت ہوا جب ماہر نفسیات نے سمیع کے حوالے سے میرے رویوں اور ردعمل پر ایک مفصل رپورٹ دی۔

یوں تو میں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ میں اپنے اور سمیع کے حوالے سے زبان بند رکھوں گی۔لامیا میں جو ہماری سپروائزر تھیں وہ مجھ سے بہت ہمدردانہ رویہ رکھتی تھی۔سب ہی انہیں آنٹی کہا کرتے تھے۔میری دوست زوئے جس کے ساتھ مل کر ہم نے اس سیاح کا بھرکس بھر دیا تھا صرف وہ ایک ایسی دوست تھی جسے اس حوالے سے سب کچھ علم تھا۔وہ یونی ورسٹی ہاسٹل میں ہر وقت میرے ہی کمرے پر موجود رہتی ہم کئی دفعہ چرس کے سوٹے بھی مارلیتے تھے۔مجھے لگتا ہے ایسے ہی کسی غیر محتاط لمحے میں   یہ بات  میرے منہ  سے نکل گئی  تھی کہ مجھے سمیع پر ایسا غصہ ہے اور دل میں انتقام ہے کہ اس سمیت میں تین چار مردوں کو قتل کردوں تو میرے ہاتھ نہیں کپکپائیں گے۔

نفسیاتی تجزیے کے لیے جس ڈاکٹر صاحبہ نے رپورٹ بنائی یعنی ڈاکٹر ایکاشیا وہ بہت منکسر المزاج اور نرم گفتار تھیں۔میرے انٹرویو کے دوران آنٹی بھی موجود تھیں۔آنٹی ہی نے مجھے شہہ دی کہ میں سمیع کے بارے میں بھی زبان کھولوں۔یہ قومی فریضہ ہے۔مہاجرین نے یونان میں بہت بگاڑ کیا ہے۔ترکوں سے تو یوں بھی ہم بہت ناراض ہیں۔ ممکن ہے  کہ  تمہارے ذریعے کچھ ایسے ڈھکے چھپے معاملات سامنے آجائیں جس سے ہمیں ان پر واچ لگانے اور پالیسی بنانے میں کچھ سہولت مل جائے۔زوئے نے مجھے لگا کہ ڈاکٹر ایکاشیا کو کچھ زیادہ ہی تفصیلات سے آگاہ کیا ہوا تھا۔

میرے انٹرویو کے اختتام پر ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ مجھے آنٹی اور زوئے کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کی وجہ سے وہ مجھے ہائی پرفارمر کی  پروفائل ریٹنگ دے رہی ہیں۔
انہیں دنوں جب  مجھے زیادہ تر پرانے ایجنٹوں کے ساتھ گراؤنڈ پر مختلف آپریشنز کی تربیت کے مراحل سے گزارا جارہا تھا مجھے تین ہفتے کے لیے وزارت خارجہ میں بھیج دیا گیا۔یہ ہمارا امریکن سیکشن تھا۔یونان کے معاشی حالات دگرگوں تھے۔سیاح بھی آنے سے ہچکچا رہے تھے۔ایتھنز میں کئی بڑے ہوٹلز چینز نے اپنی سہولیات فولڈ کردی تھیں۔مجھے بتایا گیا کہ ایک امریکی وفد آنے کو ہے۔ان کے ساتھ ہمارے دو بڑے تجارتی گروپ سیاحت کے فروغ میں تعاون کریں گے۔

پارٹیوں کی بات اور ہے چھوٹی موٹی چھیڑ چھاڑ کو بھی اس  میں شامل کرلیں مگر پچھلے پانچ برس سے میں تقریبا ً مردوں کی دسترس سے دور تھی۔کوئی احساس محرومی بھی نہ تھا۔کام کیرئیر،جنس مخالف کی جانب سے شدید دلچسپی کی غیر آسودہ قلت۔ آپ جسے چاہیں الزام دے لیں۔جانے کیوں مجھے سمیع کے بعد اپنے ہم عمر مردوں سے یکسر ایک بے گانگی اور دوری محسوس ہونے لگی تھی۔مجھے ایک خوف سا آنے لگا کہ ان کی توانائی کی وجہ سے مجھ سے رفاقت کے بہترفیصلے نہیں ہوپائیں گے۔

مجھے اب ایک ایسے گرو اور رفیق کی تلاش تھی جو بدن کے معاوضے کے بدلے مجھے رفاقت اور ٹھہراؤ بھری لطافت سے آشنا کرے۔جسے میری طرح کوئی جلدی نہ ہو۔جس کے وسائل بہتر اور سوچ پختہ ہو۔
میری وزارت خارجہ کی تعیناتی کے عرصے میں ایک سرمایہ کار وفد امریکہ سے آیا ہمارے دو کاروباری گھرانے اور امریکہ سے آئے تین تاجر جن میں سے دو کو تو آپ یونانی ہی سمجھیں البتہ تیسرے صاحب یعنی این ریکو کا تعلق امریکہ کے کسی اطالوی گھرانے سے تھا۔
مجھے ان کا یہ نام زبان پر اس وقت بچوں کی ٹافی جیسا محسوس ہوا جب میں نے انہیں پیار سے غور سے اپنے عرصہ ء مردانہ بے گانگی کو شمار کرکے،بدن میں اٹھتے شعلوں کی حدت کو محسوس کرکے دیکھا۔آپ نے انڈیانا جونز والے اداکار ہیریسن فورڈ کو دیکھا ہے۔ان کی ایک خوبی مجھے ہمیشہ یہ دکھائی دی کہ وہ جب چاہیں بہت شائستہ پروفیسر،بڑے ڈاکٹر جیسے اور جب چاہیں ایک رف مہم جو مرددکھائی دیتے ہیں جس کی دلیری اور دلکشی کا جادو موقع آنے پر سر چڑھ کر بولتا ہو۔
ریکو ایسے ہی تھے۔

بدمعاش ہیری سن فورڈ
پروفیسر
ڈاکٹر

شاید وزارت خارجہ کے افسر مہمانداری نے   میرے جذبات کو  پہلی ہی نظر میں محسوس کرلیا اور فیصلہ صادر کیا کہ ایتھنز والے گروپ کو وہ خود سنبھالیں گی مگر کورفو کے جزیرے میں سیاحت کے معاملات کے لیے میں ریکو میاں کو ساتھ لے کر جاؤں گی۔
کورفو آپ کو بتادوں کہIonian Sea میں البانیہ کے قریب ہمارا ایک بہت حسین مجموعہ جزائر ہے۔سیاحوں کا پسندیدہ مقام۔ریکو کا خیال تھا کہ امریکہ کے وہ جرائم پیشہ گروپ جن کے پاس بہت سے Slush fund لاطین امریکہ میں پڑے ہیں ان کو دوبارہ امریکی معاشی نظام سے جوڑنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کو یونان کے اس جزیرے میں جوڑدیا جائے۔یوں تو دن میں دو تین فلائٹیں کورفو جاتی ہیں مگر جب National Intelligence Service (NIS) والوں نے اپنا چھوٹا سا جہاز ریکو میاں کو دیا تو مجھے لگا کہ فلک کو پہلی دفعہ  صحیح  معنی میں دل جلوں سے کام پڑا ہے۔جہاز ہمیں دو دن کے لیے چھوڑ کر واپس آگیا۔ریکو بہت دل چسپ آدمی تھا۔اسلحہ بھی ساتھ رکھتا تھا۔سگ ساور کا پستول بھی ۔

کورفو کا بازار
سگ ساور

ریکو نے شاید امریکہ سے ہی کچھ افراد سے معاملات طے کررکھے تھے۔میرا رول زیادہ ترجمان کا رہا۔سارا معاملہ ایک سے دو گھنٹے میں  نمٹ گیا۔سارا دن ہم ساحل سمندر پر نہاتے رہے۔عجب بات ہے کہ ہم دونوں نے اس رات بستر میں اعتراف کیا کہ یہ پیار ہرگز نہیں۔یہ بہت پروفیشنل سا تعلق ہے لیکن اس میں پسند اور سرپرستی شامل ہے۔وہ مجھ سے کوئی ایسی فرمائش بھی نہیں کرے گا جو میرے لیے جذباتی یا پیشہ ورانہ دشواری کا باعث بنے ۔اس کی ایتھنز سے روانگی کے ایک ہفتے بعد جب میں واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر باہر آئی تو وہ مجھے لینے آیا ہوا تھا۔Sherman Kent School for Intelligence. میں میری دو ماہ کی تربیت کا بندوبست اسی نے کیا تھا۔یہ ریسٹون ریاست ورجینیا میں سی آئی اے کا تربیتی ادارہ تھا۔مجھے ٹھہرنے کا آپشن اس نے دیا کہ یا تو میں وہیں کسی ہوٹل میں ٹھہروں یا اس کے جارج ٹاؤن والے گھر پر۔گھر سے اچھا مہمان کو کہاں مزہ آئے گا۔مہمانداری کا لطف لوٹنے میں میرے اندر ایک خاص کمینہ لبھاؤ ہے۔آپ تو مدتوں نہیں جان پائیں گے اس راز کو۔

Shermon Kent School

ٹریننگ بہت دل چسپ تھی۔کثیرالاقوامی  اسکول میں ہمیں بتایا گیا کہ لوگ جاسوس کیوں بنتے ہیں۔فلموں میں ان جاسوسوں کا کردار جیمز بانڈ،انڈیانا جونز جیسا ہوتا ہے مگر کولمبو اور پنک پینتھر جیسے جاسوس بھی کامیاب ہوتے ہیں۔جاسوس خود کو بہت کنٹرول میں اور دوسروں کو اپنے آگے بہت کمزور اور ناسمجھ دیکھتا ہے۔وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اس  میں پیسہ بھی ملتا ہے۔
جو بی بی لیکچردینے آئی تھی اسی نے انکشاف کیا کہ مالی طور پر جاسوسی بینکر سے کم منافع بخش کام ہے۔ دولت کمانی ہو تو دولت کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ ڈرگ کا کام جاسوس سے کم خطرناک مگر مالی طور پر زیادہ فائدہ مند اور پر لطف ہے۔ایک بہت بڑے مشن میں جان جوکھوں میں ڈال کر جاسوس جو کماتا ہے وہ ڈرگ والیوں کی گرل فرینڈز اپنی برا میں آسانی سے چھپاسکتی ہیں۔ طوائفوں اور رقاصاؤں کو ان کی عطا کردہ ایک رات کی  ٹپ جاسوس کی عمر بھر کی کمائی پر بھاری ہوتی ہے۔
یہ جاسوسی والا معاوضہ تو بہت small change ہے۔
کسی نے نظریاتی وابستگی کو بطور جواز پیش کیا تو کہنے لگی کہ وہ دن لد گئے۔اب مال اور دھندے سے بڑا کوئی نظریہ دنیا میں رائج نہیں۔شاید وہ زیر تربیت کوئی ایرانی لڑکی تھی جس نے کہا تھا کہ انتقام اور شوق بھی اس پیشے کے محرکات میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔

ایرانی لڑکی کا جواب پسند کیا گیا کیوں کہ جاسوس خود کو ایک ایسا ذہین فردمحسوس کرتا ہے جو اپنی ساری زندگی جھوٹ اور سچ کے درمیان جی کر خوشی محسوس کرتا ہے۔حب الوطنی کو اس میں منہا کردیں۔کم فلبی کو تو اس کے وطن نے بہت کچھ دیا تھا۔اس نے اور دیگر ساتھیوں نے غداری کیوں کی۔
وہ بی بی کہنے لگی سب سے خراب جاسوس فوجی ہوتے ہیں۔ سانچے میں ڈھلے دماغ والوں سے اچھی جاسوسی کی توقع عبث ہے۔آپ کو جنرل پیٹریاس کا تو معاملہ یاد ہے نا۔۔۔پی ایچ ڈی کی طالب علم پاولا براڈویل نے سی آئی اے کے چیف کو انگلیوں پر نچا دیااور ایف بی آئی کے ایک نچلے درجے کے افسر نے ان  کو بے نقاب کیا۔ تب تک مبارک حسین پٹیل المعروف بہ کلبھوشن یادو کا معاملہ سامنے نہیں آیا تھا۔

جنرل ڈیوڈ پیڑیاس
براڈویل اور جنرل پیٹریاس

SHOPPING

نامکمل)

SHOPPING
speciaal sale

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *