کتاب “دینِ فطرت “کی تقریبِ رونمائی۔۔۔۔۔علینہ ظفر

انسان کی زندگی میں چند ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی موجودگی ایسا مثبت وخوشگواراحساس دلاتی ہےجسے انگریزی میں پازیٹو وائیبز کہا جاتا ہے۔جناب ِ محترم عرفان الحق صاحب کا شمار بھی ان پیاری شخصیات میں ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان ایسے قابلِ احترام اساتذہ موجود ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالی نے ہماری بھلائی کا جذبہ بیدار کر رکھاہے جس کے تحت وہ ہمیں دین سے متعلقہ باتیں سکھاتے ہیں۔ 21 اکتوبر 2018 کو لاہور میں جناب بابا جی عرفان الحق صاحب کی نئی کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی۔اس سے پہلے ان کے ریکارڈ کیے گئے لیکچرز مرتب ہو کر مختلف کتابوں کی صورت شائع ہو چکے ہیں اور اب اِس مرتبہ “دینِ فطرت “کے نام سے چند مختلف موضوعات پر مبنی محفوظ شدہ گفتگو کو ایک کتاب کی شکل دی گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اُن کی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی قارئین کو پسند آئے گی۔ بہت سے معاملات بارے اصلاحی پہلو ؤں پر مبنی یہ کتاب اِس وقت میرے زیرِ مطالعہ ہے اور میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو خود بھی پڑھیے اور دوسروں کو بھی اس کتاب سے متعلق ضرور آگاہ کیجئے تاکہ آپ کے علاوہ باقی لوگ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ اب میں اس شعر کے بعد تقریب کاتھوڑا سا آنکھوں دیکھا حال تحریر کرنے کی کوشش کرتی ہوں.


دیکھنے میں تو ہیں سادہ سے خد و خال مگر
لوگ کہتے ہیں کوئی بات ہے جادو والی
گفتگو ایسی کہ بس دل میں اُترتی جائے
نہ تو پُر پیچ نہ تہہ دار نہ پہلو والی
کتاب “دینِ فطرت “کی تقریبِ رونمائی بروز اتوار ، دوپہر تین بجے پنجابی کمپلیکس میں سجائی گئی جس کا حسبِ روایت آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعت شریف سے ہوا۔اس محفل میں معروف کمپیئر محمد نور الحسن نے مائک پر میزبانی کے فرائض سر انجام دیے جبکہ معروف کالم نگار و تجزیہ کار اوریا مقبول جان،پنجابی کمپلیکس کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغری صدف، ڈاکٹر کرنل الطاف طاہر، بابا یحیی خان ، ریڈیو کے پروگرام مینیجر پروڈیوسر ریاض محمود ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر ذاکر خان اوردیگر نے اس تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر کرنل الطاف طاہر نےتقریب میں موجود تمام حاضرین سے صاحبِ کتاب(دینِ فطرت) محترم عرفان الحق صاحب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میری فیملی تقریباً بیس بائیس سالوں سے بابا عرفان سے فیض یاب ہورہے ہیں۔بابا جی کا انداز ہے کہ وہ سب کو برابری سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔انہوں نے کتاب کی اعلی جِلد اور سرورق کی تعریف کی اور کہا کہ دینِ فطرت پڑھی، یہ ایک اعلی کتاب ہے۔ انہوں نے اس کتاب کے چند موضوعات محبت، رحمت اور حکمت وغیرہ میں موجود مختلف سطروں پر روشنی بھی ڈالی۔عرفان الحق صاحب کے اندازِ بیاں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بابا جی نرم الفاظ اور لہجہ اپناتے ہیں کہ نرم الفاظ اور لہجہ بندے کے ضمیر کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے پڑھنے والےکی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں ایک اٹریکشن (کشش)ہے پڑھنے والے کو یوں لگتا ہے کہ وہ ایک ایک اینٹ لے کر عمارت تعمیر کر رہا ہے۔ جب تک کوئی (پڑھنے والا) منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ جاتا بابا جی اُس کی منزل نہیں چھوڑتے۔وہ ہمیں مین شاہراہ پر لے جاتے ہیں اور آنکھ تب کھلتی ہے جب صراطِ مستقیم تک پہنچ جاتے ہیں۔


ڈاکٹر صغری صدف نے پروگرام میں شریک تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ میری بابا جی سے بڑی محبت اور عقیدت ہے اور مجھے پندرہ بیس سال سے ان کی رہنمائی میسر ہے۔روحانی، طبی، دنیاوی یا چاہے کوئی بھی مسئلہ ہوہر معاملے میں یہ میری رہنمائی فرماتے ہیں۔کتاب کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب ضابطہء حیات کی طرح ہے۔اسے دل اور روح سے پڑھیں اور دل میں جذب کر لیں۔انہوں نے بابا جی عرفان الحق کے لیے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ اچھے لوگوں سے ملاقات کراتا ہے۔آخر میں ڈاکٹر صاحبہ نے دعائیہ جملے کہے کہ اللہ ان (بابا جی)کو سلامت رکھے ، ہم نیکی اور خیر کی طرف جا سکیں اور آپ سب کے لیے بہت سی دعائیں۔
اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے جناب عرفان الحق صاحب کے متعلق کہا کہ وہ ایسی شخصیت ہیں کہ جو ان کے قریب جاتا ہے وہ روشن ہوجاتا ہے۔جسے دردِ دل درکار ہو اُسے باباجی سے ملنا چاہیے۔ملنے والوں کے لیے اُن کی شخصیت کا سحر ان کےلمس میں شامل ہو جاتا ہے۔کتاب صاحبِ کتاب کی شخصیت کا خلاصہ ہے۔خوش قسمتی ہوتی ہے کہ کتاب کے ساتھ صاحبِ کتاب سے بھی تعارف ہو اور میں ان خوش قسمتوں میں شامل ہوں۔ یہ دینِ فطرت نامی خوبصورت کتاب ہے ۔ اس کتاب میں موجود مختلف باب کے عنوان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان موضوعات سے متعلق ہم زندگی میں جاننا چاہتے ہیں اور ہر شخص کو ان کے حوالے سے سوالات کا جواب چاہیے۔اگر آپ ان سب کے جوابات جاننا چاہتے ہوں اور اگر انسان بننے کی خواہش قلب و جاں کو بے قرار رکھتی ہے تو اس کتاب کو پڑھنا چاہیئےجو نہ گنجلک ہے اور اس میں فلسفہ بھی نہیں ہے۔کوئی ایسی شے نہیں ہے جسے پڑھ کر ہم سمجھ نہ سکیں۔

میں نےاس کتاب میں کوئی ایسا لفظ نہیں دیکھا جس کے لیے لغت دیکھنا پڑے۔کسی شور شرابے میں نہیں بلکہ جب آپ تنہائی کی انجمن میں ہوں تب اسے پڑھیں، یہ کتاب آپ کو سب سے بڑی کتاب (قرآن مجید) تک لے جائے گی۔مزید کہا کہ صوفی وہ چشمہ ہے جو سب کی پیاس بجھاتا ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ اس میں کس نے ہاتھ ڈالے اور کس نے چھینٹیں اڑائیں۔صوفی کی اس خصوصیت کو بابا جی عرفان الحق صاحب سے جوڑتے ہوئے اس کتاب میں بابا جی کے فرمائے گئے جملے پر بات کرتے ہوئے سب کو پیغام دیا کہ بابا جی فرماتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق سے جُڑ جاؤ۔میں بابا جی کا مشکور ہوں جو یاد کرتے ہیں اپنی محفل میں بلاتے ہیں جس میں پیار ہے اور محبت ہے۔
پہلی مرتبہ عرفان الحق صاحب کی محفل میں یوں شریک ہونےپر بابا یحیی خان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہے جہاں نور ہی نور ، طمانیت ، سکون اور سنجیدگی ہی سنجیدگی ہے۔یہ ایک درویش کی محفل ہے اور لوگ طالبعلم کی سی حیثیت سے بیٹھے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کتاب “دینِ فطرت “کی تقریبِ رونمائی۔۔۔۔۔علینہ ظفر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *