کنگسٹن یونیورسٹی لندن سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجاہدافضل/حصہ اول

اکتوبر 2018 ۔ یہ لندن کی ایک روشن اور سہانی صبح تھی ‘ میں کنگسٹن یونیورسٹی کے دروازے پر کھڑا آتے جاتے ہوئے گورے اور گوریوں کو دیکھ رہا تھا ‘ کنگسٹن لندن کے جنوب مغربی علاقے کا قصبہ ہےاور لندن منصوبے کا ایک اہم میٹروپولیٹن حصہ مانا جاتا ہے . دسویں صدی کے بہت سارے بادشاہوں کی تقریب حلف برداری ادھر ہی وقوع پذیر ہوچکی ہے.
‘کنگسٹن کی سب سے بڑی خوبصورتی دریائے تھیمز ہے ‘جس کے دلکش نظارے آپ کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل میں اترتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ‘ ایک طرف اس کے کنارے بنے ریسٹورنٹس اور میخانے اس کی رونق بڑھاتے نظر آتے ہیں اوردوسری طرف انسان کو مبہوت کردینے والی خدا کی طلسماتی کشش پانی میں محسوس ہوتی ہے’آپ دریا کے کنارے چلتے جائیں آپ پہ زندگی کے نئے پہروں سے بہرہ مند ہونے کی ابتدا ہو جائے گی ۔اس کا طلسم موسم گرما اور موسم سرما کی ابتدائی شاموں میں سر چڑھ کر بولتا ہے’ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نوجوان جوڑے ‘ایک ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے ساری زندگی کی راز و نیاز کی باتیں کرتے اور وعدے وفا کرنے کی قسمیں کھاتے دیکھے جاسکتے ہیں ‘ وہ اس سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے’ وقت کی سماعتوں میں محبت کا رس گھولتے یہ لمحات آپ کو کسی پرستان سے کم محسوس نہیں ہوں گے.

محبت انسان کو ساری دنیا جہاں سے بیزار کرتے ہوئے ایسی بہت سی پناہ گاہوں میں لے آتی ہے ‘وقت تھما ہوا محسوس ہوتا ہے مگر محبت کا مارا انسان کبھی بھی نہیں جان سکا زندگی کبھی نہ تھمنے والی چیز ہے’ وہ محبوب کی باہیں ہوں یا کسی ویران سی مسجد کا سجدہ ! انسان کو شاید یہ ساری چیزوں کا پہلے سے علم ہوتا ہے ‘مگر وہ اکثر خود اس سے باہر نہیں آنا چاہتا وہ محبت کو کھو دینے کے بعد روتا ضرور ہے’اکثر بہت سی ایسی محبتیں لاابالی سے نوجوانوں کو جھوٹے سچے سجدے کروا ہی دیتی ہیں ‘ مگر ہر دفعہ کسی نئے محبوب کو پالینے کے بعد ویسے ہی وعدے اور قسمیں انسانی فطرت کا کمال ہے .
کنگسٹن یونیورسٹی کا نام اسی قصبے کے نام پر رکھا گیا ہے یہاں پوری دنیا کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانے اور تربیت کو بڑھاوا دینے کے لیے آتے ہیں ‘ اس کی بنیاد ایک پولی ٹیکنیک ادارے کے طور پر 1899 میں رکھی گئی تھی’ لائبریری میں لاکھوں کے حساب سے کتب موجود ہیں جو علم کے متلاشی طلبہ و طالبات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ‘ ڈیجیٹل لائبریری میں آپکو آڈیو ویڈیو کتب اور بہت سی فلمائی گئی دستاویزات بھی مہیا کی جاتی ہیں.

علمی درسگاہوں اور لائبریری سے محبت مجھے ادھر تک کھینچ لائی ہے’ میں یہ سمجھتا ہوں اگر آپ کی زندگی میں آپ کا تعلق کتاب’ علمی درسگاہوں’ لائبریری’ کافی ‘ بارش ‘سیروسیاحت اور ادب سے قائم ہے تو آپ ایک بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ‘۔ میری پہلی کلاس کا وقت ہو گیا تھا ‘ کمرہ جماعت میں میرے سے پہلے صرف ایک گوری طلبہ موجود تھی اس کا نام امیلیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
( جاری ہے )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *