جنگلی حیات کی بقا اور خانہ بدوش بکروال

ہمارے ہاں پاک ترک سکول سسٹم، تلور کا شکار اور امریکی صدارتی انتخاب پر خوب لے دے ہوتی ہے۔ یورپ، گلف اور افریقہ میں کیا چل رہا ہے ہمارا پسندیدہ موضوع ہے۔ پڑوس میں مودی کرنسی نوٹوں پر پابندی اور حسینہ واجد کی سیکولر پالیسی پر ہم سے عقلبند قسم کی تقاریر کروا نی ہوں یا ایران و سعودیہ کی سیاسی کشمکش کو مذہبی رنگ دینا ہو، ہم بسر و چشم حاضر رہتے ہیں، لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو ہمارے اپنے مسائل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں؟؟ پاک ترک سکول بند ہونے پر آبدیدہ دانش وروں سے پوچھیے کہ پچاس ہزار سے زائد بکروال کمیونٹی کے لیے ایک سکول، وہ بھی عملے کے بنا بھی کوئی مسئلہ ہے یا نہیں؟؟ بنگلہ دیش کی اسٹیٹ پالیسی درست ہے یا نادرست کا فیصلہ کرنے کے بعد فرصت ملے تو اس بابت بھی کوئی سوچے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والے بکروال آپ کے ہاں جینے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟؟ ایرانی و سعودی کشمکش پر گہرائی و گیرائی کے ساتھ تجزیہ کر لینے کے بعد اس سوال کا جواب بھی عنایت کیجیے گا کہ آپ کے ملک کی حسین ترین وادیوں کو زندہ و تابندہ رکھنے والے بکروال ریچھ، چیتے، شیر، بھیڑیے اور سور کے جتنی وقعت رکھتے ہیں یا نہیں؟؟ کیونکہ ریچھ، سور، شیر اور چیتے کی افزئش نسل کی خاطر تو محکمہ وائلڈ لائف کا قیام عمل میں آ چکا ہے لیکن انہی جنگلات میں مال مویشی پالنے والے بکروالوں کی شنوائی کے لیے کوئی موجود نہیں؟؟ کیوں؟؟ آخر کیوں؟؟

ہزارہ ڈویژن اپنے قدرتی حسن و جمال اور دلکش وادیوں کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے۔ وسیع و عریض جنگلات اور اونچی پہاڑیوں پر مشتمل یہ خطہ ہر سال لاکھوں سیاحوں کی مہمان نوازی کرتا اور ملکی معیشت کا سہارا بنتا ہے۔ وادی کاغان، وادی سرن، وادی بالاکوٹ، الائی اور کوہستان کے دروں اور کوہساروں کا حامل یہ خطہ فوج اور عوام کی ضروریات پوری کرنے لیے ہر سال لاکھوں بھیڑبکریاں اور بڑی مقدار میں خالص اون فراہم کرتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے مال مویشی جھاڑیوں کی طرح خود رو تو ہوتے نہیں اس لیے انہیں پالنے کے لیے افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنہیں بنیادی انسانی ضروریات اگر نہیں ملیں گی تو ان کا سروائیو کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ جبکہ ہمارے ہاں انہیں بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے انہیں دیوار سے لگانے کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔

خدا جانے کس کمبخت نے ریاست کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ہزارہ ڈویژن کے جنگلات سور، ریچھ، شیر، چیتے اور بھیڑیے کی افزائش نسل کے لیے مناسب ترین مقام ہے۔ مشورہ دینے والے کا قصور یہ نہیں کہ اس نے جنگلی حیات کی بقا اور ان کی افزائش نسل کے لیے ایک مناسب مقام کا تعین کیا بلکہ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ادھورا مشورہ دیا۔ انہیں چاہیے تھا اس کے ساتھ ریاست کے کرتا دھرتاؤں کو یہ بھی بتاتے کہ جب آپ ان جنگلات میں درندوں کی افزائش نسل کے پلان پر عمل درآمدکروائیں گے تو وہاں بسنے والے انسانوں کو بھی بتا دیجیے گا کہ آپ چونکہ خواہ مخواہ پیدا ہو گئے ہیں اس لیے آپ کی جان اور مال مویشی بحق سرکار اب درندوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

8 اکتوبر کا زلزلہ شاید کافی نہیں سمجھا گیا اس لیے کاغان، ناران، بالاکوٹ، سرن ویلی، کونش ویلی، الائی اور کوہستان کی مالیوں میں درندوں کو بھی بسایا گیا تاکہ رہی سہی کسر پوری ہو سکے۔ 2010 سے 2016 تک صرف دو خاندانوں کے 265 مویشی ان درندوں کا شکار بن چکے ہیں۔ 2010/11 میں پھلاراں کے رہائشی غلام نبی سیال ریچھ کے حملے میں زخمی ہوئے اور ان کی 16 بھیڑ بکریاں ریچھ کا شکار بنیں۔ یہی غلام نبی سیال اور عطاء الرحمن 2012/13 میں دوبارہ ریچھ کی زد میں آئے اس بار پانچ ریچھوں نے ایک ساتھ حملہ کیا اور 91 مویشی چیر پھاڑ ڈالے۔ جن لوگوں کا گزر بسر دوردراز کے علاقوں میں مال مویشی پالنے پر ہو ان کے لیے ایک ایک جانور قیمتی ہوتا ہے ایسے میں ایک ہی دن درجنوں جانور خونخوار درندوں کی بھینٹ چڑھ جائیں تو وہ بے چارہ کہاں جائے؟؟

لیکن بات اگر جانوروں تک محدود ہوتی تو بھی سہہ لی جاتی مگر یہاں تو خود حضرت انسان کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ بیلہ کے رہائشی مسکین، ان کی اہلیہ، بیٹا اور داماد ایک بار ریچھ کی زد میں آئے تو علاج کے لالے پڑ گئے، بمشکل تمام پمز ہسپتال اسلام آباد تک پہنچے، اخبارات نے واویلا کیا تو پچھلے تیس سال سے علاقے کے واحد حکمران سردار محمد یوسف ان سے ملنے ہسپتال تشریف لائے، ان کا دکھڑا سنا، مداوا کرنے کا وعدہ کیا، مگر دس ہزار روپے دے کر یہ جا وہ جا۔۔ کوئی خبر نہیں کہ وائلڈ لائف کی سرزنش ہوئی یا نہیں، آئندہ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور حادثے کا شکار ہونے والوں کے علاج معالجہ کا بندوبست کیا گیا یا نہیں، بندوبست کیا کرنا اس معاملے کو یاد بھی رکھا گیا یا نہیں۔۔یقیناًایسا کچھ نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ 28 اگست 2015 کو محمد اسحاق نامی ایک شخص گھاس کاٹنے نکلا تو ریچھ کی زد میں آگیا۔ 60 سالہ محمد اسحاق جان بچانے کہاں تک بھاگتا۔ آخر کار ریچھ کے ہتھے چڑھا جس نے مار مار کر بے چارے کا کچومر نکال دیا۔ محمد اسحاق کی دائیں آنکھ ضائع ہو گئی۔ چہرے کا پنجر ٹوٹ گیا اور سارا بدن زخموں سے چور چور ہو گیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پہاڑی علاقے سے روڈ تک پہنچتے پہنچتے چار گھنٹے لگے۔ وہاں سے کاغان ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹر تو دور چوکیدار بھی موجود نہیں تھا۔ کاغان سے بالاکوٹ اور بالاکوٹ سے کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ لایا گیا لیکن کہیں بھی اس غریب کو فرسٹ ایڈ تک نہیں مل پائی۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال مانسہرہ کی حالت زار کا اندازہ تو لگائیے کہ ان کے ہاں ویکسین میسر نہیں ہے۔ حالانکہ یہ اس علاقے کی ہسپتال ہے جہاں ریاستی حکام نے بقائمی ہوش و حواس درندے چھوڑ رکھے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال مانسہرہ نے محمد اسحاق کو ایبٹ آباد کمپلیکس ریفر کیا جہاں ان کے زخموں کا علاج شروع ہوا۔ یاد رہے ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کے زخموں میں پیپ پڑ چکی تھی۔ ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس پاکستان کی چند بڑی ہسپتالوں میں سے ایک ہے لیکن وہاں بھی اینٹی ریبیز ویکسین یا آر آئی جی ویکسین دستیاب نہیں تھی جو کہ مریض کومارکیٹ سے خرید کر لانی پڑی۔ اس پر مستزاد یہ کہ دو ہفتے فقط زخموں کا علاج کرنے میں گزار کر مریض کو حیات آباد کمپلیکس پشاور منتقل کر دیا گیا کیونکہ ایبٹ آباد کمپلیکس میں چہرے کی ہڈیوں کا علاج ممکن نہیں ہے۔ آج ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا اور محمد اسحاق ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہا ہے اور حکام بالا ستو پھانک کر سو رہے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ کاغان، بالاکوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور پشاور اس صوبے میں آتے ہیں جس کے حکمرانوں نے صوبے میں صحت کی ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔ اور جن جنگلات کی ہم بات کر رہے ہیں وہ بلین ٹری سونامی اور کلوژر جیسے منصوبوں کا حصہ ہیں۔ بلین ٹری تو لگے نہ لگے لیکن کلوژر پالیسی کے نام پر چرواہوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔

محمد اسحاق کی روداد سن کر میں تڑپ کر رہ گیا پوچھا آپ نے وائلڈ لائف، فارسٹ ڈپارٹمنٹ یا صوبائی حکومت کو اپروچ کیوں نہیں کیا؟ تو ان کے ایک ہمراہی نے کہا تئیس ہزار روپے صرف رجسٹریوں پر خرچ کر چکا ہوں۔ صدر مملکت، وزیر اعظم، آرمی چیف، چیئرمین سینیٹ ، ڈپٹی چیئر مین سینیٹ اور صوبائی وزیر اعلی سمیت جتنے بھی عہدوں کے نام مجھے یاد تھے سبھی کو خطوط لکھے، ملاقاتوں کی کوشش کی، اخبارات کے ذریعے اپنی آواز ان تک پہنچانے اور انہیں خواب خرگوش سے جگانے کی سعی لا حاصل کر نے کے بعد تھک چکا ہوں اور اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ مال مویشی بیچ کر اسلحہ خرید لیں، جنگل کاٹ کر لکڑی سمگل کریں، ہری پور سے لے کر سوات تک تمام سیاحتی مقامات میں لوٹ مار اور ڈاکہ زنی شروع کر دیں کیونکہ جس ملک کے باسی ہم جیسے فاقہ مستوں سے جنگل کی پرامن اور پر سکون زندگی تک چھین لیں انہیں ہمارے جنگل میں منگل بنانے کا کوئی حق نہیں۔ایک لمحے کو مجھے لگا کہ یہ دیوانے کی بڑ ہے لیکن پھر جب اس کی آنکھوں میں موجود دکھ ،درد اور نفرت کی ملگجی سرخی دیکھی تو کانپ اٹھا۔۔ دیوار سے ٹیک لگا کر سوچنے لگا کہ آخر کب تک ہم شہروں میں جنگل اور جنگل میں درندوں کا قانون چلائیں گے۔۔۔کب تک۔۔ آخر کب تک۔۔

Avatar
وقاص خان
آپ ہی کے جیسا ایک "بلڈی سویلین"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *