ففتھ کالم۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

A fifth column انگریزی زبان کی اصطلاح میں ایسے چھوٹے سے گروپ کو کہا جاتا ہے جو کسی محصور بستی یا مملکت کو اندر رہ کر پوشیدہ طور پر یا اعلانیہ نقصان پہنچاتا ہے۔

اخباری کالم کو ہم صحافت کا ٹویٹ سمجھتے ہیں۔اچھا لکھا ہو تو بقول علامہ اقبال مرغ خوش نوا کی مانند شاخ پر بیٹھا، کوئی دم چہچہایا، اڑ گیا والی بات ہوتی ہے۔ اگلی صبح شہرزاد پوچھتی ہے تو حاکم وقت عیاری سے جواب دیتا ہے کہ شب مذکور کا ذکر ہی کیا، رات کے ساتھ، رات کی بات گئی۔لکھنے والا ہمارے جیسا نوارد مشق ستم ہو تو اس کے کالم کی  وہی حیثیت ہوتی ہے جو جنرل ضیاالحق کے نزدیک آئین کی تھی کہ بقول محمدشاہ رنگیلے کے این دفتر بے معنی غرق مئے ناب اولیٰ۔(اس بے معنی دستاویز کو پہلے تو شراب میں غرقاب کرو)۔

کالم کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے۔اس کا دورانیہ حیات مئے۔فلائی نامی مکھی جتنا ہوتا ہے یعنی چوبیس گھنٹے۔ اسی لیے اسے ‘one-day insects’ بھی کہا جاتا ہے۔لکھنے والوں کی اقسام بھی دنیا بھر میں اسی کی طرح 2500 کے قریب ہیں۔ دور حاضر میں کاغذ پر چھپے ہوئے اخبار کو آپ اہل بساط و اعمالین اقتدار کے لیے حرم میں داخل ایک ایسی کنیز عجولہ و ضائفہ سمجھ لیں جسے ٹی وی اور سوشل میڈیا جیسی ہر دم رواں، پیہم جواں،حرافہء ہائے سہل کار نے ثانوی حیثیت سے بھی نیچے کے کھنڈر خانے میں دھکیل دیا ہے۔

مے فلائی ،ایک دن کی زندگی

کالم نگار سوئی سے کنواں کھودتا ہے۔پاکستان میں Written Word تو ایک طویل عرصہ سے بے وقعت ہے۔کالم نویس اگر پیشہ ور صحافی ہو اور ارباب بست و کشاد کے مطلب کی باتیں لکھتا ہو تو چند لفافوں بیرونی دوروں،کوئی پلاٹ ،بیٹے کو سی ڈی اے میں نوکری۔پٹرول پمپ کی سستی لیز، سرکاری خزانے سے ویاگرا،بستر کی ذاتی ناکامیاں اور ملازمت کی ستائی ہوئی زبیدہ،سعیدہ، حمیدہ جیسی لڑکیاں مل جاتی ہیں۔بھاشن دینے کے لیے چینل پر وقت بھی مل جاتا ہے۔پاکستان کے عام لوگوں کی منافقت کا جائزہ لینا ہو تو ان کی رنگ ٹونز سنیں۔ہر مولانا اور نعت خواں ایسا لگتا ہے سیل فون پر بجتا بجاتا ان کی وجہ سے جنت میں بغیرہلاکت کے ہی پہنچ جائے گا۔

ان کالم نویسوں کا ایک مشترکہ مسئلہ ہے کہ یہ واقعات سے تاثرات کشید کرکے کالم کا نسخہ تیار کرتے ہیں۔بیشتر کی اکثریت انگریزی صحافت سے نابلد ہے۔ کیانی سے یا کسی اور  بڑے فوجی سے تعلقات کی بنیاد پر ادھر ادھر کی سرگوشی سے تجزیے کاڑھتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ وہ سب کچھ انہیں بتادیں گے تو ان کے اپنے پلے کیا رہ جائے گا۔ اعتراض کرو تو کہیں گے کہ امریکہ کے مشہور صحافی سی مور ہرش اور باب ووڈ ورڈ کیا کرتے ہیں۔آخر الذکر کی پچھلے دنوں ڈونلڈ ٹرمپ پر آنے والی کتاب کہ بارے میں تو خود مصنف کا دعوی ہے کہ اطلاع فراہم کرنے والے خود وہائٹ ہاؤس کے اندر موجود ہیں۔

رپورٹروں کے رپورٹر سیمور ہرش
سیمور ہرش کی کتاب
بوب ووڈ ورڑ
باب ووڈ ورڈ کی کتاب

ہم نے کہا وہاں مسئلہ دوسرا ہے ان کے ہاں Defamation laws توجنگ پلاسی سے بھی پہلے کے ہیں یعنی 1734 میں وہاں اس حوالے سے کوئی پیٹر زنگر صاحب کے مقدمے میں یہ طے ہوگیا   تھا کہ”The Truth” is an absolute defense against charges of libel. . بطور کامل دفاع سچ ہر الزام کے خلاف تسلیم شدہ کلیہء قانون ہے۔آپ کسی کے خلاف کوئی غلط بات منسوب کرکے دیکھیں تو عدالت میں میڈیا ہاؤس یا کارپویشن کے خلاف حشر نشر کردیں گے۔

ماضی کے کھنڈرات سے دستیاب شدہ ان کالم نویسوں میں اب ٹی وی کے لنگر باز Anchor Persons بھی شامل ہوکران کی مسابقت پر اتر آئے ہیں جن کی اکثریت ادھر اُدھر سے باتیں پوچھ کر،نکتہ ہائے گفتگو جمع کرکے جیسے تیسے کوٹ ٹائیاں پہن کر کیمرہ آن ہوتے ہی حالات حاضرہ کے ابن خلدون بن جاتے ہیں۔بات میں وزن ڈالنے کے لیے ہراساں،اردو  میڈیم سلگتے تیز میک اپ والی پہلے  سے فیڈ کیے ہوئے سوالات سے کلبلاتی بے چاری میزبان بھی بٹھالیتے ہیں۔ایک پینڈو قسم کے اینکر جنہیں مفلر پہننے کا بہت شوق تھا وہ تو بے چاری کو بہ آواز بلند ڈانٹ بھی دیتے تھے۔

پچاس کی ابتدا سے نوے کی انتہا تک اخباری کالم نویسوں کی ایک شان تھی۔وہ صرف کالم لکھتے تھے۔کالم لکھنے کا ارادہ حیدرآباد سے آئے ہوئے مفلوک الحال ایک نواب  نام کے نوجوان   کا بھی تھا۔جن کی بیگم اب اس الومناٹی میں شامل ہیں جن کی انیس عدد خواتین لاہور کے حلقہء نمبر 131 کی رہائش پذیر ہیں۔کسی زمانے میں زرداری صاحب ملکی  سیاست کو بھاری پڑتے تھے۔پی ٹی آئی کو ہمارے جگر جان پاکستان کی صحافت کے انڈیانا جونز جنہیں ہم The Raiders of all lost Arks کہتے ہیں یعنی  رؤف کلاسرا نے ایسا طشت از بام کیا کہ سب کو پتہ لگ گیا کہ پی ٹی آئی کی اصل طاقت سمیسن کے بالوں کی طرح ان انیس نیک بیبیوں کی سوچ سمجھ کر احتیاط سے چنی گئی رشتہ داریوں میں ہے ۔ویسے کوئی اب آپ کو بی بی کہے تو برا مانا کریں۔ایک تو وہ   اسرائیل کے بنجمن نیتن یاہو کا گھریلو نام ہے)۔

 

مصنف اور بھارت کی مغلیہ تاریخ پر اتھارٹی ویلم ڈیل رمپل نے اپنی کتاب وہائٹ مغل میں لکھا ہے کہ بی بی اس دیسی عورت کو کہا جاتا تھا جو یا تو گورے کی رکھیل ہوتی تھی یا نام کی بیوی۔ان میں سر ڈیوڈ اوکٹر لونی نے تو تیرہ دیسی بیگمات رکھی تھیں۔امیر مقام خوو کو ناصر الدولہ سر اوکٹر لیونی کہلانا پسند کرتے تھے۔ہر شام دہلی میں یہ تیرہ بیگمات اپنے اپنے ہاتھی پر سوار ہوکر لانگ ڈرائیو پر نکلا کرتی تھی۔ان کی منہ  چڑھی بیگم کا نام ویسے تو مبارک بیگم تھا مگر اپنے اثر و رسوخ اور رعب داب کے باعث انہیں   جرنیلی بیگم کے نام سے پکارا جاتا تھا۔اب آپ کو یاد آئے گا کہ جنرل یحییٰ خان کے ساتھ جو طاؤس و رباب جرنیلوں کا ٹولہ تھا۔ان کا تاریخی مطالعہ کتنا بھرپور تھا۔وہ بھی اپنی اس مملکت مشترکہ اقلیم اختر کو جنرل رانی پکارا کرتے تھے۔بھارتی گلوکار عدنان سمیع اور مہاراجہ پٹیالہ جو مشرقی پنجاب کے ان دنوں سی ایم ہیں ان کی موجود ہ گرل فرینڈ کا تعلق بھی اللہ نظر بد سے بچائے دونوں ہی کی جنرل رانی سے قرابت داری ہے۔

وہائٹ مغلز

نام کے یہ نواب حیدرآباد سندھ سے بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی آئے تھے ۔ستر کی دہائی میں انہیں جنرل رانی کا سایہ عاطفت مل گیا اور مشرق وسطی میں بندے باہر بھیجنے کا دفتر انہوں نے ہوٹل میٹروپول کے ایک کمرے میں قائم کرلیا۔ کام چل نکلا تو دولت کے ساتھ ساتھ ایک ڈرامے کی ہیروئین کو بھی حبالہ نکاح میں باندھ لیا۔وہ بھی ایک عرصے تک کالم لکھتے رہے۔صحافیوں میں اچھے تعلقات تھے اس لیے اخبارت میں جگہ مل جاتی تھی۔
ممکن تھا وہ یہ شوق کالم نگاری یوں ہی جاری رکھتے مگر ایک دن میٹروپول میں اپنے دفتر آتے ہوئے ان کی نگاہ پاکستان کے مشہور کالم نویس ابراہیم جلیس پر پڑی جو پی آئی بی کالونی کراچی کے بس اسٹاپ پر پسینے میں شرابور کھڑے تھے۔انہوں نے انہیں کار میں بٹھایا اور دل میں تہیہ کیا کہ وہ زندگی بھر اخبار نویسی کو روزی کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔

ابراہیم جلیس
نیکی کر تھانے جا

آج کے لوگوں کو مجید لاہوری، ابراہیم جلیس،رئیس امروہوی،جمیل الدین عالی ۔۔مولانا صلاح الدین تکبیر والے، اعجاز حسین بٹالوی۔انگریزی میں ایچ کے برکی، زیڈ اے سلہری، حسین نقی، خالد حسن، میجر ابن الحسن ،ایم شہزاد، اردشیر کاؤس جی کے نام بھی یاد نہ ہوں مگر یہ اپنے وقت کے بڑے کالم نگار تھے۔ ان میں اول الذکر دو کو چھوڑ کر یہ سب وہ لوگ تھے جن کے کالم پڑھ کر زیڈ اے بھٹو وزیر اعظم پاکستان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ان میں ایک کالم نگار برکی کو تو انہوں نے قومی اسمبلی کی گیلری میں دیکھ کر Barking Burki بھی کہا تھا۔ حسین نقی نے جب نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے پر جشن لاڑکانہ کا احوال سن کر پنجاب پنچ میں Larkana by Night والا کالم سقوط مشرقی پاکستان کے المیے کے تناظر میں لکھا تو ایوان اقتدار میں تھرتھلی مچ گئی تھی۔ ان کا ہفتہ وار اخبارPunjab Punch بند کردیا گیا۔

رئیس امروہوی
مولانا صلاح الدین
اعجاز حسین بٹالوی
زیڈ اے سلہری
حسین نقی
خالد حسن
ارد شیر کاؤس

رئیس امروہوی کے کالمز میں جانے کیا کیاکچھ ہوتا تھا۔ ان کالموں میں اردو قاری کو ایک طرح کی Pulp Psychology اور مابعد اطبعیات کا زود ہضم چورن سستے داموں مل جایا کرتا تھا۔ اس میں  (وہ تختہء مشق جس کے ذریعے نوجوا ن اور بچے اپنے عزا و اقربا کی ارواح ء آوارہ سے سوال جواب کرتے ہیں)سے لے کر شمع بینی،ہپنا ٹزم سب ہی کچھ شامل ہوتا تھا۔

کتاب
Ouija board

ریئس امروہوی  صاحب کو ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کے کسی دوست نے بتادیا تھا کہ اسرار احمد المعروف بہ ابن صفی کے مشورے سے آئی ایس آئی بنائی گئی تھی اب آئی۔ ایس۔ آئی امریکہ کی سی۔ آئی۔ اے کی طرز کا ایک پروگرام شروع کرناچاہتی ہے جس میں وہ Psychics اور Remote Viewers for Espionage کے ماہر افراد کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔کراچی کے لڑکے لڑکیاں چوں کہ خوش گفتار اور معاملہ فہم ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے کہ آئی ایس آئی اس پروگرام کی ساری بھرتیاں گولی مار، انچولی، ناگن چورنگی اور عزیز آباد سے کرے۔وہ اس کام میں تندہی سے اپنے کالموں کے ذریعے تربیت نوجوانانِ زیرک میں لگ گئے۔یہ خیال انہیں لڈن جعفری والے صاحب کو سن کر آیا۔

ریموٹ ویورز

حضرت امروہوی ہر اتوار ایک کالم جنگ اخبار میں لکھا کرتے تھے جنہیں پڑھ کر ان کے قارئین باقی چھ دن سمجھنے میں لگا دیتے تھے۔کراچی شہر کی آدھی پاگل عورتیں ان سے رہنمائی لیتی تھیں۔سننے میں آیا کہ خود رئیس امروہوی کا کراچی شہر کے جنات  کی آدھی آبادی سے واسطہ تھا ۔انہی  کے مشورے  سے وہ ہر ہفتے بلاکسی کوالی فیکیشن کے یہ کالم لکھ کر بعوض مطالعہ مفت تقسیم کیا کرتے تھے۔جن نوجوانوں کی بھرتی کا ہم نے ذکر کیا وہ بعد میں ایک پارٹی میں شامل ہوئے۔

یہ پارٹی ایک امگی ہوئی شام کو شور مچاتے ٹریفک کی ہڑاہڑی میں دس نمبر لیاقت آباد کے ایک گھر کی چھت پر پندرہ بیس افراد کے  باہمی مشورے سے بنی تھی اس میں اہم افراد میں ایک تو اختر حسین رضوی تھے۔ جو مہاجر مارکسسٹ تھے،جی ایم سید کے قریبی ساتھی اور ان کی کتاب جسے میں نے دیکھا کے مترجم۔جی ہاں وہی پارٹی جو بظاہر آپ کو ہر ٹی وی ٹاک شو میں جوہی چاولہ کی طرح گاتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ ٹوٹ گئی، ٹوٹ کے میں چُور ہوگئی، وے رینجرا! تیری جھوٹی ضد سے مجبور ہوگئی۔ اس پارٹی کے بڑے بہت گلہ جو تھے ہمارے چند بیانات پر اتنا کھڑاک اور وہ جو مودی کا یار سلامتی کا ذمہ دار نواز شریف ہے وہ کم بخت اجیت دوال، امرا جاتی میں گشتابہ، تبک ماز اور روغن جوش ویزہ آن آمد    پروگرام کے تحت پگڑی بدل بھائی کے ساتھ گھٹکا گیا ان کے لیے لامکاں اور ہمارے لیے مٹھا رام ہاسٹل اور رنیجر کا ٹھاکر  ۔

اس پارٹی سے متعلق ایک صاحب کہنے لگے کہ جب پروفیسر مجاہد کامران اور ان کے رفقائے کار پروفیسر جنہیں اپنی علمیت سے زیادہ بڑا  آدمی بننے کا بہت ہڑکا تھا گرفتار ہوکر ہتھکڑیوں میں لائے گئے تو پنجاب کے درد مند میڈیا نے بہت شور مچایا۔یہ میڈیا اور اینکرز اس وقت کہاں ستو پی کر سو رہے تھے جب کراچی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر عارف حسن کو اسی سیاسی وابستگی پر ہتھکڑیاں لاکر لگایا جس کے دو اہم رہنما بالترتیب  کراچی کے مئیر اور پاکستان کے آئی ٹی کے وزیر ہیں۔عارف حسن نے تو کرپشن چھوڑ بے شمار غریب طالب علموں کی فیس جیب سے ادا کی تھی۔جب کہ پروفیسر مجاہد کامران اور ان کے ساتھی معیار کردار اور قابلیت میں پروفیسر عارف حسن سے میلوں پیچھے تھے۔عارف حسن تو بڑے iconoclast تھے۔باہر رہ جاتے تو  کسی تھنک ٹینک کے سربراہ ہوتے۔اصل میں ان کالم نویسوں کو ایک کالم روز کی دہاڑی نبھانی ہوتی ورنہ قابل غور اور ہنگامہ برپا کرنے والا طوفان آٹھانے والا نقطہ یہ تھا کہ فواد حسن،احد چیمہ، شہباز اور نواز شریف کو ہتھکڑی کیوں نہ لگائی گئی۔

پروفیسر مجاہد کامران
عارف حسن۔۔اپنے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود –

انگریزی میں لکھنے والوں میں سب سے مالدار مرنجاں مرنج اور بے باک تو جناب ارد شیر کاؤس جی تھے۔ہمارے دوست مگر ہم ان پر ایک جدا کالم لکھیں گے۔کلیم عمر کے کالم وائی ایل(یوسف لودھی) کے کارٹون سے جگمگا اٹھتے تھے۔ جو خود بھی بہت اچھا لکھتے تھے ارد شیر کاؤس جی کے بعد وہ اور کپتان ایاز امیر سب سے شستہ انگریزی لکھا کرتے تھے انگریزی میں خالد حسن کے کالم بہت دل چسپ ہوتے تھے۔ وہ امریکہ منتقل ہوگئے تھے اور ان کی تحریر پر وہاں کی معاشرت کی سبک ساری غالب آگئی تھی ۔

کلیم عمر
یوسف لودھی
وائی ایل کارٹون
وائی ایل کے کارٹون

شاہین صبہائی صاحب بھی عمدہ کالم نگار ہیں ان کی انگریزی بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے مغل اعظم کے اردو مکالمے۔ وہ اپنے بوجھل تجزیوں سے موضوع کو بار برداری کا اونٹ بنادیتے تھے۔ ان کا ویب میگزین ساؤتھ ایشیا ٹریبونل مشرف کی ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ اس میں سب سے خطرناک لکھاری ہمارے مشفق و مرشد فیڈرل سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف تھے جنہیں کالم لکھنے کا چسکا فرنٹیئر پوسٹ کے ایڈیٹر ظفر صمدانی اور ڈان کے رؤف کلاسرا نے ڈالا۔

شاہین صہبائی
ڈاکٹر ظفر الطاف
ظفر صمدانی

روف کلاسرا بہت دلیر اور ان دنوں منکسر المزاج نوجوان ہوا کرتے تھے۔انگریزی کا تین سو الفاظ کا جو Essay انہیں امتحان میں لکھنا ہوتا تھا اس کی انگریزی نصف سے بھی کم الفاظ پر مک جاتی تھی۔وہ کامران خان سے بہت متاثر تھے جن پر ان دنوں نیوز انٹیلی جنس یونٹ کی وجہ سے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ  کا اثر غالب تھا۔ان دنوں بھی وہ اپنے جغرافیہ سے بہت جڑے رہتے تھے اب اس بات کو ربع صدی سے اوپر ہونے کو آتی ہے ان کی کھوج،تحریر اور جرات میں جو بنیادی جوہر ان دنوں تھا وہ اب جاپانی سمورائی کی شمشیر آب دار بن چکا ہے۔

سمورائی کی تلوار

بطور فیڈرل سیکرٹری ظفر الطاف کو کالم لکھنا بہت بھاری پڑتا تھا۔ اپنی بے باک گفتگو کی وجہ سے ان کے بیورو کریسی کے اندر اور باہر بہت دشمن تھے۔وہ ان کالموں کے حصے سیاق و سباق سے جدا کرکے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کے کان میں پھونکا کرتے تھے۔

جب جنرل پرویزمشرف نے ساؤتھ ایشیا ٹریبون کی وجہ سے شاہین صہبائی کے قریبی عزیزوں کو گرفتار کیا   تو ایک تنظیم یا صحافی ایسا نہ تھا جو ان کی مدد کو آتا۔ بس ڈاکٹر ظفر الطاف اور رؤف کلاسرا مدد کو آئے۔ بے چارے کورٹوں میں ضمانت کے لیے بہت ہراساں رہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمارے مشورے سے امل انڈیا کی طرز کی ایک کسان انجن باہمی بنائی تھی ۔امل تو ہندوستان کے دو عظیم رہنماؤں ولبھ بھائی پٹیل اور مرارجی بھائی ڈیسائی نے گجرات راجھستان کے کسانوں کی ددودھ کی انجمن  بنائی تھی اور دنیا کی بڑی اور منافع بخش انجمن تھی۔حمزہ شہباز اکو ہلّہ ملک پیک کی اسی کروڑ روپے کی دودھ کی مشنری اپنے کاروباری ادارے کے لیے اور سعد رفیق کو ہلہ ملک کی قیمتی زمین اپنی پیراگون کے لیے درکار تھی۔ڈاکٹر ظفر الطاف نہ مانے وہ اس ادارے کے اعزازی چئرمین تھے ان کو گرفتار کرنے کی ٹھانی گئی اور مشنری اور زمین لے اڑے۔نیب چاہے تو یہ ایک تیار مقدمہ ہے جس کے لیے رؤف کلاسرا اور ارشاد بھٹی کی گواہی absolute truth کے طور پر دستیاب ہے۔بطور دوست یہ ڈاکٹر صاحب کا ان پر قرض بھی ہے،سندھی میں کہتے ہیں کہ بدلہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ہٹلر نے ویانا میں آرٹ کے ایک یہودی تاجر کے ہاتھوں اپنی تذلیل کا بدلہ ساری یہودی قوم سے لیا تھا۔بیکن جو مشہور انگریزی مضمون نگار تھے وہ کہا کرتے تھےRevenge is a wild kind of justice

اب ہم کالم جب انعام رانا جی کے بہکاوئے میں لکھتے ہیں تو راجندر کرشن جی کا وہ مصرعہ بہت یاد آتا ہے کہ ع خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیے۔اردو پاکستان کی دیگر علاقائی زبانوں کی زبوں حالی دیکھ کر ایسا لگتا کہ وہ جوہر کر رہی ہیں (طبقہء اشرافیہ ہندو خواتین کی وہ اجتماعی خودکشی جو وہ بادشاہ کی شکست اور فاتحین کے ہاتھوں ذلت کے خوف سے کرلیا کرتی تھیں)۔اخبارات کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کا سب سے مقتدر روز نامہ جس سے ایک لیک جڑ گئی ہے اپنے عنفوان شباب میں جب اتنے ٹی وی چینلوں کی بھرمار نہ تھی کل تیس ہزار چھپتا تھا۔فیض و فراز کی کتابیں پی ٹی وی اور انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے بھی پہلے ایڈیشن میں کل ہزار چھپتی تھیں حتی کہ شہاب نامہ بھی صاحب تحریر کے اثر و رسوخ کے باوجود بھی پہلے پہل دس کروڑ کی آبادی میں کل ایک ہزار ہی چھپا تھا۔سو ہم محترمہ زہرہ نگاہ کے الفاظ میں یہ کالم یوں ختم کرتے ہیں کہ ع
زہرہ ؔنے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے

حالانکہ دریں اثنا کیا کچھ نہیں ہوا ہے
پر لکھے تو کیا لکھے اور سوچے تو کیا سوچے
کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتے ہیں

SHOPPING

ابھی ہم پرنٹ میڈیا ،مطیع اللہ جان،مرتضی سولنگی کی گم شدہ ملازمت کی فکر میں گم تھے کہ بے چارے پاکستان کے نمبر۔ون چینل کے نمبر۔ون پروگرام کے نمبر ون اینکر کی سہمی سہمی شائستہ سی میزبان مہر شیر نے ڈاکٹر شاہد مسعود نے بھی پروگرام سے کنارہ کرلیا۔ٹیلی ویژن پروگراموں کی میزبانوں کی خیر ہے وہ تو جہاں میں اہل ایماں کی طرح مانند خورشید جیتے ہیں۔فکر عامر لیاقت کی ہے کہ اسلام عمران خان فوج اور عدالت سب ہی ان سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔عامر لیاقت،مفتی قوی اور فضل الرحمن، سراج الحق کا دین پر بطور عالم با کردار اور قابل تقلید مرجعء خلائق بات کرنا ایسا ہی جیسے آپ نے ماہر ہ خان اور عالیہ بھٹ کو میلاد پڑھنے بلالیا ہو۔

ماہرہ خان
عالیہ بھٹ
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *