• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دال چاول کھائے ہیں – ساتھ میں رائتہ, سلاد بھی تھا۔۔۔۔غیور شاہ

دال چاول کھائے ہیں – ساتھ میں رائتہ, سلاد بھی تھا۔۔۔۔غیور شاہ

جیسا خوبصورت اور پیارا ہمارا ملک ہے بالکل ویسا ہی پرستان بھی ہے – مگر بدقسمتی یہ ہے کہ  وہاں ہمارے جیسے ذہین اور عقل مند لوگ نہیں رہتے بلکہ زیادہ تر ڈفر اور سوئے کھوئے سے رہتے ہیں – ان کے ملک میں ایک وزیر خزانہ بھی ہے جو بہت لائق, فائق اور ذہین ہے – ایک زمانہ سے شور تھا کہ پرستان میں جب اس لائق فائق وزیر خزانہ کی وزارت آئے گی تو پٹرول کی قیمت_ فروخت وہاں کی کرنسی کے 40 روپے سے زہادہ نہیں ہو گی اور بجلی کی قیمت تو بس 2 سے 3 روپے فی یونٹ ہی ہوگی – یہ الگ بات ہے کہ وہ وزیر خزانہ جب حکومت میں نہیں تھے تو دوران ملازمت انہوں نے بطور چیف ایگزیکٹو اپنی کمپنی کی انوکھی بنائی پالیسی کے ذریعہ کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا جس کے نتیجہ میں پرستان کی کمپنیوں کے رجسٹر کرنے والے ادارے نے اس کمپنی کو تقریبا” بلیک لسٹ ہی کر دیا اور بالآخر اس کمپنی نے حکومت کو 4 ارب روپے جرمانہ ادا کرکے جان خلاصی کروائی اور ان چیف ایگزیکٹو صاحب سے معافی مانگ کر کمپنی کی جان چھڑوائی – اسے اگر کوئی لات مار کر کمپنی سے نکالا جانا کہتا ہے تو وہ اس کا ظرف ہے – راقم نے ایسی کوئی بات نہیں کی –

خیر جناب – وہ کہتے ہیں نا کہ “روڑی کے دن بھی پھرتے ہیں” تو یہ صاحب بھی کسی طرح سیاست میں گھسا دئیے گئے اور کچھ سالوں بعد وزیر خزانہ بھی بنا دئیے گئے

ایک دن سہ پہر کے وقت ان کی بیگم نے انہیں فون کیا اور پوچھا کہ, “کیسے ہیں آپ”

وزیر خزانہ:- “ٹھیک ہوں”

بیگم:- “اور آج لنچ میں کیا کھایا”

وزیر خزانہ:-  “تمہیں بس یہی باتیں کرنا آتی ہیں – کیا کھایا – کیا پیا – کون سا گانا سنا – تم یہ کیوں بھول جاتی ہو کہ میں وزیر خزانہ ہوں – بہت مصروف ہوتا ہوں – ساری پارٹی اور ساری قوم کی نظریں مجھ پر ہیں کیونکہ میں نے پرستان کی 21 کروڑ آبادی کو شدید ترین معاشی بحران سے باہر نکالنا ہے اور یہ میرے کام کے اوقات ہیں جن میں تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں نے لنچ میں کیا کھایا”

بیگم:-  “او – اوکے – اچھا – اچھا – ناراض نہ ہوں – یہ بتائیں کہ کرنسی مارکیٹ میں اپنی کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کو سنبھالنے کے لئیے اسٹیٹ بنک کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں اور وزارت خزانہ بیرون ملک مقیم پرستانیوں سے آنے والی غیر ملکی ترسیلات زر کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے”

(ایک لمبا وقفہ اور ٹھنڈی سانسوں کی اوازیں)

وزیر خزانہ:-  “دال چاول کھائے ہیں – ساتھ میں رائتہ, سلاد بھی تھا”

پس تحریر نوٹ:-

یہ واقعہ خالصتا” پرستان کا ہے اور اگر کسی شریر ذہن نے اسے ہمارے یا اپنے مقامی حالات سے جوڑنے کی کوشش کی تو یہ اس کا قطعی ذاتی خیال ہوگا – راقم صرف پرستان کے واقعات کا ذمہ دار ہے اور یہاں کے واقعات کی مماثلت ڈونڈھنے والوں پر نازل ہونے والے مصائب اور کاروائیوں کے کسی بھی طرح کے نتائج کے لئیے ذمہ دار نہیں ہوگا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *