حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط3

اس سیریز کے پچھلے حصے میں ہم نے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں موجود پیچیدہ نظام کے متعلق سمجھنے کی کوشش کی کہ کیسے ایک چھوٹے سے اُڑن کھٹولے میں زندگی کو بھرا گیا،زندگی کو رواں دواں رکھنے کےلئے کیا کیا نظام رکھے گئے ہیں،چونکہ انسانی مشنز بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں اسی وجہ سے اب تک انسانی مشنز سے زیادہ مشینی مشنز خلاء میں بھیجے گئے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کائنات کو کب تک حسرت کی نگاہ سے دیکھتا رہے گا بالآخر اسے کبھی نہ کبھی بین السیارتی مخلوق (multi-planetary specie) بننا ہی ہوگا جس کے حصول کے لئےISS پہلا قدم ہے۔انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں ہر چھ ماہ بعد سائنسدانوں کو واپس زمین کی جانب بھیجا جاتا ہے اور زمین سے نئے سائنسدانوں کو لے جایا جاتا ہے، اس عمل کو expedition کہتے ہیں، جس کے لئے ناسا اور دیگر اسپیس ایجنسیز مہینوں تیاری کرتی رہتی ہیں، اب تک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی جانب 56 expeditions کی جاچکی ہیں چند دن پہلے expedition 57 لانچ کی گئی ،لیکن لانچنگ کے فوراً بعد راکٹ میں مسئلہ آگیا ،جس میں خوش قسمتی سے سائنسدان محفوظ رہے۔

فلکیات کے متعلق عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کی خاطر 2001ء سے 2009ء تک خلائی سیاحتی پروگرام کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت 7 سیاحوں نے اپنے خرچے پہ ISS کی سیر کی، اِن سیاحوں نے خلاء میں کچھ دن قیام بھی کیا،اسی پروگرام کے تحت 2008ء میں ایک سیاح Richard Garriottنےانٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں 11 دن گزارے، انہوں نے موبائل ٹریکنگ کے لئے استعمال ہونے والا geocache نامی آلہ بھی زمین کے مدار میں چھوڑا،اس کے ساتھ ساتھ ایک ہارڈ ڈسک بھی زمین کے مدار میں چھوڑی گئی ، اس ڈسک میں اسٹیفن ہاکنگ سمیت کئی مشہور افراد کے DNA کا ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ ہے، یہ یادگار کے طور پہ زمین کے مدار میں چھوڑی گئی کہ اگر زمین کو کچھ ہوجاتا ہے تو اس ڈسک میں محفوظDNA انفارمیشن جب کسی خلائی مخلوق کے ہاتھ لگے گی تو اُسے زمینی مخلوق کے متعلق معلومات مل سکیں گیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ یہ خلائی اسٹیشن زمین کے گرد تقریباً 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگا رہا ہے یوں یہ 90 منٹ میں زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرلیتا ہے،ہمیں پچھلے حصے پڑھنے کے بعد اب یہ بھی معلوم ہوچکاہے کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ اسٹیشن ہر ماہ بعد 2 کلومیٹر زمین کے قریب ہوتا جاتاہے، یہی وجہ ہے کہ ISS کو اپنے مدار میں رکھنے کے لئے خلائی ایجنسیز ہر سال 21کروڑ ڈالر کا کیمیائی فیول استعمال کرتی ہیں۔زمین سے 22 مختلف مقامات سے ہمہ وقت خلائی اسٹیشن پہ نظر رکھی جاتی ہے، کنٹرول کیا جاتا ہے اور ضرورت کے تحت وہاں موجود انسانوں اور مشینوں کو احکامات بھی بھیجے جاتے ہیں۔اگر خلائی اسٹیشن کا کوئی پُرزہ خراب ہوجائے تو اول کوشش ہوتی ہے کہ خلائی اسٹیشن کے باہر نصب robotic arms کے ذریعے اس کو ٹھیک کیا جائے مگر اگر معاملہ پیچیدہ ہو تو خلاء بازوں کو اسپیس سوٹ پہن کر خود بھی باہر نکلنا پڑتا ہے، اسے فلکیاتی زبان میں EVA یعنی Extra-Vehicular Activityکہاجاتا ہے، ہم اسے آسان زبان میں Space walk بھی کہہ سکتے ہیں (اسپیس واک کیسی ہوتی ہے؟ ساتھ منسلک تصویر دیکھیے)،

اگر تو خراب پُرزے کی شناخت فوراً ہوجائے تو جلدی خلاء باز اسٹیشن میں لوٹ آتے ہیں وگرنہ ایک EVA کئی کئی گھنٹوں پہ مشتمل ہوسکتا ہے، اب تک سب سے لمبا EVA session تقریباً 9 گھنٹوں پہ محیط تھا، یہ ریکارڈ 2001ءمیں قائم ہوا تھا۔ماضی میں اسپیس واک خرابی کے علاوہ docking کے لئے بھی کی جاتی تھی، docking وہ process ہے جب زمین سے آنے والی کوئی اسپیس شٹل ،خلائی اسٹیشن کے ساتھ جُڑتی ہے تاکہ زمین سے آنے والے ضروری سامان اور سائنسدانوں کو خلائی اسٹیشن منتقل میں کیا جاسکے ، لیکن جدید دور میں docking کے لئے اسپیس واک کی ضرورت نہیں رہی یہ کام کمپیوٹرز کے ذریعے کی کرلیا جاتا ہے،docking کے وقت انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کاکنٹرول زمین پر موجود کنٹرول سینٹرز کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خلائی اسٹیشن میں موجود حساس ریڈار 200 کلومیٹر کی دوری سے اپنی جانب آنے والے راکٹ کو بھانپ لیتے ہیں اور الرٹ ہوجاتےہیں۔

کچھ سال پہلے تک خلائی اسٹیشن تک سامان کی ترسیل کا کام سرکاری خلائی ایجنسیز ہی سرانجام دے رہی تھیں،لیکن مئی 2012ء میں Space-Xپہلی پرائیوٹ کمپنی بنی جس نے خلائی اسٹیشن سامان پہنچایا۔خلائی اسٹیشن میں زندگی کے الگ ہی رنگ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہاں ایک دن میں 16 بار سورج طلوع ہوتا ہے اور 16 بار ہی سورج غروب ہوتا ہے جس کے باعث وہاں کے خلاء باز اپنی سرگرمیوں کے لئے زمین کا Greenwich Mean Time ہی follow کرتے ہیں، لیکن کیونکہ آپ یہ آرٹیکل پاکستان میں پڑھ رہے ہیں لہٰذا خلاء بازوں کی سرگرمیاں ذکر کرتے ہوئے Greenwich Mean Timeکے ساتھ بریکٹس میں پاکستانی وقت بھی مینشن کرتا رہونگا۔خلاء باز روزانہ صبح 6بجے (پاکستانی صبح 11 بجے)جاگتے ہیں،ناشتہ کرنے کے بعد تمام سائنسدانوں کی میٹنگ ہوتی ہے، جس کےبعدصبح 8 بجے (پاکستانی دن ایک بجے) تمام سائنسدان exercise کرتے ہیں،اس کے ایک بجے(پاکستانی شام چھ بجے)تک معمول کے کام سرانجام دیتے رہتے ہیں، جس کے بعد روٹین کی ایک گھنٹہ بریک ہوتی ہے ،بریک کے بعد سائنسدان دوبارہ کام پہ لگ جاتے ہیں،شام 7:30 (پاکستانی رات 12:30) پہ کام سمیٹ کر رات کا کھانا کھاتے ہیں،جس کے بعد سائنسدانوں کی معمول کی میٹنگ ہوتی ہےجہاں دن بھر کے بارے میں ڈسکشن ہوتی ہیں،رات 9:30 (پاکستانی رات 2:30) پہ تمام سائنسدان سو جاتے ہیں اور خلائی اسٹیشن کی کھڑکیوں پہ نصب پردے گرا دئیے جاتے ہیں اور خلائی اسٹیشن اس دوران اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے تاکہ اندر موجود سائنسدانوں کو رات کا ماحول میسر ہو۔

ویسے تو اسپیس اسٹیشن میں بستر کے بغیر ہی خلاء میں معلق رہ کر بھی سویا جاسکتا ہے مگر اس کی وجہ سے خلاء باز اندر موجود آلات سے ٹکرا سکتے ہیں لہٰذا خلاء بازوں کو سونے کے لئے الگ کمرے دئیے جاتے ہیں جہاں وہ بیٹھ کر لیپ ٹاپ استعمال کرسکتےہیں، کتابیں پڑھ سکتے ہیں، کتابیں لکھ سکتے ہیں۔خلائی اسٹیشن کے باسیوں کے لئے زمین سے کئی قسم کا کھانا vacuum sealed بیگز میں بھیجا جاتا ہے تاکہ خراب نہ ہو، اس کو بوقتِ ضرورت کھول کر کھایا جاسکتا ہے، کشش ثقل نہ ہونے کے باعث خلائی اسٹیشن میں کھانا بدذائقہ ہوجاتا ہے، جس کے لئے سائنسدانوں کے کھانے کو زیادہ سے زیادہ مصالحے دار بنایا جاتاہےتاکہ اس کا ذائقہ برقراررہے،زمین سے آنے والے سامان میں تازہ سبزیاں اور پھل بھی ہوتے ہیں جن کا انتظار خلائی اسٹیشن میں مقید سائنسدان شدت سے کررہے ہوتے ہیں، ہر سائنسدان کو الگ الگ بیگ دیا جاتا ہے جس میں اس کا کھانا موجود ہوتا ہے، جسے وہ بعد میں پکا کر کھا سکتے ہیں،کولڈ ڈرنک اور جوس وغیرہ پاؤڈر کی شکل میں مختلف پیکٹس میں موجود ہوتے ہیں جنہیں پانی میں مکس کرکے اسٹرا کے ذریعے پیا جاسکتا ہے،پلیٹ اور چمچے مقناطیسی ہوتے ہیں تاکہ پلیٹ اور چمچوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہ پڑے ہمیشہ اکٹھے ہی ملیں، اگر کوئی کھانے کا ٹکڑا پلیٹ سے اڑ کر کہیں اور جانے لگے تو سائنسدانوں پہ لازم ہے کہ کھانا چھوڑکر اس ٹکڑے کو قابو کریں تاکہ وہ کسی آلے میں گُھس کر اس کو خراب نہ کردے، انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں ایک ذرہ برابر ٹکڑا بھی مسئلے پیدا کرسکتاہے۔

ISS میں دو بیت الخلاء موجود ہیں،چونکہ ISS میں زیرو گریوٹی ہوتی ہے جس وجہ سے وہاں پانی کا بہاؤ ممکن نہیں ، پانی کے بہاؤ کے لئے بیت الخلاء اور نہانے کے دوران انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے سسٹم میں موجود پنکھوں کو چلایا جاتا ہے جوsucking holesکے ذریعے پانی اور دیگر فضلے کو suck کرکےباہر ایک ٹینک میں جمع کرلیتے ہیں،بعد میں یہی پانی اورپاخانہ فلٹر کیا جاتا ہے، فلٹر کے دوران پانی الگ کر لیا جاتا ہےجسے بعد ازاں پینے اور دیگر ضروریات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بقیہ فضلے /کیمکلز کو ایک المیونیم کے بنے کنٹینر میں سٹور کرلیا جاتا ہے،اس المونیم کنٹینر کو Progress module میں شفٹ کردیا جاتاہے،جو اس کنٹینر کو زمین کی فضا میں چھوڑ دیتا ہے جہاں یہ کنٹینر جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔نہانے کےلئےwater jet (پانی کا فوارہ)، وائپس (گیلے تولیے)، liquid soap استعمال کیا جاتا ہے،دانتوں کی صفائی کے لئے خلاء بازوں کو ایسا ٹوتھ پیسٹ فراہم کیا جاتاہے جو نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ اسے نگل بھی سکتے ہیں، لہٰذا اس طریقے سے پانی کے ضیاع سے بچا جاتاہے، انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے باسیوں کے لئے خاص شیمپو ڈیزائن کیے جاتے ہیں جن سے آنکھوں میں چُبھن نہ ہو،کیونکہ زیرو گریوٹی کی وجہ سے اگر آنکھوں میں کوئی شے چلی جائے تو اسے نکالنا بہت مشکل ہوتاہے.

یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی سیٹلائیٹ بھیجنے سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کیا جاتا ہےا ور کوشش کی جاتی ہے ہر قسم کا گردو غبار اور خطرناک اشیاء (سٹپلر پِن ، سوئیاں وغیرہ)کو نکال لیا جائے تاکہ زیروگریوٹی کے وقت ایسی اشیاء اُڑ کر خلاء بازوں کی آنکھ ضائع کرسکتی ہیں۔ہمیں معلوم ہےکہ زمین کے گرد ایک مقناطیسی حصار موجود ہے، جس وجہ سے ہم compassکے ذریعے صحیح سمت بھی معلوم کرتے ہیں، یہی حصار ہمیں سورج کی خطرناک ریڈیشنز سے بچائے رکھتا ہے، زمین پہ زندگی کے پھلنے پھُولنے میں اس مقناطیسی حصار کا کلیدی کردار ہے، اگر یہ حصار کسی وجہ سے ختم ہوجائے تو چند سالوں میں زمین جانداروں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گی ۔یہی قدرتی مقناطیسی حصار انسان کو خلاء میں بھی مدد فراہم کرتا ہےاور کافی حد تک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے۔شمسی طوفان کے دوران جب سورج پہ آگ کے دیوہیکل شعلے بلند ہوتے ہیں، تو اس دوران کبھی کبھار خطرناک ریڈیشنز انٹرنیشنل اسپیس تک رسائی کی کوشش کرتی ہیں ،انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی بنی ہوئی aluminum کی موٹی دیواریں اُن ریڈیشنز کو بلاک کیے رکھتی ہیں ۔چونکہ اتنی اونچائی پہ انسان زمینی فضاء سے باہر چلا جاتا ہےلہٰذا اتنی حفاظتی تدابیر کے باوجودISS کے رہائشی ایک دن میں اتنی زیادہ ریڈیشنز absorb کرتے ہیں جتنی ایک نارمل انسان پورے سال میں کرتا ہے، لہٰذا خلائی اسٹیشن میں موجود سائنسدانوں کو کینسر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے،اس کے علاوہ یہ ریڈیشنز ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ انسان میں قوتِ مدافعت (بیماری سے لڑنے کی طاقت) بھی کم کردیتی ہے۔ ان ریڈیشنز کے نقصانات سے بچنے کے لئے سائنسدان ادوایات کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ریڈیشنز ہمیں باور کرواتی ہیں کہ انسان فی الحال خلاء میں لمبا قیام نہیں کرسکتا۔

جُوں جُوں ہم اس سیریز میں آگے بڑھتے جارہے ہیں ہمیں احساس ہوتا جارہا ہے کہ کائنات سے دوستی میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا ورنہ کائنات میں موجوداندیکھی خطرناک شعاعیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گیں۔ زمین کے گرد مقناطیسی حصار اور atmosphere ہمیں کائنات میں موجود بےرحم شکاری ریڈیشنز سے ہمہ وقت محفوظ رکھتا ہے۔انسان دراصل ایسی زمینی مخلوق ہے ، جو اب ترقی کرکے کائناتی مخلوق کا ٹائٹل حاصل کرنا چاہتی ہے،لہٰذا اس زمینی مخلوق کو یہ اعزاز حاصل کرنے کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑے گی۔ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن انسانیت کے لئے ایسی تجربہ گاہ بن چکی ہے جو مختلف طریقوں سے نسلِ انسانی کو کائناتی مخلوق میں ڈھلنے کے لئے experience فراہم کررہی ہے۔اگلے حصے میں ہم ISS کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خلائی اسٹیشن میں موجود زندگی کو درپیش چیلنجز کے متعلق مزید جاننے کی کوشش کریں گے۔

حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/دوسری قسط

حقیقی اُڑن کھٹولا۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/حصہ اول

Advertisements
julia rana solicitors london

(جاری ہے!)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply