• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ اور ان کا تدارک۔۔۔حافظ نعمان

پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ اور ان کا تدارک۔۔۔حافظ نعمان

معاشرہ اور شدت پسندی کی تعریف میں جائے بغیر سیدھا ٹاپک کی طرف آتا ہوں ۔
کروسیڈز (صلیبی جنگیں)کے زمانے میں جب مسلمانوں نے حیرت انگیز فتوحات کیں تو عیسائی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم شروع کی۔ کہ ایک مسلمان دس سپاھیوں پر بھاری ھے کیونکہ مسلمان بہت ظالم و سفاک درندہ ہے ۔
مسلمانوں نے سپین پر کئی سالوں تک حکومت کی ۔ مورخ ہمیشہ سے مسلمانوں کے اس دور کو سنہری دور سے تعبیر کرتا ہے لیکن عیسائی پادریوں نے ہمیشہ اس دور کو بلیک آؤٹ کیا ۔کیونکہ عیسائی پادری اور راھبوں نے اپنے مذھب میں وہ حیثیت بنا لی تھی جو کہ ایک بادشاہ کی تھی اس لیے عیسائی لوگ پادری کے حکم پر کسی بھی بڑے سے بڑے بادشاہ سے ٹکر لے لیتے تھے ۔۔ اور اسلام وہ واحد مذہب تھا جو ان کی اس چودھراہٹ کو ختم کر سکتا تھا۔۔۔

پھر بقول نو مسلم فارینر Wiser councilsکے صیہونی اور عیسائی علما نے سوچا کہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا فضول ہے کیونکہ یورپ ترقی کر رہا تھا ان میں تحقیق کا عنصر پروان چڑھ رہا تھا ۔۔ وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئے کہ آخر اسلام کے خلاف اتنا جو پروپیگنڈہ ہے اس کے پیچھے کیا وجہ ہے ۔۔۔ ان کی توجہ اسلام کی طرف مبذول ھو گئی اور یہ منفی پروپیگنڈہ مثبت جذبات پیدا کرنے کا سبب بن گیا ھے۔

تو بقول نو مسلم فارینر کے صیہونی اور عیسائی علما نے سوچا کہ پروپیگنڈہ کو چھوڑو بلکہ مسلمانوں کا رخ بدل دو۔ ان کا رخ بدلنے کے دو طریقے ہیں
1:مغربی تہذیب کو فیشن میں بدل دو ،سٹیٹس سمبل بنا دو ، مغربی خیالات کے زیر اثر ان کی توجہ مذہب سے جڑ جائے گی
2:دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی شکل مسخ کر دو ،اسلام کو عام مذھبوں کی طرح Ritual میں بدل دو۔ ان کی توجہ علم و تحقیق سے موڑ دو ۔ ان کو پیر پرستی اور خانقاھی نظام کی طرف ڈال دو ۔قرآن کو تعویذ گنڈے میں بدل دو اور ان اجارہ داروں کی ایک جماعت تیار کرو جو مسلمانوں کو ان فروعات میں پھنسائے رکھے۔

فرانس کا مشہور بادشاہ لوئی ہشتم مسلمانوں کی قید سے آزاد ھوا تو اس نے عیسائی پادریوں کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل بنایا جس کی مندرجہ ذیل شقیں ہیں
1۔ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرو تفرقہ جب پھیل جائے تو اسے مزید گہرا کرو
2.نیک اور صالح حکمرانوں کے قیام کو نا ممکن بنا دو
3.جذبہ جہاد کو کمزور کرو
4.عرب ممالک میں پھوٹ ڈال دو
ان کی یہ سازش کامیاب رھی مسلمانوں میں مذھبی اجارہ دار آ گئے جنہوں نے علم و تحقیق سے ہاتھ کھینچ لیا ، تعویز گنڈے میں لگ گئے ۔۔ فرقہ پرستی ان کا بہتریں موضوع بن گیا ۔۔۔ اور یہ مذھبی اجارہ داری آج تک قائم ہے

پاکستان میں اس وقت اندزے کے مطابق 15لاکھ کے قریب مساجد ہیں اور ھر جمعے کو ان مساجد سے خطبے ہوتے ہیں ۔ نفرت سے بھر پور ، فرقوں میں بانٹ دینے والے۔ دیہات والے تو ان خطبوں کو فورا ً مان لیتے ہیں اور یقین کر لیتے ھیں شیروں میں پڑھے لکھے لوگ سنتے ہیں اور سفر (suffer)کرتےہیں۔

ان سب باتوں سے جو میں نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عدم برداشت کی وجہ سے قرآن سے ناواقف ،کم علم “مذہبی اجارہ داروں ” کی فوج ہے

مسئلے کا حل :
ایسا نظام وضع کیا جائے کہ عالم کی ڈگری اتنی مشکل ہو جتنی ایک سی ایس ایس (CSS)آفیسر کی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *